پاکستان کے طارق عزیز اور کینیا کی آسیہ بتاتے ہیں ”نشے کی عادت زندگی تباہ کیسے کرتی ہے؟“

ویب ڈیسک

افریقہ میں نوجوان نسل میں منشیات کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق سن 2030ع تک نشے کرنے والے افریقی نوجوانوں کی تعداد ڈرامائی حد تک بڑھ جائے گی۔ پاکستان میں البتہ منشیات کے استعمال میں معمولی سے کمی ہوئی ہے

کینیا کے ساحلی شہر ملیندی میں واقع آسیہ بیانکا کے گھر میں ایک عجیب اور خوفزدہ کر دینے والا ماحول ہے۔ ایک نوزائدہ بچے کے جوتوں میں بجھائے گئے سگریٹوں کا انبار اور ہر شے بے ترتیب۔۔

آسیہ اور اس کے شوہر دونوں ہی ہیروئن کا نشہ کرتے ہیں۔ ان کی بیٹی چھ ماہ کی تھی، جب وہ ہلاک ہو گئی تھی

ہیروئن کی لت میں مبتلا آسیہ بتاتی ہیں ”جب ہم بستر پر گئے تو ہماری بیٹی بالکل ٹھیک تھی۔ لیکن جب ہم نیند سے بیدار ہوئے تو دیکھا کہ اس کے منہ سے جھاگ نکل رہی ہے۔ میں خوفزدہ ہو گئی کہ کہیں نشے میں ہم نے اس کے منہ پر ہاتھ یا پیر تو نہیں رکھ دیا، جس کے باعث اس کی سانس گھٹ گئی‘‘

اگرچہ ڈاکٹر نے آسیہ کے اس خیال کو غلط قرار دیا، لیکن وہ ابھی تک ایک احساس جرم میں مبتلا ہے۔ وہ اپنی بیٹی کی ہلاکت کا ذمہ دار خود ہی کو قرار دیتی ہے

بیس سالہ آسیہ اور اس کے خاوند ملیندی کے ان تین ہزار افراد میں شامل ہیں، جو باقاعدگی سے ہیروئن کا نشہ کرتے ہیں

آسیہ کا کہنا ہے ”مجھے نشے کی لت دراصل میرے سابق بوائے فرینڈ سے لگی، جس نے غیر محسوس طریقے سے مجھے اس نشے کا عادی بنایا۔ جب مجھے احساس ہوا تو دیر ہو چکی تھی اور اب میں اس سے چھٹکارہ حاصل کرنے میں ناکام ہو چکی ہوں“

اقوام متحدہ کے مطابق نفسیاتی سکون کے لیے استعمال جانے والے مضر صحت اور خطرناک مواد کا استعمال نشے میں شمار ہوتا ہے۔ اس میں الکوحل کے ساتھ ساتھ ہیروئن، کوکین اور دیگر غیر قانونی نشہ آور مواد بھی شامل ہے

نشے کے عادی افراد کی صحت پر تو منفی اور مضر اثرات مرتب ہوتے ہی ہیں، لیکن انہیں سماجی سطح پر بھی انتہائی مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ اپنی معمول کی زندگی سے کٹ جاتے ہیں اور کام کاج کے قابل بھی نہیں رہتے، اس طرح وہ مالی مشکلات کا شکار بھی ہو جاتے ہیں

نشہ آور مواد کے عادی افراد رشتوں کی پیچیدگیوں کا شکار بھی ہو جاتے ہیں اور ان کے اپنے گھر والے، دوست، بیوی اور بچے بھی انہیں چھوڑ سکتے ہیں

ملیندی شہر کے ہی نشے کے عادی ایک اور شخص یاسر عبداللہ کا کہنا ہے ”مجھت اکیلا چھوڑ دیا گیا ہے، حکومت ہمیں بھول چکی ہے۔ ہم بے گھر ہو چکے ہیں۔ ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ بس ہم نشے کے عادی افراد ایک دوسرے کا خیال رکھیں‘‘

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق سن 2030ع تک افریقہ میں نشہ کے عادی افراد کی تعداد میں چالیس فیصد اضافہ ہو سکتا ہے

براعظم افریقہ میں نشے کے عادی افراد کو سماجی تعصب کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ ایسے افراد کا علاج ہو سکتا ہے لیکن یہاں ان کی مدد کرنے والے اور بحالی کے اداروں کا بھی فقدان کے باعث ایک مرتبہ نشے کی لت میں مبتلا ہو جانے والے شخص کے واپس معمول کی زندگی کی طرف لوٹنا قریب ناممکن ہے

لیکن پاکستان کے بڑے شہر کراچی کے مضافات کے رہائشی طارق عزیز اس حوالے سے خوش قسمت ہیں۔۔ وہ نشے کے عادی تھے لیکن اب یہ عادت ترک کر کے ایک بہتر زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے ”نشے کے عادی افراد کو خصوصی ٹریٹمنٹ اور توجہ درکار ہوتی ہے‘‘

طارق عزیز اب نشہ کے عادی افراد کے علاج اور انہیں نشے سے پاک بہتر زندگی گزارنے کی طرف مائل کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان کا ادارہ ”راستہ“ کئی افراد کو نشے سے نکال چکا ہے

طارق عزیز کہتے ہیں ”نشے کے عادی افراد کو قائل کرنا مشکل ہوتا ہے لیکن اگر ان کی ہمت بندھائی جائے تو وہ اس دلدل سے باہر آ سکتے ہیں‘‘

عالمی سطح پر اگرچہ منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد میں کچھ اضافہ ہوا ہے، تاہم پاکستان میں اس حوالے سے بہتری کے کچھ آثار دیکھائی دیے ہیں

26 جون کو منائے جانے والے انسداد منشیات اور اسمگلنگ کی روم تھام کے عالمی دن کے موقع پر نارکوٹکس کنٹرول منسٹری کے جوائنٹ سیکرٹری سبینو سکندر جلال نے ریڈیو پاکستان سے گفتگو میں کہا ”بالخصوص آج کل انٹرنیٹ کے دور میں مختلف آن لائن پلیٹ فارم منشیات فروخت کرنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، اس لیے ہم نے اس کی مانیٹرنگ شروع کی ہے۔ اس کے علاوہ سرحدوں کی نگرانی بڑھائی گئی ہے اور عوامی آگاہی بھی پھیلائی جا رہی ہے“

جلال کے بقول انہی کوششوں کی وجہ سے سن 2013ع کے مقابلے میں رواں برس منشیات کے استعمال میں دو فیصد کمی ہوئی ہے

ان کے مطابق ”اس وقت پاکستان میں تقریباً نوے لاکھ افراد منشیات کا استعمال کر رہے ہیں، جو مجموعی آبادی کا چار فیصد بنتا ہے۔ ان میں سے ساٹھ فیصد نشے کے عادی ہیں جبکہ چالیس فیصد ان ممنوعہ اور غیر قانونی منشیات کا کبھی کبھی استعمال کرتے ہیں“

ماہرین کا کہنا ہے کہ کووڈ-19 کی عالمی وبا، بے روزگاری، مہنگائی اور روشن مستقبل کے کم امکانات نے لوگوں کو نشہ آور مواد کی طرف راغب کرنے میں نمایاں کردار کیا ہے۔ لوگ پریشانیوں اور مشکلات سے چھٹکارہ پانے کی خاطر بھی نشے کی طرف بڑھتے ہیں۔ یہ الگ بات کہ اس طرح ان کی مشکلات اور پریشانیاں مزید بڑھ جاتی ہیں

ملیندی کے ایک رضا کار اپونسے میانا کا کہنا ہے ”جب کووڈ19 لاک ڈاؤن کی وجہ سے اسکول بھی بند کر دیے گئے تھے تو اس دورانیے میں منشیات لینے والے بچوں کی تعداد میں واضح اضافہ ہو گیا تھا“

میانا اور دیگر کارکنان کا کہنا ہے کہ کینیا کے ساحلی شہر ملیندی میں قوانین بھی انتہائی سخت ہیں۔ اگر کسی کے پاس سے تھوڑی مقدار میں بھی ہیروئن یا کوکین برآمد ہو جائے تو اسے پندرہ سال کی قید سنائی جا سکتی ہے

میانا کے بقول قانون نافذ کرنے والے اہلکار اصل مجرموں کو پکڑنے کے بجائے ان سخت قوانین کی وجہ سے لوگوں سے رقوم بھی بٹورتے ہیں، کیونکہ اگر کوئی پکڑا جائے تو وہ لمبی سزا کے بجائے کچھ پیسے دے کر جان چھڑانے کی کوشش ہی کرتا ہے

اس صورتحال میں نشے کی عادی آسیہ کا واحد سہارا اس کا خاوند ہی ہے، جو خود بھی نشے کی لت میں مبتلا ہے۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی حکومتی ایکشن نہ لیا گیا تو یہ ایک دوسرے کو بھلا کب تک سنبھال سکیں گے؟

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close