مسافر طیارے کے پائلٹ سوتے رہ گئے اور رن وے پیچھے چھوٹ گیا۔۔!

ویب ڈیسک

ایوی ایشن کی ایک رپورٹ کے مطابق مسافر طیارے کو اڑانے والے دونوں پائلٹس دورانِ پرواز سینتیس فٹ کی بلندی پر سو گئے، جس کے باعث وہ پہلے سے طے شدہ رن وے پر طیارے کو لینڈ نہ کروا سکے۔ تاہم آنکھ کھلنے پر انھوں نے طیارہ بحفاظت زمین پر لینڈ کروا دیا

برطانوی اخبار دی انڈپینڈنٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا، جب پائلٹ اور معاون پائلٹ سوڈان سے ایتھوپیا جانے والی فلائٹ ای ٹی 343 پر ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے

یہ مسافر طیارہ ایتھوپیا کے ادیس بابا ہوائی اڈے پر جا رہا تھا۔ تاہم لینڈنگ سے قبل جس مقام پر طیارے کی بلندی کم کرنی ہوتی ہے، وہاں پہنچنے کے باوجود طیارے کی بلندی کم نہیں ہوئی، جس کے باعث ایئر ٹریفک کنٹرول نے پائلٹوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے

’ایوی ایشن ہیرالڈ‘ نامی جریدے کے مطابق اپنی مطلوبہ منزل کو پیچھے چھوڑ دینے کے بعد پائلٹس کی آنکھ بلآخر اُس وقت کھلی، جب کاک پٹ میں آٹو پائلٹ الارم بجا۔ الارم بجنے سے پائلٹس نیند سے جاگے اور انہوں نے سیکنڈ اپروچ پر طیارے کو لینڈ کروایا

اس کے پچیس منٹ بعد ہوائی جہاز باحفاظت لینڈ کر گیا اور اگلی فلائٹ کے روانہ ہونے تک تقریباً ڈھائی گھنٹے کھڑا رہا

154 سیٹوں کی گنجائش والے اس بوئنگ 737 طیارے کو دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں اپنی منزل پر پہنچنا تھا۔ یہ واقعہ سامنے آنے کے بعد کچھ لوگ تو پائلٹس کے ساتھ ہمدردی کا اظہار یہ کہتے ہوئے کر رہے ہیں کہ ان پر کام کے دباؤ کی وجہ سے انھیں سونے کا وقت کم ملتا ہے مگر دوسری جانب وہ لوگ بھی ہیں جو اسے ایک بھیانک غلطی قرار دے رہے ہیں

اس حوالے سے ایوی ایشن کے ماہر الیکس ماچرس نے ایک ٹویٹ میں کہا ’پائلٹ کا تھکاوٹ کا شکار ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے، اور بین الاقوامی سطح پر ہوائی حفاظت کے لیے مسلسل ایک خطرہ بنی ہوئی ہے‘

ایک اور ٹویٹر صارف نے کہا ’امید ہے کہ دونوں پائلٹوں کو نوکریوں سے نکال دیا جائے گا اور ایوی ایشن حکام اس ایرلائن کے عملے کے ڈیوٹی کے وقت کے حوالے سے تحقیقات کا آغاز کریں گے۔ خدا کا شکر ہے کہ کوئی حادثہ نہیں ہوا‘

رواں سال مئی میں بھی ایک ایسا واقعہ ہوا تھا جب اٹلی کی آئی ٹی اے ایئرویز کا پائلٹ نیو یارک سے روم جانے والی فلائٹ میں مینہ طور پر سو گیا تھا۔ انسے نوکری سے نکال دیا گیا تھا

ایوی ایشن ہیرالڈ کی ویب سائیٹ پر دستیاب ایک کمنٹ میں لکھا گیا کہ ’میں یہاں خاص طور پر طیارے کے ایتھوپیئن عملے کو الزام نہیں دوں گا۔ یہ وہ چیز ہے جو دنیا کے کسی بھی عملے کے ساتھ ہو سکتی ہے اور شاید ماضی میں ایسا ہوا بھی ہو۔۔۔ اصل قصوروار کارپوریشن اور ریگولیٹرز ہیں۔‘

بہت سے صارف ایسے بھی تھے جو اس معاملے میں بھی اپنی حس مزاح برقرار رکھے ہوئے نظر آئے۔ ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ’نوکری پر سونے کے عمل کو نئی بلندیوں پر لے جاتے ہوئے۔‘

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close