کراچی: چھوٹے گاؤں سے بڑے گاؤں تک

عثمان جامعی

کتنی حیرت کی بات ہے ناں کہ کئی صدیوں پہلے کراچی، کولاچی نام کا ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ ’ثبات ایک تغیّر کو ہے زمانے میں‘ سو وقت کے ساتھ ساتھ دیکھیے کتنی تبدیلی آگئی۔ وہی کراچی جو کبھی مختصر سی آبادی پر مشتمل چھوٹا سا گاؤں تھا، اب یہ کوئی تین کروڑ باسیوں کا ایک بڑا سا گاؤں ہے

آپ حیران ہو رہے ہوں گے کہ جس کراچی کو آپ شہر سمجھتے اور کہتے آئے ہیں، ہم نے اسے گاؤں قرار دے دیا۔ یقین مانیں ہم سچ کہہ رہے ہیں، آپ بھی یہ حقیقت مان لیں تو ہماری طرح آپ کو بھی قرار آجائے گا

دراصل جس طرح ہمارے ہاں بہت سی غلط فہمیاں اور فکری مغالطے پائے جاتے ہیں، جیسے بھٹو زندہ ہے، نواز شریف شیر ہے، پاکستان تحریک انصاف صاف چلی شفاف چلی ہے، حل صرف جماعت اسلامی ہے اور تیرا پاکستان ہے یہ میرا پاکستان ہے، اسی طرح ‘کراچی شہر ہے’ محض ایک خوش فہمی ہے

یہ خوش فہمی اسی طرح دُور کر لینی چاہیے، جس طرح ایوب خان نے دارالحکومت کراچی سے دُور کر دیا، جیسے کراچی کے قائدین اس سے دُور جاکر بس جاتے ہیں اور جیسے ہر حکومت خود کو کراچی سے دُور رکھتی ہے۔ سارے شکوے شکایات پیدا ہی اس غلط فہمی سے ہوئے ہیں، اگر کراچی کے رہنے والے یہ سچ تسلیم کرلیں کہ وہ ایک گاؤں میں رہتے ہیں، تو وہ آناًفاناً دکھ کی دھوپ سے سُکھ کی چھاؤں میں آجائیں گے

چلیے یہ تو طے پایا کہ کراچی ایک بڑا سا گاؤں ہے، اب آپ کو اس گاؤں کی تفصیلات بتادیں، تاکہ آپ کو اس کے دیہی علاقہ ہونے پر کوئی شک وشبہ نہ رہے

ہر گاؤں کا کوئی چوہدری ہوتا ہے، لیکن موجودہ صدی میں سامنے آنے والی عظیم ترین سائنسی حقیقت اور گراں قدر فلسفے کی رو سے ’جب زیادہ بارش ہوتا ہے تو زیادہ پانی آتا ہے‘ چنانچہ جس گاؤں میں لوگ زیادہ ہوں وہاں چوہدری بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ اتنے چوہدریوں کی اپنی اپنی چوہدراہٹ کے باعث کراچی کا حال یہ ہے کہ
‘چوہدریوں’ میں بٹ گیا ہوں میں،
میرے حصے میں کچھ بچا ہی نہیں۔۔

یوں سمجھ لیں کہ جیسے بندربانٹ ہوتی ہے، ویسے ہی یہ ’بندرگاہ بانٹ‘ ہے، جس کی وجہ سے یہ گاؤں تھانے داروں سے اداروں تک میں بٹا ہوا ہے، لیکن یہ واضح رہے کہ ان میں سے کوئی بھی اس گاؤں کے معاملات کا ذمے دار نہیں، یہ بس اس گاؤں کی فصلوں میں ساجھے دار ہیں

فصلوں کا ذکر آگیا ہے تو یہ بھی بتاتے چلیں کہ اس گاؤں کی زمین بارانی ہے۔ اس مقصد کے لیے کہ گاؤں کے لوگ بارش کے پانی سے پوری طرح مستفید ہو سکیں۔ حکومت نے یہاں نہروں کا جال بچھا رکھا ہے، بارش کے دوران اس جال میں کراچی والے مچھلیوں کی طرح پھنس جاتے ہیں۔ ان نہروں میں سے چند کے نام یہ ہیں: راشد منہاس نہر، ایم اے جناح نہر، فیصل نہر، کورنگی نہر، آئی آئی چندریگر نہر وغیرہ۔ یہ صرف چند بڑی نہریں ہیں، ورنہ کراچی والوں کے استفادے کے لیے حکمرانوں نے گلی گلی نہر بنادی ہے

جس طرح اس گاؤں کو غلط فہمی کی بنا پر شہر کہا جانے لگا ہے، ویسے ہی ان نہروں کو ‘روڈ’ سمجھا اور کہا جاتا ہے۔ ان نہروں میں یا سڑکوں پر بڑی محنت سے بڑے بڑے گڑھے بنائے گئے ہیں تاکہ بارش کا پانی بہتے بہتے تھک جائے تو ان گڑھوں میں آرام کرکے آگے بڑھے

گاؤں کے سادہ لوح باشندے ان آبی گزرگاہوں پر گاڑیاں، موٹرسائیکلیں اور بسیں چلاتے رہتے ہیں، چلاتے رہیں ہماری بلا سے۔۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب برسات کے بعد ان میں پانی ’بچنا اے حسینو! لو میں آگیا‘ گاتا رواں ہوتا ہے، تب بھی یہ دیہاتی اپنی گاڑیاں ان نہروں میں دوڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے دماغ میں شاید ’دشت تو دشت تھے دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے، بحرِ ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے‘ کا تصور ٹاپیں مار رہا ہوتا ہے، سو وہ کراچی کو بجا طور پر ’شہرِ ظلمات‘ اور گاڑی کو گھوڑا سمجھتے ہوئے اسے لہروں میں دوڑا دیتے ہیں

اگر ایسا ہے تو انہیں گاڑی کے بجائے گھوڑے کو سواری بنانا چاہیے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ خود بے چارے ہیں، گھوڑے کے لیے چارا کہاں سے لائیں گے! پھر انہیں بحر اور نہر کا فرق بھی معلوم ہونا چاہیے۔ بحر میں گھوڑے دوڑانا آسان ہے کیونکہ اس میں گڑھے اور کُھلے گٹر نہیں ہوتے، نہ ہی وسعت کی وجہ سے ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن سڑک کے نام سے مشہور ہوجانے والی ان نہروں کو دیکھتے ہی گھوڑے ’گھوڑا ڑے گھوڑا‘ کہتے ہوئے منہ پھیر کر دوڑ لگادیں گے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ آبی گزرگاہوں کو بطور راستہ استعمال کرنے پر شہری شرمندہ ہوں اور سزا پائیں، مگر الٹا وہ حکومت سے شاکی ہوجاتے ہیں۔ کتنے افسوس کی بات ہے۔۔

ہمیں پتا ہے کہ اب آپ پوچھیں گے کہ بھیا! کراچی گاؤں ہے تو اس کی فصلیں تو بتلائیے۔ لیجیے بتائے دیتے ہیں۔ کراچی کی اہم ترین فصل ہے کچرا۔ قدرت کی مہربانی سے اس گاؤں کا کوئی کفیل نہیں اس لیے یہ کچرے میں خود کفیل ہے۔ کچرے کی یہ فصل موسموں کی محتاج نہیں، بلکہ سارا سال پیدا ہوتی ہے۔ جس حساب سے اس شہر کے لوگ ’اٹھائے‘ گئے، اگر اس تناسب سے یہاں کا کچرا اٹھایا جاتا تو یہ فصل ڈھونڈے سے بھی نہ ملتی، اور گاؤں کے باسی اپنی اس پیداوار کے دیدار سے محروم رہ جاتے، لہٰذا گاؤں والے شکر کریں کہ کچرا غیر سیاسی ہوتا ہے

جہاں تک سیاسی کچرے کا تعلق ہے تو اس کا معاملہ الگ ہے، اسے ’گاڑیوں‘ میں ڈال کر اِدھر سے اُدھر کردیا جاتا ہے، عموماً یہ کچرا نو تعمیر شدہ کچرا دانوں میں ڈالا جاتا ہے، تاکہ وہ بھرے بھرے نظر آئیں

اس گاؤں کی زمین بڑی زرخیز ہے، ایسی ہی زمینوں کے بارے میں علامہ اقبال نے کہا تھا ’ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی‘ یہی سبب ہے کہ حکمران گاؤں والوں کی آنکھیں مستقل نم رکھتے ہیں۔ یہ زرخیزی ہی تو ہے، جس کی بنا پر یہاں خودرو کچی بستیاں، مارکیٹیں اور شاپنگ مال اُگ آتے ہیں۔ ان میں سے کچھ ’پیڑ پودے‘ جیسے نسلہ ٹاور اکھاڑ پھینکے جاتے ہیں۔ ایسی خودرو عمارتوں پر آشیانے بنانے والے خوب روتے ہیں، لیکن یہ رونا رائیگاں جاتا ہے۔ دوسرے دیہات میں فصلوں کی کٹائی ہوتی ہے تو کراچی میں چائنا کٹنگ۔۔ یہ کٹنگ کٹائی کے مقابلے میں کہیں زیادہ منافع بخش ہے

کراچی کو آپ شعلے فلم کا ’رام گڑھ‘ سمجھ سکتے ہیں، ایک بہت بڑا رام گڑھ، اتنا بڑا کہ جو کسی تنہا گبر کے بس کا نہیں، اس لیے یہاں کتنے ہی ’گبر سنگھ‘ اپنے اپنے ٹبر سمیت لوٹ مار کرتے رہے اور کر رہے ہیں، بلکہ یہاں تو ’ٹھاکر‘ بھی ان کے حصے دار ہیں۔ رہے ہمارے ’جے‘ اور ’ویرو‘ تو وہ چاہے بظاہر گبروں سے لڑتے دکھائی دیں، لیکن پس پردہ کبھی گبر کی لوٹ کے مال سے اپنا حصہ بٹورتے ہیں کبھی بندوق کے سامنے بسنتی بنے ناچ رہے ہوتے ہیں۔ کتنی عجیب بات ہے کہ یہ سب ہورہا ہے اور رام گڑھ میں ذرا سا بھی کہرام نہیں!

بشکریہ: ڈان نیوز

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close