دنیا کو جمہوریت کے پاٹھ پڑھاتے یورپ کے سینے میں سانسیں لیتی بادشاہتوں کی کہانی

ویب ڈیسک

اگر یورپ کی بارہ سلطنتوں، نوابی جاگیروں اور شاہی حکمرانوں کو دیکھا جائے تو یہ بادشاہتیں مختلف براعظموں جیسے متنوع رنگ لیے ہوئے ہیں۔ ان میں سے اکثر میں حکمران کوئی ملکہ، بادشاہ یا نواب ہوتا ہے تو چند میں بشپ اور صدر بھی

اس جدید دور کے سینے میں قدیم دور آج بھی سانسیں لے رہا ہے۔ یورپ کے بادشاہ اور ملکائیں، شہزادے اور شہزادیاں، ڈیوکس اور ڈچز اکثر جیسی مشہور زمانہ شخصیات کی شاہانہ زندگی کے تو کہنے ہی کیا، ان کی شادیوں کی شاندار تقریبات بھی کسی خواب سے کم نہیں۔ یہ سب پُرتعیش قلعوں اور محلات میں رہتے ہیں۔ انہوں نے ہی صدیوں تک دنیا پر حکومت کی، لیکن بیسویں صدی کے اوائل میں ان میں سے بہت سے حکمران اپنی طاقت کھو بیٹھے۔ خاص طور پر پہلی عالمی جنگ کے بعد جب عوام میں جمہوری ادراک اور شعور پیدا ہوا تو یی اشرافیہ یا تو اپنی اہمیت کھو بیٹھی یا قصہِ پارینہ بن گئی

اگرچہ جدید دور میں پارلیمانوں کی خود مختاری بادشاہوں اور رانیوں کے ‘خدائی حق‘ کو سلب کر رہی ہے، لیکن اس کے باوجود دنیا کو جمہوریت کے پاٹھ پڑھاتے اسی یورپ میں شاہی ثقافت اب بھی زندہ ہے۔ آئیے اسی شاہی ثقافت کی عکاسی کرتی کچھ بادشاہتوں کا ذکر کرتے ہیں

انڈورا

سائز کے اعتبار سے یورپ کی سب سے بڑی مائیکرو اسٹیٹ فرانس اور اسپین کے درمیان کوہستانی سلسلے کی ایک اونچی وادی پائیرینیز ہے۔ یہ حکمرانی کے اعتبار سے انتہائی منفرد ہے۔ اس کی سربراہی دو شریک شہزادے کرتے ہیں۔ اسپین کے بشپ آف آرگیل، جو دنیا کے واحد شہزادہ بشپ ہیں اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں کو اس ریاست کا قانونی جانشین سمجھا جاتا ہے

بیلجیم

2013ع سے بیلجیم کے سربراہِ مملکت بادشاہ فلپ ہیں۔ انہیں بیلجیم نہیں بلکہ بیلجیم کے عوام کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ یعنی بیلجیم کے باشندے ان کی رعایا نہیں بلکہ ان کے ہم وطن ہیں۔ بیلجیم کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ وہاں تخت کا وارث اس وقت تک تخت نشین نہیں ہوتا، جب تک کہ اس کے پیش رُو کا انتقال نہیں ہو جاتا یا وہ دستبردار نہ ہو جائے۔ نئے تخت نشین کو پہلے ایک آئینی حلف بھی اٹھانا ہوتا ہے

بادشاہ فلپ کی ملکہ ماتھلڈے ہیں، جو عمر میں ان سے تیرہ سال چھوٹی ہیں۔ ان کے چار بچے ہیں: ولی عہد شہزادی الزبتھ، ڈچز آف براباں، شہزادی ایلیونور اور دو شہزادے گیبریل اور ایمانوئل

ڈنمارک

ڈینش رائل ہاؤس کا قیام 980 بعد از مسیح میں عمل میں آیا تھا، اور یہ دنیا کے قدیم ترین شاہی خاندانوں میں سے ایک ہے۔ شمالی یورپ کا ایک چھوٹا سے ملک ہونے کے علاوہ ڈنمارک کے قومی ریاستی علاقے میں جزائر فیرو اور گرین لینڈ بھی شامل ہیں۔ 1972ع سے ملکہ مارگریٹ دوم وہاں کی شاہی حکمران ہیں۔ ملکہ کا خاندانی سلسلہ وائکنگ حکمرانوں کے پہلے بادشاہ ہیرالڈ بلیو ٹوتھ سے جا کر ملتا ہے

لیختن شٹائن

اس ریاست میں عملداری کی نوعیت منفرد ہے، کیونکہ ریاستی طاقت میں عوام اور شہزادہ دونوں شریک ہیں۔ تین سو سال سے موجودہ حکمران شہزادے کا خاندان اس چھوٹی سی ریاست پر حکومت کر رہا ہے، جو مغربی آسٹریا اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان واقع ہے۔ موجودہ سربراہ مملکت، پرنس ہنس ایڈم دوم ہیں، جو سن 1989ع سے اس منصب پر فائز ہیں۔ ان کی اہلیہ میری اگست سن2021ع میں انتقال کر گئی تھیں۔ تخت کے وارث ایلُوآ، جو خود مختار پرنس کے چار بچوں میں سے سب سے بڑے ہیں، کی شادی باویریا کی شہزادی صوفی سے ہوئی ہے

لکسمبرگ

اس ملک کے سربراہ، گرینڈ ڈیوک ہنری ، پرنس آف نساؤ، پرنس آف بوربرن پارما ہیں۔ یہ سن دو ہزار سے اس عہدے پر فائز ہیں۔ ان کی حیثیت عام طور پر ایک نمائندے کی سی ہوتی ہے لیکن وہ کسی نمائندے کا اعلان، پارلیمان کو تحلیل کرنے کا اعلان اور وزراء کی تقرری بھی کر سکتے ہیں۔ لیکن ان کی اپنی کوئی حقیقی سیاسی ذمہ داری نہیں ہوتی۔ اصولاﹰ ڈیوک حکمرانی کرتا ہے، مگر حکومت نہیں کرتا

موناکو

فرانس کے جنوب میں ایک چھوٹی سی ریاست ‘کوٹ دا زُور‘ عیش و عشرت، گلیمر اور دولت کی علامت ہے۔ 1956ع سے، جب پرنس رائنر نے امریکی اداکارہ گریس کیلی سے شادی کی تھی، تب سے وہ پرنسس یا شہزادی گریسیا پیٹریشیا کی شکل میں مشہور جریدوں اور اخباروں کے سرورق پر چمکتی دمکتی دکھائی دینے لگی تھیں اور ان کے شوہر پرنس رائنر کی چمک دمک کسی حد تک پھیکی ہو کر پیٹریشیا کی شہرت سے پیچھے چلی گئی تھی۔ اس جوڑے کے تین بچے ہوئے۔ کارولین، اشٹیفی اور البرٹ۔ 1982ع میں پرنسس گریسیا کا ایک کار حادثے میں انتقال ہو گیا تھا۔ ان کی بیٹیاں خاص طور سے 1970ع اور 1980ع کی دہائیوں میں مقبول جریدوں کی رپورٹوں کا موضوع رہیں

اس وقت پرنس البرٹ دوم موناکو کے خود مختار شہزادہ اور ہاؤس آف گریمالڈی کے سربراہ بھی ہیں۔ وہاں اب شہزادہ اور پارلیمان اشتراک سے کام کرتے ہیں۔ البرٹ نے جنوبی افریقہ کی ایک سابقہ پیراک شارلین وٹسٹالک سے شادی کر لی تھی، جو اُن سے بیس سال چھوٹی ہیں۔ اس جوڑے کے جڑواں بچے ہیں

نیدرلینڈز

ڈچ باشندے اپنے سربراہ مملکت سے بہت پیار کرتے ہیں۔ ہر سال اپنے بادشاہ کی سالگرہ مناتے ہیں۔ بادشاہ ولیم الیکزینڈر اپنی مقبول والدہ بیاٹرکس کے بعد 2013ع سے اس عہدے پر فائز ہیں۔ ان کی شادی ہسپانوی، باسک اور اطالوی جڑوں والی ارجنٹائن کی میکسیما سے ہوئی۔ ان کے تین بچے ہیں: ولی عہد شہزادی امالیہ اور شہزادیاں الیکسیا اور آریان۔

ناروے

کنگ ہیرالڈ پنجم 1991ع سے ناروے کے بادشاہ ہیں۔ ان کی شادی 1968ع میں سونیا ہیرالڈسن سے ہوئی ہے۔ 2021ع میں اس جوڑے نے بادشاہ ہیرالڈ کی تاج پوشی کی تیسویں سالگرہ منائی۔ ان کے دو بچے ولی عہد شہزادہ ہاکون اور شہزادی مارتھا لوئی ہیں

اسپین

بادشاہ فلپ ششم 2014ع سے اپنے عہدے پر براجمان ہیں۔ وہ اپنے والد خوآن کارلوس کے جانشیں بنے، جنہیں رشوت ستانی کے الزامات سمیت کئی اسکینڈلز کا سامنا تھا، جن کے نتیجے میں وہ مستعفی ہو گئے تھے۔ فلپ، ان کی اہلیہ لیٹیزیا اور ان کی دو بیٹیاں لیونور اور صوفیہ ایک حقیقی تصویری کتابی خاندان کی صورت نظر آتے ہیں

سویڈن

سویڈن کے شاہی خاندان کے جرمنی کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ وہاں کی حکمران ملکہ پریوں کی کہانی کا کردار لگتی ہیں۔ جرمن شہر میونخ میں سن 1972ع کے اولمپک کھیلوں کے دوران سلویا زومرلاتھ نامی ایک جرمن ہوسٹس یا میزبان نے سویڈن کے ولی عہد کارل گستاف سے ملاقات کی۔ ان دونوں نے 1976ع میں شادی کر لی تھی

کارل گستاف 1973ع سے سویڈن کے بادشاہ ہیں۔ سن 1980ع میں انہوں نے اپنے ملک میں تخت کے لیے جانشینی کے قانون میں ترمیم اور صنفی غیر جانبدار جانشینی کا نظام متعارف کراتے ہوئے، اسے اپنی نوعیت کی پہلی بادشاہت بنا دیا تھا

کارل گستاف اور ان کی اہلیہ سلویا کے تین بچے ہیں۔ ولی عہد شہزادی وکٹوریہ، پرنس کارل فیلپ اور شہزادی میڈیلین۔ تینوں نے غیر شاہی خاندان کے افراد سے شادیاں کی، جس سے ان کے خاندان کو سویڈش عوام کے قریب ہونے کا موقع ملا

متحدہ سلطنتِ برطانیہ

8 ستمبر 2022ع کو ملکہ الزبتھ دوم چھیانوے سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ انہوں نے جنگ اور بحران کا سامنا کرتے ہوئے سات دہائیوں تک حکومت کی۔ وہ پچیس سال کی عمر میں برطانوی ملکہ بنیں اور برطانیہ کی سب سے طویل عرصے تک تخت نشین رہنے والی حکمران تھیں

1953ع میں ان کی تاج پوشی ایک بہت بڑا میڈیا ایونٹ تھا، جسے دنیا بھر میں تین سو ملین لوگوں نے ٹیلی وژن پر دیکھا تھا۔ ان کے بیٹے، سب سے طویل انتظار کرنے والے وارث، چارلس اب برطانیہ کے نئے بادشاہ بن گئے ہیں

ویٹیکن

ویٹیکن سٹی کو دنیا کا سب سے چھوٹا ملک تسلیم کیا جاتا ہے۔ تقریباً ساڑھ فٹبال میدانوں جتنے رقبے پر پھیلا ہوا یہ ’سٹی‘ اطالوی دارالحکومت روم کے اندر واقع ہے اور یونیسکو کی طرف سے عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ بھی مانا جاتا ہے۔ اس کے موجودہ سربراہ مملکت کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس ہیں، جو رومن کیتھولک چرچ کا سربراہ ہونے کی وجہ سے پاپائے روم بھی کہلاتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close