انسانی غلامی کا ماضی اور حال

ڈاکٹر ساجد خاکوانی

(12دسمبر، عالمی یوم تنسیخ غلامی کے موقع پر خصوصی تحریر)

ایک طویل زمانے سے غلامی کے مہیب سائے انسان کے ساتھ لگے ہیں، انسانی تہذیب عروج سے جانبِ زوال ہو یا زوال سے عروج کی طرف گامزن ہو، غلامی ہمیشہ اس کے ہم رکاب رہی ہے۔ کیسی ہی تہذیب ہو اور کسی بھی نوعیت کا تمدن ہو، طوق انسان کے گلے کا زیور، ہتھکڑیاں انسانی کلائیوں کی تقدیر اور بیڑیاں بنی آدم کے قدموں کا مقدر رہے ہیں۔

اگرچہ جانوروں کو بھی اسی طرح ہانکا جاتا ہے لیکن ان کی نکیل کسی اور نوع کے ہاتھ نے تھامی ہوتی ہے، لیکن یہ منظر آسمان ہمیشہ سے دیکھتا رہا ہے کہ انسان کے گلے میں بندھی رسی کا دوسرا سرا کسی انسان ہی کے ہاتھ میں رہا اور اس کی بولی لگانے والے انسان ہی تھے اور انسانی آقاؤں کی نسلوں کے ساتھ ان کے غلام بھی غلام ابنِ غلام ہی بنتے رہے

رومی تہذیب نے دنیا کی تاریخ میں ایک نام پیداکیا ہے، آج تک اس کی باقیات پر تحقیقات و تدریسات جاری ہیں لیکن غلامی کے میدان میں رومی تہذیب بھی ننگ انسانیت ہے، جبکہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ سلطنت روم میں غلاموں کو کئی کئی دنوں کے بھوکے بھیڑیوں اور دیگر درندوں کے سامنے ڈال دیا جاتا تھا اور پھر اس غلام کے چیرپھاڑ کا تماشا کرتے ہوئے شرابوں کے گلچھڑے اڑائے جاتے اور نظارہ کرنے والے کہتے کہ آج تو بڑا ہی مزا آیا ہے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ غلاموں کے دو گروہوں کو چھریاں، بھالے، تلواریں اور تیر و نیزے پکڑا کر ایک سیٹی بجانے والا منہ میں انگلیاں ڈال کر سیٹی بجاتا اور انسانوں کے یہ دو گروہ باہم دست و گریبان ہو جاتے، ایک دوسرے کو چیرتے، پھاڑتے، ہتھیاروں سے زخمی کرتے، لہولہان کرتے اور جب یہ اندوہناک خون آشام کھیل ختم ہوتا تو گویا آقاؤں کی صفت تفریح کو آسودگی حاصل ہو چکتی۔ غلاموں کی منڈیاں لگائی جاتیں، ان کی صحت اور فن کے حساب سے ان کی قیمت متعین ہوتی، لونڈیوں کی قیمت ان کے حسن و جمال اور شباب و نسوانیت کے مطابق ہوتی اور ایک بار جو غلامی کی گرداب میں آن پھنستا، پھر نسلوں تک اس کی خلاصی ممکن نہ تھی۔ بازار میں بک گئے تو دوسرا آقا گلے میں رسی ڈال کر چلتا بنا اور جب وہ راہیِ ملکِ عدم ہوا تو اس کی اولاد نے اس انسانی متاع کو بطورِ وراثت بانٹ لیا۔ غلاموں سے جو چاہا کام لیا، جو چاہا سلوک کیا، جیسے چاہا ان پر تشدد کیا اس وقت کا کوئی قانون آقا کو کسی ضابطے کا پابند نہ بناتا تھا۔ غلام کی جان، مال، عزت اور آبرو کچھ بھی اس کا اپنا نہ تھا، حتی کہ اس کی اولاد اور اس کے ایمان کا مالک بھی اس کا آقا ہی تھا، جس کی مرضی کے بغیر وہ اپنے عقائد بھی تبدیل کرنے کا مجاز نہ تھا۔ لونڈیوں کی حالت اس سے بھی بدتر تھی، جوانی میں ان کی کمائی کھائی جاتی، ان کی نسوانیت کو نوچاجاتا، انسانی درندے ان کو بھنبھوڑتے، جھنجھوڑتے اور اور حیوانی تسکین کا سامان کرتے اور اس کے عوض ملنے والی اس کی اولاد کو اس کا آقا اپنی ملکیت میں شامل کر کے منڈی میں اس کا بھاؤ لگا کر اس لونڈی کو مامتا تک سے محروم کر دیتا۔۔ گویا یہ انسانوں کی منڈیاں نہیں بلکہ انسانیت کی منڈیاں تھیں اور خرید و فروخت کرنے والے انسانوں کے بھیس میں درندوں سے چار قدم آگے نکلے ہوئے وحشت و بربریت سے عبارت مکروہ کردار تھے کہ جنہیں تاریخ نے بادلِ نخواستہ اپنے صفحات میں محفوظ کیا ہے۔

یہ عجائباتِ تاریخ میں سے ہے کہ جب کبھی کسی قوم کے پاس غلاموں کی تعداد کسی وجہ سے کم پڑ جاتی تو وہ غلاموں کی تلاش میں دوسری اقوام پر دھاوا بول دیتی۔ بغیر کسی وجہ کہ یہ چڑھائی لازمی طور پر کسی کمزور قوم پر کی جاتی اور پھر ان کے قبائل کو رسیوں میں باندھ کر ہانکتے پکارتے ہوئے ان آزاد لوگوں کو غلامی کے اندھیرے غار میں صدیوں تک دھکیل دیا جاتا۔ ان کی تقسیم اس طرح عمل میں آتی کہ خوبصورت عورتیں اور صحت مند نوجوانوں کو فاتحین کے سرداران آپس میں بانٹ لیتے اور بچا کھچا مال لشکریوں کے حصے میں آتا۔ بالکل ایسے ہی، جیسے ایک درندہ کسی جانور کا شکار کر کے بہترین گوشت کھا لیتا ہے اور باقی ماندہ جنگل کے کمزور جانوروں کے حصے میں آجاتا ہے۔

غلامی کا یہ عمل اس قدر وسعت پذیر تھا کہ دورِ قدیم میں غلامی کو ایک معاشی ستون کی اہمیت حاصل ہو چکی تھی۔ جس قوم کے پاس جتنے زیادہ غلام ہوتے، اس کی فصلیں اتنی ہی سر سبز و شاداب اور ان کا رقبہ اتنا ہی زیادہ وسیع ہوتا۔صحت مند غلاموں کی حامل قوموں کا مال دور دراز کی منڈیوں میں بِکتا اور وہ خوب خوب منافع کماتی تھیں۔ صنعت کے میدان میں بھی آج قدیم تاریخی عمارات، جن کا تعلق مشرق سے ہے یا مغرب سے، سب کی سب غلاموں کے ہاتھوں سے تعمیر شدہ ہیں اور اسی طرح دفاع کا شعبہ بھی مضبوط غلاموں کا مرہونِ منت تھا، بڑی اور طاقتور فوج تعداد میں زیادہ اور جسم میں مضبوط غلاموں پر منحصر تھی اور ظاہر ہے، دنیا تو طاقت کی زبان سمجھتی ہے، زیادہ غلاموں والے دنیا کے اقتدار و اختیار اور خزانوں کے مالک بنتے۔

یہ صورتحال اپنی پوری شدت کے ساتھ جاری وساری تھی کہ جب طلوعِ اسلام کا وقت آن پہنچا۔ رحمۃ اللعالمین ﷺ نے دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ آقاؤں کے لیے قوانین جاری کیے اور انہیں نافذ کیا۔محسنِ انسانیتﷺ نے پسند فرمایا کہ کثرت سے غلاموں کو آزاد کیا جائے۔ چنانچہ شریعت نے ہر غلطی کے ازالے کے لیے، جسے اصطلاح میں ’کفارہ‘ کہا جاتا ہے، غلاموں کو آزاد کرنے کی قانون سازی کی۔چنانچہ حکم دیا کہ قسم توڑنے پر غلام آزاد کرو، بیوی کے ساتھ ظہار کیا ہے تو غلام آزاد کرو، روزہ توڑ دیا ہے تو غلام آزاد کرو اور قرآن نے اللہ تعالی کی محبت میں غلاموں کی آزادی کادرس دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ جب محسن انسانیت ﷺ کو اپنے گھر بلاتے تو قدم مبارک گنا کرتے تھے، استفسار پر عرض کرتے کہ اتنے ہی غلام آزاد کروں گا۔ گویا ایک مقابلہ شروع ہو گیا کہ کون زیادہ غلاموں کو آزاد کر کے اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کا قرب حاصل کرتا ہے۔

آقا سے اولاد والی لونڈی کی فروخت پر پابندی لگا دی گئی اور ایسی لونڈی کے وراثت میں اجرا کو بھی قانوناً ممنوع قرار دے دیا گیا، چنانچہ محسنِ نسوانیت ﷺ کے حکم کے مطابق اولاد والی لونڈی آقا کے مرنے کے بعد خود بخود سے آزاد ہوجاتی ہے۔

تاریخِ انسانی میں سب سے پہلے یہ قانون جاری کیا کہ جو غلام اپنے آقا کو اپنی قیمت ادا کر دے وہ آزاد تصور ہو گا، ایسے غلام ’مکاتب‘ کا نام دیا گیا۔ خلیفہ ثانی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اس قانون کو نہ صرف یہ کہ بزورِ ریاست جاری کیا بلکہ بیت المال سے ایسے غلاموں کی مالی اعانت بھی کی تاکہ وہ اپنے آقا کو ایک معقول رقم دے کر آزادی حاصل کر سکیں۔ غلاموں کے حقوق مقرر کیے، ان کے قیام و طعام اور نان نفقہ کی ذمہ داریوں کا تعین کیا۔ جو غلام گلیوں میں بھیک مانگتا ہوا اور کسمپرسی کی حالت میں ملتا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کے آقا کو بلوا کر اس کی سرزنش کرتے اور حکم دیتے کہ اس کے حقوق ادا کرو یا پھر اسے آزاد کرو۔ لوگ حیران ہوتے تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اور ان کے غلام نے ایک قسم کا لباس زیب تن کیا ہوتا، حضرت جس تھان سے اپنے لیے کپڑا کٹواتے غلام کے لیے بھی اسی تھان سے کپڑا خریدتے تھے۔

اسلامی تاریخ میں ایک طویل فہرست ہے ان غلاموں کی، جنہوں نے علم و ادب اور سیاست میں نام پیدا کیا۔ یہ اسلامی نظام کے انسانی اثرات تھے کہ ہندوستان میں غلاموں کے ایک خاندان ’خاندانِ غلاماں‘ اور مصر میں اسی طرح کے ’خاندانِ مملوک‘ نے حکومت کی۔ گویا ماضی میں اپنے بنیادی انسانی حقوق تک سے محروم غلاموں کے طبقے میں اسلامی تعلیمات نے اس قدر اعتماد پیدا کیا کہ وہ مسندِ اقتدار تک آن پہنچے۔ خاندانِ غلاماں ہندوستان میں ایک بادشاہ کے مرنے کے بعد اس کا بیٹا یا کوئی اور رشتہ دار تخت نشین نہ ہوتا بلکہ عمائدینِ سلطنت مل بیٹھتے اور کسی اہل اور قابل تر فرد کو یہ باگ سونپی جاتی۔ خاندانِ غلاماں کے بادشاہوں کے تاریخ ساز واقعات آج تک زبان زد عام و خاص ہیں۔

اسلام پوری دنیا میں پہنچا، کسی نے قبول کیا اور کسی نے نہ کیا۔پوری دنیا میں قرآن و حدیث کی عربی گئی لیکن عربی غلامی نے کسی جگہ اپنا مقام نہ پایا۔ مفتوح اقوام اگرچہ آقاؤں کا بھیس پسند کرتی ہیں لیکن دورِ فاروقی میں جب اہلِ ایران نے عربی زبان اور عربی لباس کو رواج دینا شروع کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سختی سے منع کر دیا۔ چنانچہ اسلامی تعلیمات پوری دنیا اور اس کرہ ارض کے ہر خطے اور سمندر کے ہر جزیرے میں پہنچیں لیکن عربی تہذیب و تمدن کو کہیں جگہ نہ ملی سوائے جزیرۃ العرب کے۔ آج بھی تعلیمات اسلامیہ کے ماہرین اپنا مقامی لباس زیب تن کرتے ہیں اور علاقائی و معاشرتی شعائر کے تحت زندگی گزارتے ہیں۔

مسلمانوں نے کم و بیش ایک ہزار سال تک اس دنیا میں مشرق سے مغرب تک حکومت کی اس دوران غلامی کی زنجیریں کٹتی چلی گئیں اور اگر کہیں کٹ نہ سکیں تو اس قدر ڈھیلی پڑ گئیں کہ آقا اور غلام ایک ہی صف میں نظر آنے لگے، گویا آقا اور غلام کے معنی ہی بدل گئے۔ ان ایک ہزار سالوں میں بڑی قوموں نے چھوٹی قوموں پر خواہ وہ غیر مذہب سے ہی متعلق تھیں، اپنا ناجائز تسلط نہیں جمایا، انہیں اپنا غلام نہیں بنایا، اپنی تہذیب و ثقافت ان پر مسلط نہیں کی، انہیں اپنا تعلیمی و تکنیکی محتاج نہیں کیا، انہیں اپنے حق دفاع سے محروم نہیں کیا۔ ان ایک ہزار سالوں میں کوئی جنگ عظیم نہیں ہوئی، باپ کے مرنے کے بعد پُرامن انتقالِ اقتدار ہوتا اور اگلا بادشاہ تخت نشین ہو جاتا۔ کبھی انقلاب آئے بھی تو دو خاندانوں کے درمیان چند سو انسانوں کی قربانی سے راستہ صاف ہو گیا۔ اس دور کی تاریخ لاکھوں شہریوں کی قتل سے آنے والے کسی انقلاب سے خالی ہے۔ ایک ہزار سالہ دور میں مقتدر مسلمان اقوام نے محکوم اقوام کے محروم طبقات کو حقوق کے نام باہم نہیں لڑایا، کمرشل ازم کے نام پر نوخیز بچیوں کی مسکراہٹ کو اپنے کاروبار کی وسعت کا ذریعہ نہیں بنایا، عورتوں کے حقوق کے نام پر ان کی شرم انگیز ’آزادی‘ سے آلودہ معاشرہ اس دورانیے میں کہیں نظر نہیں آتااور نہ ہی جانوروں، پرندوں، چوپایوں اور درختوں تک کی افزائش نسل کرنے والا انسان اس پورے دور میں کہیں اپنی ہی نسل سے بیزار نظر آتا ہے۔

کم و بیش گزشتہ تین سو سالوں سے مسلمانوں کے رو بہ زوال ہونے سے سیکولر مغربی تہذیب نے دنیا میں اپنے جھنڈے گاڑے ہیں۔ آج تین صدیوں کے بعد دنیا میں دیکھنے سے یہ واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ گویا زمانہِ قدیم کی غلامی ایک بار پھر اپنے نئے رنگ و روپ کے ساتھ آن موجود ہوئی ہے۔ فرق صرف ایک ہے، ماضی کے غلام احساسِ غلامی سے عاری نہ تھے اور اپنے آپ کو غلام سمجھتے تھے لیکن آج اس سیکولر یورپی تہذیب کے غلام اس قدر غلامی میں ڈوب چکے ہیں کہ گویا غلامی کو غلامی ہی نہیں سمجھتے۔ ’گلوبل ولیج‘ دراصل گلوبل غلامی کا دوسرا نام ہے۔ یورپ کے سیکولرازم نے پوری دنیا سے اس کا لباس چھین لیا ہے، پوری دنیا سے اس کی مقامی زبان چھین لی ہے، پوری دنیا سے ان کا مقامی تمدن اور علاقائی تہذیب چھین لی ہے۔ آج ٹیلی ویژن چینل کے کیمرے ڈھونڈتے اور تلاش کرتے پھرتے ہیں کہ کہیں کوئی پرانی تہذیب کے آثار ملیں اور اسے وہ قیمتی اثاثہ بنا کر تو پوری دنیا کو دکھائیں۔۔ گویا ایک تہذیبی و ثقافتی غلامی ہے، جس کے مظاہر پوری دنیا میں نظر آتے ہیں۔

سیکولر اہلِ مغرب صرف اسی انسان کو مہذب مانتے ہیں جو ان کا لباس پہنے اور ان کی زبان میں بات کرے۔۔ ٹوپی، پگڑی، لاچہ کھلی سلوار قمیص یا کوئی علاقائی و مقامی لباس ان کے لیے غیر مہذب لوگوں کا لباس ہے۔

تعلیمی غلامی اس سیکولر یورپ کا ایک اور شاخسانہ ہے، آج آزاد ممالک زیرِ عتاب ہیں کہ صرف ایسا نصاب پڑھایا جائے جو نوجوان کو سیکولر مغرب کا ذہنی غلام بنائے۔ ایسا نصابِ تعلیم، جو علاقائی، مقامی یا مذہبی بیداری کا سبب بنے، ان کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ ماضی کے حکمران آہنی یلغار سے دوسری اقوام میں سے اپنے غلام تلاش کرتی تھیں۔ آج سیکولرازم کی تعلیمی اور تدریسی یلغار سے غلام تیار کیے جاتے ہیں۔

آفرین ہے کہ قرآن و حدیث پوری دنیا میں گئے لیکن عربی تہذیب نہیں پہنچی، لیکن مقامِ فکر ہے کہ سیکولر انگریزی تعلیم نے معیار تعلیم کتنا دیا؟؟ یہ نوشتہ دیوار ہے، جو چاہے پڑھ لے لیکن غلامی کے شعائر بدرجہ اتم منتقل کئے۔ آج منہ ٹیڑھا کر کے انگریزی بولنا اورانگریزی لباس پہننا ہی گویا پڑھے لکھے ہونے کی علامت ہے۔ ماضی میں جس طرح معاشی نظام کا ایک بہت بڑا عنصر غلامی تھی، آج بھی بڑے بڑے عالمی مالیاتی اداروں کے ذریعے سیکولر مغرب نے پوری دنیا کو اپنا معاشی غلام بنا رکھا ہے، دنیا کی کوئی قوم سود سے آزاد نہیں ہے اور قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی سسکتی انسانیت مجبور ہے کہ اس معاشی غلامی کے طوق اپنی اور اپنی نسلوں کی گردنوں میں ڈالتی چلی جائے کہ اس کے سوا بالکل ماضی کی مانند کوئی راستہ ہی نہیں ہے۔ ماضی میں صرف افراد کو ہتھیا کر اپنی منڈی لے جاکر فروخت کر دیتے تھے، آج کا سیکولر مغرب دیگر ممالک کے جنگلات، ان کی فصلیں اور بیمہ کے نام پر ان کی زندگیاں تک اپنے نام کر کے انہیں ان کی ملکیت سے محروم کر چکا ہے۔

ماضی میں جس طرح غلاموں کو حقِ دفاع حاصل نہیں تھا، آج کا یورپی سیکولرازم بھی چھوٹی قوموں کو ان کے اس پیدائشی حق سے محروم کرتا چلا جا رہا ہے۔ خود ایٹم بم برسانے والے دوسروں سے کہتے ہیں ہیں تم چونکہ اس کا غلط استعمال کرو گے، اس لیے اسے ترک کر دو۔۔ خود دنیا کی سب سے بڑی فوج رکھنے والے دوسروں سے کہتے ہیں کہ اپنی فوج کی تعداد کم کرو، خود دنیا کا تباہ کن ترین اسلحہ رکھنے والے دوسروں سے کہتے ہیں کہ تمہیں اس کا حق حاصل نہیں ہے۔۔ کیمیائی ہتھیاروں کے موجد دوسری قوموں پر اس لیے چڑھ دوڑتے ہیں کہ شاید ان کے پاس ایسے ہتھیار موجود ہوں۔۔ اور کیا آسمان نے ایسا وقت بھی کبھی دیکھا ہوگا کہ ہزاروں میل دور دوسرے ملکوں میں شہروں کو ادھیڑنے والے اور دریاؤں میں پانی کی بجائے انسانی خون بہانے والے سیکولر فوجی امن پسند ہیں اور اپنے ہی ملک، قوم، علاقہ اور ایمان کا دفاع کرنے والے دہشت گرد کہلائیں۔۔

ماضی کی غلامی اس لحاظ سے شاید بہتر تھی۔۔ غداروں کی پرورش تو نہ کرتی تھی۔۔ آج کا سیکولر مغرب قوموں میں سے چن چن کر غدار تلاش کرتا ہے، انہیں دھونس، دھاندلی اور لالچ سے استعمال کرتا ہے اور پھر ٹشو پیپر کی مانند انہیں کوڑے کے ڈھیر میں پھیک دیتا ہے۔ماضی کی غلامی نے جنسیت کی خاطر عورت کو اس کی مامتا سے محروم کیا تھا، آج کا سیکولرازم اس سے ہزار گنا زیادہ ننگِ مامتا ہے۔ انسانیت کا راگ الاپتی اس سیکولر تہذیب نے انسان پر انسان کے بچے کو بوجھ بنا دیا ہے، عورت کو آزادی اور حقوق کے نام پر اس کی ذمہ داریوں میں تخفیف تو نہیں کی، البتہ اس کے ذمہ مردوں والے کام لگا کر اس کا فطری جوہرِ خاص اس کی نسوانیت سے اسے محروم کر دیا ہے۔ ہیرے موتیوں جیسی نوخیز خوبصورت اور زمانے کی فریب کاریوں سے نابلد بچیاں فیکٹری پروڈکٹس اٹھائے گھر گھر بیچتی ہیں یا سارا سارا دن دفتر میں گزارنے کے باوجود بغل میں فائلوں کا ڈھیر دبائے اسٹاپ پر شام کے وقت میں گھر جانے کے لیے ویگن کا انتظار کرتی ہیں۔ زندگی کے جس بہترین وقت پر ان کی اگلی نسل، ان کے شوہر اور ان کے خاندان کا حق تھا اس سیکولرازم نے کمال چابکدستی سے دوہری تلوار کے ذریعے عورت، مامتا، نسل اور خاندان سب کو سود کی ادائگی کا ایندھن بناکر معیارِ زندگی کی بڑھوتری کے دہکتے تنور میں جھونک دیا۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے غلامی کو فرد کی حد تک محدود کر کے اس کے اختتام کی جانب گامزن کر دیا تھا اور یہ مسلمانوں کے ایک ہزار سالہ دور کا نتیجہ تھا کہ انسانیت مجبور ہوئی کہ جینوا ایکارڈ کے ذریعے انسانوں کی خرید و فروخت پر پابندی لگائی جائے، لیکن ننگِ انسانیت سیکولر تہذیب نے جمہوریت کے نام پر افراد کو آزادی کا جھانسہ دے کر پوری کی پوری اقوام کو اپنا غلام بنا لیا ہے۔۔ ان کی فکر، ان کے مادی و انسانی وسائل اور ان کا عقیدہ و ایمان بھی اب اس نئے فریب آزادی میں لپٹے ہوئے دور غلامی سے محفوظ نہیں۔ اس نیلی چھت کے نیچے اور اس زمین کے سینے پر صرف ایک دستاویز ہی انسانوں کو ان کے حقیقی حقوق عطا کر سکتی ہے اور وہ خاتم النبیین، رحمۃاللعالین محسنِ انسانیت، داورِ محشر، امام الانبیاﷺ کا خطبہ حجۃ الوداع ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close