سائنس دانوں کا خلائی مخلوق کی تلاش کے لیے آسان ٹیسٹ تیار کرنے کا بڑا دعویٰ

ویب ڈیسک

سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے خلائی مخلوق کی زندگی کی تلاش کے لیے ایک آسان ٹیسٹ تیار کر لیا ہے

اس پیش رفت کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ ایسٹرو بائیولوجی کی ’انتہائی مطلوب لیکن مشکل‘ تلاش میں معاون ہے، یعنی یہ، بقول سائنسدانوں کے، ایک قابلِ اعتماد ٹیسٹ ہوگا جو اس بات کا تعین کرے گا کہ دوسرے سیاروں پر زندگی موجود ہے یا پہلے کبھی موجود تھی

یہ دریافت مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے نوے فی صد درستگی کے ساتھ اس بات کا تعین کرتی ہے کہ آیا (خلا سے لایا گیا) کوئی نمونہ حیاتیاتی ہے یا نہیں؟

جرنل پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع اس تحقیق کی ایک سات رکنی ٹیم کی قیادت کرنے والوں میں سے ایک رابرٹ ہیزن کا کہنا ہے کہ یہ معمول کا تجزیاتی طریقہ ماورائے ارضی زندگی کی تلاش میں انقلاب لانے اور زمین پر ابتدائی زندگی کی شروعات اور کیمسٹری دونوں کے بارے میں ہماری سمجھ کو گہرا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ روبوٹک خلائی جہاز، لینڈرز اور روورز پر سمارٹ سینسرز کے استعمال کا راستہ کھولتا ہے تاکہ نمونے زمین پر واپس آنے سے پہلے زندگی کے آثار تلاش کر سکیں

محققین کا کہنا ہے کہ اسے موجودہ نمونوں پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ پہلے سے خلا سے لا کر ہمارے پاس جمع کیے ہوئے نمونے بتا سکتے ہیں کہ آیا مریخ پر زندگی ہے یا نہیں؟

سائنسدانوں کو امید ہے کہ ان کے ٹیسٹ کا استعمال مریخ پر ناسا کے بھیجے گئے کیوروسٹی روور کے سیمپل اینالسز ایٹ مارس (ایس اے ایم) پر نصب آلے کے ذریعے پہلے سے جمع شدہ نمونوں پر کیا جا سکتا ہے۔ روور میں موجود آلے کی جانب سے نمونوں کے جمع کیے گئے ڈیٹا کو اس ٹیسٹ میں استعمال کیا جاسکتا ہے

یہ نتائج زمین پر پائے جانے والے پراسرار اور قدیم چٹانوں کی تاریخ کا انکشاف کرتے ہوئے ہمیں اپنے سیارے کے بارے میں بھی مزید جاننے میں مدد کر سکتے ہیں

واشنگٹن میں قائم ’کارنیگی انسٹیٹیوٹ فار سائنس‘ کی ارتھ اینڈ پلینٹس لیبارٹری سے وابستہ اس تحقیق کے ایک اور سربراہ جم کلیوز کہتے ہیں ”زمین سے باہر زندگی کی تلاش جدید سائنس میں سب سے زیادہ پیچیدہ کوششوں میں سے ایک ہے“

انہوں نے کہا ”اس نئی تحقیق کے بہت سے پوشیدہ معنی ہیں لیکن اس سے تین بڑے نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں: پہلا، کچھ گہرائی میں، بائیو کیمسٹری ایبائیوٹک آرگانیک کمسٹری سے مختلف ہے۔ دوسرا، ہم مریخ اور قدیم زمین کے نمونوں کو دیکھ کر یہ بتا سکتے ہیں کہ آیا وہ کبھی زندہ تھے یا نہیں۔۔ اور تیسرا، یہ امکان ہے کہ یہ نیا طریقہ متبادل حیاتیاتی سفیئرز کو زمین سے الگ کر سکتا ہے، جس کے مستقبل کے ایسٹروبائیولوجی مشنز کے لیے اہم مضمرات ہوں گے“

یہ تکنیک زندگی کی نشاندہی کرنے والے مخصوص مالیکیولز یا مرکبات تلاش نہیں کرتی، جیسا کہ پہلے ہوتا ہے۔ اس کے بجائے، یہ مختلف قسم کے تجزیے استعمال کرتے ہوئے نمونوں کے مالیکیولر پیٹرن میں چھوٹے فرق کی تلاش کرتی ہے

اس کو بنانے کے لیے ایک سو چونتیس معلوم نمونوں کے بارے میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس سسٹم ڈیٹا سے بنایا گیا، جس میں یہ معلومات شامل تھیں کہ آیا وہ بائیوٹک ہیں یا ابائیوٹک۔ اس کی جانچ کرنے کے لیے اسے نئے نمونے دیے گئے، جن میں زندہ چیزوں، قدیم زندگی کی باقیات اور دیگر حیاتیاتی نمونے شامل تھے جو زندگی کی طرف اشارہ نہیں کرتے تھے، جیسے خالص کیمیکل – اور نوے فی صد درستگی کے ساتھ ان کی شناخت کی۔

اس سسٹم نے ایک اور قسم کے نمونے کی پیش گوئی بھی شروع کر دی، جس میں بائیوٹک کو ’زندہ‘ اور ’فوسل‘ میں تقسیم کیا گیا

مثال کے طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ تازہ کٹے ہوئے پتے اور بہت پہلے مرنے والی کسی اور چیز کے درمیان فرق بتا سکتا ہے

سائنسدانوں کو امید ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ اعداد و شمار میں موجود دیگر اشاروں میں فرق کرنے کے قابل ہو جائے گا، جیسا کہ فوٹو سینتھیسس کی علامات یا ایسے خلیات، جن میں نیوکلیس ہوتا ہے

سائنسدانوں کو پچھلی تحقیق میں کافی جدوجہد کرنی پڑی کیونکہ نامیاتی مالیکیولز وقت کے ساتھ خراب ہوتے ہیں، لیکن اب تحقیق میں شامل محققین کا کہنا ہے کہ یہ نیا طریقہ اس وقت بھی کام کرتا ہے، جب نمونے خراب اور نمایاں طور پر تبدیل ہو چکے ہوں

تحقیق کے رہنماؤں میں سے ایک، کارنیگی انسٹیٹیوٹ فار سائنس سے وابستہ رابرٹ ہیزن کا کہنا ہے ”یہ معمول کا تجزیاتی طریقہ ماورائے ارض زندگی کی تلاش میں انقلاب برپا کرنے اور زمین پر ابتدائی زندگی کی ابتدا اور کیمسٹری دونوں کے بارے میں ہمارا علم بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس سے روبوٹک خلائی جہاز، لینڈرز اور روورز پر سمارٹ سینسرز کے استعمال کا راستہ کھل جائے گا تاکہ نمونے زمین پر واپس بھیجنے سے قبل ہی زندگی کے آثار تلاش کیے جا سکیں“

یہ نتائج زندگی کے اسرار کو حل کرنے میں بھی مدد کر سکتے ہیں۔ زمین پر موجود بہت سی قدیم چٹانوں کے متعلق بھی بحث جاری ہے کہ آیا ان میں زندگی کے سب سے قدیم فوسل جرثومے موجود ہیں، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ ان میں کوئی زندگی نہیں ہے۔ واضح رہے کہ محققین پہلے ہی آسٹریلیا، کینیڈا اور دیگر جگہوں سے ان چٹانوں کے بارے میں اعداد و شمار کو آلہ میں ڈال رہے ہیں

رابرٹ ہیزن کہتے ہیں ”اب ہم ان چٹانوں میں موجود نامیاتی مادّے کی حیاتیاتی نوعیت کے بارے میں دیرینہ سوالات کو حل کرنے کے لیے اپنے طریقے استعمال کر رہے ہیں“

اس تحقیق کی وضاحت کرنے والا ایک مقالہ، ‘A robust, agnostic biosignature based on machine learning’, ‘ کے عنوان سے پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز نامی جریدے میں شائع ہوا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close