ترقی اور تباہی کا سفر ساتھ ساتھ (قسط 5)

عاجز  جمالی

پیپلز پارٹی اور قوم پرستوں کا کردار

بحریہ ٹائون کے خلاف جب جدوجہد نے سیاسی رخ اختیار کیا تو ہر کسی کو معلوم ہوگیا کہ بحریہ ٹائون کے سیاسی مرشد  بہت مضبوط ہیں. بحریہ ٹائون کے خلاف ملیر میں جدوجہد کرنے والے کردار بھی پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے،  جن میں عبدالحکیم بلوچ، سلیم بلوچ، حاجی شفیع محمد جاموٹ (مرحوم) جام عبدالکریم جوکھیو اور دیگر شامل ہیں. اسی طرح ضلع کونسل میں حزب اختلاف کے تمام کونسلرز بھی پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے۔ لیکن بحریہ ٹائون کے خلاف سیاسی جدوجہد شروع کرنے والے تین چار کرداروں نے اپنا کام جاری رکھا، جن میں خدا ڈنو شاہ، گل حسن کلمتی، رخمان گل پالاری اور الاہی بخش بکک پیش پیش رہے. یہ کراچی کے دیہی علاقوں کے وہ کردار ہیں جن پر پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ جبکہ یوسف مستی خان، عبدالخالق جونیجو اور عثمان بلوچ کے نام بھی اس حوالے سے اہم ہیں.

چونکہ ملیر سے منتخب دیگر نمائندوں کا تعلق بھی پیپلز پارٹی سے ہے، جن میں ساجد جوکھیو، راجہ عبدالرزاق، سلیم کلمتی، مرتضیٰ بلوچ کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے یوسف بلوچ، شاہینہ شیر علی، آغا رفیع اللہ سب کے سب پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ ضلع کونسل کے چیئرمین سلمان عبداللہ مراد بلوچ، ڈی ایم سی ملیر کے چیئرمین جان محمد بلوچ، ضلع کونسل اور ڈی ایم سی کے پچاس کے لگ بھگ کونسلرز اور یوسی چیئرمین اور کئی سرکردہ لوگ بھی پیپلز پارٹی سے وابستہ رہے لیکن بحریہ ٹائون کی زیادتیوں کے خلاف ان سب کے لب سِلے ہوئے تھے، کیونکہ یہ سب ہی حکومت کے مزے حاصل کر رہے تھے۔ بحریہ ٹائون کے مسئلے پر جس طرح پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت پر تنقید ہو رہی ہے اسی طرح پیپلز پارٹی ملیر بھی تنقید کی زد میں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ بعض لوگ اتفاق نہ کرتے ہوں، مگر میرا خیال ہے کہ آنے والے بلدیاتی الیکشن ہوں یا عام انتخابات ہوں بحریہ ٹائون ملیر میں ایک سیاسی اشو کی صورت میں ہوگا. پیپلز پارٹی کے مخالفین کے پاس ملیر میں یہ ایک اچھا نعرہ ہوگا۔ حالانکہ بحریہ ٹائون کے حوالے سے ملیر میں پی ٹی آئی کا بھی کوئی کردار نہیں اور نہ پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت نے کوئی کردار ادا کیا اس وجہ سے لوگوں کا پی ٹی آئی پر بھی اعتماد نہیں ہوگا، البتہ اس کے پاس پیپلز پارٹی کی مخالفت کے لئے ایجنڈا اچھا ہوگا۔ اسی طرح مسلم لیگ نون کراچی میں موجود تو ہے لیکن کبھی بھی بحریہ ٹائون کے مسئلے پر آواز نہیں اٹھائی. 2014 میں جب بحریہ ٹائون کے خلاف آواز بلند ہوئی تو مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت تھی لیکن وفاقی حکومت نے تب بھی کوئی نوٹس نہیں لیا تھا، جس طرح آج نہیں لے رہی۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ سندھیوں کے نیلسن منڈیلا کی طرح پنجابیوں کے نیلسن منڈیلا کا بھی ملک صاحب سے پکا یارانہ ہے. سو صرف پیپلز پارٹی ہی نہیں دیگر وفاقی سیاسی پارٹیوں کی بھی بحریہ ٹائون کے متعلق لگ بھگ ایک جیسی پالیسی ہے۔ مذہبی جماعتوں میں سے جماعت اسلامی نے گذشتہ برس بحریہ ٹائون کے خلاف مہم چلائی تھی اور دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا یاد رہے کہ جماعت اسلامی کی یہ جدوجہد دیہات کے مکینوں کے لئے نہیں، بلکہ بحریہ ٹائون کے مکینوں اور الاٹیز کے مسئلے پر تھی. لیکن اس میں گوٹھوں کے مکینوں کے ساتھ بھی ہمدردی کا اظہار تھا۔ جماعت اسلامی نے بحریہ ٹائون کے گیٹ پر دھرنا دینے اور موٹر وے کو بند کرنے کا اعلان کر رکھا تھا، جو کہ بحریہ ٹائون کے لئے باعث پریشانی تھی۔ پھر میمن برادری کی ثالثی شروع ہوئی اور اے آر وائی نیوز کے میمنوں نے ملک ریاض کو جماعت اسلامی سے ریسکیو کر لیا تھا۔ مذاکرات کے دو تین دور ہوئے بلا آخر ملک ریاض اے آر وائی نیوز کے مالک حاجی اقبال کے ہمراہ جماعت اسلامی کے مرکز ادارۂ نور حق پہنچ گئے، جہاں پر ایک تحریری معاہدہ ہوا جس کا پریس رلیز تو جاری ہوا تھا لیکن معاہدے کے مندرجات آج تک خفیہ رکھے گئے.  یہ اپنی نوعیت کا ایک انوکھا معاہدہ تھا جو ایک بڑی مذہبی جماعت نے ملک کے ایک بڑے بلڈر کے ساتھ کیا تھا. اس معاہدے میں کیا طے ہوا تھا، عوام کو نہیں بتایا گیا البتہ جماعت اسلامی کی جدوجہد کو بریک لگ گیا اور اس نے دھرنے کا اعلان واپس لے لیا۔ بعض لوگ آج تک یہ کہتے ہیں کہ ایک ڈیل کے تحت دھرنا نہیں لگا، البتہ اس کی حقیقت تو جماعت اسلامی اور ملک ریاض یا پھر اے آر وائی کے مالکان ہی جانتے ہیں۔ خدا جانتا ہے کہ کیا طے ہوا تھا، لیکن یہ تو بہرحال عالم آشکار ہے کہ عملی طور پر گذشتہ چھہ برسوں کے دوران بحریہ ٹائون کے خلاف جاری جدوجہد میں بڑی سیاسی یا مذہبی جماعتیں شامل نہیں رہیں۔

سندھی قوم پرستو ں کا کردار:

کراچی میں جیئے سندھ قومی محاذ (جسقم) کے رہنما الاہی بخش بکک ابتدائی دنوں سے بحریہ ٹائون کے خلاف جدوجہد میں شامل رہے. انہوں نے اپنی پارٹی کو بھی جدوجہد کرنے کے لئے آمادہ کیا۔ جون 2015ع  میں جسقم نے بحریہ ٹائون کے گیٹ کے باہر دھرنا دیا اور تین چار گھنٹے تک موٹروے کو بلاک کردیا تھا، اس دھرنے میں انڈیجینئس رائیٹس الائنس کے کارکنوں نے بھی بھرپور شرکت کی تھی۔ دھرنے میں جسقم کے مرکزی چیئرمین صنعان قریشی، وائس چیئرمین نیاز کالانی سمیت جسقم کی مرکزی قیادت نے شرکت کی اور تین چار گھنٹے کے بعد یہ دھرنا ختم ہو گیا۔ دھرنا ختم ہونے کی وجہ سے جسقم کے بعض رہنماؤں پر انگلیاں اٹھانے والوں نے کہہ دیا کہ ڈیل کے نتیجے میں دھرنا ختم ہوا۔ میں نے اس بارے میں پرانے سیاسی کارکن اور کراچی کے قدیمی باشندے الاہی بخش بکک سے یہ سوال کیا کہ چھہ سال قبل آپ لوگوں کے دھرنے نے کیا نتائج حاصل کیئے، دھرنا کیوں ختم ہوا تھا اور لوگ تنقید کیوں کرتے ہیں؟  الاہی بخش کہتے ہیں چار گھنٹے تک ہم نے کامیاب دھرنا دیا اس سے زیادہ وقت موٹروے کو بند نہیں رکھ سکتے تھے اس لئے دھرنا ختم کیا. چار گھنٹے تک نہ کسی نے ہم سے رابطہ کیا نا کوئی مذاکرات ہوئے تو پھر ڈیل کیسے ہوئی. اس حوالے سے میں قسم اٹھانے کو تیار ہوں کہ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی تھی. تنقید کرنے والوں کو ہم کیا کر سکتے ہیں۔ جسقم کے علاوہ جیئے سندھ محاذ کے ریاض چانڈیو نے کراچی پریس کلب میں آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا تھا۔ قومی عوامی تحریک، سندھ ترقی پسند پارٹی، عوامی تحریک، سندھ یونائیٹڈ پارٹی اور دیگر قوم پرست جماعتوں نے بحریہ ٹائون کے متاثرین کے لئے آواز بلند کی آل پارٹیز کانفرنس میں بھی شرکت کی لیکن قوم پرستوں کی جانب سے گذشتہ چھہ برسوں کے دوران کوئی بڑی موبلائیزیشن یا کوئی عوامی سطح کی جدوجہد نہیں کی گئی البتہ تمام جماعتوں نے انڈجینئس رائیٹس الائنس کی حمایت جاری رکھی۔ یوں کہا جائے کہ پیپلز پارٹی اور پیپلز پارٹی سے وابستہ عوامی نمائندوں نے عوام کے حق میں  اگر کوئی بڑا کردار ادا نہیں کیا تو قوم پرستوں یا مذہبی جماعتوں نے بھی عوام کے حقوق کے لئے کوئی بڑی جدوجہد نہیں کی۔ (جاری)

بحریہ ٹائون کے متعلق یہ مضمون روزنامہ عوامی آواز میں قسط وار شایع ہوا، جس کا اردو ترجمہ قارئین کے لئے یہاں  مصنف کی اجازت اور مصنف اور عوامی آواز کے شکریے کے ساتھ شایع کیا جا رہا ہے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close