دریائے سندھ کا نام کیسے پڑا؟

▪️ایک:

بہت سے لوگوں کے لیے یہ بات نئی ہوگی کہ دریائے سندھ کا شمار پانی کے بہاؤ کے حوالے سے دنیا کے بڑے دریاؤں میں ہوتا ہے، جس میں بہنے والے پانی کی مقدار دریائے نیل سے دوگنی ہے۔

شاید لوگ یہ بھی نہ جانتے ہوں کہ انڈیا کا نام انڈس سے لیا گیا ہے۔ چونکہ موہن جو دڑو جسے انڈس کی تہذیب میں مرکزی حیثیت حاصل ہے وہ دریائے سندھ کے کنارے پر ہی آباد تھا، اس لیے اسی نسبت سے جب ہندوستانی قیادت نے ملک کا سرکاری نام انڈیا رکھا تو ہندوستان کے محکمہ آثار قدیمہ کے سابق سربراہ سر جان مارشل نے بھی اس پر حیرت کا ظہار کیا تھا کہ دریائے سندھ کی تہذیب کے تمام علاقے پاکستان میں آتے ہیں تو پھر ہندوستان کا سرکاری نام انڈیا کیوں رکھا گیا ہے؟

دریائے سندھ کی کل لمبائی 3180 کلومیٹر ہے، جس کا آغاز تبت کے مغربی علاقے سے ہوتا ہے۔ لداخ اور گلگت بلتستان سے ہوتا ہوا یہ دریا جب نانگا پربت کے پاؤں کو چھوتا ہوا گزرتا ہے تو شاہراہ ریشم کے ساتھ ساتھ یہ اٹک کے مقام پر دریائے کابل سے ملاپ کرتا ہے۔ کالا باغ کے مقام سے یہ میدانی علاقوں میں داخل ہوتا ہے اور پھر کراچی کے قریب سمندر سے جا ملتا ہے۔

دریائے سندھ جتنے بڑے علاقے کا پانی ساتھ لے کر آتا ہے اس کا مجموعی رقبہ پاکستان کے رقبے سے بھی زیادہ ہے جو 1165000مربع کلومیٹر بنتا ہے۔

دریائے سندھ کا نام سندھ کیسے پڑا؟ اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ ایران کی اخمینی حکومت کا دائرہ اثر جب گندھارا تک تھا تو وہ اسے ہندو کے نام سے پکارتے تھے جسے یونانیوں نے انڈس پکارا اور بعد میں سنسکرت میں سندھو ہو گیا جو اب سندھ کہلاتا ہے۔ تاہم مختلف وقتوں میں اس کے نام مختلف رہے ہیں۔

اٹک کے گزٹیئر میں لکھا ہے کہ ’ضلع کے اندر دریائے سندھ کے دو نام ہیں۔ جب ہزارہ سے اٹک کی حدود میں داخل ہوتا ہے تو یہ دریائے اٹک کہلاتا ہے۔ ‘ سید نصرت بخاری کی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ’ضلع اٹک، تذکرہ و تاریخ ‘ میں دریائے سندھ کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ اسے اس کے نیلگوں پانی کی مناسبت سے نیلاب کا نام بھی دیا گیا تھا۔ باغ نیلاب کا قصبہ آج  بھی اٹک بسال روڈ پر دریائے سندھ کے کنارے پر واقع ہے۔ دراصل یہی وہ قصبہ ہے جہاں سے قدیم حملہ آور اس دریا کو پار کر کے ہندوستان میں داخل ہوتے رہے ہیں۔

’تاریخ فرشتہ‘ کے مصنف محمد قاسم فرشتہ بھی اسے نیلاب ہی لکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہندوؤں کے عقیدے کے مطابق اسے پار کرنا منع ہے۔کہا جاتا ہے کہ نیلاب کو پار کرنے پر اس لیے پابندی تھی کہ اٹک کے مغرب میں مسلمان آباد تھے جن کو وہ ملیچھ سمجھتے تھے اور اگر کوئی ہندو دریا پار کر لیتا تو واپسی پر اسے پھر نئے سرے سے ہندو بنایا جاتا تھا۔اس عقیدے کی تصدیق انیسویں صدی کے یورپی سیاح ہیوگل اور برنس بھی کرتے ہیں۔تاہم جنرل کننگھم کا خیال ہے کہ دریائے اٹک کی وجہ تسمیہ ٹکا نامی قبیلہ تھا جو مارگلہ اور دریائے اٹک کے درمیان آباد تھا۔

کچھ مؤرخین کے مطابق اٹک دراوڑی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی دلدلی زمین کے ہیں۔ جبکہ عام تاثر یہی ہے کہ اس کا نام دریائے اٹک اس لئے پڑا کہ یہاں آ کر اس کی رفتار کم ہو جاتی ہے اس لیے اسے دریائے اٹک کہا جاتا ہے۔ مغلوں کی زبان چونکہ ترکی تھی اور ترکی میں اتک کا لفظ دامن کوہ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اکبر نے یہاں پر ایک بڑا قلعہ تعمیر کروایا جو ایک پہاڑی کے دامن میں تھا اس لیے اسے اتک پکارا جانے لگا جو بعد میں اٹک ہو گیا۔

ہندو، سندھو، سندھ، اٹک یا نیلاب بدلتے زمانوں کے ساتھ اس شیر دریا کے نام بھی بدلتے رہے ہیں۔زمانہ قدیم میں چونکہ ذرائع رسد و رسائل محدود تھے اور لوگ ایک دوسرے کے علاقوں کے بارے میں بہت محدود معلومات رکھتے تھے، اس لیے جس دریا کی آج لمبائی تین ہزار کلومیٹر سے زیادہ ہے اور جو تبت کے بلندوبالا پہاڑوں سے ہوتا ہوا پنجاب کے میدانی علاقوں کو سیراب کرتے ہوئے گزرتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ ایک ہی وقت میں ہر علاقے میں اسے مختلف ناموں سے ہی پکارا جاتا رہا ہو۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس کے دامن میں دنیا کی قدیم ترین تہذیبیں پروان چڑھیں اور انہی تہذیبوں کی مناسبت سے اسے دریائے سندھ کہا جاتا ہے۔
(سجاد اظہر، انڈپنڈنٹ اردو)

▪️دو:

دﺭﯾﺎﺋﮯ ﺳﻨﺪﮪ ﮐﺎ ﺳﺮ ﭼﺸﻤﮧ۔۔ ﭼﯿﻨﯽ ﻋﻼﻗﮯ ﺗﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﻟﯿﮧ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ذیلی ﭘﮩﺎﮌﯼ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﮐﯿﻼﺵ ﮨﮯ۔ ﮐﯿﻼﺵ ﮐﮯ ﺑﯿﭽﻮﮞ ﺑﯿﭻ ﮐﯿﻼﺵ ﻧﺎﻡ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﭘﮩﺎﮌ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭘﺮ ﺟﮭﯿﻞ ﻣﺎﻧﺴﺮﻭﺭ ﮨﮯ۔ ﺟﺴﮯ ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﺳﻨﺪﮪ ﮐﺎ ﻣﻨﺒﻊ ﻣﺎﻧﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﺟﮭﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﺳﻨﺪﮪ ﺳﻤﯿﺖ ﺑﺮﺻﻐﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ چار ﺍﮨﻢ ﺩﺭﯾﺎ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ.

ﺳﺘﻠﺞ ﮨﺎﺗﮭﯽ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﮐﺮ ﻣﻐﺮﺑﯽ ﺳﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﮔﻨﮕﺎ ﻣﻮﺭ ﮐﯽ ﭼﻮﻧﭻ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﮐﺮ ﺟﻨﻮﺑﯽ ﺳﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺑﺮﮨﻢ ﭘﺘﺮ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﮐﺮ ﻣﺸﺮﻗﯽ ﺳﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﺳﻨﺪﮪ ﺷﯿﺮ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﮐﺮ ﺷﻤﺎﻟﯽ ﺳﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺘﺎ ﮨﮯ۔

ﺍﯾﮏ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﺗﮏ ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﺳﻨﺪﮪ ﮐﯽ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﺟﮭﯿﻞ ﻣﺎﻧﺴﺮﻭﺭ ﺗﮏ ﮨﯽ ﺳﻤﺠﮭﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺭﮨﯽ۔ ﺣﺘﯽٰ ﮐﮧ 1811ع ﻣﯿﮟ ﻭﻟﯿﻢ ﻣﻮﺭ ﮐﺮﺍﻓﭧ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺳﻨﺪﮪ ﮐﺎ ﻧﻘﻄﮧ ﺁﻏﺎﺯ ﺟﮭﯿﻞ ﻣﺎﻧﺴﺮﻭر ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺟﮭﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﻮﺏ ﺳﮯ ﺁ ﮐﺮ ﻣﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻧﺪﯾﺎﮞ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺳﯽ ﻧﻈﺮﯾﮧ ﭘﺮ ﻣﺰﯾﺪ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺳﯿﻮﻥ ﮨﯿﮉﻥ 1907ع ﻣﯿﮟ ﺟﮭﯿﻞ ﺳﮯ چالیس ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ ﺍﻭﭘﺮ ﺳﻨﮕﯽ ﮐﺒﺎﺏ ﯾﺎ ﺳﯿﻨﮕﮯ ﮐﺒﺎﺏ ﮐﮯ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﭘﮩﻨﭽﺎ۔ ﺟﮩﺎﮞ ﺑﮩﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻧﺪﯼ ﮔﺎﺭﺗﻨﮓ ﯾﺎ ﮔﺎﺭﺗﺎﻧﮓ ﮨﯽ ﺟﮭﯿﻞ ﻣﺎﻧﺴﺮﻭ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﮩﯿﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮔﺎﺭﺗﻨﮓ ﻧﺪﯼ ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﺳﻨﺪﮪ ﮐﺎ ﻧﻘﻄﮧ ﺁﻏﺎﺯ ﮨﮯ۔ ﺳﻨﮕﯽ ﮐﺒﺎﺏ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ ﺷﯿﺮ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﻭﺍﻻ۔ ﺍﺳﯽ ﻣﻨﺎﺳﺒﺖ ﺳﮯ ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﺳﻨﺪﮪ ﮐﻮ ﺷﯿﺮ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔

ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﺳﻨﺪﮪ ﻟﺪﺍﺥ ﻣﯿﮟ۔
ﮔﺎﺭﺗﻨﮓ ﻧﺪﯼ ﺷﻤﺎﻝ ﻣﻐﺮﺑﯽ ﺳﻤﺖ ﺳﮯ ﺁﮐﺮ ﺟﮭﯿﻞ ﻣﺎﻧﺴﺮﻭ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﻟﺪﺍﺥ ﮐﯽ ﺳﻤﺖ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﻔﺮ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﮯ ﺷﻤﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺍﻗﺮﻡ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﻮﺏ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﻟﯿﮧ ﮐﮯ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻭﺍﺩﯼ ﻧﯿﺒﺮﺍ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﺳﯿﺎﭼﻦ ﮔﻠﯿﺸﯿﺌﺮ ﮐﮯ ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﻨﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺩﺭﯾﺎ ﻧﯿﺒﺮﺍ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺁﮐﺮ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﯽ ﻟﻤﺒﺎﺋﯽ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً 450 ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ ﮨﮯ۔ ﭘﮭﺮ ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﺳﻨﺪﮪ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﻋﻼﻗﮯ ﺑﻠﺘﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔

ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﺳﻨﺪﮪ ﺑﻠﺘﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ۔
ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﺳﻨﺪﮪ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﺷﯿﻮﮎ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺁ ﮐﺮ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﭘﮭﺮ 30 ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ ﻣﺰﯾﺪ ﺁﮔﮯ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺳﮑﺮﺩﻭ ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﺷﯿﮕﺮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺁ ﮔﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﺰﯾﺪ ﺁﮔﮯ ﺟﺎ ﮐﺮ ﮨﻨﺪﻭﮐﺶ ﮐﮯ ﺳﺎﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﮔﻠﮕﺖ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻧﺎﻧﮕﺎﭘﺮﺑﺖ ﺳﮯ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺍﺳﺘﻮﺭ ﺩﺭﯾﺎ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ۔

ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﺳﻨﺪﮪ ﺗﺮﺑﯿﻼ ﻭ ﮐﺎﻻ ﺑﺎﻍ ﻣﯿﮟ۔
ﺍﻭﻧﭽﮯ ﭘﮩﺎﮌﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﺳﻨﺪﮪ ﻧﺸﯿﺒﯽ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺗﺮﺑﯿﻼ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ ﮈﯾﻢ ﻣﯿﮟ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﮨﮯ ﺗﺮﺑﯿﻼ ﮈﯾﻢ۔ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﺁﮔﮯ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺟﺮﻧﯿﻠﯽ ﺳﮍﮎ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﭨﮏ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﮐﺎﺑﻞ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺁ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﺳﻨﺪﮪ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﭘﻮﭨﮭﻮﮨﺎﺭﯼ ﭘﮩﺎﮌﯼ ﻋﻼﻗﮯ ﺳﮯ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﮐﺎﻻ ﺑﺎﻍ ﺗﮏ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﮐﺎﻻﺑﺎﻍ ﻭﮦ ﻣﻘﺎﻡ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﺳﻨﺪﮪ ﮐﺎ ﭘﮩﺎﮌﯼ ﺳﻔﺮ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﮐﺮ ﻣﯿﺪﺍﻧﯽ ﺳﻔﺮ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔

ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﺳﻨﺪﮪ ﮐﺎﻻ ﺑﺎﻍ ﺳﮯ ﮔﮉﻭ ﺗﮏ۔
ﮐﺎﻻ ﺑﺎﻍ ﮐﮯ ﮨﯽ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﺳﻮﺍﮞ ﺳﻨﺪﮪ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﺁﮔﮯ ﻣﻐﺮﺑﯽ ﺳﻤﺖ ﺳﮯ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﺮﻡ ﺩﺭﯾﺎ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﺰﯾﺪ ﺁﮔﮯ ﺟﺎﮐﺮ ﮐﻮﮦ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﺳﮯ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮔﻮﻣﻞ ﺩﺭﯾﺎ ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﺳﻨﺪﮪ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﻈﻔﺮﮔﮍﮪ ﺳﮯ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺁﮔﮯ ﺟﺎ ﮐﺮ ﭘﻨﺠﻨﺪ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﻡ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﭘﻨﺠﺎﺏ ﮐﮯ ﭘﺎﻧﭽﻮﮞ ﺩﺭﯾﺎ ﺟﮩﻠﻢ ، ﭼﻨﺎﺏ ، ﺭﺍﻭﯼ ، ﺳﺘﻠﺞ ، ﺑﯿﺎﺱ ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﺳﻨﺪﮪ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺎ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﮔﮉﻭ ﺳﮯ ﮐﯿﭩﯽ ﺑﻨﺪﺭ ﺑﺤﯿﺮﮦ ﻋﺮﺏ ﺗﮏ۔
ﮔﮉﻭ ﺳﮯ ﺳﻨﺪﮪ ﺟﻨﻮﺑﯽ ﺳﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺳﮑﮭﺮ ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﺑﯿﭻ ﺳﮯ ﺍﻭﺭ ﻻﮌﮐﺎﻧﮧ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﺋﻦ ﺟﻮﮈﺍﺭﻭ ﮐﮯ ﻣﺸﺮﻕ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﺳﮩﻮﻥ ﮐﯽ ﭘﮩﺎﮌﯾﻮﮞ ﺗﮏ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺣﯿﺪﺭﺁﺑﺎﺩ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﻮ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮐﺮ ﭨﮭﭩﮭﮧ ﮐﮯ ﻣﺸﺮﻕ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮐﺮ ﮐﯿﭩﯽ ﺑﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺑﮩﺖ ﺳﺎﺭﯼ ﺷﺎﺧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺑﺤﯿﺮﮦ ﻋﺮﺏ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔

ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﺳﻨﺪﮪ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﻣﻄﻠﺐ ﭘﺮ ﻣﺨﺘﺼﺮ ﺗﺤﻘﯿﻖ:
ﺩﺭﯾﺎ ﭘﺎﺭﺳﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﺎ ﻟﻔﻆ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﻮ ﺳﻨﺴﮑﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﻧﺪﯼ ، ﻋﺮﺑﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﺮ ، ﺗﺮﮐﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﯿﻼﺏ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﻣﯿﮟ river ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺳﻨﺴﮑﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﻨﺪﮬﻮ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﯾﺎ ﺑﮍﺍ ﺩﺭﯾﺎ۔ ﺳﻨﺴﮑﺮﺕ ﮈﮐﺸﻨﺮﯼ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺳﻨﺪﮬﻮ ﮐﺎ ﺑﻨﯿﺎﺩﯼ ﻟﻔﻆ ﺳﻨﯿﺪ Syand ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﺑﮩﻨﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﻌﻨﯽ ﺳﻨﺪﮬﻮ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﻮﺍ ” ﺍﯾﺴﯽ ﻧﺪﯼ ﺟﻮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺑﮩﺘﯽ ﺭﮨﮯ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺑﮩﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻧﺪﯼ۔ ﭘﺮﻭﻓﯿﺴﺮ ﻣﯿﮑﺲ ﻣﯿﻮﻟﺮ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺳﻨﺪﮬﻮ ﮐﺎ ﻟﻔﻆ ﺳُﺪﮪ ﺳﮯ ﻧﮑﻼ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ ﺑﭽﺎﺅ ﮐﺮﻧﺎ۔ ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﺳﻨﺪﮪ ﺟﻦ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﮯ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﭽﺎﺅ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻏﯿﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺣﻤﻠﮯ ﺳﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﮕﻠﯽ ﺳﻮﺭﻭﮞ ﺳﮯ۔

ﺳﻨﺪﮬﻮ ﻟﻔﻆ ﮐﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻟﮩﺠﮯ:
ﺭﮒ ﻭﯾﺪ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ 1500 ﻕ ﻡ ﻣﯿﮟ ﺳﻨﺪﮬﻮ ﮐﻮ ﺳﻨﺪﮬﻮ ﮨﯽ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﯾﺮﺍﻧﯽ ﺩﻭﺭ 518 ﻕ ﻡ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺍﺭﺍ ﻧﮯ ﺳﻨﺪﮪ ﭘﺮ ﻗﺒﻀﮧ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﻨﺪﮪ ﮐﻮ ﮨﻨﺪﻭ ﮐﮩﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﺎ۔ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ” ﺱ ” ﮐﺎ ﺣﺮﻑ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺱ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﮦ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺳﻨﺪﮬﻮ ﺳﮯ ﮨﻨﺪﻭ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔ ﯾﻮﻧﺎﻧﯽ ﺩﻭﺭ 326 ﻕ ﻡ ﻣﯿﮟ ﯾﻮﻧﺎﻧﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﻨﺪﮪ ﮐﻮ ﮨﻨﺪ ﮐﮩﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻟﮩﺠﮧ ” ﺍﻧﮉ ” ﮐﺮﺩﯾﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﻧﺪﯼ ﮐﻮ ﺍﻧﮉﻭﺱ indos ﺍﻭﺭ ﻣﻠﮏ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﻧﮉﯾﮑﺎ Indica ﺭﮐﮭﺎ۔ ﻻﻃﯿﻨﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺑﻮﻟﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﻧﮉﻭﺱ ﮐﻮ ” ﺍﻧﮉﺱ "Indus ﺍﻭﺭ ﺳﻨﺪﮪ ﮐﻮ ﮨﻨﺪ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﺭﮮ ﺧﻄﮯ ﮐﻮ ﺍﻧﮉﯾﮑﺎ ﺳﮯ ﺍﻧﮉﯾﺎ ﺑﻨﺎﯾﺎ۔ ﭼﯿﻨﯽ ﺳﯿﺎﺡ ﯾﻮﺍﻥ ﻧﮯ 641 ﻋﯿﺴﻮﯼ ﮐﻮ ﺳﻨﺪﮬﻮ ﮐﻮ ” ﺳﻦ ﺗﻮ ” ‏( ﺳﻨﺘﻮ ‏) ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ۔ ﻏﺮﺽ ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﺳﻨﺪﮪ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻟﮩﺠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﯾﻮﮞ ﮨﮯ۔ ‏( ﺳﻨﺪﮬﻮ ۔ ﺳﻨﺴﮑﺮﺕ ‏) ‏( ﮨﻨﺪﻭ ۔ ﺍﯾﺮﺍﻧﯽ ‏) ‏( ﺍﻧﮉﻭﺱ ۔ ﯾﻮﻧﺎﻧﯽ ‏) ‏( ﺍﻧﮉﺱ ﻻﻃﯿﻨﯽ ‏) ‏( ﺳﻦ ۔ ﺗﻮ ﭼﯿﻨﯽ ‏)

ﺳﻨﺪﮪ ﮐﮯ ﺻﻔﺎﺗﯽ ﻧﺎﻡ:
ﺳﻨﺴﮑﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺳﻨﺪﮬﻮ ﮐﻮ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﯾﺎ ﺭﻭﺯﯼ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﺗﺒﺖ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺷﯿﺮ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺩﺭﯾﺎ ﯾﻌﻨﯽ ﺷﯿﺮ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﮩﺎ۔ ﻗﺮﺍﻗﺮﻡ ﮐﮯ ﺑﯿﭻ ﻭﺍﻟﮯ ﺣﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﻗﺮﺍﻗﺮﻡ ﺳﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺗﺮﺑﯿﻼ ﺗﮏ ﺍﺳﮯ ﺍﺑﺎ ﺳﯿﻦ ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ ﺳﺐ ﮐﺎ ﺑﺎﭖ ﯾﺎ ﺩﺭﯾﺎﺅﮞ ﮐﺎ ﺑﺎﭖ.

ﺳﻨﺪﮬﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﯾﺎ ﮐے لیے ﮐﻮﺋﯽ ﻟﻔﻆ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﻨﺴﮑﺮﺕ ﺍﯾﮏ ﻗﺪﯾﻢ ﺯﺑﺎﻥ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ "ﺗﺮﺍﺷﯽ ﮨﻮﺋﯽ” ۔ ﺗﻮ ﯾﮧ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺗﺮﺍﺷﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ۔ ﻏﺎﻟﺐ ﺍﻣﮑﺎﻥ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻣﻮﺋﻦ ﺟﻮﮈﺍﺭﻭ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﺗﺮﺍﺷﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﻮﮔﯽ۔ ﺟﺲ ﮐﻮ ﺍﮔﺮ ﺳﻨﺪﮬﯽ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻏﻠﻂ ﻧﺎ ﮨﻮﮔﺎ۔ ﻟﻔﻆ ﺳﻨﺪﮬﻮ ﮐﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺛﺒﻮﺕ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﺭﯾﮧ ﻗﻮﻡ ﻧﮯ ﺷﻤﺎﻟﯽ ﺳﻨﺪﮪ ﮐﻮ ﺳﭙﺖ ﺳﻨﺪﮬﻮ ﮐﮩﺎ۔ ﺳﭙﺖ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﺳﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﺳﻨﺪﮬﻮ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﺩﺭﯾﺎ۔ ﯾﻌﻨﯽ ﺳﺎﺕ ﺩﺭﯾﺎﺅﮞ ﮐﯽ ﺳﺮﺯﻣﯿﻦ۔

(ﺷﯿﺮ ﺩﺭﯾﺎ – ﺟﯿﻦ ﻓﯿﺮلی)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close