زیرِ عتاب پی ٹی آئی اپنی انتخابی مہم کیسے چلا رہی ہے؟ پی ٹی آئی کی ڈجیٹل الیکشن کمپین کی دلچسپ روداد

ویب ڈیسک

ایک طرف جہاں تمام بڑی پارٹیاں انتخابی مہم کے سلسلے میں جلسوں پر جلسے کر رہی ہیں، وہیں پی ٹی آئی کی کارنر میٹنگز میں متعلقہ تھانوں کے ایس ایچ اوز دفعہ 144 کے احکامات لے کر پہنچ جاتے ہیں۔ ایسے میں پی ٹی آئی کے لیے اپنی انتخابی مہم چلانا کوئی سہل کام نہیں ہے

مشکلات کی ایک طویل فہرست ہے۔ پی ٹی آئی بلے کے بغیر انتخابی میدان میں بیٹنگ کر رہی ہے، متعدد کارکن اور رہنما پابندِ سلاسل ہیں، اکثر روپوش ہیں اور جماعت کے بانی کو ایک کے بعد ایک مقدمے میں قید کی سزائیں مل رہی ہیں۔ اس مشکلات میں پی ٹی آئی اپنی سوشل میڈیا ٹیم کے ذریعے ایک انوکھی مہم چلا رہی ہے

مشکلات میں گھری پی ٹی آئی سوشل میڈیا پر اب بھی اتنی متحرک کیسے ہے اور ان انتخابات سے قبل پارٹی نے سوشل میڈیا پر اپنی مقبولیت میں اضافے اور کارکنوں تک پہنچنے کے لیے کون سے نئے حربے استعمال کیے ہیں؟

اس مہم کا ایک اہم کردار پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کی سربراہی کرنے والے جبران الیاس ہیں، جو امریکہ میں مقیم ہیں اور وہیں سے پارٹی کی سوشل میڈیا حکمتِ عملی پر نظر رکھتے ہیں

جبران کا کہنا ہے ”پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم نے صرف ان چیزوں کے حل ڈھونڈنے کی کوشش کی، جن کی ہمیں وقت کے ساتھ ضرورت محسوس ہوتی رہی اور اس حساب سے جدید حل خود بخود سامنے آتے رہے“

جبران نے بتایا کہ یہ سب کراچی کے ملینیئم مال کے جلسے سے شروع ہوا، جب پی ٹی آئی کا جلسہ مقامی انتظامیہ کی جانب سے رکوا دیا گیا۔ ”اس وقت ہم نے سوچا کہ کیا ہم اسے آن لائن لے کر جا سکتے ہیں یا نہیں، ہم نے منصوبہ بنایا کہ ہم یہاں روپوش رہنماؤں سے خطاب کروائیں گے اور اپنے اوورسیز پاکستانیوں کو کہیں گے کہ وہ باہر نکلیں اور جلسے کا ماحول بنائیں۔“

جبران کے مطابق، یہ آئیڈیا جب عمران خان کو بتایا گیا تو انہیں یہ خیال پسند آیا اور انہوں نے کہا کہ میں جیل سے کچھ نوٹس لکھ کر دیتا ہوں وہ بھی پڑھ دینا

جبران کہتے ہیں ”ہم یہ جلسہ کر تو رہے تھے لیکن پی ٹی آئی کا کوئی بھی جلسہ خان صاحب کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ یہاں ہمیں یہ مناسب نہیں لگ رہا تھا کہ ہم میں سے کوئی خان صاحب کے نوٹس پڑھے تو ہمارے ذہن میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے ان کی آواز کلون کرنے کا خیال آیا۔“

اس کے لیے پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم نے الیون لیبز نامی ٹیکنالوجی کمپنی کے اے آئی ٹول کا سہارا لیا

جبران بتاتے ہیں ”یہ ایک مشکل مرحلہ تھا، جس میں ہم خان صاحب کی آواز کا سو فیصد کلون نہیں بنانا چاہتے تھے کیونکہ پھر وہ بعد میں ڈیپ فیک وغیرہ کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے ہمیں بہت محنت کرنی پڑی“

واضح رہے کہ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کی جانب سے عمران خان کی اے آئی وائس کلوننگ اس ورچوئل جلسے میں گذشتہ برس دسمبر میں چلائی گئی اور خاصی مقبول ہوئی۔ حکومت نے اس دوران ملک بھر میں انٹرنیٹ بند کر دیا، لیکن اس بندش کا بھی الٹا اثر ہوا اور ’جن لوگوں کو معلوم نہیں بھی تھا، انہیں بھی اس بارے میں علم ہو گیا۔‘

پی ٹی آئی کو درپیش متعدد مسائل میں سے ایک الیکشن سے ٹھیک ایک ماہ پہلے بلے کے نشان سے محرومی تھی۔ اس کے باعث اس کے امیدواروں کو آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کی اجازت ملی اور مختلف انتخابی نشانات الاٹ کر دیے گئے۔

اس کے علاوہ جماعت کو جلسے کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی اور یہ سلسلہ اب بھی بدستور جاری ہے جا رہی، جبکہ متعدد امیدوار جیلوں میں قید ہیں یا روپوش ہیں۔ ایسی صورتحال میں عوام تک الیکشن سے قبل انتخابی نشان اور امیدواروں کے ناموں سے متعلق پیغام پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا ٹیم نے نیا راستہ ڈھونڈ نکالا

لیکن اس راستے پر بھی حکومت ان کے تعاقب میں تھی۔ پی ٹی آئی نے سب سے پہلے امیدواروں کی فہرست ان کے انتخابی نشانوں کے ساتھ اپنی آفیشل ویب سائٹ پر لگائی، تو حکومت نے اس پر پابندی لگا دی، اس کے بعد جماعت کی جانب سے علیحدہ ویب سائٹ بنائی گئی، اس تک بھی اب پاکستان میں رسائی وی پی این کے بغیر ممکن نہیں

جبران الیاس کہتے ہیں ”اس کا حل ہم نے یہ نکالا کہ ہم نے ’گٹ ہب‘ پر ویب سائٹ بنا لی، جس پر پابندی اس لیے نہیں لگائی جا سکتی کیونکہ اسے پاکستان میں ایک بڑی تعداد میں آئی ٹی کمیونٹی استعمال کرتی ہے۔“

تاہم پی ٹی آئی کی جانب سے اس بارے میں اس کے علاوہ بھی اقدامات کیے گئے اور فیس بک پر عمران خان کی پروفائل پر ایک چیٹ باٹ بنا دیا، جہاں صارفین جا کر اپنا حلقہ نمر درج کریں تو انہیں عمران خان کی جانب سے پی ٹی آئی کے امیداوار اور اس کے انتخابی نشان کے بارے میں مکمل تفصیلات فراہم کر دی جاتی ہیں

اسی طرح ہر قومی اسمبلی کے ہر حلقے کا اپنا واٹس ایپ چینل بھی ہے، یعنی کل 266 چینل! جہاں جا کر ووٹرز اپنے حلقے میں ہونے والی سرگرمیوں کے بارے میں جان سکتے ہیں اور انہیں ووٹ دینے کے طریقہ کار سمیت دیگر معلومات فراہم کی جاتی ہیں

اس کے علاوہ پی ٹی آئی رابطہ ایپ ہے، جہاں امیدواروں کے انتخابی نشان موجود ہیں۔ اس ایپ کے بارے میں بات کرتے ہوئے جبران کہتے ہیں ”چونکہ ہمیں خدشہ ہے کہ یہ الیکشن کے دن انٹرنیٹ بند کر دیں گے، اس لیے ہم نے ایپ کے ذریعے معلومات آف لائن دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا اعلان ہم کچھ روز میں کر دیں گے۔“

جبران کے مطابق پی ٹی آئی کی اس سوشل میڈیا حکمتِ عملی کی بنیاد دراصل ووٹرز کے اعداد و شمار ہیں، جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس مرتبہ 18 سے 45 سال کی عمر کے ووٹرز 67 فیصد کے درمیان ہیں۔ ”ہم نے یہ دیکھا کہ نوجوان فیس بک اور ایکس سے زیادہ یوٹیوب اور ٹک ٹاک استعمال کر رہے ہیں ہے اور شہروں میں نوجوانوں کی بڑی تعداد انسٹاگرام استعمال کرتی ہے تو ہم نے اس اعتبار سے حکمتِ عملی بنائی“

جبران کہتے ہیں ”ٹک ٹاک پر جانے کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ دیہاتوں میں اس کی پہنچ کتنی زیادہ ہے۔ اگر آپ پڑھے لکھے نہ بھی ہوں تو وڈیو مواد ضرور دیکھ سکتے ہیں۔ ٹک ٹاک کے ذریعے ہمیں ایسے لوگوں تک رسائی ملی، جو ہمارے پولنگ ایجنٹس بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہاں پر صارفین وڈیو بنانے کا فن جانتے ہیں“

ٹک ٹاک پر پی ٹی آئی سے متعلق مواد پر نظر ڈالی جائے تو اس میں سے اکثریت عمران خان کی تقریریں اور کلپس ہیں، لیکن اس کے علاوہ پی ٹی آئی کے کارکنان نے ایسی وڈیوز بھی بنائی ہیں جو خاصی دلچسپ ہیں اور ان میں 8 فروری کو ووٹ ڈالنے کی تلقین کی جا رہی ہے

پی ٹی آئی کی ٹیم کی جانب سے اس ضمن میں متعدد مقامی زبانوں میں بھی ووٹ ڈالنے کی وڈیوز بنائی گئی ہیں تاکہ لوگوں کو آگاہی فراہم کی جا سکے۔

اس کے علاوہ انسٹاگرام پر بھی انسٹا لائیو کے ذریعے ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی نئی بحث کی جاتی ہے۔

مزید برآں پی ٹی آئی کی جانب سے یوٹیوب اور فیس بک پر تشہیری مہم بھی چلائی گئی ہے، جس میں زیادہ تر عمران خان کی تقریر کے حصے لگائے گئے ہیں کیونکہ جبران کے مطابق ”لوگ خان صاحب کو دیکھنا اور سننا چاہتے ہیں۔“

خیال رہے کہ گذشتہ دو برسوں کے دوران پاکستان میں موجود پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا کی ٹیم کے اراکین کو بھی پکڑا گیا تھا۔

جبران بتاتے ہیں ”ہمیں اس سے سنبھلنے میں زیادہ وقت نہیں لگا، ہماری ٹیم میں سب ہی رضا کار ہیں۔ میں اکثر کہتا ہوں کہ اگر ہم پیسے لے کر کام کر رہے ہوتے تو اتنے اچھے نہ ہوتے۔“

پی ٹی آئی کی ڈجیٹل مہم کی حکمتِ عملی حوالے سے ٹیکنالوجی اور انسانی حقوق پر کام کرنے والی صحافی رمشا جہانگیر، جو ماضی میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر کی گئی پوسٹس پر تحقیق بھی کر چکی ہیں، کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی یہ حکمتِ عملی صرف اس الیکشن کے لیے نہیں رہی، بلکہ سنہ 2013 اور 2018 کے الیکشن میں بھی یہی صورتحال تھی کہ ان کی سوشل میڈیا حکمتِ سب سے بہتر تھی۔

رمشا جہانگیر کے مطابق پی ٹی آئی کی کوآرڈینیشن بہتر ہے، ان کے پاس ایسے لوگ موجود ہیں جو نئی ٹیکنالوجی اور ہنر جانتے ہیں

وہ کہتی ہیں ”اس وقت سب سے اہم مسئلہ بندشوں کا ہے اور حکومت کی کوشش رہی ہے کہ پی ٹی آئی کو پابندیوں کے ذریعے کنٹرول کیا جائے، لیکن جتنا آپ انٹرنیٹ کے زمانے میں کسی چیز پر بندشیں لگانے کی کوشش کرتے ہیں، وہ اتنا ہی باہر نکلتی ہے۔ جیسے ٹک ٹاک جلسے کے بارے میں زیادہ تر افراد کو پتہ بھی نہیں ہوگا لیکن جب انٹرنیٹ بند کیا جاتا ہے تو سب کو پتا چل جاتا ہے کہ کچھ ہو رہا ہے“

انھوں نے کہا ”ان کی حمایت کرنے والے زیادہ تر لوگ نوجوان ہے اور وہ سوشل میڈیا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں جو ان کی مقبولیت کی اہم وجہ ہے“

اس صورتحال میں باقی سیاسی جماعتیں سوشل میڈیا پر اتنی متحرک دکھائی نہیں دیتی ہیں۔ رمشا کے مطابق ”اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ موروثی سیاست کرتے آئے ہیں اور ان کی پرانی سیاسی حکمتِ عملی ہے جو ان کے مطابق کامیاب ہے۔“

رمشا جہانگیر کہتی ہیں ”اس سے فرق نہیں پڑتا کہ پی ٹی آئی کو الیکشن میں کامیابی ملتی ہے یا نہیں لیکن یہ پیغام جو پہنچایا گیا ہے کہ آپ انٹرنیٹ پر سینسرشپ کے ذریعے کسی مخصوص بیانیے کو ختم نہیں کر سکتے، یہ بہت ضروری تھا۔“

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close