Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Russian-Literature-and-fictions
ادباہم ترینتازہ ترین

ایک بُدھو (روسی ادب سے منتخب افسانہ)

By Akhtar Rasool
فروری 15, 2025 3 Min Read
0

کچھ دن قبل میں نے اپنے بچوں کی گورنس، جولیا ویسلوینا کو اپنی اسٹڈی میں بلایا۔ ”بیٹھ جاؤ جولیا ویسلوینا!“ میں نے کہا، ”آؤ ہم آپس میں حساب کتاب کر لیں۔۔ اگرچہ تمہیں پیسوں کی سخت ضرورت ہے لیکن تم تکلفاً کوئی تقاضہ نہیں کرو گی۔۔ ہمارے درمیان تیس روبلز ماہانہ طے پائے تھے۔۔۔۔۔۔“

”چالیس۔“

”نہیں۔۔۔ تیس! میں نے یادداشت کے طور پر لکھ لیا تھا۔ میں ہمیشہ گورنس کو تیس روبلز ہی دیتا ہوں۔۔تمہیں یہاں دو ماہ ہو چکے ہیں۔“

”دو ماہ اور پانچ دن۔۔“

”ٹھیک دو ماہ۔۔ میں نے اسے خاص طور پر لکھا تھا۔ اس کا مطلب ہوا کہ تمہیں ساٹھ روبلز ملنے چاہئیں۔۔ نو اتوار نکال دو۔۔۔۔۔۔۔ تمہیں معلوم ہے کہ تم اتوار کو کولیا کو نہیں پڑھاتی، تم صرف چہل قدمی کرتی ہو۔۔ اور تین چھٹیاں۔۔۔۔۔۔۔“

جولیا ویسلوینا کا چہرہ شرمندگی سے سرخ ہو گیا۔ اس نے اپنے لباس کے دامن کو چھوا، لیکن ایک لفظ بھی نہیں بولی۔

”تین چھٹیاں، اس لیے بارہ روبلز نکال دو۔۔ چار دن کولیا بیمار تھا اور پڑھائی نہیں ہوئی، تم صرف وانیا کے ساتھ مصروف رہیں۔۔ تین دن تمظارے دانت میں درد رہا اور میری بیوی نے تمہیں لنچ کے بعد کام نہ کرنے کی اجازت دیئے رکھی۔ بارہ اور سات منفی کرو تو بچے اکیالیس روبلز۔ درست؟“

جولیا ویسلوینا کی بائیں آنکھ سرخ ہو کر نم ہو گئی۔ اس کی ٹھوڑی کانپی، مضطرب ہو کر کھانسی، ناک صاف کیا لیکن ایک لفظ نہ بولی۔

”نئے سال کی تقریبات کے دوران تم نے ایک پرچ اور پیالی توڑ دی۔ دو روبلز نکال دو، اگرچہ پیالی کی قیمت زیادہ بنتی ہے، کیونکہ وہ موروثی تھی۔ خیر جانے دو۔۔ میں نے کب نقصان برداشت نہیں کیا؟ تمہاری غفلت کی وجہ سے کولیا درخت پر چڑھا اور اپنی جیکٹ پھاڑ لی۔ دس روبلز نکال دو۔۔۔ اور پھر تمہاری لاپرواہی کی وجہ سے نوکرانی نے وانیا کے جوتے چرا لیے۔۔ تمہیں ہر چیز پر نظر رکھنی چاہیے۔۔ اس کا مطلب ہوا کہ پانچ روبلز مزید کم ہو گئے۔ دس جنوری کو میں نے تمہیں دس روبلز دیے۔۔۔۔۔“

”آپ نے نہیں دیے۔۔“ جولیا ویسلوینا بیچارگی سے بولی۔

”لیکن میرے پاس لکھا ہوا ہے!“

”چلیں ٹھیک ہے۔۔“

”ستائیس روبلز چالیس روبلز سے نکال دو، باقی بچے چودہ۔“

دونوں آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ چھوٹی سی خوبصورت ناک پر پسینہ نمودار ہوا۔ بے چاری لڑکی!

”صرف ایک دفعہ مجھے کچھ رقم دی گئی۔۔“ اس نے کانپتی آواز میں کہا، ”اور وہ بھی آپ کی بیوی نے دی۔۔ تین روبلز۔۔۔بس، اس سے زیادہ نہیں۔“

”واقعی؟ دیکھو۔۔۔۔۔ تم۔۔۔۔ یہ تو میں نے لکھا ہی نہیں۔ چودہ میں سے تین روبلز منہا کرو، باقی بچے گیارہ۔ یہ رہے گیارہ روبلز۔“

میں نے اسے گیارہ روبلز پکڑائے۔ اس نے وہ لیے اور کانپتے ہاتھوں سے انہیں جیب میں ڈالا۔

”شکریہ۔“ وہ آہستہ سے بولی۔

میں اچھل پڑا اور کمرے میں ٹہلنے لگا۔ میں غصے سے بھر گیا۔ میں نے پوچھا، ”شکریہ۔۔۔!؟ کس لیے!!؟؟؟“

”رقم کے لیے۔“

”لیکن تم جانتی ہو میں تمہیں دھوکا دے رہا ہوں۔ اللہ کا واسطہ۔۔۔ میں نے تمہیں لُوٹا ہے۔ حقیقتاً میں تُمہارے پیسے چوری کر رہا ہوں۔۔۔ پھر یہ کیسا شکریہ!؟“

”دوسری جگہوں پر جہاں میں نے کام کیا، انہوں نے مجھے کبھی کچھ نہیں دیا“

”انہوں نے تمہیں کچھ نہیں دیا؟ کوئی تعجب نہیں۔۔۔
میں نے تم سے مذاق کیا، ایک تلخ سبق سکھانے کے لیے۔۔۔ میں تمہیں پورے اَسی روبلز دے رہا ہوں۔ یہ رہے اس لفافہ کے اندر پہلے سے موجود۔۔۔۔ کیا کوئی اتنا کمزور اور بزدل بھی ہو سکتا ہے؟ تم احتجاج کیوں نہیں کرتیں۔ چپ کیوں رہو۔۔ کیا اس دنیا میں کوئی ایسا بھی ہے جو اپنا دفاع نہ کرے۔۔ اتنا بدھو۔“

وہ بے چارگی سے مسکرائی اور میں نے اس کے چہرے کے تاثرات پڑھے: ’یہ ممکن ہے۔‘

میں نے اس سے اس تلخ مذاق کے لیے معافی مانگی۔ اسے اَسی روبلز دے کر ششدر کر دیا۔

اس نے بہت دفعہ عاجزانہ ’شکریہ۔۔۔ شکریہ‘ دہرایا اور باہر نکل گئی۔

میں نے اسے جاتے ہوئے دیکھا اور سوچا، ’اس دنیا میں کمزور کو دبانا کتنا آسان ہے۔‘

Tags:

abuse of powerabuse of statusacceptance of injusticeauthoritarian cultureauthoritative personalityauthority figurebitter lessonCharacter Studyclass disparityclassic literaturecompliancecruel employercultural critiquedeceptiondeception in kindnessDespairdomestic settingdramatic ironyeconomic crueltyeconomic dependencyeconomic struggleemotional distressemotional suppressionemployer-employee relationshipemployer’s dominanceemployment ethicsethical conflictethical debateExploitationexploitation in laborfalse generosityfinancial dependencefinancial exploitationfinancial manipulationfinancial oppressionForced ComplianceForced SubmissionGratitudeguilt and redemptionharsh realityhelpless victimhelplessnesshidden oppressionhierarchical oppressionhierarchyHuman Naturehumiliation as weaponillusion of fairnessinequality in wagesInjusticeironykindness vs crueltylack of resistancelack of self-worthmanipulation tacticsmoral awakeningmoral dilemmamoral guiltmoral questionmoral testnaive employeenaivetynarrative tensionoppressed workeroppressionoppression in workplacepatriarchal societyPower Dynamicspower imbalanceprivilege and sufferingPsychological Abusepsychological enslavementpsychological realismpsychological tormentquestioning moralityreality of powerrealizationregretresistancesatireservitudeshamesilent endurancesilent rebellionSilent Sufferingsilent victimSocial Hierarchysocial injusticesocietal inequalitysocietal oppressionstorytelling geniussubmissivenesssuperiority complexsymbolic injusticesymbolic oppressionunfair deductionsunfair treatmentunfair wagesunjust deductionsvulnerable protagonistwealth vs moralityworker’s struggleworkplace injustice
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Fear-of-history-Dr-Mubarak-Ali
Previous

تاریخ کا خوف

Environmental-balance-versus-construction-in-Karachi-A-conversation-with-photographer-Salman-Baloch
Next

کراچی میں ماحولیاتی توازن بمقابلہ تعمیرات: فوٹوگرافر سلمان بلوچ سے مکالمہ

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme