
ایک خاموش دنیا، جہاں روایتیں پنکھ پھیلائے پرواز کرتی ہیں۔ یہ کہانی اس سوال سے شروع ہوتی ہے جسے انسان نے صدیوں تک اپنے لیے مخصوص سمجھا:
کیا ثقافت صرف انسان کی میراث ہے؟
کبھی جواب اثبات میں تھا، بالکل سیدھا، لیکن اب ایسا نہیں، کیونکہ اس کا جواب نفی میں ہے، جو اپنے اندر پیچیدگی رکھتا ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق ثقافت کا مطلب صرف شاعری، موسیقی یا مذہب نہیں بلکہ وہ تمام رویے ہیں جو سیکھے جاتے ہیں، دوسروں سے نقل کیے جاتے ہیں، اور نسل در نسل منتقل ہوتے ہیں۔۔ اور اسی تعریف نے دروازہ کھولا پرندوں کی دنیا کی طرف۔
فطرت کی وسعتوں میں پرندوں کا چہچہانا اور ان کی رنگین اڑان ہمیشہ سے انسان کے لیے کشش کا باعث رہی ہے، لیکن جدید سائنس اب ان کی زندگی کے ایک ایسے رخ سے پردہ اٹھا رہی ہے جسے اب تک صرف انسانوں سے منسوب کیا جاتا رہا ہے: یعنی ’ثقافت‘۔ ماہرینِ لسانیات اور حیاتیات، جیسے جولیا ہائی لینڈ برونو اور لوسی ایپلن، کی حالیہ تحقیقات اور گفتگو سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ پرندے محض اپنی جبلت (Instinct) پر نہیں چلتے، بلکہ ان کے ہاں بھی سماجی طور پر سیکھے گئے ایسے رویے موجود ہیں جو نسل در نسل منتقل ہوتے ہیں۔
سائنسی اصطلاح میں پرندوں کی ثقافت سے مراد وہ رویہ ہے جو سماجی میل جول سے سیکھا جائے، کسی گروہ میں مشترک ہو اور وقت کے ساتھ ساتھ برقرار رہے۔ ماہرِ حیاتیات لوسی ایپلن کے مطابق، یہ ثقافت پرندوں کے لیے وراثت کے ایک ”دوسرے نظام“ کے طور پر کام کرتی ہے۔ جہاں جینز (genes) کے ذریعے تبدیلی آنے میں ہزاروں سال لگتے ہیں، وہیں ثقافتی سیکھ کی بدولت پرندے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اپنا طرزِ زندگی چند برسوں میں بدل سکتے ہیں۔
ثقافت اور پرندوں کے گیت
پرندوں کی اس ثقافتی زندگی کی سب سے بڑی اور قدیم مثال ان کے گیت ہیں۔ اگر آپ صبح کسی درخت پر بیٹھے پرندے کی آواز سنتے ہیں تو آپ صرف ایک نغمہ نہیں سن رہے ہوتے، آپ ایک ”ثقافتی روایت“ سن رہے ہوتے ہیں۔ جس طرح انسانوں کی زبانیں اور ان کے لہجے (dialects) ہوتے ہیں، بالکل اسی طرح پرندوں کے گیت بھی علاقائی بنیادوں پر مختلف ہوتے ہیں۔
سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ پرندوں کے گیت، خاص طور پر ’سونگ برڈز‘ یعنی گیت گاتے پرندوں کے، انسانی زبان کی طرح سیکھے جاتے ہیں، پیدا نہیں ہوتے۔
بیسویں صدی کے وسط میں کی گئی تحقیق سے ایک دلچسپ بات سامنے آئی۔ ماہرین نے جب مختلف علاقوں کے پرندوں کے انڈوں کو آپس میں بدلا یعنی cross-fostering کی، تو جوان ہونے والے پرندوں نے وہی گیت گایا جو ان کے ”رضاعی والدین“ کا تھا، نہ کہ وہ جو ان کے حیاتیاتی والدین کے جینز میں تھا۔
اس تحقیق کے نتیجے میں ماہرین کا کہنا تھا کہ اگر کسی پرندے کے بچے کو اس کے اپنے علاقے سے نکال کر کسی دوسرے علاقے کے پرندوں میں رکھ دیا جائے، تو وہ اپنے اصلی والدین جیسی نہیں بلکہ اپنے ’رضاعی‘ گروہ جیسی بولی سیکھ لے گا۔
جولیا ہائلینڈ برونو، جو پرندوں کی آوازوں پر تحقیق کرتی ہیں، وہ اس بات کو یوں بیان کرتی ہیں، ”پرندے اپنے گیت اپنے بڑوں سے سن کر سیکھتے ہیں۔ اگر کسی ننھے پرندے کو اپنی نوع سے الگ کر کے پالا جائے، تو وہ اس مہارت سے نہیں گا پاتا، جو اس کی نسل کا طرہ امتیاز ہوتا ہے۔“
یہ بات ہمیں ایک عجیب سچائی تک لے جاتی ہے: پرندے صرف گاتے نہیں، وہ ”سیکھ کر گاتے ہیں“۔
___________________________
___________________________
شہروں میں جنم لینے والی نئی ثقافتیں
ثقافت جامد نہیں ہوتی، وہ بدلتی ہے۔۔ اور پرندے بھی اس تبدیلی کے ماہر ہیں۔ بات صرف موسیقی تک محدود نہیں، بلکہ پرندوں میں ”ٹیکنالوجی“ اور مسائل حل کرنے کے ہنر بھی ثقافتی طور پر منتقل ہوتے ہیں۔
آسٹریلیا کے شہروں میں ایک دلچسپ منظر دیکھا گیا: کچھ کوکاٹو طوطے کچرے کے ڈبوں کے ڈھکن کھولنا سیکھ گئے۔ یہ کوئی سادہ عمل نہیں تھا بلکہ ایک پیچیدہ، کئی مرحلوں پر مشتمل مہارت تھی، جسے سیکھنے میں مہینے لگتے تھے۔
پھر کیا ہوا؟ یہ ہنر ایک پرندے سے دوسرے میں پھیلنے لگا۔ مُحلوں کے حساب سے اس کے انداز بدل گئے، کہیں ڈھکن ایک طرف سے کھلتا، کہیں دوسری طرف سے۔
ماہرین کی جانب سے اس حوالے سے خاص طور پر ’نیو کالیڈونین کوّوں‘ (New Caledonian crows) کی مثال بھی دی گئی ہے۔ یہ پرندے نہ صرف اوزار بنانا جانتے ہیں بلکہ وہ یہ ہنر ایک دوسرے کو دیکھ کر سیکھتے ہیں۔ بعض علاقوں کے کوّے خاص قسم کی ہک (Hook) والے اوزار بناتے ہیں جو دوسرے علاقوں کے کوّوں سے مختلف ہوتے ہیں۔
علاوہ ازیں انگلستان میں ’ٹِٹ مائس‘ (titmice) نامی پرندوں کا دودھ کی بوتلوں کے ڈھکن کھول کر بالائی نکالنا بھی ایک ایسی ہی ثقافتی لہر تھی جو تیزی سے پوری آبادی میں پھیل گئی تھی۔
ماہرین اسے ایک ”ثقافتی اخترا“ قرار دیتے ہیں، جس نے انہیں شہری ماحول میں خوراک حاصل کرنے کا نیا راستہ دکھایا۔ یہ عمل ثابت کرتا ہے کہ پرندوں کا دماغ نئے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے اور نئی روایات تخلیق کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ محض رویہ نہیں تھا، یہ ان کی ”مقامی ثقافت“ تھی۔
تجربہ گاہ سے جنگل تک: ثقافت کا پھیلاؤ
ایک اور تجربہ اس سے بھی زیادہ دلچسپ تھا۔ سائنسدانوں نے کچھ پرندوں کو ایک چھوٹا سا پزل حل کرنا سکھایا، دروازہ دائیں یا بائیں سلائیڈ کرنا۔۔ اور پھر انہیں آزاد چھوڑ دیا گیا۔
کچھ ہی عرصے میں پورے گروہ نے وہی مخصوص طریقہ اپنانا شروع کر دیا، یا تو سب دائیں، یا سب بائیں۔
یہ اتفاق نہیں تھا۔ یہ ”ثقافتی منتقلی“ کی ایک مثال تھی، ایک آئیڈیا کا پھیلاؤ، بغیر کسی استاد کے۔
یہاں ایک اہم نکتہ سامنے آتا ہے: ثقافت کے لیے ضروری نہیں کہ کوئی باقاعدہ تعلیم ہو، صرف دیکھنا اور نقل کرنا کافی ہے۔
خاموش انقلاب: جب دنیا رک گئی اور پرندے بدل گئے
ماحول میں آنے والی تبدیلیاں بھی ان کی ثقافت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ کورونا وبا کے دوران جب انسانی دنیا تھم گئی اور شہروں کا شور کم ہوا، تو دنیا نے ایک نیا تجربہ دیکھا۔ سان فرانسسکو کے ’وائٹ کراؤنڈ اسپیروز‘ نے اپنے گیتوں کے انداز بدل لیے۔
شور کم ہونے کی وجہ سے انہوں نے زیادہ دھیمی اور پیچیدہ دھنیں گانا شروع کر دیں، کیونکہ اب انہیں اپنی آواز دور تک پہنچانے کے لیے چیخنے کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پرندوں کی ثقافت جامد نہیں بلکہ لچکدار ہوتی ہے۔ یہ محض ایک تبدیلی ہی نہیں تھی، بلکہ یہ دکھاتی ہے کہ پرندے اپنے ماحول کے مطابق اپنی ”ثقافت“ کو ایڈجسٹ کرتے ہیں۔ گویا ان کی موسیقی بھی حالات کی تابع ہے، جیسے انسان کی شاعری۔
ثقافت: جینز کے ساتھ ایک دوسری وراثت
سائنسدان ایک اور بڑی بات کہتے ہیں: ثقافت جینز کے ساتھ ساتھ ایک ”دوسرا وراثتی نظام“ ہے۔ یعنی پرندے صرف جسمانی خصوصیات نہیں بلکہ گانے، خوراک کے طریقے اور ہجرت کے راستے بھی ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل کرتے ہیں۔ اس لیے پرندوں کی اس ثقافتی زندگی کا ایک اہم پہلو ان کا ہجرت کا سفر بھی ہے۔
پرندے ہزاروں میل کا سفر کیسے طے کرتے ہیں؟ یہ صرف ان کے اندرونی کمپاس کا کمال نہیں، بلکہ یہ ایک ’اجتماعی دانش‘ ہے۔ نوجوان پرندے اپنے بزرگوں کے ساتھ اڑتے ہوئے راستوں، قیام گاہوں اور خطرات کی پہچان سیکھتے ہیں۔
تحقیق بتاتی ہے کہ تجربہ کار پرندوں کی موجودگی میں پورا غول زیادہ بہتر اور محفوظ طریقے سے سفر طے کرتا ہے۔ یہ ’سماجی تعلیم‘ نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہے، اور اگر کسی وجہ سے بزرگ پرندوں کی نسل ختم ہو جائے تو نئی نسل اکثر اپنے روایتی ہجرت کے راستے بھول جاتی ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ان کا جغرافیائی علم ان کی ثقافت کا ایک لازمی حصہ ہے جو سیکھنے کے عمل سے جڑا ہوا ہے۔
پرندوں کی زبان
زبان کسی بھی ثقافت کا بنیادی اور اہم عنصر ہے۔ زبان محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ جب ہم کوئی زبان بولتے ہیں، تو دراصل ہم اس معاشرے کے سوچنے کا انداز، ان کے دکھ سکھ اور ان کے جغرافیے کی خوشبو کو بیان کر رہے ہوتے ہیں۔
ایک دلچسپ خیال یہ بھی ہے کہ شاید پرندوں کی گفتگو کا کچھ حصہ ہمیں سنائی ہی نہیں دیتا۔ ان کی آوازوں میں باریک فرق، پوشیدہ پیٹرن، یہ سب ان کے لیے معنی رکھتے ہیں، لیکن ہمارے لیے محض شور ہیں۔ گویا وہ ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں، جہاں زبان موجود ہے لیکن ہم اس کے باہر کھڑے ہیں۔
پرندوں کی زبان کے نظام کو سمجھنے کے لیے یہاں کتوں کے حوالے سے مشاہدے پر مبنی لوک سائنس کا ذکر کرنا بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔
جس طرح پرندوں کی چہچہاہٹ ہمارے لیے محض ایک سریلا شور ہے، بالکل اسی طرح ہمارے اردگرد موجود جانوروں کی دنیا بھی معنی کی ایک ایسی گہری تہہ رکھتی ہے جسے ہم اکثر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ سندھ کے دیہی علاقوں، بالخصوص تھر اور کوہستان کے چرواہوں اور کتا پالنے کے ماہرین کے پاس اس ”خاموش زبان“ کو سمجھنے کا ایک حیرت انگیز فن موجود ہے۔
ان تجربہ کار افراد کے مطابق، کتے کا بھونکنا محض ایک آواز نہیں بلکہ ایک مکمل لغت ہے۔ ایک ماہر کان یہ سن کر فوری بھانپ لیتا ہے کہ کتے کے لہجے میں کیسا تناؤ یا پکار شامل ہے۔
جب کتا کسی نامعلوم انسان یا دوسرے کتے کو دیکھتا ہے، تو اس کے بھونکنے میں ایک خاص قسم کی گھمبیرتا اور تکرار ہوتی ہے جو اپنی حدوں کی حفاظت کا اعلان کرتی ہے۔ بھوک، پیاس یا تنہائی کی صورت میں اس کی آواز ایک مدھم کراہ یا لمبی لے کی صورت اختیار کر لیتی ہے، جو احتجاج کے بجائے توجہ کی طالب ہوتی ہے۔ چور یا کسی جنگلی جانور کو دیکھ کر کتے کے بھونکنے کی رفتار اچانک تیز ہو جاتی ہے اور اس میں ایک عجیب سی بے چینی شامل ہوتی ہے، جو بستی والوں کے لیے ایک فوری انتباہ بن جاتی ہے۔
گویا پرندوں کی طرح، کتے بھی ایک ایسی صوتی کائنات میں رہتے ہیں جہاں ہر ارتعاش کا ایک مقصد ہے۔ ہم شاید اس زبان کے قواعد سے ناواقف ہوں، لیکن وہ شخص جو قدرت کے ان اشاروں کو پڑھنا جانتا ہے، اس کے لیے یہ ”شور“ ایک کھلی کتاب کی مانند ہے۔
________________________
________________________
ثقافت کا مستقبل: پرندے ہمیں کیا سکھاتے ہیں؟
پرندوں کی ثقافتی زندگی ہمیں ایک بنیادی سبق دیتی ہے: ثقافت صرف انسان کی برتری کا ثبوت نہیں، بلکہ زندگی کا ایک بنیادی اصول ہے۔ جہاں بھی سیکھنا ہو، نقل کرنا ہو اور یاد رکھنا ہو، وہاں ثقافت جنم لیتی ہے۔
پرندے ہمیں یہ بھی سکھاتے ہیں کہ تبدیلی سے ڈرنا نہیں چاہیے، کیونکہ وہ ہر نئے ماحول میں نئی ثقافت پیدا کر لیتے ہیں۔
پرندوں کی اس ثقافت کو سمجھنا اب ان کے تحفظ (conservation) کے لیے بھی ناگزیر ہو گیا ہے۔ ماضی میں جب کسی نایاب نسل کے پرندوں کو دوبارہ جنگل میں چھوڑا جاتا تھا، تو اکثر وہ ناکام رہتے تھے کیونکہ وہ ”ثقافتی علم“ کھو چکے ہوتے تھے۔ اب ماہرین ’ہوپنگ کرینز‘ (whooping cranes) جیسے پرندوں کو چھوٹے طیاروں کے ذریعے ہجرت کے راستے سکھاتے ہیں، تاکہ وہ نسل در نسل منتقل ہونے والا وہ علم دوبارہ حاصل کر سکیں جو ان کے بڑے بھول چکے تھے۔
پرندوں کی ثقافت کا مطالعہ ہمیں یہ سمجھنے میں بھی مدد دیتا ہے کہ وہ تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا اور ماحولیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کیسے کر رہے ہیں۔ جہاں جینیاتی تبدیلی آنے میں ہزاروں سال لگ سکتے ہیں، وہاں ثقافتی تبدیلی (جیسے خوراک حاصل کرنے کا نیا طریقہ یا ہجرت کا نیا راستہ) چند سالوں میں پھیل سکتی ہے۔ پرندوں کی یہ ’ذہین دنیا‘ ہمیں دعوتِ فکر دیتی ہے کہ ہم انہیں محض جاندار نہ سمجھیں، بلکہ ایک ایسے قدیم اور پیچیدہ سماجی ڈھانچے کے طور پر دیکھیں جن کی اپنی روایات، اپنی زبانیں اور اپنی ایجادات ہیں۔ ان کی ثقافت کا تحفظ دراصل زمین کے اس متنوع حسن کا تحفظ ہے جو کروڑوں سالوں کے سماجی ارتقاء کا نچوڑ ہے۔
پرندوں کی یہ دنیا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زمین پر رہنے والی ہر مخلوق اپنی روایات اور سماجی رشتوں کے ایک خوبصورت جال میں بندھی ہوئی ہے۔ جب ہم اپنے آنگن میں کسی چڑیا کو چہچہاتے دیکھتے ہیں، تو وہ محض ایک آواز نہیں بلکہ صدیوں پرانی اس ثقافت کا ایک حصہ ہوتی ہے جو اس نے اپنے بڑوں سے سیکھی ہوتی ہے۔ درخت پر چہچہاتا وہ پرندہ ایک روایت کا وارث ہے، ایک معاشرے کا رکن، ایک ایسی دنیا کا حصہ جہاں ثقافت پروں پر سفر کرتی ہے۔ اور شاید ہماری طرح، وہ بھی اپنی کہانیاں سناتا ہے، بس ہمیں سننا نہیں آتا۔
_______________________




