
”زیادہ تر لوگ، دوسرے لوگ ہوتے ہیں۔ ان کے خیالات کسی اور کی رائے ہوتے ہیں، ان کی زندگیاں ایک نقل، اور ان کے جذبات ایک حوالہ۔“
آسکر وائلڈ کا یہ جملہ محض تحریر نہیں، ایک جراحی ہے۔ اس نے لفظوں کے نشتر سے انسانی شخصیت کا وہ خول اتار دیا ہے جسے ہم فخر سے اپنا ’آپ‘ کہتے ہیں۔ المیہ یہ نہیں کہ ہم نقاب پوش ہیں، المیہ یہ ہے کہ ہم نے نقاب کے پیچھے اپنا اصلی چہرہ گم کر دیا ہے اور اب ہمیں نقاب ہی اصل حقیقت لگنے لگا ہے۔
لیکن یہاں ایک تضاد ملاحظہ کیجیے۔۔ جو جتنا دلچسپ ہے، اتنا ہی تلخ بھی۔ میں خود آپ سے یہ تمام باتیں کرنے کے لیے سہارا کس کا لے رہا ہوں؟ ایک دوسرے شخص کا۔۔۔ یعنی آسکر وائلڈ کا! کیا یہ خود اس ’ادھار کی زندگی‘ کا ثبوت نہیں کہ مجھے اپنی بات کی سند کے لیے بھی ایک ’حوالے‘ کی ضرورت پڑی؟ ہم اس حد تک دوسروں کے اثر میں ہیں کہ اپنی سچائی بیان کرنے کے لیے بھی کسی اور کی مہر درکار ہوتی ہے۔
کبھی تنہائی کے کسی بے رحم لمحے میں خود سے سوال کیا ہے کہ جب ہم بول رہے ہوتے ہیں۔۔ لب تو ہمارے ہوتے ہیں، لہجہ لیکن کس کا ہوتا ہے؟ ہمارے اندر آوازوں کا ایک ہجوم آباد ہے، کچھ آوازیں روایتوں کی ہیں، کچھ ضرورتوں کی، کچھ خوف کی اور کچھ اس ’مقبول بیانیے‘ کی، منڈی میںبجس کی آج کل بھاری قیمت لگی ہوئی ہے۔
ہماری وہ آواز، جسے ہم ’ضمیر‘ یا ’ذاتی رائے‘ کہتے ہیں، وہ اس ہجوم میں کسی سہمے ہوئے بچے کی طرح دب کر رہ گئی ہے، جو بولنا تو چاہتی ہے لیکن اسے ڈر ہے کہ کہیں وہ آؤٹ آف ٹرینڈ (out of trend) نہ قرار دے دی جائے۔
ہم جسے اپنی ’منفرد فکر‘ کہتے ہیں، وہ دراصل مختلف ٹکڑوں سے جوڑا ہوا ایک پیوند زدہ لباس ہے۔ اس میں ایک پیوند کسی اینکر کا ہے، ایک کسی یوٹیوبر کا، اور ایک اس نظریے کا جسے ہم نے بغیر سمجھے صرف اس لیے اوڑھ لیا کہ وہ معتبر لگتا تھا۔ ہم ایک ایسے کمرے میں قید ہیں جہاں ہمیں اپنی ہی آواز سنائی نہیں دیتی، صرف دوسروں کی گونج سنائی دیتی ہے، اور ہم بڑے اعتماد سے کہتے ہیں: ”میرا موقف یہ ہے!“
حقیقت یہ ہے کہ ہم جیتے نہیں، بلکہ ایک اسکرپٹ کی پیروی کرتے ہیں۔ ہمارے جذبات بھی اب ریڈی میڈ ملتے ہیں۔ غصہ کب کرنا ہے؟ اس کا فیصلہ سوشل میڈیا کے ٹرینڈز کرتے ہیں۔ محبت کس سے کرنی ہے؟ اس کا معیار فلمی پردے طے کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہماری اداسی بھی فوٹو جینک ہونی چاہیے تاکہ دوسروں کو ’believable‘ لگ سکے۔
یہ ایک بہت بڑا سوال ہے: اگر کائنات کے اس وسیع اسٹیج سے تماشائی ہٹا دیے جائیں، کیمرے بند کر دیے جائیں اور جج کرنے والی آنکھیں موند لی جائیں، تو کیا ہم تب بھی وہی ہوں گے جو اب نظر آتے ہیں؟ یا ہم ریت کے اس ڈھیر کی طرح بکھر جائیں گے جس کی کوئی اپنی ساخت نہیں ہوتی؟
ہم نے زندگی کو ایک مستقل ’پرفارمنس‘ بنا لیا ہے۔ ہم وہ نہیں ہیں جو ہم ہیں، بلکہ ہم وہ بننے کی کوشش کر رہے ہیں جو دوسرے ہمیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس مسلسل اداکاری میں ہم اتنے ماہر ہو گئے ہیں کہ اب ہمیں خود کو بھی دھوکا دینے میں کوئی دقت محسوس نہیں ہوتی۔
سب سے ہولناک موڑ تب آتا ہے جب ہماری ادھار کی سوچ ہماری زندگی کے فیصلوں کو اغوا کر لیتی ہے۔ مثال کے طور پر ہم وہ کیریئر چنتے ہیں جس کا نام سن کر محفل میں واہ واہ ہو، اور وہ خواب دیکھتے ہیں جو دراصل دوسروں کے دیکھے ہوئے ہوتے ہیں۔
پھر ایک دن، عمر کی ڈھلتی شام میں جب شور تھمتا ہے، تو ہم آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود سے پوچھتے ہیں: ”اس ملبے تلے میرا اپنا آپ کہاں دب گیا؟“
آسکر وائلڈ جب کہتا ہے کہ ہمارے جذبات بھی ’حوالہ‘ ہوتے ہیں، تو روح لرز جاتی ہے۔ کیا واقعی ہماری نفرتیں ہماری اپنی ہیں؟ یا ہمیں سکھایا گیا ہے کہ فلاں طبقے، فلاں سوچ یا فلاں شخص سے نفرت کرنا ضروری ہے؟ کیا ہماری محبتیں واقعی دل کی پکار ہیں یا وہ محض ایک سماجی ضرورت کا عنوان ہیں؟
ٹھیک ہے… تقلید انسانی فطرت ہے۔ انسان نقالی کرتا ہے، اور نقالی کرتے ہوئے سیکھتا ہے۔ یقیناً، انسان ایک سماجی حیوان ہے سو یہ بھی سچ ہے کہ ہم ماحول کے اثرات قبول کرتے ہیں، ہم اپنے اردگرد سے بنتے ہیں، بگڑتے ہیں، ڈھلتے ہیں۔
نقالی، لیکن سیکھنے کا پہلا زینہ ہے، یہ زینہ ہی منزل نہیں ہو سکتا۔ دوسروں سے اثر لینا اور بات ہے، لیکن دوسروں کا اثر بن جانا فنا ہو جانا ہے۔ اثر تو مٹی بھی بارش سے لیتی ہے، لیکن وہ بارش نہیں بنتی، بلکہ اپنی زرخیزی سے اناج پیدا کرتی ہے۔ اس کی اپنی ایک خاصیت ہے۔ اسے تو وہ بہ ہر حال برقرار رکھتی ہے۔
مسئلہ نقالی میں نہیں ہے۔۔ مسئلہ کھو جانے میں ہے۔ المیہ یہ نہیں کہ ہم نے دوسروں سے کچھ لیا، المیہ یہ ہے کہ ہم نے اپنا کچھ بچایا نہیں۔
سیکھتے سیکھتے اگر ہم خود ہی مٹ جائیں، اثر لیتے لیتے اگر ہم اپنا آپ کہیں کھو دیں، تو پھر کچھ گڑبڑ ہے۔ اپنا آپ ہونا بھی تو کوئی چیز ہے۔
یہ جو اندر ایک باریک سی لکیر ہے۔۔ دوسروں سے سیکھنے اور خود کو کھونے کے درمیان۔۔ اصل کھیل وہیں ہے۔
زندگی کا اصل فن دوسروں کی آوازوں کے اس شور میں اپنی سچی سرگوشی کو پہچاننا ہے۔ ہمیں وہ اپنا آپ برقرار رکھنا ہے۔
ہمیں ایک تنی ہوئی رسی پر چلنا ہے جہاں ایک طرف تقلید کی کھائی ہے اور دوسری طرف مکمل تنہائی۔ اس تنی ہوئی رسی پر چلتے ہوئے اس توازن کو قائم رکھنے والا بانس نہیں کھونا۔۔ کیونکہ اگر وہ بانس ہاتھ سے نکل گیا…
تو گرنا یقینی ہے، چاہے ہم کتنی ہی خوبصورت نقل کیوں نہ کر رہے ہوں۔
ادھار کے چراغوں سے راستے تو نظر آ سکتے ہیں، لیکن وہ آپ کے اندر کے اندھیرے کو ختم نہیں کر سکتے۔ اپنا سورج خود بننا پڑے گا، چاہے اس کی روشنی کم ہی کیوں نہ ہو، کم از کم وہ آپ کی اپنی تو ہوگی۔
اور آخر کار زندگی کا اصل کمال یہی ہے کہ ہم سیکھیں بھی، بدلیں بھی، لیکن آخر میں جب بولیں تو آواز اپنی ہو۔
______________________




