پچھتر کے اگست کی چودھویں
آج آزادی کی ڈائمنڈ جوبلی کے دن بھی کچھ ویسی ہی خبریں شائع ہوئی ہیں۔ ’وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ سیاستداں فوج کو سیاسی معاملات میں نہ گھسیٹیں۔‘ ’پنجاب کے وزیرِ اعلی پرویز الٰہی نے لاہور میں آزادی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فوج اور عمران خان…
پاکستان میں تجربے کب ختم ہوں گے؟
پاکستان کا قیام بیسویں صدی کا ایک منفرد تجربہ تھا۔ سوال اب یہ ہے کہ ہم نے مزید اسے ’تجربہ گاہ‘ بنائے رکھنا ہے یا 75 سال کے تجربات کی روشنی میں کوئی واضح لائحہ عمل تیار کرنا ہے؟ بیسویں صدی انسانوں کے سیاسی شعور کی تسکین کی صدی تھی۔ مسلمانوں کی خلافت…
کالا پانی: ہندوستان کی جنگ آزادی کی وہ ’قربان گاہ‘ جہاں ہر قیدی موت کی خواہش کرتا تھا
وہ کہانی تو آپ کو یاد ہوگی کہ سنہ 1857 میں انگریز انتظامیہ کے خلاف پنجاب میں مزاحمت کرنے والے احمد خان کھرل کی جان لے لی گئی تو ان کے کچھ ساتھیوں کو پھانسی دی گئی، کچھ توپوں کا نشانہ بنے اور باقی ’کالا پانی‘ بھیجے گئے ’کالا پانی‘ کی ترکیب برصغیر میں عام…
عشروں سے منتظر آنکھیں اپنے گاؤں دیکھنا چاہتی ہیں
تقریباً ڈیڑھ برس پہلے ارادہ باندھا تھا کہ ان بزرگوں کی یادوں کو ریکارڈ کیا جائے، جنہوں نے سن 1947 کے بٹوارے اور المناک ہجرت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، اپنے جسموں اور روح پر جھیلا ہو تقسیم کی اَن کہی کہانیوں کو لوگوں تک پہنچایا جائے۔ اب تک پاکپتن اور بہاول…
’ماتھے پر تلک لگا کر ہندو نام یاد کروا دیے‘
معروف افسانہ نگار خالد حسین کے ساتھ تقسیمِ برصغیر کے وقت کیا بیتی، اس کی روداد بھی کسی افسانے سے کم نہیں۔ انہوں نے اپنی کہانی کچھ یوں بیان کی ہے: تقسیم کے وقت میری عمر کوئی دو ڈھائی سال تھی۔ میری بڑی بہن کوئی نو دس سال کی تھی اور اس سے چھوٹے دو…
’ہم سب آئینہ در آئینہ در آئینہ ہیں‘
مکتبِ عشق کا دستور نرالا دیکھا، اس کو چھٹی نہ ملے جس کو سبق یاد رہے میر طاہر علی رضوی کے اس معروف شعر کا مصرع ثانی بالفاظ دیگر ’اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا‘ بھی رائج ہے۔ تصرف کے باب میں نہ تو یہ شعر منفرد ہے اور نہ ہی…
ان پڑھ سرجن ڈاکٹر
کیپ ٹاون کی میڈیکل یونیورسٹی کو طبی دنیا میں ممتاز حیثیت حاصل ہے۔ دنیا کا پہلا بائی پاس آپریشن یہیں ہوا تھا۔ اس یونیورسٹی نے تین سال پہلے ایک سیاہ فام شخص کو ’’ماسٹر آف میڈیسن‘‘ کی اعزازی ڈگری سے نوازا 2003 کی ایک صبح مشہورعالمی سرجن پروفیسر ڈیوڈ ڈینٹ…
موسمیاتی تبدیلی اور سست ہوتی کرہ ارض کی رفتار
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ساڑھے چار ارب سال سے لے کر اب تک کرہ ارض کی گردش کی رفتار میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے اور اسی وجہ سے دن طویل ہو رہے ہیں اگرچہ گردش کی رفتار میں کمی اتنی کم ہے کہ انسان اس کو نوٹس نہیں کرسکتا لیکن اس…