ہٹلر کا درزی

انور اقبال

1923 میں پہلی جنگ عظیم کے بعد جرمنی کے جنوبی علاقے کے ایک چھوٹے سے شہر میٹز نگن میں ایک سابق جرمن فوجی نے مردوں کے لباس کی ایک دکان کھول لی، جلد ہی اس نے دو مزید شراکت داروں کے ساتھ مل کر ان کپڑوں کو تیار کرنے کا کارخانہ بھی قائم کر لیا۔ اس کارخانے میں جیکٹ، پتلون، قمیض اور برساتیاں بننے لگیں۔ یہ زمانہ جرمنی میں بڑی ابتلا کا زمانہ تھا پہلی جنگ عظیم میں جرمنی کی شکست کے بعد جرمنی عام طور پر معاشی بدحالی کا شکار تھا، نتیجتاً چھ سال کے اندر اندر یہ کمپنی بھی دیوالیہ پن کا شکار ہو گئی اور 1930 کے آتے آتے کمپنی کے قرض خواہ اور سپلائر اپنے پیسوں کی واپسی کا مطالبہ شد و مد سے کرنے لگے اور کمپنی بند ہو گئی۔

لیکن ان تین شراکت داروں میں سے ایک آدمی نے ہمت نہ ہاری اور 1931 میں اس نے کمپنی کے قرض خواہوں اور سپلائرز سے مذاکرات شروع کر دیے اور کمپنی چلانے کے لیے کچھ نئی تجاویز پیش کیں۔ جس کے نتیجے میں ان کے درمیان ایک معاہدے کے تحت اس ایک پارٹنر کو 6 سلائی مشینوں کے ساتھ دوبارہ کمپنی کا کاروبار شروع کرنے کی اجازت دی گئی اور اب صرف وہی آدمی کمپنی کا اکلوتا مالک بھی بن گیا۔ یہ وہ دور تھا، جب ہٹلر کی نازی پارٹی رفتہ رفتہ مقبولیت حاصل کر رہی تھی۔

نازی پارٹی نے اپنی نیم فوجی تنظیم بھی بنا رکھی تھی، جس کا نام ’ایس ایس‘ تھا۔ یہ نازی پارٹی کے ’سیاسی سپاہی‘ کہلاتے تھے۔ یہ شخص فوراً ہی نازی پارٹی کا باقاعدہ ممبر بن گیا اور پارٹی کے اندر رہتے ہوئے اس نے ’ایس ایس‘ کے لیے وردیاں بنانے اور ڈیزائن کرنے کا ٹھیکہ بھی حاصل کر لیا۔

’ایس ایس‘ کے سپاہیوں کی تعداد بڑھتے بڑھتے نو لاکھ افراد تک پہنچ گئی تھی اور ’ایس ایس‘ کے سپاہی اپنے فرائض کے اعتبار سے کئی قسم کی وردیاں زیبِ تن کرتے تھے، جس میں سے بیشتر اسی کمپنی کی طرف سے نہ صرف سپلائی کی جاتی تھیں بلکہ ڈیزائن بھی کی جاتی تھیں۔

ساتھ ساتھ اس کمپنی نے ’ایس۔ اے‘ اور ’ہٹلر یوتھ‘ جیسی تنظیموں کو بھی وردیاں فراہم کرنا شروع کر دیں۔

پہلی جنگِ عظیم کے بعد جرمنی پر پابندی عائد کر دی گئی تھی کہ وہ اپنی باقاعدہ فوج نہیں رکھ سکتا۔ ہٹلر نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جرمن فوج کی ازسر نو بھرتی شروع کر دی۔ ان باقاعدہ فوجیوں کی وردی کی تیاری کا ٹھیکہ بھی اسی کمپنی کو مل گیا۔

اس طرح یہ کمپنی روز افزوں ترقی کرنے لگی۔ اس کمپنی کے واحد مالک کا نام تھا ’ہیو گو باس‘ اور اسی کے نام پر کمپنی کا نام تھا۔ بدقسمتی سے جرمنی کو دوسری جنگ عظیم میں شکست ہو گئی۔

مورخین کا کہنا ہے کہ جنگ کے آخری سالوں میں ہیو گو باس نے جرمن فوجوں کو بروقت وردیاں فراہم کرنے کے لیے جرمنی میں موجود بیلجیم، فرانس، آسٹریلیا، پولینڈ اور روس کے دو سو جنگی قیدیوں کو اپنی فیکٹری میں بیگار کام کرنے کے لیے استعمال کیا اور ان کو بہت معمولی اجرت ادا کی جاتی تھی۔

کہتے ہیں ہیوگوباس نے اپنے اپارٹمنٹ میں ایک تصویر بھی لگا رکھی تھی، جس میں وہ ہٹلر کے ساتھ کھڑا ہوا تھا۔

جنگ کے بعد اتحادیوں کی طرف سے کی گئی تحقیقات کے مطابق دورانِ جنگ کمپنی کے ایک مینیجر نے جرمن خفیہ جاسوسی ادارے گسٹاپو کے اراکین کے ساتھ پولینڈ کا سفر کیا اور وہاں سے چالیس سے زیادہ غیر فوجی پولش افراد کو زبردستی پکڑ لیا اور ان کو لے کر میٹزنگن آ گئے۔ انہیں ’ایسٹرن کیمپ‘ نامی حراستی کیمپ نما احاطہ میں رکھا گیا، جو غلیظ تھا اور وہاں جوؤں کی بھرمار تھی۔ ان چالیس افراد کو اپنے ساتھی جرمن کارکنوں کے برعکس بارہ بارہ گھنٹے کام کرنا پڑتا تھا اور فضائی حملوں کے دوران انہیں طبی علاج اور پناگاہوں تک رسائی بھی نہیں دی جاتی تھی۔

یہ بھی پتہ چلا کہ ہٹلر مختلف مواقع پر جو فوجی وردی زیب تن کرتا تھا، وہ بھی ہیوگو باس کی فیکٹریوں میں تیار کی گئی ہوتی تھیں۔

جنگ ختم ہونے کے بعد ہیوگوباس پر ایک لاکھ جرمن مارک کا جرمانہ کر دیا گیا اور اس کی فیکٹری تا حکمِ ثانی بند کر دی گئی۔ ہیوگوباس جنگ ختم ہونے کے دو سال کے اندر ہی 1948 میں انتقال کر گیا۔

اس کی تجارتی سلطنت، جو فی الحال بند پڑی تھی، اس کے بھتیجوں کی تحویل میں آ گئی۔ انہوں نے جنگ کے بعد قائم ہونے والی حکومت سے دوبارہ کمپنی کو فعال کرنے کی اجازت مانگی۔ خوش قسمتی سے یہ درخواست منظور کر لی گئی۔ اس کے بھتیجوں نے کمپنی میں تبدیلی کا عمل شروع کیا اور 1950 میں پہلی دفعہ ہیوگو باس کے برانڈ کے نام سے مردانہ سوٹ (کوٹ اور پتلون) بنانا شروع کیا۔ انہوں نے اپنی مصنوعات کو مہنگے اور اعلیٰ برانڈ کے طور پر یورپی بازاروں میں متعارف کرایا۔

1984 میں انہوں نے خوشبویات کی فروخت بھی شروع کر دی۔ 1990 میں انہوں نے اعلیٰ درجے کے کھیلوں کے لباس بھی بنانا شروع کر دیے۔ 1993 میں انہوں نے خواتین کے لباس تیار کرنا بھی شروع کر دیے اور جوتے بنانے بھی شروع کر دیے۔ اس وقت دنیا میں ہیوگو باس کے 6000 سے زیادہ اسٹور ہیں۔ اس وقت کمپنی کی سالانہ آمدنی 5 بلین ڈالر کے لگ بھگ ہے اور اس کی سالانہ ترقی کی رفتار کی شرح 15 فیصد ہے۔

بشکریہ ’ہم سب‘
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close