افغانستان میں کیا کچھ ہو رہا ہے، افغان کی تازہ ترین صورتحال

نیوز ڈیسک

کابل : افغانستان میں طالبان نے خواتین سمیت تمام سرکاری ملازمین کےلئے عام معافی کا اعلان کر دیا۔ طالبان نے سرکاری ملازمین سے کہا ہے کہ کابل میں حالات معمول پر آرہے ہیں، کسی کو ڈرنے کی ضرورت نہیں، تمام ملازمین معمول کی زندگی کا اعتماد کے ساتھ آغاز کریں اور کام پر واپس آ جائیں، انہیں ان کی تنخواہیں دی جائیں گی اور کچھ نہیں کہا جائے گا

طالبان کی طرف سے سرکاری ملازمین کے نام پیغام میں کہا گیا کہ اپنے اداروں میں نئے سرے سے کام پر آئیں، تاہم اپنے خیالات کو بیس سال پہلے کے حالات کے مطابق بحال کریں، رشوت، غبن، تکبر، بدعنوانی، سستی کاہلی اور بے حسی سے بچیں، جو پچھلے بیس سال سے کسی وائرس کی طرح سرکاری اداروں میں پھیلی ہوئی ہے

طالبان کے سیاسی نائب ملا عبدالغنی برادر نے بھی کہا ہے کہ تمام مرد اور خواتین سرکاری ملازمین کو اپنی ذمہ داریوں پر واپس آنا چاہیے ، ہم عوام کی خدمت کے لیے پرعزم ہیں اور عوام کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں

طالبان کی جانب سے تحفظ کی یقین دہانی کے بعد سرکاری ملازمین اور ڈاکٹر کام پر واپس آگئے ہیں جبکہ کابل شہر کی سڑکوں پر ٹریفک پولیس نے دوبارہ کام شروع کر دیا ہے۔ طالبان نے ان کی حفاظت اور بلا خوف خطر فرائض انجام دینے میں آزادی کی یقین دہانی کرائی ہے

◾طالبان کی پہلی پریس کانفرنس کے اہم نکات

• ہماری کسی سے دشمنی نہیں، سب کے لیے عام معافی کا اعلان

• شریعت کے مطابق خواتین کے حقوق کا احترام ہوگا

• نجی میڈیا آزاد ہوگا لیکن قومی مفادات کے خلاف کام نہیں کرنا چاہیے

• افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی

• افغانستان منشیات سے پاک ملک ہوگا

◾ افغانستان کے نائب صدر امر ﷲ صالح نے افغانستان کے نگراں صدر ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ  اشرف غنی کی جلاوطنی کے بعد کیا

انہوں نے کہا کہ ملک میں موجود ہوں، تمام رہنماؤں سے حمایت اور اتفاق رائے کی اپیل ہے

◾افغانستان کے سابق صدر اشرف غنی کے بھائی حشمت غنی احمد زئی کا کہنا ہے کہ میری معلومات کے مطابق اشرف غنی مشرقِ وسطیٰ میں ہیں

میڈیا سے بات چیت کے دوران سابق افغان صدر اشرف غنی کے بھائی حشمت غنی احمد زئی نے کہا کہ امید ہے کہ طالبان افغان عوام کو امن دیں گے اور آنےوالی حکومت میں اہل لوگ شامل ہوں گے

انہوں نے کہا کہ طالبان کے آنے سے اب تک کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا، اشرف غنی اور حامد کرزئی کے دورِ اقتدار میں کرپشن عام تھی

ان کا کہنا ہے کہ امر اللّٰہ صالح سیاسی بندے نہیں، ان کے پاس 2 لوگ نہیں، وہ سوشل میڈیا پر سیاست کر رہے ہیں۔

سابق افغان صدر اشرف غنی کے بھائی کا مزید کہنا ہے کہ پنج شیر کے عمائدین بھی لڑنے کو ترجیح نہیں دیتے

حشمت غنی نے یہ بھی بتایا کہ طالبان لمحہ بہ لمحہ میری خیریت معلوم کرنے کے لیے کال کر رہے ہیں

◾امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے بریفنگ میں کہا ہے کہ طالبان کی باتوں پر یقین نہیں، جو کہہ رہے ہیں اس پر عمل کب ہوتا ہے؟ یہ دیکھیں گے۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا کہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا سوال قبل از وقت ہے۔ طالبان کا ٹریک ریکارڈ اچھا نہیں رہا۔ طالبان کے طرز عمل پر منحصر ہوگا کہ وہ دنیا کو دکھائیں کہ وہ کون ہیں اور کیسے آگے بڑھنا چاہتے ہیں

جیک سلیوان نے یہ بھی تسلیم کیا کہ طالبان نے امریکی اسلحے اور آلات کے بڑے ذخیرے پر قبضہ کرلیا ہے

وائٹ ہاؤس میں بریفنگ کے دوران انہوں نے مزید کہا کہ  احساس ہے کہ طالبان یہ ساز و سامان آسانی سے واپس نہیں کریں گے۔ کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد امریکی صدر نے کسی عالمی رہنما سے بات نہیں کی

◾افغانستان میں طالبان کی فتح کے بعد وزیراعظم عمران خان کو دنیا بھر سے فون پر فون آنے لگے۔ بورس جانسن نے ان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی نئی حکومت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ یک طرفہ نہیں ہونا چاہیے، یہ فیصلہ افغانستان میں انسانی حقوق کی صورت حال کو مدنظر رکھ کر کیا جانا چاہیے۔ وزیراعظم نے بورس جانسن سے پاکستان کا نام برطانوی ریڈ لسٹ سے نکالنے کا مطالبہ بھی کیا

جرمن چانسلر اینگلا مرکل نے بھی عمران خان کو فون کیا، وزیراعظم نے خطے میں امن کے لیے مستحکم افغانستان کی ضرورت پر زور دیا

اس سے پہلے وزیر اعظم سے ترک صدر رجب طیب اردوان نے بھی بات چیت کی، دونوں رہنماؤں کے درمیان افغان صورت حال پر رابطے جاری رکھنے پر اتفاق ہوا

◾یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزف بورل نے کہا ہے کہ طالبان افغانستان میں جنگ جیت چکے ہیں، یورپی یونین کو ان سے بات کرنا ہوگی تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم فوری اور باقاعدہ طور پر طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے جارہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے طالبان کے ہاتھوں اشرف غنی حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان کی صورتحال پر یورپی وزراء خارجہ کے ہنگامی اجلاس میں کیا۔ جوزف بورل نے کہا کہ ہمیں انسانی بحران اور ممکنہ طور پر مہاجرین کے بڑے بہاؤ کو روکنے کے لئے طالبان سے جلد سے جلد مذاکرات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا محور غیر ملکیوں کو افغانستان میں جمع ہونے سے روکنے پر بھی ہوگا

◾فیس بک نے طالبان کے واٹس ایپ اکاؤنٹس بلاک کر دیئے ہیں۔ جب کہ طالبان کی طرف سے قائم گئی واٹس ایپ ہیلپ لائن بھی بند کر دی گئی ہے، جو لوٹ مار اور تشدد کی شکایات کے لیے بنائی گئی تھی

ترجمان فیس بک نے کہا کہ امریکی قوانین کے تحت طالبان تنظیم پر پابندی ہے، کمپنی کو پابندیوں کی امریکی پالیسی پر عمل کرنا ضروری ہے۔

ترجمان طالبان نے اس عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آزادی اظہار رائے کے دعویدار بندش کا جواب دیں۔

◾کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے افغانستان میں طالبان کی حکومت تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کی افغان حکومت تسلیم نہیں کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ طالبان نے منتخب جمہوری حکومت کو طاقت کے زور سے ہٹایا ہے۔

◾کابل ایئرپورٹ سے مسافر لے جانے والی بین الاقوامی پروازوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق امریکا، جرمنی، فرانس سمیت دیگر ملکوں کے طیاروں میں بڑی تعداد میں شہریوں کا انخلاء جاری ہے۔

دوسری جانب ترجمان وائٹ ہاؤس نے کہا کہ طالبان نے شہریوں کو ایئرپورٹ آنے کی اجازت دی ہے، امید ہے وہ وعدے پر پورا اتریں گے۔ اب بھی 11 ہزار امریکی افغانستان میں موجود ہیں

امریکی میجر جنرل ہینک ٹیلر نے کہا کہ طالبان نے کابل سے امریکی انخلا کی کوششوں میں مداخلت نہیں کی۔ کوئی حملہ یا دھمکی نہیں ملی، ہر گھنٹے پرواز اڑانے کی کوشش ہے۔

دوسری جانب ترجمان پینٹاگون جان کربی نے کہا کہ دوحہ میں طالبان رہنماؤں اور سربراہ امریکی سنٹرل کمانڈ کے درمیان ملاقات ہوئی۔ طالبان کے ساتھ کوئی دشمنی والے انداز میں بات چیت نہیں ہوئی۔

◾افغانستان میں شمالی اتحاد کے معروف مقتول کمانڈر کے بھائی احمد ولی مسعود نے کہا ہے کہ احمد شاہ مسعود کے بیٹے کا امر اللہ صالح سے کوئی لینا دینا نہیں اور وہ لڑنے کے بجائے تمام نسلی گروہوں پر مشتمل حکومت کے ساتھ ملک میں امن چاہتے ہیں ورنہ سب طالبان کے خلاف مزاحمت کریں گے

ولی مسعود نے کہا کہ اپنے بھتیجے احمد مسعود اور ہر کسی کی طرح وہ بھی منتظر ہیں کہ (طالبان کی حکومت بنانے کی کوشش کا) کیا نتیجہ نکلتا ہے تو اگر یہ ایک جامع حکومت ہوئی تو ہر کوئی اور وہ خود بھی اسے قبول کرے گا، ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو ہر افغان مزاحمت کرے گا

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کا ایک موقع ہے س لیے وہ پاکستان کی دعوت پر یہاں آئے، ہم یہاں پاکستان کے ساتھ براہِ راست بات چیت کرنے کے لیے آئے ہیں کیوں کہ ہم پڑوسی ہیں اور یہ براہِ راست دونوں کو متاثر کرے گا
خیال رہے کہ احمد ولی مسعود افغانستان کے دیگر غیر پشتون رہنماؤں کے ہمراہ پاکستان میں موجود ہیں جنہوں نے وزیراعظم عمران خان کے علاوہ ملک کی سینیئر قیادت سے ملاقاتیں کیں

◾سابق امریکی صدر ٹرمپ نے بائیڈن انتظامیہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے افغانستان میں مداخلت کو امریکہ کی تاریخ کا سب سے برا فیصلہ قرار دیا ہے۔

◾ساٹھ سے زائد ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ لوگوں کو افغانستان سے نکلنے کی اجازت دی جائے

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کابل سے اب تک بائیس سے زیادہ سفارت کار اور دیگر عام شہریوں کو نکالا جا چکا ہے. ان میں انڈیا کا سفارتی عملہ بھی شامل تھا جو بدھ کی صبح سی 17 طیارے کے ذریعے انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی پہنچا

◾ امریکا نے فنڈز تک طالبان کی رسائی روکنے کے لیے اپنے بینکوں میں افغان حکومت کے 9 ارب 50 کروڑ ڈالر کی مالیت کے اکاؤنٹس منجمد کردیئے ہیں

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی خزانہ کی سیکرٹری جینٹ ییلن اور محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول کے اہلکاروں نے امریکا میں موجود افغان حکومت کے اکاؤنٹس کو منجمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت امریکی بینکوں میں افغان حکومت کے 9 9.5 بلین ڈالر کے اثاثہ جات منجمد کردیئے گئے.

◾افغانستان کے شہر جلال آباد میں افغانستان کے قومی پرچم کے حق میں مظاہرہ کیا گیا

افغان میڈیا کے مطابق افغان پرچم کے حق میں جمع ہونے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طالبان نے ہوائی فائرنگ کی

اس سے قبل افغانستان کے دارالحکومت کابل میں خواتین کی جانب سے طالبان کی موجودگی میں، طالبان کے خلاف اور اپنے بنیادی حقوق سے متعلق مظاہرہ کیا گیا

سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ایک چوک پر خواتین کی جانب سے احتجاج کیا جا رہا ہے، احتجاج کے دوران خواتین نے ہاتھوں سے لکھے گئے پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے ہیں اور اپنے بنیادی حقوق کے حوالے سے مطالبات کر رہی ہیں

احتجاج کے دوران افغان خواتین کی جانب سے طالبان کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے جبکہ افغان طالبان کو بھی ویڈیو میں خواتین کے ارد گرد دیکھا جا سکتا ہے جو کہ مشتعل ہونے کے بجائے خواتین کو احتجاج کرنے دے رہے ہیں

◾بھارتی سفارتی عملے نے رات کے وقت طالبان کےحفاظتی حصارمیں افغانستان سے انخلا کیا

خبر ایجنسی کے مطابق حفاظت کیلئے بھارتی سفارتخانے کے باہر مشین گنوں، گرینیڈ لانچر سے لیس طالبان کا گروہ موجود تھا، پیر کی رات بھارتی سفارت خانے سے تقریباً دو درجن گاڑیاں باہر نکلیں

طالبان جنگجو بھارتی شہریوں کو راستہ دکھاتے نظر آئے، بھارتی عملہ  پانچ گھنٹے میں طالبان کےحصار میں کابل ایئرپورٹ پہنچا.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close