ناروے میں حکومت تبدیل ہو گئی، کسی کو پتہ بھی نہیں چلا

سید مجاہد علی

ناروے میں گزشتہ روز قومی انتخاب کا انعقاد ہوا۔ گزشتہ آٹھ برس سے دائیں بازو کی مخلوط حکومت کی سربراہی کرنے والی ہائرے پارٹی کی لیڈر ارنا سولبرگ کو اس انتخاب میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کی پارٹی کے علاوہ ان کے ساتھ حکومت میں شامل وینسترے اور کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی اور حکومت کا ساتھ دینے والی فریم اسکرتس پارٹی کی مقبولیت میں قابل ذکر کمی ہوئی جس کی وجہ سے دائیں بازو کا بلاک اس بار انتخابات میں کامیاب نہیں ہوا۔

بائیں بازو کے بلاک میں شامل پانچ جماعتیں مجموعی طور پر 169 نشستوں کے ایوان میں 100 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں جس کے بعد وزیر اعظم یا کسی بھی دوسرے شخص کو اس بارے میں شبہ کا اظہار نہیں کرنا پڑا کہ اب حکومت کی تبدیلی کا وقت آ گیا ہے۔ کل شام ووٹنگ کا وقت ختم ہونے کے تھوڑی دیر بعد ہی انتخابی ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے پیشگی ڈالے گئے ووٹوں کے رجحان کی بنیاد پر غیر سرکاری طور سے یہ تخمینہ پیش کر دیا گیا کہ اس بار حکمران اتحاد کی بجائے مخالف سیاسی جماعتوں کا پلہ بھاری ہے۔ پولنگ ختم ہونے کے دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں وزیر اعظم ارنا سولبرگ نے اپوزیشن لیڈر یوناس گار ستورے کو فون کر کے کامیابی پر مبارک باد پیش کی۔ یوں ایک ہنگامہ خیز طویل انتخابی مہم اور اپنے اپنے سیاسی منشور کے لئے حمایت کرنے کی جد و جہد بالآخر اپنے اختتام کو پہنچی۔ اب انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے والی جماعتیں ایک دوسرے سے مشاورت کا آغاز کریں گی تاکہ یکم اکتوبر کو نئی پارلیمان کے افتتاح کے موقع پر موجودہ حکومت کی جگہ لینے لئے نئی حکومت تیار ہو۔

آئندہ چند ہفتے بھی ناروے میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر رہیں گی۔ تاہم ان سرگرمیوں میں کسی ’انتخابی دھاندلی‘ کے خلاف احتجاج کرنے اور کامیابی کے نشے میں سرشار ہو کر سبکدوش ہونے والی حکومت پر الزام تراشی پر وقت برباد نہیں کیا جائے گا بلکہ جیتنے والی پارٹیاں اس کوشش میں ہوں گی کہ نئی حکومت میں شامل ہونے کے لئے ان کے منشور کے مطابق زیادہ سے زیادہ سیاسی رعایت حاصل کی جائے۔ بائیں بازو کے بلاک میں شامل سوشلسٹ وینسترے پارٹی کے لیڈر آؤدن لیس باکن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ حکومت میں وزارتیں لینا کوئی مقصد نہیں ہے بلکہ ہماری کوشش ہو گی کہ نئی حکومت کے چارٹر میں پارٹی کے سیاسی مطالبات کو زیادہ سے زیادہ پذیرائی حاصل ہو۔ نئے حکومتی اتحاد میں شامل دوسری پارٹیوں کی بھی یہی کوشش ہوگی کہ جن سیاسی نکات کی بنیاد پر انہیں عوام کا اعتماد حاصل ہوا ہے، نئی حکومت کے مقاصد میں انہیں ترجیحی بنیاد پر شامل کروا سکیں۔

ناروے کے اس انتخاب میں کسانوں کی نمائندگی کے حوالے سے مشہور ’سنٹر پارٹی‘ اور بائیں بازو کی پارٹی ’روت‘ کو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ سنٹر پارٹی گزشتہ بار کی 19 نشستوں کے مقابلے میں 28 سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہوئی ہے جبکہ ’روت‘ کا اس سے پہلے صرف ایک نمائندہ پارلیمنٹ کا رکن تھا لیکن اب ان کی تعداد 8 ہو گئی ہے۔ لیکن کوئی جماعت اپنی مقبولیت میں اضافہ کا اجر ’سیاسی اقتدار‘ میں زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کے لئے استعمال نہیں کرتی بلکہ ہر پارٹی کی خواہش ہوگی کہ وہ اپنے سیاسی منشور کو نافذ کروا سکے تاکہ جب آئندہ انتخابات میں ووٹروں کا سامنا ہو تو انہیں بتایا جائے کہ اس پارٹی نے خاص طور سے کن سیاسی مقاصد میں کامیابی حاصل کی۔ انتخابات میں غیر معمولی کامیابی حاصل کرنے والی ’سنٹر پارٹی‘ کے لیڈر تھرگوے ویدوم سے نصف شب کے بعد پارلیمنٹ میں میڈیا کے ساتھ روایتی پارٹی لیڈر گفتگو کے دوران سوال کیا گیا کہ کیا لیبر پارٹی کے لیڈر کو ان کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ آپ کی کامیابی کی وجہ سے وہ وزیر اعظم بن سکیں گے؟ اس پر ان کا کہنا تھا کہ ’اس میں میرے شکریے کا معاملہ کہاں سے آ گیا۔ عوام نے ہم پر تبدیلی کے لئے اعتماد کیا ہے۔ اب ہمیں ان کے اعتماد پر پورا اترنے کی کوشش کرنا ہے‘

واضح رہے کہ اس سال کے شروع میں ہونے والے عوامی رائے کے جائزوں میں سنٹر پارٹی کو اس قدر مقبولیت حاصل ہو رہی تھی کہ ایک مرحلہ پر پارٹی نے اپنے لیڈر کو مستقبل کے ممکنہ وزیر اعظم کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا تھا۔ تاہم انتخاب میں سنٹر پارٹی کو اگرچہ پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ ووٹ ملے ہیں لیکن اسے مجموعی طور پر 13 اعشاریہ 51 ووٹ فیصد ملے جبکہ لیبر پارٹی 26 اعشاریہ 30 فیصد ووٹوں کے ساتھ ملک کی سب سے بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے اگرچہ اس کے ووٹوں کی شرح میں قدرے کمی دیکھی گئی۔ سنٹر پارٹی نے ایک لمحہ کے لئے بھی یہ اصرار نہیں کیا کہ مقبولیت وجہ سے وزارت عظمی بہر حال اسی پارٹی کو دی جائے۔ اسی طرح سوشلسٹ وینسترے پارٹی اپنے 13 ارکان کے ساتھ نئے حکومتی اتحاد کے لئے بنیادی اہمیت کی حامل ہے لیکن اس کا لیڈر بھی وزارت عظمی یا کوئی اہم عہدہ لینے کی بجائے سیاسی منشور کے حوالے سے مطالبوں پر بات کر رہا ہے۔ اصولوں پر ہونے والی سیاست ہی کا نتیجہ ہے کہ انتخابات کا ہنگامہ ایک دوسرے کے موقف کو مباحث میں مسترد کرنے اور اپنا نقطہ نظر واضح کرنے میں تو دکھائی دیتا ہے لیکن اس دوران یا انتخاب کے بعد الزام تراشی کا کوئی ماحول دیکھنے میں نہیں آتا

ان جمہوری اقدار کا اندازہ کرنا ہو تو سبکدوش ہونے والی وزیر اعظم ارنا سولبرگ اور ممکنہ طور سے اکتوبر میں وزارت عظمی کے منصب پر فائز ہونے والے لیبر پارٹی کے لیڈر یوناس گار ستورے کی کامیابی کے بعد کی جانے والی تقاریر کو سن لیا جائے۔ نہ کسی کو پشیمانی تھی اور نہ ہی دھاندلی کا شکوہ۔ دونوں لیڈروں کے پاس ایک دوسرے کی توصیف ہی کے لئے الفاظ تھے۔ وزیر اعظم ارنا سولبرگ نے اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے پارٹی ارکان کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’میں یوناس گار ستورے کو حکومت کی تبدیلی کے لئے واضح اکثریت حاصل ہونے پر مبارک باد پیش کرتی ہوں۔ میں ہائرے کی بہتر کارکردگی پر خوش ہوتی لیکن مزید چار سال حکومت کا موقع ملنا کسی معجزے سے کم نہ ہوتا۔ اس بار حکومت میں ہائرے کا وقت تمام ہوا۔ ہم اقتدار میں واپس آنے کا پورا ارادہ رکھتے ہیں لیکن اب ہم بائیں بازو کے بلاک کو کامیابی پر مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ اور نئی حکومت بنانے میں ان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ مشکل مرحلہ ہو گا۔ میں اس موقع پر اپنی حکومت میں شامل وینسترے اور کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی اور ساتھ دینے پر فریم اسکرتس پارٹی کا شکریہ بھی ادا کرنا چاہتی ہوں۔ میں واضح کرنا چاہتی ہوں کہ ناروے میں جمہوری سیاسی کام کرتے ہوئے کسی کو دھمکیوں اور تشدد کے خوف میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے‘ ۔

اس سے تھوڑی ہی دیر بعد پارٹی ہمدردوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ناروے ممکنہ نئے وزیر اعظم یوناس گار ستورے نے اپنی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرنے کے علاوہ اپنی مدمقابل ارنا سولبرگ کی صلاحیتوں اور خدمات کا اعتراف کرنا ضروری سمجھا۔ ان کا کہنا تھا: ’ہم آج حکومت کی تبدیلی پر خوش ہیں۔ سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ہم ملک کو نئی منزل کی جانب گامزن کریں گے۔ میں نئی حکومت کے لئے باقی پارٹیوں سے مشاورت کروں گا۔ اس موقع پر میں خاص طور سے ارنا سولبرگ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ وہ ناروے کے لئے ایک اچھی اور پرعزم وزیر اعظم رہی ہیں۔ وہ ایک عمدہ سیاست دان ہیں اور انہوں نے متعدد بحرانوں میں ہماری قیادت کی اور عالمی سطح پر بھی ناروے کے لئے نمایاں خدمات سرانجام دیں۔ ہمارا ان سے سیاسی اختلاف ہے لیکن ان کی خدمات سے انکار ممکن نہیں‘ ۔

باہمی احترام اور ملک و قوم کے لئے ایک دوسرے کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے یہ سیاسی لیڈر دراصل اپنے ملک میں تحمل، بردباری اور قبولیت کا وہ ماحول پیدا کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں کہ کسی کو دوسرے کی نیت پر شبہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ ہر سیاست دان اپنا سیاسی منشور سامنے لاتا ہے اور دوسروں کی سیاسی حکمت عملی کے ناقابل قبول نکات پر تنقید کرتے ہوئے کسی رو رعایت سے کام نہیں لیا جاتا لیکن سیاسی مباحث سے قطع نظر انسانی بنیاد پر وہ سب ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں اور خدمات کے معترف ہوتے ہیں۔ ناروے جیسے جمہوری ممالک میں یہ طے کر لیا گیا ہے کہ سیاست عوامی خدمت گزاری کا ذریعہ ہے۔ عوام جس لیڈر یا پارٹی کو ووٹ دے کر امور حکومت چلانے کے لئے منتخب کرتے ہیں، وہ اسے اپنے لئے اعزاز اور ذمہ داری سمجھتا ہے۔ اسی طرح اپوزیشن پارٹیاں آئین اور جمہوری روایت کی مقررہ حدود میں حکومت پر تنقید بھی کرتی ہیں اور اس کی ’اصلاح‘ کی کوشش بھی کرتی رہتی ہیں لیکن اس نکتہ چینی میں کبھی ذاتی عناد یا دشمنی کا شائبہ بھی محسوس نہیں کیا جاسکتا۔

انتخابات میں ووٹ دینے والے لوگوں کو یقین ہوتا ہے کہ ان کا ووٹ اسی پارٹی یا امیدوار کو ملے گا جسے انہوں نے منتخب کیا ہے۔ دھاندلی کا تصور ناروے کے پارلیمانی جمہوری عمل میں حرف غلط بنا دیا گیا ہے۔ ملک کی کسی خفیہ یا ’تیسری قوت‘ کو کسی خفیہ قومی مفاد یا قومی نظریہ و منشور کے لئے کسی ایک خاص پارٹی کی حمایت کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی اور نہ ہی یہ ادارے ایسا تصور کر سکتے ہیں۔ پارلیمنٹ با اختیار پلیٹ فارم ہے۔ ملک کا کوئی شخص یا ادارہ اس کے دائرہ اختیار سے باہر نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے کسی عدالتی فورم پر کبھی آئینی بالادستی یقینی بنانے کا دعویٰ سامنے نہیں آتا اور نہ ہی صحافیوں کے کسی گروہ کو رپورٹنگ کرنے یا رائے دینے کی پاداش میں پریس لابی بند کرنے کے خلاف احتجاج کرنا پڑتا ہے۔

سوچنا چاہیے کہ پاکستان جیسے ملکوں میں یہ ماحول کیوں پیدا نہیں ہو سکتا۔ کیا وجہ ہے کہ وزیر اعظم ہو یا اپوزیشن لیڈر وہ ایک دوسرے سے مصافحہ کرنے کی بجائے گریبان پر ہاتھ ڈالنے پر تیار رہتے ہیں۔ اس کا جواب ہر سیاسی لیڈر کو اپنے کردار کا جائزہ لینے سے ہی مل سکتا ہے۔ ناروے کی تمام سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے پارٹی اداروں میں انتخاب کے بعد کامیابی یا ناکامی کی وجوہ کا جائزہ لیں گی۔ ایسا کوئی جائزہ پاکستانی لیڈروں اور پارٹیوں کو بھی لینا چاہیے۔

(یہ اداریہ/ کالم ‘ہم سب ڈاٹ کام’ کے شکریے کے ساتھ شائع) کیا گیا، ادارے کا کالم نگار کے خیالات اور کالم کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close