ﻧﻮﺍﺯ ﺷﺮﯾﻒ کی سیاست، مقابلہ شہباز شریف سے یا اسٹبلشمنٹ سے؟

کلیم عبدالرحمٰن

ذرائع، مختلف ذرائع سے میڈیا میں یہ تاثر پھیلا اور پُھلا رہے ہیں کہ نواز شریف نے ﺍﺳﭩﯿﺒﻠﺸﻤﻨﭧ ﺳﮯ ﻟﮍﻧﮯ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ہے. حال ہی میں اے پی سی سے ان کے خطاب کے جن الفاظ نے جلی سرخیوں میں جگہ پائی تھی، وہ بھی اسی تاثر کی عکاسی کرتے ہیں "ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہیں، بلکہ انہیں لانے والوں سے ہے”
کیا واقعی میاں صاحب کی بِدکتی سیاست، اب بدلتی سیاست بنتی جا رہی ہے؟
اے پی سی سے ان کے خطاب کے بعد نیب کی پھرتیاں بھی نئے سرے سے جوش پکڑ رہی ہیں اور اسلام آباد ہائی کورٹ کو بھی یاد آگیا ہے کہ میاں صاحب ہمیں دھوکہ دے کر باہر نکل گئے، عدلیہ یہ کہہ کر لکیر پیٹ رہی ہے کہ موصوف لندن میں بیتھ کر اس نظام پر ہنس رہے ہونگے.

اُدھر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ پر منی لانڈرنگ میں فرد جرم بھی عائد کر دی گئی ہے اور شہباز شریف بھی منی لانڈرنگ کے الزامات میں سلاخوں کے پیچھے پہنچ چکے ہیں.
کیا یہ سب ایک نئی اور بدلتی سیاسی صورتحال کی طرف اشارہ نہیں کر رہے؟ واضح طور پر اس کا جواب ہاں میں ہے، لیکن یہ بہرطور ابھی واضح نہیں کہ اس اسکرپٹ کا رائٹر کون ہے اور اس نے اپنے ذہن میں کیا کلائمکس طے کر رکھا ہے؟
اس ابہام کی وجہ یہ سوال ہے کہ نواز شریف کی تقریر اور جارحانہ رویے کے بعد اسٹبلشمنٹ سے قربت رکھنے والے ان کے بھائی کی گرفتاری کا مطلب کیا ہو سکتا ہے؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ شہباز شریف سے جُڑے اسٹبلشمنٹ سے قربت کے تاثر کو کمزور کر کے نون لیگ کو شین لیگ بنانا مقصود ہو؟ جیسا کہ شیخ رشید کہہ چکے ہیں، اور نواز شریف کی جیل سے سیدھے لنڈن روانگی اور پھر طویل خاموشی کے بعد اچانک ان کے رویے میں تبدیلی اسٹیبلشمنٹ سے مقابلہ ہے یا پھر نون لیگی کارکنان کو نون سے ہی جوڑے رکھنے کی کوشش؟
اس حوالے سے جب میں نے انکل کیوں اور چچا کیا سے پوچھا تو وہ بھی کچھ بتانے کی پوزیشن میں نہیں تھے.
ہاں ذرائع، مختلف ذرائع سے یہ ضرور بتاتے ہیں کہ نواز شریف ﻧﮯ اے پی سی سے اپنے خطاب میں ﭘﺎﺭﭨﯽ ﺭﮨﻨﻤﺎﺅﮞ پر ﺑﻠﮑﻞ ﻭﺍﺿﺢ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﻨﭩﺮﻭﻝ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ، ﭘﺎﺭﭨﯽ ﮐﺎ ﮨﯿﮉ ﻣﺎﺳﭩﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ۔
ﺩوئم: ﻧﻮﺍﺯ ﺷﺮﯾﻒ ﻧﮯ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﺭﮨﻨﻤﺎﺅﮞ ﮐﻮ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺏ ﮨﻤﯿﮟ ﻟﮍﻧﺎ ﮨﮯ۔ ﻧﻮﺍﺯ ﺷﺮﯾﻒ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ ﮐﯽ ﻏﻼﻣﯽ ﺳﮯ ﺗﻮ ﺁﺯﺍﺩ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﭘﻨﯽ ﻏﻼﻣﯽ ﻣﯿﮟ ﺁ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ!
سوئم : ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﺏ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻓﻀﻞ ﺍﻟﺮﺣﻤﺎﻥ ﺳﮯ میں خود ﺑﺮﺍﮦ ﺭﺍﺳﺖ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﺎ، اور یہ کہ ﻧﮧ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﺭﮨﻨﻤﺎ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﻣﻞ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ۔
ﻭﺍﺿﺢ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ اس سے قبل ان کے بھائی شہباز شریف ہی اسٹبلشمنٹ اور مولانا سے رابطے میں تھے…. تو کیا یہاں یہ تاثر نہیں ابھرتا کہ ان کا مقابلہ ‘ش’ لیگ سے ہے؟

ذرائع بتاتے ہیں کہ ﻣﺴﻠﻢ ﻟﯿﮓ ﻥ ﮐﮯ ﻗﺎﺋﺪ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﮐﯽ ﺳﯽ ﺍﯼ ﺳﯽ ﮐﮯ ﺍﺟﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﺧﻄﺎﺏ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺁﺝ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ ﮐﯽ ﻏﻼﻣﯽ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﻏﻼﻣﯽ ﻣﯿﮟ ﺁﮔﺌﮯ ہیں، انہوں نے اجلاس کے شرکاء سے کہا کہ ﺧﻮﺩ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮫ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﮟ ﮨﻢ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﺯﺍﺩ ﺷﮩﺮﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ ، ﺟﺲ ﭘﺎﺭﻟﯿﻤﻨﭧ ﮐﮯ ﮨﻢ ﺭﮐﻦ ﺑﻨﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ، ﻭﮦ ﮐﺘﻨﯽ ﺧﻮﺩ ﻣﺨﺘﺎﺭ ﮨﮯ؟ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﭖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﺘﮧ ﭼﻠﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﮐﮧ ﭘﺎﺭﻟﯿﻤﻨﭧ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﭼﻼ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ، ﻭﮨﺎﮞ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻟﻮﮒ ﺁﮐﺮ ﮨﺪﺍﯾﺎﺕ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺁﺝ ﮐﺎ ﺍﯾﺠﻨﮉﺍ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮔﺎ ، ﺍﺱ ﺑﻞ ﭘﺮ ﻭﻭﭨﻨﮓ ﮨﻮﮔﯽ ، ﻓﻼﮞ ﺑﻞ ﮐﻮ ﻣﻨﻈﻮﺭ ﮐﺮﯾﮟ، ﻓﻼﮞ ﺑﻞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ، ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺑﮩﺖ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺗﻮ ﺍﺳﻤﺒﻠﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﺏ ﮐﻤﭙﺮﻭﻣﺎﺋﺰ ﮨﮯ۔
ﺳﺎﺑﻖ ﻭﺯﯾﺮﺍﻋﻈﻢ ﻧﮯ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﻋﺎﺋﺪ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻘﺪﻣﺎﺕ ﮐﯽ ﺍﺣﺘﺴﺎﺏ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺎﻋﺖ ﭼﻞ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﺮﻧﻞ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮑﻞ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ، ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺻﺤﺎﻓﯽ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮫ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﺁﺋﮯ ﮨﯿﮟ؟ ﺁﭖ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﻦ ﺳﮯ ﻣﻠﮯ ﮨﯿﮟ؟ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺩﮮ ﺩﯾﮟ ﮐﮧ ﺟﺞ ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮐﺮﺳﮑﯿﮟ ، ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﮐﺘﺎﺏ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻨﮧ ﭼﮭﭙﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ، ﮐﯿﺎ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺗﮭﯽ ﻣﻨﮧ ﭼﮭﭙﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺍﮔﺮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﭼﻮﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ، ﺩﻝ ﭼﻮﺭ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﻨﮧ ﭼﮭﭙﺎﯾﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ..

مذکورہ بالا صورتحال اور میاں نواز شریف کی بِدکتی سے بدلتی سیاست کا جائزہ لیں تو یہ سوال ضرور ابھرتا ہے کہ ان کا مقابلہ شہباز شریف سے ہے یا اسٹبلشمنٹ سے….؟ بہرحال، مقابلہ کسی سے بھی ہو، ہوگا دلچسپ… اور مزید دلچسپ یہ ہے کہ میدان ہنوز خالی پڑا ہے!

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close