ایک نایاب تاریخی عدالتی فیصلہ

عباس ملک

ڈاکوؤں نے دن دیہاڑے گھر والوں کو قتل کر کے گھر کا سارا سامان اور نقدی لوٹ لی جاتے ہوئے گھر کو نذر آتش کیا اور مقتولین کے بچوں کو بھی بری طرح زخمی کر کے فرار ہو گئے

واردات پر شہر بھر میں طوفان کھڑا ہو گیا لوگ سیخ پا ہو گئے اور ہر کوئی انصاف اور مجرموں کے بدترین انجام کا مطالبہ کرنے لگا

ڈاکو چند روز میں پکڑے گئے اور شہر میں قاضیوں کی سب سے بڑی مجلس میں قاتلوں کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع ہو گئی

عدالتی کارروائی شروع ہونے پر عوام کے غم و غصہ میں کچھ کمی آئی اور سب کی آنکھیں اور کان مجلس انصاف کے فیصلے پر لگ گئے

دوران سماعت میر انصاف نے اپنے فیصلے سے قبل انصاف کی اصل روح اور حقیقی تقاضوں پر درس اور راہنمائی دیتے ہوئے فرمایا کہ سچی بات تو یہی ہے کہ انصاف صرف ہونا ہی نہیں بلکہ ہوتا ہوا دکھائی بھی دینا چاہیے اور انصاف سب کے ساتھ ہونا چاہیے۔۔ انہوں نے کہا کہ انصاف اللہ کی ایک نعمت ہے جس پر ہمیں اللہ کا شکر بھی ادا کرنا چاہیے اور اس کی رضا پر صبر بھی کرنا چاہیے

ایک پر امن اور ہنستے بستے گھر کو اجاڑ کر اہل خانہ کے درد ناک قتل اور ڈاکا زنی کی واردات پر عدالت کی تشویش اور انصاف کے تقاضوں کی وضاحت پر عوام کی اکثریت نے دلی اطمینان کا اظہار کیا۔ نماز جمعہ کے موقع پر بعض علما نے قاتلوں اور ڈاکوؤں کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا جبکہ چند راسخ العقیدہ مسلمانوں کی مساجد سے قاتلوں کو شہر کے مرکزی میدان میں نذر آتش کرنے پر زور دیا لیکن شہر کے ماہرین قانون نے قانون کی سات دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مجرموں کو ایک سے زائد مرتبہ سزائے موت ہو سکتی ہے

چند ہی روز میں عدالت کی قانونی سماعت ختم ہو گئی اور فیصلے کی گھڑی قریب آ گئی

قاضیوں کے امیر نے جلدی جلدی میں ایک ایسا فیصلہ سنایا کہ لوگ اصل واردات کو بھول گئے اور پورے شہر میں عدالت کے فیصلے پر صف ماتم بچھ گئی

امیر انصاف نے اپنے فیصلے سے قبل انصاف کی اصل روح اور حقیقی تقاضوں پر قاتلوں اور ڈاکوؤں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے گلوں میں ہار ڈالے، واردات کو سراہا اور تمام قاتلوں کو باعزت بری کرنے کا اعلان کر دیا

امیر عدل و انصاف نے اپنے تاریخی اور تابناک فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم ڈاکوؤں کے صبر و تحمل بردباری اور رواداری پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور فرمایا کہ اگر ڈاکو چاہتے تو وہ مقتولین کے بچوں کو بھی قتل کر سکتے تھے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا

اگر قاتل چاہتے تو وہ لگے ہاتھ مقتولین کے پڑوسیوں کو لوٹ کر انہیں بھی قتل کر سکتے تھے لیکن اعلیٰ انسانی اقدار کا خیال کرتے ہوئے انہوں نے ایسا بھی نہیں کیا۔۔ اگر ڈاکو چاہتے تو وہ واردات کے دوران خون خرابہ کرتے ہوئے لاشوں کو بکھیر کر خون میں لت پت چھوڑ سکتے تھے لیکن ڈاکوؤں نے تمام مقتولین کے سروں میں گولیاں ماریں اور باری باری پوری ذمہ داری اور انسانی حقوق کو سامنے رکھتے ہوئے تمام لاشیں سلیقے سے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ایک کمرے میں ترتیب سے رکھیں تاکہ لواحقین کو تجہیز و تکفین میں زحمت نہ ہو

منصف اعلیٰ نے حیرانی اور فخر سے کہا کہ میں حیران ہوں کہ ملزمان نے کس طرح جانے یا انجانے میں جنیوا کنونشن اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بھی ملحوظ خاطر رکھا، اس اعتبار سے یہ مقدمہ ایک بین الاقوامی نیک نامی اور مثالی اہمیت کی شکل بھی اختیار کر چکا ہے

امیر عدل و انصاف نے مزید فرمایا کہ اگر ڈاکو اور جرائم سے وابستہ حضرات قانون کی ضروریات انسانی حقوق اور ان کی پاسداری کا اسی طرح خیال رکھیں تو اس طرح عدالت کا وقت بھی بچ سکتا ہے۔ انصاف کا فوری اور یقینی حصول بھی ممکن بنایا جاسکتا ہے اور عدالت سمیت تمام فریقین کے لیے آسانیاں اور انصاف ہوتا ہوا دکھائی بھی دے سکتا ہے

انہوں نے فرمایا کہ قومیں ادارے اور انصاف کے مراکز جب پوری نیک نیتی اور خلوص نیت سے انصاف کے قیام کے لیے کمر بستہ ہو جائیں تو وہ قومیں ترقی اور نیک نامی کے بام عروج تک جانے میں دیر نہیں کرتیں اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ قوموں کی ترقی، نیک نامی اور ایک تابناک مستقبل کے قطب مینار پر فائز ہو جاتی ہیں

انہوں نے آخر میں قدرے عاجزی اور خاکساری میں لتھڑے ہوئے غرور سے فرمایا کہ اللہ کا لاکھ شکر ہے کہ اجتماعی قومی حمیت اور قومی نشاط ثانیہ کا آغاز بھی آج اللہ کے فضل سے در انصاف ہی سے ہو رہا ہے۔ اللہ ہمیں مزید ثابت قدمی ہمت اور جرأت عطا فرمائے، آمین۔

بشکریہ: ہم سب

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close