دوبارہ اقتدار میں آنے کا موقع ملا تو میں پاکستان کو 110 درجے بدلوں گا، زرداری

ّویب ڈیسک

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق صدر آصف علی زرداری نے دعویٰ کیا ہے کہ عام انتخابات 2023 میں کامیابی کے بعد آئندہ وفاقی حکومت ان کی جماعت کی ہوگی

بلاول ہاؤس میں پارٹی کے عہدیداران اور کارکنان سے خطاب میں سابق صدر کا کہنا تھا کہ ’مرکز میں آئندہ حکومت پیپلز پارٹی کی ہوگی‘

اس وقت حکمراں اتحاد میں شامل اہم جماعت کے سربراہ آصف زرداری نے کہا ”میں وعدہ کرتا ہوں کہ اگر مجھے دوبارہ اقتدار میں آنے کا موقع ملا تو میں پاکستان میں 110 درجے کارکردگی کا مظاہرہ کروں گا“

ان کا کہنا تھا ”پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس ملک کو درپیش تمام چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت موجود ہے“

پنجاب میں پارٹی کی سیاست کے حوالے سے آصف زرداری نے اس تاثر کو ختم کیا کہ گلگت بلتستان اور پنجاب سے پیپلزپارٹی ختم ہوچکی ہے

انہوں نے کہا کہ یہ بات سچ نہیں ہے پاکستان پیپلز پارٹی کو ’پاکستان کی بقا‘ کے لیے اپنی سیاست کی قربانی دینی پڑی، میں پنجاب میں بذاتِ خود پارٹی کے معاملات دیکھ رہا ہوں اور یہاں پارٹی کی بحالی یقینی بناؤں گا

آصف علی زرداری نے دعویٰ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت مخلوط وفاقی اور پنجاب میں صوبائی حکومت کی نو اتحادی جماعتوں میں سے ایک ہے، یہ ملک کو معاشی اور سیاسی بحران سے نکالنے میں مدد کرے گی

تاہم انہوں نے پنجاب میں اگلے ماہ ہونے والے ضمنی انتخابات کے معاہدے کے برعکس مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اگلے عام انتخابات لڑنے کا ذکر نہیں کیا

انہوں نے کہا ”ہم پنجاب میں اپنی پارٹی کو مضبوط کریں گے اور صوبے میں اپنا حصہ یقینی بنائیں گے“

’ایک زرداری سب پہ بھاری‘ کے نعروں کی گونج میں پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نے مزید کہا کہ وہ پارٹی کارکنوں کا احترام کرتے ہیں اور مستقبل کے کسی بھی فیصلے میں ان سے مشاورت کریں گے

انہوں نے کہا ”کارکنوں کے لیے بحریہ ٹاؤن تک پہنچنا بہت مشکل ہے، اس لیے میں نے ان کے ساتھ بات چیت کو برقرار رکھنے کے لیے گلبرگ میں مکان لینے کا فیصلہ کیا ہے“

آصف زرداری نے سابق وزیر اعظم عمران خان پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انوکھے لاڈلے‘
کی پالیسیاں ملک میں قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کا باعث ہیں

مسلم لیگ (ن) کے حوالے سے سابق صدر نے کہا کہ ’وہ (شریف) ہماری بات صرف اس وقت سنتے ہیں جب انہیں ہماری ضرورت ہو‘

سابق صدر بعد ازاں نوابشاہ روانہ ہو گئے اور اگلے ہفتے ان کی واپسی متوقع ہے جب وہ پنجاب میں اپنے حصے کے حوالے سے مسلم لیگ ن کی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے

قبل ازیں، پیپلز پارٹی کے پنجاب چیپٹر نے آصف زرداری سے شکایت کی تھی کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز صوبے میں اپنے قانون سازوں کو ان کا ‘متفقہ حصہ’ دینے سے گریزاں ہیں

پیپلز پارٹی کی پنجاب اسمبلی میں سات نشستیں ہیں اور مبینہ طور پر شریفوں نے انہیں چار وزارتوں اور دو مشیروں کا وعدہ کیا تھا

پیپلز پارٹی فنانس، کمیونیکیشن اور ورکس کے محکموں میں دلچسپی رکھتی ہے لیکن مسلم لیگ (ن) کے حلقوں کا خیال ہے کہ ایسی اہم سیٹیں پارٹی کے اندر ہی رہنی چاہئیں

وزیر اعظم شہباز شریف کے بیٹے وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی موجودہ آٹھ رکنی کابینہ میں پیپلز پارٹی کے دو اراکین ہیں تاہم وہ متفقہ تقسیم نہ ہونے کی وجہ سے اجلاسوں میں غیر فعال رہتے ہیں

دو ہفتے قبل کابینہ میں ان کی شمولیت کے باوجود، تمام اراکین کو قلمدان تفویض نہیں کیے گئے ہیں، مسلم لیگ (ن) کابینہ میں توسیع کے حوالے سے فیصلہ کن نہیں دکھائی دے رہی

مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اگلے ماہ پنجاب کی بیس صوبائی نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خلاف مشترکہ طور پر الیکشن لڑنے پر اتفاق کیا ہے

تاہم پارٹیوں کے درمیان ”نظریاتی“ اختلافات کی وجہ سے ان کے کارکنان ابھی تک میدان میں اترتے نہ ہی ان حلقوں میں اپنے مشترکہ امیدواروں کے لیے انتخابی مہم چلاتے نظر آئے ہیں

الیکشن کمیشن کی جانب سے پی ٹی آئی کے 25 قانون سازوں کو وزیراعلیٰ کے انتخاب میں انحراف پر ڈی سیٹ کرنے کے بعد حمزہ شہباز پنجاب اسمبلی میں اکثریت کھو بیٹھے، جس کے بعد وہ ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے حمایت یافتہ امیدواروں کو جیتنے کے لیے بے چین ہیں تاکہ اپنے عہدے کو برقرار رکھ سکیں

مسلم لیگ (ن) نے عمران خان سے منحرف ہونے کی ’قربانی‘ کے عوض پی ٹی آئی کے 20 منحرف افراد میں سے بیشتر کو ٹکٹ دیے ہیں

پارٹی کے ایک اندرونی ذرائع کے مطابق ’حمزہ شہباز نے اپنی کزن مریم نواز سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ ان امیدواروں کے لیے مہم چلائیں تاکہ وہ اسمبلی میں واپس آسکیں، خیال رہے پی ٹی آئی انہیں ٹرن کوٹ کہتی ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close