دہانیوں سے امریکی انتخابات میں درست پیشگوئی کرنے والے پروفیسر نے اس بار کیا پیشگوئی کی ہے؟

نیوز ڈیسک

امریکہ کے صدارتی انتخابات میں 1984ء سے  فاتح کی درست پیشگوئی کرنے والے امریکن یونیورسٹی کے پروفیسر اور تاریخ دان ایلن لِکٹمین نے کہا ہے کہ وہ موجودہ الیکشن میں ٹرمپ کی شکست دیکھ رہے ہیں

عالمی خبر رساں ادارے کی ایک رپورٹ مطابق ریاست ہائے متحدہ امریکا میں صدارتی انتخاب کی مہم زور و شور سے جاری ہے اور امیدواروں بالخصوص ٹرمپ اور جو بائیڈن کے حامی اپنے اپنے امیدواروں کی جیت کا دعویٰ کر رہے ہیں، تاہم اس بار الیکشن کے دن سے پہلے ریکارڈ تعداد میں امریکیوں نے اپنے ووٹ کاسٹ کر دیے ہیں جس کی وجہ سے کسی بھی امیدوار کے لیے اپنی فتح کا اندازہ لگانا مشکل ہو رہا ہے

اس ساری صورتحال کے باوجود امریکا میں ایک ایسی شخصیت بھی ہے، جو 1984 سے ہونے والے ہر الیکشن کے دوران فاتح کی درست پیشگوئی کرتے آئے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے گذشتہ صدارتی الیکشن میں ٹرمپ کی غیر متوقع فتح کی بھی درست پیش گوئی تھی لیکن اس بار ان کا کہنا یہ ہے کہ وہ ٹرمپ کو شکست کھاتا دیکھ رہے ہیں

کیٹ آرچر کینٹ کے ساتھ “دی مارننگ شو” میں معروف تاریخ دان ایلن لِکٹمین نے اپنے "وائٹ ہاؤس کی 13 چابیاں” کے پیمانے کی بنیاد پر بتایا کہ معیشت کی مضبوطی ، اہمیت کا حامل عنصر ، مقابلوں، پالیسیوں میں ردوبدل ، اسکینڈلز، معاشرتی بدامنی اور آنے والے چیلینجرز سے آشنائی کی بناء پر ٹرمپ کو کم نمبر ملتے ہیں اور وہ اس بار جیت نہیں سکتے

ایلن لکٹمین کا مزید کہنا تھا کہ اہم چیز جو 2016ع میں ٹرمپ کو موجودہ ٹرمپ سے ممتاز کرتی ہے، وہ یہ تھی کہ اس بار ٹرمپ برسرِ اقتدار ہیں اور اپنی کارکردگی کے ریکارڈ پر چل رہے ہیں۔جب کہ 2016ع میں اس کے پاس دفاع کرنے کے لیے کوئی ریکارڈ نہیں تھا، وہ جو چاہتا تھا کہہ سکتا تھا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لیکن انہوں نے موجودہ صدر کی حیثیت سے زبردست غلطیاں کی ہیں جو ان کی ہار کا سبب بن سکتی ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close