کینسر اور دل کی بیماری کی ویکسین ’2030 تک تیار ہو سکتی ہے‘

ویب ڈیسک

طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ زندگی بچانے والی ویکسینز سنگین طبی مسائل، جن میں کینسر اور دل کی بیماری شامل ہیں، کے علاج کے لیے اگلے سات برسوں میں تیار ہو جائیں گی

برطانوی نشریاتی ادارے اسکائی نیوز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فارما سیوٹیکل کمپنی موڈرنا، جو کورونا وائرس کی ویکسین بھی بنا چکی ہے، مختلف ٹیومرز کے علاج کے لیے ویکسینز بنائے گی، جو سب کے لیے کارآمد ہوگی

موڈرنا کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر پال برٹن کے بقول ”یہ علاج ’انتہائی موثر‘ ہوگا، جو 2030 تک ’لاکھوں نہیں تو ہزاروں جانیں‘ بچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اہم تحقیق کے نتیجے میں ایک ہی انجیکشن ایک سے زیادہ سانس کے انفیکشن کے خلاف تحفظ فراہم کر سکتا ہے، جس میں کورونا وائرس، فلو اور سانس کا سنسیٹیئل وائرس (آر ایس وی) شامل ہیں“

دریں اثنا ایسی بیماریاں، جن کے لیے فی الحال کوئی دوائیاں نہیں ہیں، ان کا علاج ’میسنجر آر این اے‘ سے کیا جا سکتا ہے، جو خلیوں کو تربیت دیتے ہیں کہ وہ جسم کے مدافعتی ردعمل کو بیدار کرنے والے پروٹین کیسے تیار کریں

ڈاکٹر برٹن نے انکشاف کیا کہ کینسر کے ساتھ ساتھ متعدی، دل، خود کار قوتِ مدافعت اور نایاب بیماریوں کے مطالعے نے ’زبردست امکانات‘ ظاہر کیے ہیں

انہوں نے گارڈین سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ”میرے خیال میں ہمارے پاس نایاب بیماریوں کے لیے ’میسنجر آر این اے‘ پر مبنی علاج ہوں گے، جو پہلے ناقابلِ علاج تھے، اور میرا خیال ہے کہ اب سے دس برس بعد، ہم ایک ایسی دنیا کے قریب پہنچیں گے، جہاں آپ بیماری کی جینیاتی وجہ کی صحیح معنوں میں شناخت کر سکیں گے اور نسبتاً سادگی کے ساتھ، اس میں ترمیم کریں گے اور میسنجر آر این اے پر مبنی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اس کا علاج کریں گے“

واضح رہے کہ ’میسنجر آر این اے‘ سے مراد ’میسنجر رائبو نیوکلک ایسڈ‘ ہے۔ یہ واحد مالیکیول ہے، جو پروٹین بنانے کی ہدایات لے کر جاتا ہے۔ اس کا ایک بنیادی اور ضروری کردار ہے، جس سے ہمارا جسم کام کرتا ہے اور تمام زندہ خلیوں میں پایا جاتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close