علیحدگی (چینی ادب سے منتخب افسانہ)

پنگ شن (ترجمہ: کوثر جمال)

کسی کے بہت بڑے ہاتھ نے مجھے درد کے اذیت ناک جال سے کھینچ کر باہر نکالا اور فضا میں میری پہلی چیخ بلند ہوئی۔ پھر کسی نے مجھے اپنی ہتھیلی پر اٹھا لیا اور سفید بستر پر دراز عورت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ”مبارک ہو! بیٹا ہوا ہے۔“

تب اس نے مجھے ایک چھوٹی سی ٹوکری میں، جس میں سفید کپڑا بجھا ہوا تھا، لٹا دیا۔ سفید گاؤن اور ٹوپیاں پہنے ہوئے تمام نرسیں عورت کے گرد گھیرا ڈالے کھڑی تھیں۔ زرد چہرے اور پسینے میں شرابور عورت نے طویل سانس لی، جیسے خوفناک خواب سے جاگی ہو۔ اس کے سوجے ہوئے پپوٹے ادھ کھلے تھے۔ ڈاکٹر کی بات سن کر اس نے اطمینان سے آنکھیں موند لیں، ”شکریہ ڈاکٹر! آپ لوگوں کو میری وجہ سے بہت مشکل وقت دیکھنا پڑا۔“

میں نے یہ سن کر ایک بلند چیخ میں کہا، ”نہیں ماں، یہ تو ہم تھے، جنہوں نے مشکل وقت دیکھا۔ ہم دونوں نے ابھی ابھی موت سے جنگ لڑی ہے“

ماں کو نرسوں کے ہجوم میں پہیوں والی کرسی پر کمرے سے باہر لایا گیا۔ مجھے بھی دو لوگ کوریڈور میں لے آئے، جس کے دوسری طرف ایک آدمی کھڑا تھا اور ایسا لگتا تھا، جیسے وہ بھی بھیانک خواب سے جاگا ہو۔ ڈاکٹر کا اشارہ ملتے ہی وہ ہمارے قریب چلا آیا۔ اس نے میری طرف اپنی بانہیں پھیلا دیں، جیسے وہ مجھے اٹھانا چاہتا ہو لیکن پھر خوفزدہ ہو کر اپنے ہاتھ کھینچ لیے۔ اس نے اپنا متفکر چہرہ مجھ پر جھکا لیا۔ اس کی آنکھوں سے پیار ملی حیرت جھانک رہی تھی

”اچھا ہے ناں؟“ ڈاکٹر نے پوچھا

”آں۔۔۔۔ لیکن اس کا سر تو بہت لمبا ہے۔“ اس نے ہکلاتے ہوئے کہا

اور مجھے اچانک جیسے اپنے سر کا درد یاد آ گیا۔ میں زور سے رو پڑا، ”ابو آپ کو کیا اندازہ کہ میرا سر کتنے تکلیف دہ طریقے سے نکالا گیا ہے۔“

”اُف خدایا! کیسی تیز آواز ہے!“ ڈاکٹر نے ہنستے ہوئے مجھے ایک نرس کے حوالے کردیا، جو مسکرا رہی تھی

پھر مجھے ایک وسیع دھوپ دار کمرے میں رکھا گیا۔ دیوار کے ساتھ جھولوں کی قطار سی بنی ہوئی تھی اور ان سب میں بچے لیٹے ہوئے تھے۔ کچھ آرام سے سو رہے تھے اور کچھ چیخ رہے تھے

”میں بھوکا ہوں، مجھے گرمی لگ رہی ہے، گیلا ہوگیا ہوں۔“

نرس، جس نے مجھے اٹھا رکھا تھا، اس سارے شور شرابے سے لاتعلق سی لگ رہی تھی۔ وہ مجھے کمرے سے ملحق غسلخانے میں لے گئی اور ایک پتھر کی میز پر لٹا دیا۔ نیم گرم پانی کی دھاریں میرےجسم پر گریں اور مجھے کپکپی سی آ گئی، لیکن ساتھ ہی میں نے اپنے آپ کو تروتازہ محسوس کیا۔ میں نے تھوڑا سا سر گھما کر ساتھ والی میز کی طرف دیکھا۔ وہاں بھی ایک بچے کو نہلایا جارہا تھا۔ اس کا سر گول، آنکھیں بڑی بڑی، رنگت سیاہی مائل اور جسم مضبوط تھا۔ وہ خاموشی کے ساتھ کمرے سے باہر دیکھ رہا تھا۔ غسل کے بعد ہم دونوں کو سفید گاؤن پہنا دیئے گئے

میری نرس نے اس کی نرس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ”تمہارا بچہ کتنا بڑا، مضبوط اور توانا ہے، لیکن میرے والا۔۔۔۔ خوبصورت اور نازک ہے“

یہ سن کر اس بچے نے سرگھما کر مجھے رحم آلود نگاہوں سے دیکھا

”کیسے ہو؟“ میں نے شرماتے ہوئے کہا

”ٹھیک ہوں، شکریہ۔“ اس نے دوستانہ جواب دیا

غسل کے بعد نرسوں نے ہمیں بھی دو جھولوں میں ساتھ ساتھ لٹا دیا اور خود چلی گئیں

”اُف! میرا درد سے برا حال ہے“ میں نے کہا، ”مجھے اس دنیا میں آنے کے لیے بہت محنت کرنا پڑی۔ آخری چار گھنٹے تو بہت ہی تکلیف دہ تھے۔“

”مجھے زیادہ محنت نہیں کرنا پڑی۔ صرف آدھ گھنٹہ۔۔ اور نہ ہی میری ماں کو زیادہ تکلیف اٹھانا پڑی۔“ وہ اپنی مٹھیاں بھینچتے ہوئے مسکرایا

میں اس کی بات سن کر مسکرایا اور خاموش رہا۔ اس نے پھر کہا، ”تم تھک چکے ہو۔ اب سو جاؤ۔ میں بھی یہی کرنے والا ہوں۔“

میں گہری نیند سو رہا تھا، جب کوئی مجھے اٹھا کر شیشے کے دروازے کے پاس لے گیا۔ دروازے کے اس طرف بہت سے لڑکیاں لڑکے کھڑے تھے اور مجھے دیکھنے کے شوق اور تجسس میں انہوں نے اپنے ہاتھ اور منہ اتنے زور سے شیشے کے ساتھ چپکا رکھے تھے کہ سب کی ناکیں چپٹی ہو گئی تھیں۔ وہ مجھے ایسی پُرتجسس نگاہوں سے دیکھ رہے تھے، جیسے بچے دکانوں میں رکھے ہوئے کھلونوں کو دیکھتے ہیں۔ وہ میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہہ رہے تھے

”اس کی بھنویں اپنی پھوپھو جیسی ہیں۔“

”اور ناک چچا کی طرح۔“

”آنکھیں ماموں پر گئی ہیں۔“

”منہ تو بالکل خالہ جیسا ہے۔“

مجھے ایسا لگا، جیسے وہ مجھے مختلف ٹکڑوں میں تقسیم کر رہے ہیں۔ میں زور سے رو دیا، ”نہیں۔۔۔۔ میں کسی جیسا نہیں ہوں۔ میں تو اپنے جیسا ہوں۔ مجھے سونے دو۔“

نرس مجھے روتا دیکھ کر مسکرانے لگی اور واپس جھولے میں لاکر لٹا دیا۔ اس وقت تک میرا پڑوسی بھی جاگ چکا تھا۔ اس نے مجھے واپس آتا دیکھ کر پوچھا، ”کون آیا تھا تمہیں دیکھنے؟“

”پتہ نہیں۔۔ شاید میرے ماموں، چچا اور خالائیں۔ بہت سے لوگ تھے۔ ایسا لگتا ہے جیسے میں انہیں پسند آیا ہوں۔“

”کتنا اچھا ہے۔ مجھے تو پیدا ہوئے دوسرا دن آ گیا اور میں نے ابھی تک اپنا باپ بھی نہیں دیکھا۔“

میں غالباً بہت دیر تک سوتا رہا تھا۔ اب میری گردن اور کمر میں زیادہ درد نہیں تھا۔ لیکن میں گیلا ہو چکا تھا۔ باقی بچوں کی دیکھا دیکھی میں نے بھی رونا شروع کر دیا، ”میں گیلا ہو گیا ہوں۔۔۔۔۔ گیلا۔۔۔۔۔۔ گیلا ہو چکا ہوں میں۔۔۔۔۔۔“

جیسا کہ مجھے توقع تھی۔ ایک نرس آئی اور اس نے مجھے اٹھا لیا۔ میں بہت خوش ہوا۔ لیکن یہ کیا؟ اس نے مجھے تھوڑا سا پانی اور پلا دیا

شام کو تین چار نرسیں ہمارے کمرے میں آئیں۔ ان کے کلف لگے کپڑے سرسراہٹ پیدا کر رہے تھے۔ انھوں نے جلدی جلدی ہمارے لنگوٹ تبدیل کیے۔ کمرے کے تمام بچے اس تبدیلی سے بیحد خوش اور لطف اندوز ہوئے

”ہم اپنی اپنی ماؤں سے ملنے جا رہے ہیں۔۔۔۔ خدا حافظ“

میرے ننھے دوست سمیت بہت سے بچوں کو ایک بڑے سے پہیوں والے بستر پر لٹا کر باہر لے جایا گیا، جبکہ مجھے ایک نرس نے اٹھایا اور کوریڈور سے ملحقہ کمروں میں سے ایک میں لے گئی۔ ماں ایک اونچے سے بستر پر دراز پُرشوق نگاہوں سے مجھے دیکھ رہی تھی۔ لیمپ کی دھیمی روشنی میں وہ کسی مجسمے جیسی لگ رہی تھی۔ اس کے سیاہ بال پیچھے کی طرف بندھے ہوئے تھے۔ چہرہ زرد، جیسے اس میں خون کا ایک قطرہ بھی نہ ہو۔۔ بڑی بڑی سیاہ آنکھیں اور ہلال ابرو۔۔ وہ بہت جوان لگ رہی تھی۔ مجھے ماں کی گود میں لٹا دیا گیا اور میں ماں کا دودھ پینے کی کوشش کرنے لگا۔ ماں بہت پیار سے میرے بالوں کو اپنے گال سے رگڑ رہی تھی۔ وہ شاید اس تکلیف دہ عمل سے گزر کر کافی کمزور ہو گئی تھی۔ میں باوجود کوشش کے ماں کے دودھ کا ایک قطرہ بھی حاصل نہ کر سکا۔ بھوک اور احساسِ ناکامی نے مجھے تھکا دیا اور میں رونے لگا

ماں نے پیار سے کہا، ”میری جان۔۔۔۔ مت رو“ پھر اس نے گھنٹی بجائی، جس کے ساتھ ہی ایک نرس کمرے میں آئی اور مجھے واپس لے گئی

واپس جھولے میں پہنچ کر میں نے دیکھا کہ میرا دوست پہلے ہی واپس آ چکا تھا اور اب اپنے جھولے میں اطمینان کی نیند سو رہا تھا۔ وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد اپنی نیند میں مسکراتا تھا۔ پھر میں نے اپنے چاروں طرف دیکھا۔ میرے زیادہ تر روم میٹ گہری نیند سو رہے تھے۔ کچھ جاگتے ہوئے ’غوں غاں‘ کر رہے تھے اور کچھ رو بھی رہے تھے۔ مجھے بہت زیادہ بھوک لگ رہی تھی اور میں حیران تھا کہ ماں کا دودھ کب آئے گا۔ مجھے دراصل یہ بات اچھی نہیں لگی تھی۔ حالانکہ اور کسی نے بھی اسے محسوس نہیں کیا تھا۔ یہ احساس کہ دوسرے بچے سیر شکم ہیں اور میٹھی نیند سو رہے ہیں، مجھے حسد اور شرم سے دوچار کر رہا تھا۔ میں نے اسی امید میں زور زور سے رونا شروع کر دیا کہ شاید کوئی مجھے آ کر دیکھ لے۔ آدھ گھنٹے بعد ایک نرس آئی اور مجھے تھپکیاں دینے لگی

”ہاں۔۔۔۔۔ سچ تو ہے تم بھوکے ہو اور تمہاری امی نے تمہیں دودھ نہیں پلایا۔ چلو تھوڑا سا پانی پی لو۔“ اس نے پانی کی بوتل میرے منہ سے لگا دی۔ میں نے غٹاغٹ پانی پیا اور پھر شاید جلد ہی سو گیا

دوسرے روز غسل کے دوران میری اپنے دوست سے پھر باتیں ہوئیں، وہ آنکھیں بند کئے سر ہلا ہلا کر غسل سے لطف اندوز ہو رہا تھا

”کل میں نے خوب دودھ پیا“ اس نے خوشی سے کہا، ”میری ماں کا سانولا سا گول چہرہ ہے اور وہ بہت خوبصورت ہے۔ میں اس کا پانچواں بچہ ہوں۔ ایک خیراتی ادارے نے اس کے ہسپتال کے اخراجات پورے کیے ہیں۔ میرا باپ ایک غریب آدمی ہے۔ وہ قصاب ہے۔“

اس وقت نرس نے بورک ایسڈ کے کچھ قطرے اس کی آنکھوں میں ڈالے۔ اس نے ناپسندیدگی سے کچھ چیخیں ماریں۔ آنکھیں بھینچ بھینچ کر صاف کیں اور پھر باتیں کرنے لگا، ”جانوروں کو ذبح کرنا کتنا خوفناک ہوتا ہے۔ ایک چمکتا ہوا چاقو ان کے جسم کے اندر جاتا ہے اور پھر باہر آجاتا ہے، خون کے قطروں کے ساتھ۔۔“

میں اس کی باتیں خاموشی سے سن رہا تھا۔ لیکن اس آخری بات نے مجھے خوفزدہ کر دیا اور میں نے آنکھیں بند کر لیں

اس نے پھر کہا، ”اور تمہارا کیا حال ہے؟ کل تم نے دودھ پیا؟ اور تمہاری ماں کیسی ہے۔“

میں نے کہا، ”کل مجھے پینے کو کچھ نہیں ملا۔ ماں کا تو ابھی دودھ ہی نہیں آیا۔ نرس کہتی ہے کہ کچھ دنوں میں آجائے گا۔ میری ماں بہت اچھی ہے۔ وہ پڑھ بھی لیتی ہے۔ اس کے بستر کے ساتھ والی میز پر کتابوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا اور کمرے میں پھول ہی پھول تھے۔“

”اور تمہارا باپ؟“

”وہ وہاں نہیں تھا۔ ماں اکیلی تھی اور کسی سے بات بھی نہیں کر رہی تھی۔ اپنے باپ کے بارے میں ابھی مجھے کچھ معلوم نہیں۔“

”وہ پھر فرسٹ کلاس وارڈ میں ہے“ میرے دوست نے کہا، ”وہاں کمرے میں صرف ایک بستر ہوتا ہے۔ میری ماں کے وارڈ میں بہت شور تھا۔ کوئی درجن بھر بستر تھے۔ ہمارے اس کمرے کے بہت سے بچوں کی مائیں اسی وارڈ میں ہیں اور ان سب بچوں نے میری طرح خوب پیٹ بھر کر دودھ پیا“

دوسرے روز جب مجھے دودھ پلانے کے لیے لے جایا گیا تو میں نے اپنے باپ کو دیکھا۔ وہ میری ماں کے تکیے سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ میرے ماں باپ کے چہرے پریشان تھے اور وہ متفکر نگاہوں سے مجھے دیکھ رہے تھے۔ میرے باپ کا چہرہ پتلا، پلکیں لمبی اور آنکھیں مہربان ہیں۔ وہ اپنی بھنویں سکیڑے رکھتا ہے جیسے ہر وقت کسی نہ کسی سوچ گم ہو

”اب میں نے اسے اچھی طرح دیکھا ہے۔ یہ تو تمہاری طرح خوبصورت ہے۔“ میرے باپ نے مجھے دیکھ کر ماں سے کہا

”اور اس کی آنکھیں تمہاری طرح بڑی بڑی ہیں۔“ ماں میرے چہرے پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے مسکرائی

میرے باپ نے محبت سے ماں کے کندھے کو تھپکتے ہوئے کہا، ”اب ہم اکیلے نہیں رہے۔ میں اس کی دیکھ بھال میں تمہاری مدد کروں گا اور اپنے اسکول ٹائم کے بعد اس سے کھیلا کروں گا۔ ہم چھٹی کے دن اسے پہاڑ یا سمندر کے کنارے لے جایا کریں گے۔ ہمیں اس کی صحت کا بہت خیال رکھنا ہوگا۔ اسے میری طرح کمزور نہیں رہنا چاہیے۔“

ماں نے سرہلایا۔ ”ہاں۔۔۔۔ اسے موسیقی اور مصوری بھی سیکھنی چاہیے۔ مجھے یہ دونوں فن نہیں آتے اور مجھے لگتا ہے جیسے زندگی ان کے بغیر مکمل نہیں۔“

”تم کیا چاہتی ہو؟ یہ بڑا ہو کر کیا بنے۔ ادیب، موسیقار؟“

”جو بھی یہ پسند کرے گا۔ ابھی تو بہرحال یہ بچہ ہے۔ لیکن چِین کو سائنس کی ضرورت ہے۔ شاید اس کے لیے سائنسدان بننا زیادہ بہتر ہوگا۔“

مجھے آج بھی دودھ نہیں ملا تھا، لیکن اپنے ماں باپ کی دلچسپ باتوں نے مجھے رونے سے باز رکھا

”ہمیں آج ہی اس کی تعلیم کے لیے بچت شروع کر دینی چاہیے۔ جتنا جلدی کریں گے، اتنا ہی اچھا ہوگا۔“

میری ماں نے اچانک کہا، ”ارے ہاں! میں تمہیں بتانا تو بھول ہی گئی۔ میرے بھائی نے کہا کہ جب یہ چھ سال کا ہوجائے گا تو وہ اسے سائیکل لے کر دے گا۔“

”اس بچے کو سب کچھ ملے گا۔ میری بہن بھی تو اسے جھولا خرید کردے گی۔۔“ باپ نے فخر سے کہا

ماں میرے سر کا بوسہ لیتے ہوئے بولی، ”بیٹے! کیا یہ اچھا نہیں کہ اتنے سارے لوگ تم سے پیار کرتے ہیں۔ بڑا ہوکر اچھا لڑکا بننا۔“

میں بہت خوشگوار موڈ کے ساتھ کمرے میں واپس آیا، حالانکہ آج بھی میں بھوکا تھا۔ البتہ میرا دوست آج کچھ فکر مند لگ رہا تھا

”سنو! آج میں نے اپنے باپ کو دیکھا۔ وہ ایک اسکول ٹیچر ہے۔ وہ میری ماں کے ساتھ میری آئندہ تعلیم کے بارے میں باتیں کر رہا تھا۔ اس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ میرے اچھے مستقبل کے لیے بہترین کوششیں کرے گا۔ ماں نے کہا ہے کہ اگر اس کا دودھ نہ آیا تو تب بھی پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ کیونکہ جب میں گھر واپس جاؤں گا تو مجھے گائے کا دودھ پینے کو مل جایا کرے گا اور اس کے بعد فروٹ جوس اور ڈھیر ساری دوسری اچھی چیزیں۔۔۔۔“ میں نے یہ سب باتیں ایک ہی سانس میں کہہ ڈالیں

”کتنے خوش قسمت ہو تم۔۔۔۔“ وہ مسکرایا، لیکن اس کی مسکراہٹ میں رحم یا حقارت کا جذبہ بھی تھا، ”جب میں گھر جاؤں گا تو مجھے ماں کا دودھ بھی پینے کو نہیں ملے گا۔ کیونکہ ماں کسی امیر گھر میں ’دودھ ماں‘ کا کام کرنے لگے گی۔ یہ میں نے آج اپنے باپ سے سنا۔ پھر میری دادی میری پرورش کرے گی۔ وہ اب ساٹھ سال کی ہے۔ وہ مجھے چاول کا دلیہ اور سویابین پاؤڈر کھانے کو دے گی۔ بہر کیف مجھے کوئی پرواہ نہیں۔“

میں خاموش ہو گیا۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے اس کی حقارت آمیز مسکراہٹ سے میرے اندر جو شکایت پیدا ہوئی تھی، اس کی جگہ شرمندگی نے لے لی۔ اس نے اپنی بات جاری رکھی۔ اب اس کی آنکھوں میں ہمت اور غرور کی چمک تھی، ”تم ہمیشہ ایک ہرے بھرے گھر میں گملے کے پودے کی طرح رہو گے۔ ہواؤں، بارشوں اور بدلتے موسموں سے محفوظ۔۔ اور میں سڑک کے کنارے اگی ہوئی اس گھاس کی طرح، جسے انسان اور جانور اپنے قدموں تلے کچلتے رہتے ہیں اور جو آندھیوں اور بارشوں کے تھپیڑے کھاتی ہے۔ تم شاید اپنے ہرے بھرے گھر کی کھڑکی میں سے مجھے دیکھو گے اور مجھ پر ترس کھاؤ گے۔۔ لیکن اس کی کوئی ضرورت نہیں۔۔ میرے سر پر ایک وسیع آسمان ہوگا اور تازہ ہوا۔۔ تتلیاں اور بھنورے میرے لیے گیت گایا اور رقص کیا کریں گے۔۔ اور وہاں میرے ساتھ اور بھی بہت سے ایسے ’خاکسار‘ ہوں گے جو گھاس کی کٹائی اور آتش زدگی سے بچ رہیں گے اور پھر ایک ایک کر کے دنیا کو اپنی ہریالی سے سجا دیں گے۔“

اس کی باتوں نے مجھے رو دینے کی حد تک شرمندہ کردیا۔۔ ”میں نے۔۔۔۔ خود تو ایسی نازک و نفیس زندگی کا انتخاب نہیں کیا۔“ میں نے ہکلاتے ہوئے کہا

میری ناخوشی کو محسوس کرتے ہوئے اس کا لہجہ نرم ہو گیا۔ اس نے مجھے تسلی دیتے ہوئے کہا، ”سچ ہے۔۔۔۔۔ ہم میں سے کوئی بھی دوسرے لوگوں سے مختلف ہونا نہیں چاہتا۔ لیکن ہماری ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی ایک کو دوسرے سے جدا کر دیتی ہے۔۔ چلو دیکھتے ہیں کہ آنے والا وقت ہم دونوں کے لیے کیسا ہوگا۔“

کھڑکی سے باہر روئی کے گالوں جیسی سفید برف کے چھتوں کی سبز اینٹوں پر ڈھیر لگ چکے تھے۔ میں اور ماں نئے سال سے پہلے پہلے گھر جانے والے تھے۔ اور اسی طرح میرا دوست اور اس کی ماں بھی۔۔ کیونکہ اس کی ماں نے نئے سال کی آمد سے پہلے اپنی نوکری شروع کرنا تھی۔ اب ہم دونوں کے پاس ایک دوسرے کے لیے صرف آدھا دن باقی تھا۔ پھر ہمیں انسانوں کے وسیع سمندر میں کھو جانا تھا۔ کیا پھر بھی کبھی ایسا وقت آئے گا، جب ہم دونوں اس طرح ایک ہی چھت تلے سوئیں گے۔۔

ہم نے ایک دوسرے کو پسندیدہ نگاہوں سے دیکھا۔ اس کے ہونٹ بھنچے ہوئے تھے اور چہرے سے پختہ عزم عیاں تھا۔ بھنویں سکوڑے ہوئے، آنکھوں کے بیچ قدرے زیادہ فاصلہ، ٹھوڑی کسی قدر دبی ہوئی ۔ اس کا چہرہ شام کی روشنی میں دھندلا سا گیا تھا۔

شام کو اپنی ماؤں کے پاس سے واپس آنے کے بعد ہمارے درمیان پھر گفتگو ہوئی۔ آج شام ہماری روانگی کا پروگرام ملتوی ہو گیا تھا اور اب ہم نے کل صبح یہاں سے رخصت ہونا تھا۔ دراصل میرے باپ نے سوچا تھا کہ نئے سال کی آمد سے پہلے کی شام گھر میں مہمانوں کا جمگھٹا ہوگا اور شور و ہنگامے سے میری ماں تھک جائے گی اور میرے دوست کے باپ کو آج شام قرض خواہوں سے بچنے کے لیے گھر سے باہر رہنا تھا۔ رواج کے مطابق لوگ نئے سال کی آمد سے پہلے حساب کتاب صاف کرتے ہیں اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس سلسلے میں اس کی بیوی کو خواہ مخواہ تکلیف اٹھانا پڑے۔

آج نصف شب تک باہر ہر جگہ پٹاخے چلنے کا لامتناہی سلسلہ جاری رہا۔ شدید برف باری میں گاہے گاہے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آتی رہیں۔ گویا ہمیں بتا رہی تھیں کہ ایک اور سال اپنے دامن میں محبتیں اور نفرتیں لیے اپنے معمولی انجام تک پہنچنے والا ہے۔ کل صبح اپنے چہروں پر پھر سے شرافت اور خوشیوں کے ماسک چڑھانے سے پہلے لوگ آج رات کھاتے پیتے، شکایتیں کرتے، برا بھلا کہتے اور رو دھو کر جی ہلکا کرلیتے ہیں۔ اس شہر کی اداس گلیوں اور سڑکوں میں نہ جانے کتنے جذبوں کی دھڑکنیں پٹاخوں کی بھک بھک کے شور میں دب گئی تھیں۔

صبح صبح دو نرسیں، جن کے چہرے نئے سال کی مسکراہٹوں سے دمک رہے تھے، ہمیں نہلانے کے لیے آئیں ان میں سے ایک نے مجھے فلالین کی نیکر، مٹروں کے رنگ کا ہلکا سبز سوئٹر، اسی رنگ کی ٹوپی اور موزے پہنائے یہ کپڑے اس نے چھوٹے سے سوٹ کیس میں سے نکالے تھے۔ مجھے دونوں ہاتھوں میں تھام کر اس نے بغور دیکھا اور پھر کہا، ”واہ۔۔۔۔ بڑے خوبصورت لگ رہے ہو۔ تمہاری امی کو تمہیں سمارٹ بنانا آتا ہے۔“

کپڑے نرم اور گرم تھے۔ لیکن مجھے یہ لباس پہن کر سخت گرمی لگنے لگی۔ بے چینی محسوس کر کے میں نے رونا شروع کر دیا

اس وقت میرا دوست بھی نرس کے ہاتھوں میں تھا۔ اسے دیکھ کر مجھے شدید صدمہ پہنچا۔ اسے تو پہچاننا بھی مشکل ہو رہا تھا۔ اس کو کمر سے نیچے نیلے رنگ کے کپڑے میں لپیٹ دیا گیا تھا۔ اور اوپر نیلے رنگ کی روئی بھری صدری پہنائی گئی تھی۔ جس کے بازو اتنے لمبے اور سخت تھے کہ میرے دوست کی بانہیں کسی پتنگ کی طرح اکڑ گئی تھیں۔ ابھی جو سفید لبادے ہم دونوں نے اتارے تھے، انہیں دیکھتے ہوئے مجھے جھرجھری سی آئی۔ مجھے معلوم تھا کہ اب ہم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے سے علیحدہ ہو گئے ہیں۔۔ مادی اور ذہنی دونوں اعتبار سے۔۔۔

میرا دوست میری نظریں پڑھ کر مسکرایا۔ اس کی مسکراہٹ میں فخر اور خفت کا ملا جلا احساس تھا اس نے کہا، ”تم اپنے خوبصورت کپڑوں میں اچھے لگ رہے ہو اور میں نے اپنی زرہ بکتر پہن لی ہے تاکہ کارزارِ حیات میں زندگی کی جنگ لڑ سکوں۔“

نرسوں نے ہمارے استعمال شدہ لبادے لانڈری باسکٹ میں پھینک دیے اور ہمیں اٹھائے ہوئے تیزی سے باہر آ گئیں۔ جب ہم دونوں شیشے کے دروازے کے پاس پہنچے تو میں اپنے رونے پر قابو نہ پا سکا اور میرا دوست بھی اپنے آنسو روک نہ سکا۔ ہم دونوں نے پُرجوش طریقے سے اپنے بازو ہلائے اور چلا کر کہا، ”خدا حافظ۔ پیارے دوست۔“

ہم اپنی جدا جدا راہوں پر چل دیے۔۔ ہمارے رونے کی آوازیں کوریڈور کے دو مختلف کناروں کی طرف جاتے ہوئے ڈوبتی چلی گئیں۔۔۔

ماں کمرے میں تیار کھڑی تھی۔ اس کے قریب ہی میرا باپ سوٹ کیس ہاتھ میں اٹھائے کھڑا تھا۔ ماں نے مجھے اپنے بازوؤں میں لے کر میرے آنسو پونچھے اور نرمی سے کہا، ”مت رو میرے چاند، ہم گھر جا رہے ہیں۔ تمہاری ماں کو تم سے بہت پیار ہے اور باپ کو بھی۔۔۔“

پہیوں والی کرسی لائی گئی۔ ماں اس میں بیٹھ گئی، اپنے بازوؤں میں مجھے اٹھائے ہوئے، اس نے ہلکے سبز رنگ کا کمبل اپنے اوپر اوڑھ رکھا تھا۔ ابو ہمارے پیچھے پیچھے آ رہے تھے۔ ڈاکٹر اور نرسیں جو ہمیں خداحافظ کہنے آئے تھے، ان سے رخصت ہو کر ہم لفٹ کے ذریعے نیچے آئے۔ عمارت کے صدر دروازے کے سامنے ہی کار کھڑی تھی۔ ابو نے جونہی دروازہ کھولا، برف کا ایک گالا اندر آ گیا۔ اور ماں نے فوراً میرا چہرہ کمبل سے ڈھانپ دیا۔ ہم کرسی سے اتر کر کار میں بیٹھ گئے اور کار کے دروازے زور سے بند کر لیے۔ ماں نے میرے چہرے پر سے کمبل اٹھایا۔۔ اور میں نے اپنے چاروں طرف پھولوں کو اور اپنے والدین کے محبت بھرے چہروں کو دیکھا

ہسپتال کے گیٹ کے سامنے کی سڑک پر رکشاؤں کی بھیڑ کی وجہ سے ٹریفک جام ہو چکی تھی۔ ہم راستہ صاف ہونے کا انتظار کرنے لگے۔ اسی دوران میں نے کار کے شیشے سے باہر دیکھا اور میری نظر اپنے دوست پر پڑی، جسے اس کے باپ نے اٹھا رکھا تھا۔ ان کے پیچھے اس کی ماں تھی، جس نے ہاتھوں میں نیلی سی گٹھڑی اٹھا رکھی تھی۔ اس کے باپ نے نمدے کی ٹوپی اور روئی بھرا کوٹ پہنا ہوا تھا۔ اس کے ننھے سے بیٹے نے اپنا سر اپنے باپ کے مضبوط کندھے پر ٹکایا ہوا تھا۔ میں نے اپنے دوست کا چہرہ دیکھا۔ باپ کی ٹوپی کے سائے کے باوجود برف کے ننھے ننھے ذرے اس کی بھنوؤں اور گالوں پر دیکھے جا سکتے تھے۔۔ اس نے اپنی آنکھیں سختی سے بند کی ہوئی تھیں اور اس کے ہونٹوں پر مدہم سی فخریہ مسکراہٹ تھی۔ وہ ہسپتال چھوڑتے ہی اپنی جنگ کا آغاز کر چکا تھا۔۔

ہماری کار اڑتی ہوئی برف اور نئے سال کے ڈرموں اور باجوں کے شور کو کاٹتے ہوئے دوڑتی جا رہی تھی۔ ماں نے مجھے اپنے ساتھ لپٹاتے ہوئے سرگوشی کی، ”دیکھو، میری جان! ہماری دنیا کتنی ہموار اور صاف ستھری ہے۔“

اور میں بے ساختہ رونے لگا۔

[سہ ماہی ادبیات، اسلام آباد ، شمارہ نمبر 41، 42 (1997ع) سے ماخوذ]

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close