سعودی عرب میں سالانہ 40 ارب ریال کی خوراک ضائع ہو رہی ہے!

ویب ڈیسک

دنیا میں کروڑوں لوگ خوراک نہ ملنے کی وجہ سے بھوک کا شکار ہیں، ان کے پاس اپنے بچوں کو کھلانے کے لیے بھی خوراک میسر نہیں، لیکن دنیا میں ہر سال کروڑوں ٹن کھانا ضائع بھی کیا جاتا ہے،

دنیا بھرمیں غذا کو کوڑے دانوں میں پھینکنے کا سب سے زیادہ رجحان امریکی معاشرے میں ہے، مگر اب اسلامی ممالک بھی اسی روش پر چل پڑے ہیں، جن میں سعودی عرب سرفہرست ملک ہے

سعودی عرب نے تقریباً 33 فیصد خوراک کے ضائع ہونے اور ضائع ہونے کی شرح کی اطلاع دی ہے، جس سے سالانہ 4 ملین ٹن خوراک خطرناک حد تک ضائع ہوتی ہے

سعودی عرب میں جنرل فوڈ سکیورٹی اتھارٹی (GFSA) کے ترجمان خالد المشعان نے کہا ہے ”ایک اندازے کے مطابق مملکت میں سالانہ 40 ارب ریال کی خوراک ضائع ہوتی ہے“

اخبار 24 کے مطابق المشعان کا کہنا تھا ”اتھارٹی نے حال ہی میں ایک جائزہ تیار کرایا ہے، جس سے غذائی ضیاع کے بارے میں ہوشربا اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ 33 فیصد غذا مملکت میں ضائع ہو رہی ہے، جس کی مجموعی قیمت کا اندازہ 40 ارب ریال ہے“

واضح رہے کہ یہ رقم پاکستانی کرنسی میں تیس کھرب بارہ ارب پچاس کروڑ دس لاکھ سے زائد بنتی ہے

متعلقہ اعدادو شمار کو خوراک کے ضیاع اور فضلے سے متعلق آگاہی کے عالمی دن (IDAFLW) کی مناسبت سے جاری کیا گیا، جو ہر سال 29 ستمبر کو منایا جاتا ہے

المشعان نے کہا ”گھروں، بیکریوں، ریستورانوں، ہوٹلوں، تَھوک اور ریٹیل کی مارکیٹوں میں سب سے زیادہ کھانا ضائع ہوتا ہے“

ترجمان کا مزید کہنا تھا ”غذا کے ضیاع میں چاول سب سے اوپر ہے۔ اس کا تناسب 31 فیصد، روٹیاں 25 فیصد، آلو 14 فیصد اور کھجوریں 5.5 فیصد ضائع ہو رہی ہیں“

المشعان نے غذا کے ضیاع کے اہم اسباب کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا ”سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ غذائی اشیا ضرورت سے زیادہ خریدی جاتی ہیں۔ دوسرا سبب تجارتی مراکز کی پیشکشوں کا فائدہ صحیح طریقے سے نہیں اٹھایا جاتا“

فوڈ سکیورٹی کے ترجمان کا کہنا تھا ”تیسرا بڑا سبب تقریبات میں حد سے زیادہ کھانے کی اشیا پیش کرنے کا رواج ہے۔ چوتھا بڑا سبب یہ ہے کہ بھوک لگتی ہے تو ضرورت سے زیادہ کھانے طلب کیے جاتے ہیں“

المشعان نے توجہ دلائی کہ غذا کے ضیاع سے ماحولیاتی آلودگی پھیل رہی ہے۔ دولت برباد ہو رہی ہے۔ بیماریاں عام ہورہی ہیں۔ غذائی وسائل برباد ہورہے ہیں

المشعان نے مزید کہا ”غذا کے ضیاع سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ کھانا ضرورت کے مطابق ہی طلب کیا جائے۔ غذائی اشیا معقول مقدار میں خریدی جائیں۔“

اس کے جواب میں، جنرل فوڈ سیکیورٹی اتھارٹی (GFSA) نے، قومی پروگرام کی نمائندگی کے تحت، جمعہ کو ایک جامع آگاہی مہم شروع کی۔

مہم کو حکمت عملی کے ساتھ شروع کیا گیا ہے تاکہ خوراک کی حفاظت کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے، ذمہ دارانہ استعمال کے طریقوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور خوراک کے ضیاع کو کم سے کم کرنے کے لیے موثر حل کے نفاذ کی ترغیب دی جائے۔

جی ایف ایس اے GFSA کے گورنر احمد الفارس نے اپنے قدرتی وسائل کی پائیداری کو بڑھانے اور سال 2030 تک نقصان اور فضلہ کی شرح کو موجودہ شرح کے تقریباً 10 فیصد تک کم کرنے کے سعودی عرب کے عزم کی توثیق کی ہے

واضح رہے کہ خوراک کا ضیاع دنیا میں بھوک کے مسئلے کو بد سے بدتر بناتا ہے اور موسمیاتی بحران کے ایک بڑی وجہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اضافہ کرتا ہے۔

یہ بات قابل غور ہے کہ اقوام متحدہ کی رپورٹوں کے مطابق، دنیا بھر میں ہر سال قریب قریب ایک تہائی خوراک برباد ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ پھینکے جانے والے کھانے ماحول مخالف گیسوں کے مجموعی اخراج میں سے 8 فی صد اخراج کا باعث بنتے ہیں

موجودہ عہد میں خوراک کی کمی اور خوراک کی بے قدری دو الگ الگ اصطلاحات بن چکی ہیں لیکن ان دونوں کے درمیان جو ایک خاص طرح کا تعلق بنتا جا رہا ہے وہ اب سوچنے والوں کو مزید سوچنے پر مجبور کر رہا ہے کہ مسلمانوں کو کیا ہوتا جارہا ہے کہ وہ اسلام میں غذا کے ضیاع کی ممانعت کے احکامات کے باوجود اس قبیح فعل کے مرتکب ہو رہے ہیں؟ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ یہ خوراک کا ضیاع سب سے زیادہ رمضان المبارک کے مہینے میں ہوتا ہے

سعودی عرب کے کثیرالاشاعت انگریزی اخبار عرب نیوز نے 4 جولائی 2014 کو کنگ سعود یونیورسٹی کی تیار کردہ ایک تحقیقاتی رپورٹ پر مبنی ایک لیڈ اسٹوری شائع کی تھی۔ اخبار کی سرخی کچھ یوں تھی ’’Massive wastage unacceptable‘‘ ۔ 2014 کی اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سعودی عرب میں روزانہ 4 ہزار 500 ٹن قابل استعمال غذا ضائع ہو رہی ہے۔ گو کہ سعودی عرب میں رمضان المبارک کے علاوہ باقی مہینوں میں مجموعی طور پر قریباً 6 ارب سعودی ریال خرچ کیے جاتے ہیں مگر رمضان میں سعودی شہری صرف غذا کی مد میں 20 ارب سعودی ریال خرچ کر دیتے ہیں اور یوں اس خوراک کا 45 فی صد پیٹ میں جانے کے بہ جائے کچرے دانوں میں چلا جاتا ہے۔

2014 کی اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ایک اندازے کے مطابق سعودی عرب میں روزانہ 4 ملین لذیذ ڈشوں کا 30 فی صد کچرے کی نذر ہوجاتا ہے ۔ اشاعت کے مطابق رواں رمضان کے پہلے تین دنوں میں مکہ میونسپلٹی کے اہل کاروں کو 5000 ہزار ٹن خوراک اٹھا کر کوڑے دانوں میں پھینکنا پڑی اور ان تین دنوں میں اضافی طور پر 28000 ہزار بھیڑیں ذبح کی گئیں۔ مکہ شہر میں میونسپلٹی کو ہنگامی طور پر شہر کے وسط میں حرم کے نزدیک 45 ویسٹ کمپریسر لگانے پڑے اور صفائی کے لیے 8 ہزار اہل کاروں کی ڈیوٹیاں لگانی پڑیں

کنگ سعود یونیورسٹی کی تیار کردہ اس تحقیقاتی رپورٹ میں کیا گیا تھا کہ چار ملین ڈشوں میں سے تیس فی صد ڈشوں کا کچرے میں چلا جانا انتہائی غیر ذمہ درانہ رویہ ہے جو ناقابل برداشت ہوتا جارہا ہے کیوں کہ سعودی عرب کا شمار دنیا بھر میں خوراک درآمد کرنے والے بڑے ممالک میں ہوتا ہے۔ اگر یہ شرح اسی طرح برقرار رہی تو سعودی قوم خوراک ضائع کرنے والی قوموں میں سرفہرست شمار ہونے لگے گی۔

اور لگ بھگ ایک دہائی گزر جانے کہ بعد اب تازہ رپورٹ سے بھی ایسے ہی اعداد و شمار کی نشاندھی ہوتی ہے، جو یقیناً ایک لمحہ فکریہ ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close