لاکھوں ڈالر کمانے والے پاکستانی فری لانسرز کو کیا مسائل درپیش ہیں؟

ویب ڈیسک

عمر صفدر ایک فری لانسر ہیں۔ وہ تین سال سے مختلف ڈجیٹل پلیٹ فارم یوٹیوب، فیسبک، انسٹا گرام اور ٹک ٹاک سے لاکھوں ڈالرز کما چکے ہیں۔ فری لانسنگ میں عمر کی کامیابی اپنی مدد آپ کی مرہونِ منت ہے، لیکن اب وہ مختلف مسائل اور پاکستان کے موجودہ حالات سے مایوس ہیں اور مستقل طور پر دبئی منتقل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

بیشتر فری لانسر کی طرح عمر بھی پاکستان کو ڈالرز کی شکل میں زرمبادلہ کما کر دیتے ہیں لیکن ان کے مطابق اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر ان کے لیے مسلسل رکاوٹیں پیدا کرنے کی وجہ بن رہے ہیں۔ دوسری جانب بینکںبھی فری لانسر کا اکاؤنٹ کھولنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور ایف بی آر ٹیکس کاٹنے کے بعد بھی نوٹسز بھیج کر پریشان کرتا ہے

ان حالات میں عمر صفدر کا کہنا ہے ”اب میں کانٹینٹ پر کام کروں یا ایف بی آر اور بینکوں کے چکر لگاتا رہوں۔ دبئی میں نہ کوئی نوٹس آتا ہے اور بینکس آن لائن آسانی سے اکاؤنٹ کھول دیتے ہیں، ڈالر کے اتار چڑھاؤ کا بھی مسئلہ نہیں ہے اور ادائیگی بھی آسانی سے ہو جاتی ہے۔ اکثر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی پاکستان میں مونیٹائزیشن بھی نہیں ہے“

عمر کہتے ہیں ”آئی ٹی کے وزیر آئی ٹی اور فری لانسنگ ایکسپورٹ 2.67 ارب ڈالر سے دس ارب ڈالرز تک لے جانے کی بات کرتے ہیں لیکن اگر حالات یونہی رہے تو مجھ سمیت کئی فری لانسر ملک چھوڑ دیں گے۔ جس سے ایکسپورٹس بڑھنے کی بجائے کم ہو جائیں گی“

اس حوالے سے ’پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن‘ کے صدر اور چیف ایگزیکٹیو طفیل احمد خان کا کہنا ہے ”ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں تقریباً تیس لاکھ فری لانسرز کام کر رہے ہیں، جو سالانہ تقریباً چار سو ملین ڈالرز سے زیادہ زرمبادلہ پاکستان لاتے ہیں، لیکن یہ اعداد و شمار حتمی نہیں ہیں۔ اس کے لیے ریسرچ کی ضرورت ہے اور پاکستان میں کوئی ادارہ ریسرچ کے لیے فنڈز دینے کو تیار نہیں۔ ہم نے ایشین ڈیویلپمنٹ بینک سے درخواست کی ہے کہ وہ پاکستان میں فری لانسرز کی اصل تعداد معلوم کرنے کے لیے ریسرچ کروائیں۔ امید ہے کہ جلد ہم حقیقی تعداد معلوم کر پائیں گے“

طفیل احمد خان کے مطابق ”پاکستان فری لانسنگ میں دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے لیکن یہ سب اپنی مدد آپ کے تحت ہے۔ ہم نے یونیورسٹیوں میں فری لانسنگ کے لیکچرز دیے تو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ اکثر طلبہ یہ جانتے ہی نہیں کہ فری لانسنگ کیا ہے۔ حکومت نے ڈی جی اسکلز پلیٹ فارم سے فری لانسرز کو ٹریننگ ضرور دی ہے لیکن ان میں سے کتنے بچے ڈالرز کمانے کے قابل ہوئے، اس بارے میں کوئی اعداد و شمار نہیں ہیں“

راحیل یاسین سوشل میڈیا منیجمنٹ کمپنیوں کے مالک ہیں۔ ان کے پاس پانچ سو سے زیادہ یوٹیوب، فیس بک، ٹک ٹاک اور انسٹا گرام چینلز ہیں اور وہ پاکستان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو تکنیکی طور پر مینیج کرنے والے ابتدائی لوگوں میں شامل ہیں

وہ بتاتے ہیں ”فیسبک ڈالرز کمانے کا بہت بڑا ذریعہ ہے لیکن پاکستان میں فیسبک مونیٹائزیشن نہیں ہو سکتی۔ ہمیں مجبورا دبئی، یو کے، امریکہ اور یورپ میں اکاؤنٹس کھلوانا پڑتے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹک ٹاک بھی پاکستان میں مونیٹائز نہیں ہے۔ اگر کسی ذریعے سے ڈالرز پاکستان لے آئیں تو یہاں سے ڈالرز میں بیرونِ ملک ادائیگی کرنے میں بھی بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے“

راحیل یاسین کہتے ہیں ”فیسبک پر اشتہار چلانے کی ادائیگی کرنے کے لیے اضافی ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ جبکہ اگر یہی ادائیگی میں بیرونِ ملک اپنے اکاونٹس سے کروں تو کوئی چارجز نہیں لگتے۔ ایسی صورت حال میں میں پاکستان ڈالرز لا کر خود کو مصیبت میں کیوں ڈالوں؟“

انہوں نے کہا ”حکومت کو ان مسائل کو سمجھنا چاہیے اور جو فری لانسرز ڈالر پاکستان لا رہے ہیں، انییں کم از کم اتنے ہی ڈالرز بیرونِ ملک بھجوانے کی اجازت ہونا چاہیے۔ حکومت نے پچاس فی صد ڈالرز رکھنے کی اجازت دی ہے، جو ناکافی ہے“

راحیل یاسین نے بتایا ”اکثر فری لانسرز چھ لاکھ روپے میں دبئی کا دو سال کا ویزا لیتے ہیں، وہاں بینک اکاونٹس کھلواتے ہیں، فری لانسنگ کی آمدن ان اکاؤنٹس میں منگواتے ہیں۔ انہی اکاؤنٹس سے کرپٹو کرنسی پلیٹ فارم جیسا کہ Binance سے ڈالرز خریدتے ہیں اور پھر وہیں پر ڈالرز بیچ کر پاکستانی بینک اکاؤنٹ میں کیش منگوانے پر مجبور ہیں“

”اس کے علاوہ ایف بی آر فری لانسرز سے ایک فیصد ٹیکس وصول کر رہی ہے جو بہت زیادہ ہے۔ ٹیکس اور دیگر پوچھ گچھ کی وجہ سے اکثر فری لانسرز اپنے رشتہ داروں کے اکاؤنٹس میں فیملی ریمیٹنس منگواتے ہیں“

ہشام سرور، جو پاکستان کے پہلے فری لانسر ہیں اور اس وقت پاکستانی میڈیا میں فری لانسنگ کی سب سے زیادہ مقبول اور بااثر شخصیت ہیں، بتاتے ہیں ”پاکستان میں فری لانسرز کی تعداد بڑھ رہی ہے اور حکومت مزید دو لاکھ آئی ٹی ماہر بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی تعداد میں ماہرین صاحبِ روزگار کیسے ہوں گے؟“

انہوں نے کہا ”وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ وہ مزید دس ہزار فری لانسرز مراکز قائم کریں گے یہ مثبت قدم ہے، لیکن یہ سب کب اور کیسے ہوگا، اس بارے میں کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے“

انھوں نے مزید کہا ”پاکستانی فری لانسرز کو فائیور، اپ ورک اور پیپلز پر آر کے علاوہ بھی فری لانسنگ میں تربیت دی جانے کی ضرورت ہے۔ امریکہ میں تقریباً ستر ملین لوگ فری لانسنگ سے جڑے ہیں، جن میں سے تقریبا پچاس ملین ان پلیٹ فارمز کو استعمال نہیں کرتے، بلکہ دیگر تکنیک کے ذریعے کاروبار بڑھا رہے ہیں۔“

ہشام سرور کہتے ہیں ”پاکستان کو اپنا فری لانسنگ پلیٹ فارم بنانے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے حکومت فری لانسرز اور آئی ٹی ماہرین سے مشاورت کرے تاکہ قابلِ عمل اور دیرپا پالیسیز بنائی جا سکیں۔ اس کے علاوہ فری لانسرز کی ہیلتھ انشورنس اور کلبز بنانا بھی ضروری ہے“

ان کا کہنا ہے ”پاکستان میں فری لانسرز کو انڈسٹری کا درجہ دیا جانا چاہیے۔ فری لانسرز کو اگر کسی مسئلے کا سامنا ہے تو ان کے پاس کوئی حکومتی پلیٹ فارم ایسا نہیں، جہاں جا کر وہ اپنے مسائل بتا سکیں۔ انہیں آئی ٹی میں شامل کر رکھا ہے، جو کہ نامناسب ہے“

پاکستان سافٹ وئیر ایکسپورٹ بورڈ ایسوسی ایشن ( پاشا) کے چیئرمین ذوہیب خان کا کہنا ہے ”فری لانسر ساری عمر فری لانسنگ نہیں کر سکتا۔ انہیں اسٹارٹ اپس کی ضرورت ہے۔ یہ ڈالرز کمانے کا دیرپا اور مضبوط ذریعہ ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اسٹارٹ اپس کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کی وجہ مالی معاملات ہیں۔ پچھلے چند ماہ میں نئے اسٹارٹ اپس شروع ہونے کی بجائے بہت سے اسٹارٹ اپس بند ہوئے ہیں۔ حکومت فری لانسرز کو سستے قرض دے کر اسٹارٹ اپس میں اضافہ کر سکتی ہے“

انہوں نے کہا ”پاکستان کے اسپیشل ٹیکنالوجی زون میں سو فی صد ڈالرز ملک میں رکھنے اور باہر بھیجنے کی اجازت ہے۔ اگر اسٹیٹ بینک رکاوٹیں ڈالنے کی بجائے سہولتیں فراہم کرے اور آئی ٹی انڈسٹری کو دس سال کے لیے کھلا چھوڑ دیں تو دس پندرہ ارب ڈالرز پاکستان لانا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔“

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close