انتقامِ اسیر

وکٹر ہیوگو

آج سے آٹھ سال قبل پیرس کے خوبصورت شہر میں ایک غریب مزدور رہتا تھا، اپنے علاوہ اسے دو پیٹ اور پالنے پڑتے۔۔۔۔۔۔ اس کی مالکہ یعنی بیوی اور ننھا سا بچہ۔

میں ناظرین کی خدمت میں حقیقت بیان کر رہا ہوں، جس میں کسی قسم کے تصنع کو دخل نہیں۔ جو کچھ بھی ہے، صداقت پر مبنی ہے۔ اس سے سبق حاصل کرنا اس کے پڑھنے والوں پر چھوڑتا ہوں۔

بچپن ہی سے وہ پردہِ غفلت میں رہا۔ آغوشِ جہالت میں پرورش پاتا رہا، مگر باایں ہمہ وہ ایک اچھے دماغ کا مالک تھا۔ دنیا کے چھوٹے سے چھوٹے حادثہ پر گھنٹوں فکر کرتا۔

موسم سرما آیا۔ حسب معمول تکالیف و مصائب کے سازوسامان سے آراستہ! ایندھن کی کمی۔۔۔۔۔۔ روٹی کی کمی۔۔۔۔۔۔ مزدور کی کمی!! وہ شخص، اس کی بیوی اور بچہ فاقوں پر فاقے کرتے۔۔ مگر انجامِ کار اس ذلیل زندگی سے تنگ آ گئے۔۔۔۔۔۔ مزدور چور بن گیا۔

مجھے معلوم نہیں اس نے کیا چرایا، مگر اتنا معلوم ہے کہ لڑکے اور اس کی ماں کے لئے تین دن کا خوردونوش مہیا ہو گیا، اور اس کے لئے پانچ سال کی سزا۔

اس کو سزا کے ایام پورے کرنے کے لئے زندان میں بھیج دیا گیا۔ زندان جو گرجا گھر کی عمارت میں تبدیل کردیا گیا تھا۔۔۔۔۔۔ اب اس معبد کے کمرے تنگ وتار کوٹھڑیاں۔ اس کی قربان گاہ و چوبی کٹہرہ جس میں پھانسی دی جاتی ہے۔

بعض اصحاب کے نزدیک یہ ترقی ہے۔ تمدنی ترقی۔۔

خیر! زندان میں رات تو وہ کوٹھڑی میں بسر کرتا اور دن بھر کارخانہ میں۔ مجھے کارخانہ سے کوئی نفرت نہیں۔

کلادے گیو (یہ مجرم کا نام تھا) ایسا ایمان دار مزدور اگر چوری کرنے پر مجبور ہوا تو اپنی مشکلات کی بناپر۔۔ ورنہ وہ سلیم الدماغ نیک اور رحم دل تھا۔ وہ نہایت ہی اچھے دماغ کا مالک تھا۔

اب آپ دیکھیں کہ سوسائٹی نے اس دماغ کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ اپنے کام کے دوران میں شاید ہی وہ کسی سے ہمکلام ہوتا، مگر اس کے چہرے سے وقار اور وفاداری عیاں تھی۔

جیل کے اندر کلادے گیو کو کارخانہ میں کام کرنا پڑتا۔ اس کی نگرانی کے لئے ایک نائب ناظم مقرر تھا۔ وہ بیک وقت داروغہ اور سوداگر تھا۔

وہ ظالم تھا۔ اس نے کبھی ادراک سے کام نہ لیا۔ وہ تند خُو ہونے کے بجائے سخت دل تھا۔ اگر ایک لمحہ وہ خوش مذاق مزاحیہ اور شادماں ہوتا تو دوسرے لمحہ وہ تند خو اور بدمزاج ہوتا۔ اس کا تعلق نسلِ انسانی کی اس جماعت سے تھا، جس کے افراد میں نئے خیالات جذب کرنے کی اہلیت نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔ جو بظاہر حوادث سے متاثر نہیں ہوتے، نفرت وحقارت کے ناپاک جذبات جن کے قلوب میں پرورش پاتے ہیں، جو اس چُوب خشک کی مانند ہیں جس کا ایک سرا جل رہا ہو مگر دوسرا برف کی مانند سرد۔

اس داروغہ کی سیرت میں ہٹ دھرمی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ وہ اپنی ضدی فطرت پر اس قدر نازاں تھا کہ اپنے تئیں نپولین تصورکرتا۔ یہ محض فریب نظر تھا۔ وہ شمع کو درخشندہ ستارہ سمجھے بیٹھا تھا۔ جب کبھی وہ ذلیل حرکت پر آمادہ ہوتا تووہ ضرور اسے پایہ تکمیل تک پہنچاتا۔ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ جب کبھی ہم افتاد بلا کے اسباب و علل پر غور کرتے ہیں تو ہم سب اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ اس کی ابتدا ضد اور اعتمادِ نفس سے ہوئی۔

ہمارا ناظم اس سیرت کا حامل تھا۔ اسے سوسائٹی نے دوسروں پر حکمران کر رکھا تھا۔ اس کی مثال بعینہ اس شخص کی مانند تھی جو دبی ہوئی راکھ سے چنگاریوں کی جستجو کرتا ہو، مگر اکثر اس قسم کی چنگاریاں برق کی صورت میں نمودار ہو کر گلشن ہستی کو بیابانوں میں تبدیل کر دیتی ہیں۔

جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں، کلادے گیو کے زندان میں داخل ہوتے ہی اسے مجرموں کا لباس پہنا دیا گیا اور ورکشاپ میں کسی کام پر لگا دیا گیا۔ ناظم کی نگاہوں نے تھوڑے دنوں کے بعد ہی تاڑ لیا کہ کلادے گیو دیگر مجرموں کی طرح نہ تھا۔ اس لئے اس نے اس کی اچھی طرح نگہداشت کرنی شروع کردی۔

کلادے زندان میں بہت مغموم سا رہتا۔ اس کا نقطہ نظر صرف اس کی بیوی اور بچے کی یاد تھی، جس کی امید پر وہ زندگی کی تاریک گھڑیاں صبر و تحمل سے گزار دینے پر آمادہ تھا۔ کلادے کو حسرت و یاس کا مجسمہ دیکھ کر ناظم نے اس کا غم غلط کرنے اور حوصلہ افزائی کے لیے اسے بتلایا کہ اس کی عورت بیسوا طبقہ میں شامل ہو چکی ہے۔ دوسرے لفظوں میں بیسوا کا لباس پہن چکی ہے۔

’’اور لڑکا؟‘‘ قیدی نے پوچھا۔

اس کے متعلق ناظم کو کچھ علم نہ تھا۔

کچھ عرصہ کے بعد کلادے اس زندگی سے مانوس ہو گیا اور رفتہ رفتہ وہ خیالات، جو اس کی پریشانی کا باعث تھے، محو ہو گئے۔۔۔۔۔۔ اس کے چہرے سے اب آہنی ارادہ کے آثار نمایاں تھے۔ وہ اس زندگی اور اس عرصہ کو خندہ پیشانی کے ساتھ گزارنا چاہتا تھا، خواہ وہ کیسی ہی تکلیف دہ کیوں نہ ہو۔

کلادے کی ہستی جیل میں ایک نمایاں حیثیت رکھتی۔ اپنے ہم اسیر قیدیوں کے درمیان اس کا بہت رتبہ تھا۔ وہ تمام اس کی عزت کرتے اور اس سے اپنی اپنی مشکلات بیان کر کے مشورہ لیتے۔

تین ماہ سے کم عرصہ میں کلادے نے ہر شخص کے دل میں جگہ کر لی اور اسی عرصہ میں ورکشاپ کے قیدیوں کا لیڈر بن گیا۔ وہ سب اس کی پرستش کرتے، حتیٰ کہ کئی دفعہ وہ گمان کرنے لگتا کہ وہ بادشاہ ہے۔ ایک اسیر پادری ہے اپنے معتقدوں کے درمیان! یہ لازمی امر تھا کہ یہ ہر دلعزیزی اور شہرت دیگر افراد کے دلوں میں حسد کی چنگاریاں پیدا کرتی، چنانچہ یہی ہوا۔ محافظوں کے دلوں میں کلادے کا وجود خار کی طرح کھٹکنے لگا۔۔۔۔۔۔ یہ اجنبی بات نہ تھی۔۔۔۔۔۔ ہر دلعزیزی اور نفرت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔۔۔۔۔۔ مگر غلاموں کی محبت آقا کی حقارت اور نفرت سے زیادہ مستحکم ہوتی ہے۔

بدقسمتی سے کلادے بسیار خور واقع ہوا تھا۔ اس کی بھوک مٹانے کے لیے اس کی اپنی غذا ناکافی تھی۔ آزادی کے ایام میں وہ محنت سے اپنی پوری غذا مہیا کر لیتا، مگر دوران اسیری وہ دن بھر کام کرتا تو بھی اسے پیٹ بھر کے کھانا ملتا۔ وہ ہمیشہ بھوکا رہتا، مگر اس کی شکایت کے الفاظ اس کی زبان پر ہرگز نہ آئے۔ وہ اسی خصلت کا مالک تھا۔

ایک روز جب کہ کلادے اپنا کھانا ختم کرکے کام میں مشغول ہوا چاہتا تھا، اس ’قحط‘ کو اپنے کام میں محو کرنا چاہتا تھا کہ ایک دبلا پتلا قیدی ایک ہاتھ میں چاقو دوسرے میں کھانا پکڑے ہوئے اس کی جانب آیا، کچھ کہنا چاہتا تھا کہ جھجک گیا۔

’’کیا چاہتے ہو تم؟‘‘ کلادے اس سے درشت لہجے میں دریافت کیا۔

’’ایک عنایت۔‘‘

’’عنایت؟‘‘

’’میرے پاس ضرورت سے زیادہ کھانا ہوتا ہے۔ مہربانی فرما کر اس میں سے تھوڑا سا آپ لے لیا کریں۔‘‘

کلادے کی آنکھیں نمناک ہو گئیں۔ بغیر کوئی تکلف کئے، اس نے کھانے کے دو حصے کئے اور اپنا حصہ کھانا شروع کر دیا۔

’’شکریہ! مگر کیا ہی اچھا ہو کہ آپ ہر روز اسی طرح میرے کھانے میں حصہ لے لیا کریں۔‘‘ اس لڑکے نے مودبانہ کہا۔

’’تمہارا نام۔‘‘

’’ایلبن۔‘‘

’’تم یہاں کس طرح آئے۔‘‘

’’چوری کے جرم میں۔‘‘

’’خیر میرا بھی یہی جرم ہے۔‘‘

ایلبن بیس سال کا نوجوان تھا۔۔۔۔۔۔ مگر غیر معمولی کمزوری اور اور زردی سے پندرہ سال کا معلوم ہوتا۔ کلادے گو 35 سال کا تھا، مگر بسا اوقات پچاس سے بھی زیادہ عمر کا معلوم دیتا۔

ان دونوں کا رشتہ آپس میں باپ بیٹے کا تھا۔ ایلبن ابھی بچہ تھا۔ اور کلادے پیش از وقت بوڑھا۔ وہ دونوں ایک ہی جگہ مشقت کرتے، ایک ہی جگہ سوتے۔ وہ بہت خوش تھے۔۔۔۔۔۔ وہ ایک دوسرے کے لیے دنیا تھے۔

ہم جیل کے ناظم کے متعلق اس سے پیشتر بھی یہی ذکر کرچکے ہیں کہ کلادے کا وجود اس کی نگاہ میں خار کی طرح کھٹک رہا تھا۔ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ کلادے قیدیوں کی نظروں میں بہت وقعت رکھتا، اور وہ اس کا ہر حکم ماننے کے لیے بسر و چشم حاضر رہتے۔

ایک دن جیل میں کسی قسم کی شورش پیدا ہوگئی اور قیدیوں نے ناظم کا حکم ماننے سے انکار کر دیا۔ ناظم اور محافظوں نے لاکھ سر پٹکا مگر کچھ بن نہ آئی۔ لیکن کلادے کے دو الفاظ نے ان سب کو جھکا دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ حسد کی چنگاری نے اب آگ کی صورت اختیار کرلی۔ اصلاح شدہ مجرم کی صورت سے اسے نفرت پیدا ہوگئی۔۔۔۔۔۔ حق پر قوت کے غلبہ کی عیاں مثال۔

اس نوعیت کی نفرت جو سینہ میں خفیہ طور پر پرورش پاتی رہے، اس آتش فشاں پہاڑ کی طرح ہے، جس نے برسوں آگ نہ اگلی ہو۔

ایلبن کی رفاقت نے کلادے کو ناظم کے وقار سے بالکل غافل کر دیا تھا۔ ایک روز جبکہ دونوں کام میں مشغول تھے، ایک وارڈر آیا اور ایلبن سے ناظم کے روبرو پیش ہونے کو کہا۔

’’تمہیں ناظم نے کیوں بلا بھیجا ہے؟‘‘ کلادے نے ایلبن سے پوچھا۔

’’معلوم نہیں۔‘‘

ایلبن، وارڈر کی معیت میں ناظم کے پاس چلا گیا۔ سارا دن گزر گیا مگر ایلبن واپس نہ آیا۔۔۔۔۔۔ بے سود اس کا انتظار کرتا رہا۔ رات ہونے پر بھی جب وہ نہ آیا تو نہایت بے قراری کی حالت میں اپنے محافظ سے پوچھا۔

’’ایلبن بیمار ہے کیا؟‘‘

’’نہیں تو!‘‘ محافظ نے جواب دیا۔

’’تو پھر کیا وجہ ہے کہ وہ دن بھر سے غائب ہے۔‘‘

’’تمہیں معلوم نہیں اس کا کمرہ تبدیل کر دیا گیا ہے۔‘‘ محافظ نے لاپروائی سے کہا۔

محافظ کے اس جواب پر کلادے کا ہاتھ، جس میں وہ شمع پکڑے ہوئے تھا، کانپا۔

’’کس کے حکم سے؟‘‘ کلادے نے تحمل سے کہا۔

’’موسیوڈی۔۔۔۔۔۔ کے حکم سے۔۔۔۔۔۔“ یہ ناظم کا نام تھا۔

دوسرے روز شام کو ناظم حسب معمول کام کی دیکھ بھال کے لیے آیا۔ کلادے نے اسے دیکھتے ہی اپنی اونی ٹوپی سنبھالی اور کوٹ کے بٹن بند کرتے ہوئے ایک بینچ کے قریب کھڑا ہوگیا۔۔۔۔۔۔ یہ زندان کے آدابوں میں سے ایک آداب ہے۔

جب ناظم اس کے قریب سے گزرا تو کلادے نے مودبانہ لہجے میں کہا، ’’جناب۔‘‘

ناظم مڑا۔

’’جناب! کیا واقعی آپ نے ایلبن کو دوسرے کمرے میں منتقل کر دیا ہے۔‘‘

’’ہاں۔‘‘ ناظم نے جواب دیا۔

’’جناب! میں اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ آپ کو معلوم ہے کہ میرے لئے اپنا کھانا ناکافی ہوتا ہے۔ اس لئے ایلبن اپنے کھانے سے کچھ حصہ مجھے دے دیا کرتا تھا۔‘‘

’’مگر مجھے اس سے کیا سروکار؟“

”جناب! کیا آپ اتنی عنایت نہیں کر سکتے کہ ایلبن کو پھر میرے پاس واس بھیج دیں۔‘‘

’’ناممکن! میرے احکام میں تبدیلی واقع نہیں ہو سکتی!‘‘

’’یہ حکم کس کا ہے؟‘‘

’’میرا!‘‘

’’تو پھر جناب ہی پر میری زندگی کا انحصار ہے۔‘‘

’’میرا حکم تبدیل نہیں ہو سکتا ہے۔‘‘

’’جناب! کیا آپ کو مجھ سے عداوت ہے؟‘‘

’’نہیں۔‘‘

’’تو پھر آپ ایلبن کو مجھ سے کیوں جدا کر رہے ہیں۔‘‘

’’اس لئے کہ یہ میری خواہش ہے۔‘‘

یہ کہہ کر ناظم چلا گیا۔ کلادے اس شیر کی مانند، جو اپنے شکار سے محروم کر دیا گیا ہو، سر جھکائے کھڑا رہا۔

ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ یہ غم کلادے کی بھوک میں کوئی تبدیلی واقع نہ کر سکا۔ وہ پہلے کی طرح ہی بھوکا رہا۔ اور بہت سے قیدیوں نے برضا و رغبت اپنا کھانا اسے پیش کرنا چاہا۔ مگر اس نے خندہ پیشانی سے انکار کردیا۔

کلادے حسبِ معمول اپنا کام خاموشی سے کرتا ۔ اور ہرروز شام کو ناظم سے پُر درد اور غصّہ آمیز لہجہ میں۔۔۔۔۔۔ دعا اور دھمکی کے مابین صرف دو الفاظ کہتا۔۔۔۔۔۔ ’’اور ایلبن۔‘‘

مگر اس کے جواب میں ناظم کا یہ طرزِ عمل کسی حالت میں بھی قابلِ ستائش نہ تھا۔ اور یہ بھی صاف عیاں تھا کہ کلادے نے اس طرزِ عمل کے انسداد کے لیے کوئی تہیہ کر لیا ہوا ہے۔ تمام زندان ہٹ دھرمی اور آہنی ارادہ کے درمیان فیصلہ کن جنگ دیکھنے کا منتظر تھا۔

ایک روز وہ ناظم سے یہ کہتا ہوا سنا گیا: ’’جناب! ایلبن کو میرے پاس بھیج دیجئے۔ کیونکہ آپ کی اسی میں بہتری ہے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں۔۔۔۔۔۔ میرے الفاظ کو مت بھولئے آپ!‘‘

ایک اتوار کو وہ گھنٹوں سر کو زانوؤں میں دیئے صحن میں بیٹھا رہا، اور جب ایک قیدی فیلٹ نے اس سے پوچھا کہ وہ کیوں مغموم سا ہے تو کلادے نے سر کو اوپر اٹھاتے ہوئے جواب دیا: ’’میں کسی شخص کا فیصلہ مرتب کرنے میں مصروف ہوں۔‘‘

25 اکتوبر1831ء کی شام کو کلادے نے اپنی گھڑی کا شیشہ زمین پر اس غرض سے پھینکا کہ ناظم کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائے۔ وہ اس مقصد میں کامیاب ہوگیا۔۔۔۔۔۔ ناظم آ گیا۔

’’یہ شیشہ میں نے پھینکا تھا۔۔۔۔۔۔ جناب! میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے رفیق کو میرے پاس بھیج دیجئے۔‘‘ غلام نے کہا۔

’’ناممکن ہے۔‘‘ آقا نے جواب دیا۔

’’آپ کو ایسا کرنا پڑے گا۔‘‘ کلادے نے کہا۔ اور ناظم کی آنکھوں سے آنکھیں ملاتے ہوئے نہایت استقلال سے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہنے لگا، ’’دیکھئے آج اکتوبر کی 25 ہے۔ میں آپ کو 4 نومبر تک اس معاملہ پر سوچنے کی مہلت دیتا ہوں۔‘‘

ایک وارڈر، جس نے یہ الفاظ سنے، دھمکی پر تعبیر کئے۔ اور ناظم سے کلادے کے لئے سزائے تخلیہ تجویز کی۔ مگر ناظم نے اس بات کی کوئی پروا نہ کی۔ وہ ان الفاظ سے خائف نہ ہوا۔

دوسرے روز ایک اور قیدی نے کلادے کی مغمومی طبع کے بارے میں سوال کیا، ’’کلادے تم کن خیالات میں غرق رہتے ہو۔‘‘

’’مجھے ڈر ہے کہ ہمارے اچھے ناظم پر کوئی نہ کوئی حادثہ پیش آنے والا ہے۔‘‘ کلادے نے جواب دیا۔

25 اکتوبر اور 4 نومبر میں پورے نو دن باقی تھے۔۔۔۔۔۔ اس قلیل مدت کے بعد ناظم کی قسمت کا فیصلہ ہونے والا تھا۔

کلادے ہر روز ناظم کے گوش گزار کر دیتا کہ وہ ایلبن کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ان گزارشوں سے ناظم تنگ آگیا۔ اور ایک روز اسے چوبیس گھنٹہ کی سزائے تخلیہ دے دی۔۔۔۔۔۔ روزانہ عجز و انکسار کا جواب۔

4 نومبر آ پہنچا۔۔۔۔۔۔ اس دن کلادے نہایت اطمینانِ قلب سے خواب سے بیدار ہوا۔ گزشتہ ایام کی یادگاریں نکالیں تاکہ انہیں جی بھر کے ایک دفعہ دیکھ لے: ایک قینچی اور ایک کتاب جو اس ہستی کی ملکیت تھی، جسے وہ جان سے عزیز جانتا تھا، یعنی اس کی بیوی۔ ان عزیز چیزوں کو جیب میں رکھ کر وہ صحن میں ٹہلنے لگا کہ ایک قیدی پر اس کی نظر پڑی، جو موٹی موٹی آہنی سلاخوں کے درمیان سے اس کی طرف متجسسانہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔

’’آج رات کو میں ان سلاخوں کو قینچی سے کاٹ ڈالوں گا۔‘‘ کلادے نے قینچی دکھاتے ہوئے کہا۔ قیدی یہ ناممکن اور محیرالعقول بات سن کر ہنسنے لگا۔ کلادے بھی اس ہنسی میں شامل ہو گیا۔

اس دن اس نے غیرمعمولی انہماک سے کام کیا تاکہ اس چیز کی تیاری میں کوئی نقص باقی نہ رہ جائے، جس کے عوض اسے کھانا ملتا تھا۔

دوپہر سے کچھ پہلے وہ کسی بہانے سے چُوب سازوں کے کمروں میں چلا گیا، جہاں قیدیوں نے اس کا پُرجوش استقبال کیا۔۔۔۔ کلادے کی ہر جگہ عزت تھی۔

وہ اس کے گرد جمع ہوگئے جیسے وہ اس کے منہ سے کوئی بات سننے کے لیے بیتاب ہوں۔

کلادے نے کمرہ میں نگاہیں دوڑائیں اور مطمئن ہو کر کہ جیل کا کوئی وارڈر اس وقت موجود نہ تھا، یوں گویا ہوا ’’کیا تم میں سے کوئی مجھے اپنی کلہاڑی دے سکتا ہے؟“

’’کس غرض کے لئے۔‘‘ انہوں نے دریافت کیا۔

’’ناظم کو قتل کرنے کی خاطر‘‘ اس نے فوراً جواب دیا۔

اس پر سب نے اپنی اپنی کلہاڑیاں پیش کیں۔ کلادے نے اب سب میں سے چھوٹی کلہاڑی منتخب کر کے اسے اپنے کوٹ کے دامن میں چھپا لیا۔

اس وقت ستائیس قیدی موجود تھے مگر ان میں سے کسی نے بھی اس راز کو افشا نہ کیا۔ حتیٰ کہ انہوں نے اس واقع کے بعد اس موضوع پر گفتگو تک نہ کی۔۔۔۔۔۔ مگر وہ آنے والے حادثے کے منتظر تھے۔ وہ حادثہ گو ہولناک تھا، مگر بہت آسان۔

صحن سے گزرتے ہوئے کلادے کو ایک قیدی ٹہلتا ہوا ملا، جس نے اس سے دریافت کیا کہ وہ کوٹ میں کیا چھپائے ہوئے ہے۔

’’ایک کلہاڑی! موسیوڈی۔۔۔۔۔۔ کے قتل کرنے کے لئے! تمہیں نظر آرہی ہے کیا؟“ کلادے نے کہا۔

’’بہت کم۔‘‘ قیدی نے جواب دیا۔

دن کا بقایا حصہ حسبِ معمول مصروفیتوں میں گزر گیا۔ سات بجے شام قیدی اپنے اپنے ورکشاپوں میں منتقل کر دیئے گئے تاکہ ناظم ان کی حاضری لے سکے۔

کلادے روزمرہ کی طرح اپنے ہم اسیروں کے ساتھ ایک بڑے سے ورکشاپ میں بند تھا۔ اس وقت اپنی قسم کا واحد واقعہ پیش آیا۔۔۔۔۔۔ کلادے نے اپنی جگہ پر کھڑے ہو کر مندرجہ ذیل تقریر شروع کی۔

’’تمہیں معلوم ہے کہ ایلبن اور مجھ میں ایک بھائی کا رشتہ تھا۔ اولاً میری پسندیدگی کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ اپنا کھانا میرے ساتھ تقسیم کرتا، مگر بعد ازاں وہ پسندیدگی محبت میں تبدیل ہو گئی، جب وہ میرے ساتھ الفت کا اظہار کرنے لگا

ہم دونوں کی وابستگی موسیوڈی کے لئے کسی حالت میں بار خاطر نہ تھی، مگر اس نے صرف ہٹ دھرمی اور حسد کی خاطر ہمیں ایک دوسرے سے جدا کر دیا۔۔۔۔۔۔ صرف اس لئے کہ وہ بدخصلت ہے۔

میں نے اس سے بارہا التجا کی کہ وہ ایلبن کو میرے پاس واپس بھیج دے، مگر اس کے کان پر جوں تک نہ رینگتی۔ آخر کار میں نے اسے 4 نومبر تک اس معاملہ پر سوچنے کے لئے کہا، جس پر مجھے سزائے تخلیہ دی گئی۔ میں نے اسے ترازوئے عدل میں تولا تو اسے سزائے موت کا مستحق پایا۔ چنانچہ میں نے اس کی موت کا دن 4 نومبر مقرر کیا ہے۔ وہ ابھی ابھی یہاں آئے گا۔ میں پھر تمہیں آگاہ کرتا ہوں کہ میں اس کی جان لینے پر تلا ہوا ہوں۔۔۔۔۔۔ کیا تمہیں اس کے بارے میں کچھ کہنا ہے؟‘‘

قبر کی خاموشی چھا گئی۔

کلادے نے اپنی گفتگو جاری رکھی اور اپنے رفیقوں۔۔۔۔۔۔ اکیاسی چوروں سے وجوہات بیان کرنی شروع کیں جو اس عمل کی محرک ہوئی تھی، ’’میں اس خطرناک اقدام پر اس لئے مجبور ہوں کہ راستی پر ہوں۔ اس لئے کہ اس نے مجھے سخت روحانی تکلیف پہنچائی ہے۔ اس لئے کہ میں دو ماہ کے غور و فکر کے بعد اسی نتیجہ پر پہنچا ہوں۔ میں اچھی طرح سمجھتا ہوں کہ اس اقدام کے معنی میری موت ہے، چونکہ میں راستی پر ہوں اس لئے مجھے اپنی قربانی کی کوئی پرواہ نہیں۔ اگر تم میں سے کوئی اس کے خلاف کہنا چاہتا ہے تو وہ اعلانیہ کہے۔‘‘

اس قبر ایسی خاموشی میں صرف ایک آواز نے چلا کر کہا ’’مگر قتل کرنے سے پیشتر تمہیں پھر اسے ایک دفعہ متنبہ کر دینا چاہئے۔‘‘

’’درست ہے میرے دوست! میں اس کو مہلت دے دوں گا۔‘‘

یہ کہہ کر اس نے اپنی چند ایک ملکیتیں جو اسے نہایت عزیز تھیں، ان قیدیوں میں تقسیم کر دیں لیکن قینچی اپنے پاس رکھ لی۔ ہر ایک قیدی سے بغل گیر ہوا۔ ان میں سے اکثر اس منظر کو بغیر آنسو بہائے نہ دیکھ سکے۔

کلادے حسبِ معمول خوش گپیوں میں مشغول ہو گیا۔ اس کو اس طرح دیکھ کر بعض نے خیال کہ وہ اس خوفناک ارادہ سے باز آگیا ہے۔

ایک نوجوان قیدی کلادے کے خوفناک ارادہ سے ابھی تک خائف ایک کونے میں کھڑا کانپ رہا تھا۔

’’نوجوان آدمی! ہمت کرو۔ بس ایک لمحہ کا کام ہے۔‘‘ کلادے نے اسے کہا۔

کلادے نے ہر ایک سے مصافحہ کر لینے اور الوداع کہنے کے بعد سب کو حکم دیا کہ وہ اپنے اپنے کام میں مشغول ہو جائیں۔۔۔۔۔۔ اس کے حکم کی تعمیل کی گئی۔ وہ خود بھی اپنے کام میں منہمک ہو گیا۔ اچانک گھڑی کے گجر کی آواز سنائی دی۔ اس پر وہ اٹھا اور دروازے کے قریب خاموش کھڑا ہو گیا۔

دروازہ کھلا اور ناظم کمرے کے اندر داخل ہوا۔ وہ حسبِ معمول نہایت اطمینان سے کسی حادثہ سے بے خبر گزر رہا تھا کہ اپنے پیچھے کسی کی آہٹ سن کر مڑا تو کلادے کو کھڑا پایا۔

’’تم اس جگہ کیا کر رہے ہو۔ اپنی جگہ پر کیوں نہیں جاتے؟“ ناظم نے پوچھا۔

’’میں جناب سے کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ کلادے نے مودبانہ کہا۔

’’وہ کیا ؟‘‘

’’ایلبن کی واپسی۔۔۔۔۔۔‘‘

’’پھر وہی ضد‘‘

’’ہمیشہ ہوگی۔‘‘

’’معلوم ہوتا ہے کہ تمہارے لئے 24 گھنٹہ سزائے تخلیہ ناکافی تھی۔‘‘ ناظم نے وہاں سے چلتے ہوئے کہا۔

’’جناب! میرا رفیق مجھے واپس عنایت کیجئے۔“ کلادے نے اس کے پیچھے چلتے ہوئے کہا۔

’’ایسا ہونا ناممکن سے ہے۔۔!‘‘ ناظم نے جواب دیا۔

’’جناب میں پھر ایک دفعہ التجا کرتا ہوں کہ میرے رفیق کو میرے پاس بھیج دیجئے۔ پھر آپ دیکھیں گے کہ میں کس طرح دل لگا کر کام کرتا ہوں۔ آپ آزاد ہیں۔ اس لئے آپ اس شخص کے احساساتِ قلب کا اندازہ نہیں لگا سکتے، جس کا دنیا میں ایک ہی دوست ہو۔ ایک ہی رہا سہا سہارا ہو۔ زندان کی چار دیواری میں اس رفیق کی موجودگی ہی میرے لئے سب کچھ ہے۔ وہی میرے لئے دنیا کی عزیز ترین نعمت ہے۔ آپ آزادانہ چل پھر سکتے ہیں۔ آپ کے لیے دنیا میں سب کچھ موجود ہے، مگر میرے لئے ایلبن ہی دنیا ہے۔ خدا کے لئے۔۔۔۔۔۔ اسے میرے پاس بھیج دیجئے۔ یہ بھی آپ کو معلوم ہے کہ وہ اپنا کھانا میرے ساتھ تقسیم کیا کرتا تھا۔ اگر ایک تیرہ بخت انسان کلادے اس جگہ اپنے رفیق کے ساتھ تنہائی کے ایام بسر کرے تو اس میں آپ کا کیا حرج ہے۔ آپ سے صرف اجازت چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔ صرف ’ہاں‘ جناب! میرے اچھے جناب! میں خدا کے نام پر ملتجی ہوں کہ میری گزارش کو قبول فرمائیے۔‘‘

یہ کہہ کر کلادے جذبات کا طوفان سینہ میں دبائے ناظم کے جواب کا منتظر تھا۔

’’یہ کبھی نہ ہوگا! میں اس سے پیشتر کہہ چکا ہوں کہ میرے احکام میں تبدیلی واقع نہیں ہو سکتی۔ جاؤ تم مجھے ستا رہے ہو۔‘‘ یہ کہہ کر ناظم نے دروازہ کی جانب رخ کیا۔

اکیاسی چوروں پر قبر ایسی خاموشی طاری تھی۔

کلادے نے ناظم کے کندھے کو چُھوا اور کہا ’’مجھے یہ تو معلوم ہونا چاہئے کہ آخر کن وجوہ کی بنا پر آپ میرے ساتھ ظلم کر رہے ہیں؟‘‘

’’اس لئے کہ یہ میری مرضی ہے۔‘‘ ناظم نے جواب دیا۔

یہ جواب سن کر کلادے ایک قدم پیچھے ہٹا۔۔۔۔۔۔ ایک سو باسٹھ آنکھوں نے اسے کوٹ سے کلہاڑی نکالتے ہوئے دیکھا۔۔۔۔۔۔ ایک لمحہ میں ناظم کی لاش زمین پر بے جان پڑی تھی۔ تین ضربوں نے اس کے سر کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے تھے۔ کلہاڑی کی چوتھی ضرب سے اس کی شکل پہچاننی مشکل تھی۔

کلادے نے، جو غصہ و انتقام سے اندھا ہو رہا تھا، ایک اور کلہاڑی ناظم کی بے جان لاش پر پورے زور سے ماری مگر بے فائدہ۔۔ ناظم پہلے وار سے ہی سرد ہو چکا تھا۔ کلہاڑی کو ایک طرف پھینکتے ہوئے کلادے چلایا، ’’ اب دوسرا۔۔۔‘‘ دوسرا وہ خود آپ تھا۔ اپنی بیوی کی قینچی نکال کر اس نے اپنی چھاتی میں پیوست کر لی، مگر حسبِ مقصود نتیجہ نہ نکلا۔ قینچی اس کی مضبوط چھاتی میں اچھی طرح نہ جا سکی۔

قینچی سے بیس وار اور کئے مگر بے سود۔۔ آخر کار چلایا، ’’لعنت!! دل کی جگہ ہی نہیں ملتی۔‘‘ اتنا کہا اور خون آلود بے ہوشی کے عالم میں زمین پر گر پڑا۔

بتائیے ان دونوں میں سے کون کس کا شکار تھا؟

جب کلادے نے آنکھ کھولی تو اپنے آپ کو پٹیوں سے ملبوس ہسپتال میں پایا۔ اس کے آس پاس ہسپتال کی نرسیں کھڑی تھیں، ان میں سے ہر ایک نے اس کی طبعیت کا حال پوچھا۔

خون کی کافی مقدار اس کے بدن سے خارج ہو چکی تھی اور قینچی کے زخم بہت خطرناک صورت اختیار کر گئے تھے، مگر سب سے مہلک ضربات وہ تھیں، جو موسیوڈی کے جسم پر پڑیں۔

ہوش آنے پر سوالات کی بوچھاڑ شروع ہوگئی۔ ناظم کے قتل کے بارے میں اس سے سوالات کئے جانے لگے۔ ان کے جواب میں اس نے بہادرانہ طور پر اعتراف جرم کیا۔

تھوڑے دنوں بعد اس کے زخموں نے نہایت خوفناک صورت اختیار کر لی، جس کی وجہ سے اس کے جسم کی حرارت بہت تیز ہو گئی

نومبر، دسمبر، جنوری اور فروری علاج معالجہ میں ہی گزر گئے۔ معالج اور منصف دونوں اس کی حالت دیکھنے آتے۔۔۔۔۔۔ معالج اس کا علاج کرنے۔۔۔۔۔۔ اور منصف تختہ دار مہیا کرنے کے لئے۔

خیر 16 مارچ 1832ء کو جب کلادے بالکل روبہ صحت ہوگیا، تو اس کا مقدمہ ٹرائے کی عدالت میں پیش ہوا۔ کمرہِ عدالت تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔

کلادے کی ظاہری صورت نے ججوں کے دل میں اس کی نسبت اچھی رائے قائم کردی۔ اس کا خط بنا ہوا تھا اور وہ ننگے سر مجرموں کے لباس میں کٹہرے کے نزدیک کھڑا تھا۔

سرکاری وکیل نے بطور حفظِ ماتقدم دروازوں پر پولیس افسر مقرر کر دیئے تھے تاکہ ان قیدیوں کے درمیان، جو اس مقدمہ کے گواہ تھے، کوئی گڑ بڑ واقع نہ ہو جائے۔ دورانِ مقدمہ ایک نئی مشکل پیش آئی۔ ان گواہوں یعنی قیدیوں میں سے کوئی شخص بھی اس معاملہ کے متعلق گفتگو کرنے کو تیار نہ تھا۔ ججوں اور انسپکٹروں نے دھمکیاں دیں مگر بے سود۔ وہ کلادے کے خلاف ایک لفظ بھی اپنے منہ سے نکالنے کے لیے تیار نہ تھے۔

کلادے کا اصرار اور ہدایت ہی صرف ان کی زبان کھلوا سکی، جس پر انہوں نے چشم دید حالات کو من و عن سنا دیا۔۔۔۔۔۔ جہاں کہیں وہ اس خونی داستان کے بیان کرنے میں رک جاتے، کلادے ان کو صحیح واقعہ بتلا دیتا۔

اس منظر کو دیکھ کر کمرۂ عدالت میں موجود عورتوں کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔

اب نقیب نے ایلبن کو پکارا۔

ایلبن وفورِ جذبات سے متاثر سر تا پا تھرتھراتا ہوا آیا اور آتے ہی اپنے آپ کو کلادے کی بانکوں میں ڈال دیا۔

’’یہ وہی بد بخت انسان ہے، جس نے ایک بھوکے کو روٹی کھلائی۔۔۔۔۔۔‘‘ کلادے نے سرکاری وکیل کی طرف مخاطب ہوتے ہوئے کہا۔

یہ کہہ وہ ایلبن کی طرف بڑھا اور اس کے ہاتھوں کا بڑی محبت سے بوسہ لیا۔

جب سب گواہوں کا بیان ہو چکا تو سرکاری وکیل اٹھا اور جیوری کی طرف مخاطب ہو کر کہنے لگا: ’’جیوری کے جملہ معزز اراکین! سوسائٹی کو بہت رنج ہوگا اگر اس قسم کے قاتلوں کو سزائے موت نہ دی گئی، جس نے۔۔۔۔۔۔‘‘

سرکاری وکیل کے بیان کے بعد کلادے کے وکیل نے جرح کی۔۔۔۔۔۔ جرح جو عموماً ایسی نام نہاد عدالتوں میں اس موقع پر ہوا کرتی ہے۔

کلادے کا بیان ہوا تو حاضرین کی آنکھیں فرطِ حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ جب انہوں نے ایک غریب اور جاہل مزدور سے ایک فاضل مقرر کے سے الفاظ سنے۔ بغیر کسی لغزش کے کلادے نے تمام واقعات کمال راستبازی سے بیان کر دیئے۔ وہ کٹہرے میں اس انداز سے کھڑا تھا، جیسے وہ سچ بولنے پر تلا ہوا ہے۔

دورانِ بیان بعض دفعہ ایسا موقع آتا کہ ہجوم پر اس کے ہر لفظ کا اثر دکھائی دیتا۔ اس شخص۔۔۔۔۔۔ علم سے محض نابلد شخص نے اس جواز میں بہت سے وزنی دلائل پیش کئے، جن کی اس سے توقع نہ تھی۔۔ مگر دورانِ گفتگو اس نے ادب کو ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ لیکن جب سرکاری وکیل نے یہ کہا کہ قتل کی واردات فوری غصہ اور رنج کا باعث نہ تھی تو کلادے کے غصہ کی کوئی انتہا نہ رہی۔

’’مجھے رنج نہ پہنچا تھا کیا؟؟ درست ہے! اگر کوئی شراب سے مخمور مجھ پر حملہ کرتا اور میں اسے جان سے ہلاک کر دیتا تو تم اس فعل کو فوری غصہ پر تعبیر کرتے۔ سزائے موت کو حبس دوام میں تبدیل کر دیتے۔ مگر ایک شخص نے جس نے ہر ممکن طریقہ سے مجھے مجروح کرنا چاہا، جو متواتر چار سال میری ذہنی اذیت کا باعث رہا، جس نے اسی قدر عرصہ تک مجھے ذلیل سمجھے رکھا، جو ہر روز میرا تمسخر اڑاتا، جس کا دن کے چوبیس گھنٹے اور چار سال تک یہی مشغلہ رہا کہ وہ اپنے ترکش کے تیر مجھ پر خالی کرتا رہے۔۔۔۔۔۔ جب میں نے اپنے مصائب و نوائب کے منبع کو بند کیا تو تم کہتے ہو کہ وہ عمل فوری غصہ سے محرک نہ ہوا۔

میرے ساتھ ایک عورت کا دامن وابستہ تھا، جس کی خاطر میں نے چوری کی۔ وہ اس کی بابت میرے احساسات مجروح کرتا تھا۔ میں ایک بچے کا باپ تھا، جس کی خاطر میں نے ایسا رذیل کام کیا۔ وہ اس بچے کی باتیں سنا سنا کر میرے زخموں پر نمک پاشی کرتا رہا۔ میں بھوکا تھا، ایک دوست نے مجھے اپنا کھانا پیش کیا، وہ اس دوست کو مجھ سے جُدا کر لے گیا۔

میں نے اس کی خدمت میں التجا کی۔ اس نے مجھے اندھیری کوٹھڑی میں دھکیل دیا۔ جب میں نے اپنی تکالیف کا اظہار کیا تو اس نے جواب دیا کہ اس کے کان ایسی باتوں کی سماعت کے لئے تیار نہیں۔

اگر تم میری جگہ ہوتے تو کیا کرتے!؟

میں نے ان مصیبتوں کا خاتمہ کر دیا۔ اس شخص کو، جو میری قلبی تکالیف کا باعث تھا، قتل کر دیا۔ تم اس قتل کو وحشیانہ عمل گردانتے ہو۔ کہتے ہو کہ مجھے صعوبات نہیں پہنچائی گئیں۔ سو تم میرا سر قلم کرنے کے در پے ہو، بصد خوشی کرو۔ میرا سر تمہارے ہاتھوں کا کھلونا بننے کے لیے حاضر ہے۔‘‘

انسانی قانون اس نوعیت کے فوری غصہ کو اس قسم کے مظالم کو فیصلہ کرتے وقت پیشِ نظر نہیں رکھتا، صرف اس لئے کہ اس وار کے نشانات غیر مرئی ہوتے ہیں۔

جیوری بحث ختم ہوتے ہی فیصلہ مرتب کرنے میں مصروف ہوگئی اور کلادے کے اس فعل کو خونریزی کا ایک ہیبت ناک عمل قرار دیا۔ اور اس کی زندگی کا نقشہ یوں کھینچا:

”کلادے کی زندگی کی ابتدا ایک ایسی لڑکی سے ہوئی جو اس کی بیاہتا نہ تھی۔ اس نے چوری کی، پھر قتل کیا۔ یہ سب کچھ سچ تھا۔“

فتوٰی صادر کرنے سے پیشتر جیوری نے کلادے سے دریافت کیا کہ آیا اسے اس بارے میں کچھ اور کہنا ہے۔

’’بہت کم! میں چور ہوں قاتل ہوں۔ میں جملہ اراکینِ جیوری سے صرف اس قدر دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ وہ کون سا امر تھا، جس نے مجھے چوری کرنے پر مجبور کیا؟ وہ کون سی شے تھی جو میرے قاتلانہ حملہ میں محرک ہوئی۔‘‘

جیوری بغیر جواب دیئے دوسرے کمرے میں فیصلہ مرتب کرنے کی خاطر چلی گئی۔ شہر کے ان بارہ معززین، ان نام نہاد اراکین نے کلادے پر موت کا فتویٰ صادر کردیا۔

فیصلہ مرتب کرتے وقت ان کے پیشِ نظر کلادے کا دوسرا نام ’’گیو‘‘ یعنی بدمعاش بھی تھا، جو خاص طور پر ان کے فیصلہ صادر کرنے میں محرک ہوا۔

جب حکم سنایا جا چکا تو کلادے نے صرف اس قدر کہا ’’مجھے یہ سزا قبول ہے، مگر مقامِ تاسف ہے کہ انہوں نے میرے دو سوالات کا جواب نہیں دیا۔ میں نے چوری کیوں کی؟ اور میں نے قتل کس بنا پر کیا؟“

زندان میں اس رات کو اس نے خوب سیر ہو کر کھانا کھایا۔

کلادے نے رحم کی درخواست کرنے سے انکار کر دیا، مگر جب اس نرس نے جس نے اس کی تیمار داری کی تھی اس بات پر اصرار کیا تو وہ رضا مند ہوگیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ رضا مندی صرف نرس کی خوشنودی کی خاطر تھی کیونکہ جس وقت اس کی درخواست پیش ہوئی تو رحم کی درخواست کی میعاد ختم ہو چکی تھی۔ کلادے نے عمداً دیر لگا دی تھی۔

جس وقت نرس اسے یہ خبر سنانے کے لیے آئی تو وفورِ جوش اور محبت سے اسے پانچ فرانک کا نوٹ دیا، جسے کلادے نے شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے پاس رکھ لیا۔

اس کے ہم اسیروں نے جو سب کے سب اس کے دام الفت میں گرفتار تھے، ہر ممکن ذریعہ سے اس کی فراری کے لیے کوشش کی۔

انہوں نے روشندان کے ذریعے کلادے کی کوٹھڑی میں ایک کیل، کچھ تار اور ایک لوہے کا ٹکرا پھینکا۔ ان چیزوں میں سے کوئی ایک بھی اس کی فراری کا موجب ہو سکتی تھی، مگر اس نے وہ سب چیزیں وارڈر کے حوالے کردیں۔

8 جون1832ء کو قتل کے واقع سے پورے سات ماہ چار دن بعد محافظ جیل کلادے کے پاس آیا اور اسے مطلع کر دیا کہ اس کی زندگی میں اب صرف ایک گھنٹہ باقی تھا۔ اس کی درخواستِ رحم مسترد کر دی گئی تھی۔

’’میں نے نہایت اطمینان سے آج کی رات بسر کی ہے۔۔ اور امید کرتا ہوں کہ اسی طرح آخری لمحات بھی گزار دوں گا۔‘‘ کلادے نے محافظ سے کہا۔

معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کے آہنی ارادہ رکھنے والے انسان موت سے کبھی خائف نہیں ہوتے بلکہ موت کی آمد پر نہایت عالی حوصلگی سے گفتگو کرتے ہیں۔

کلادے کی کوٹھڑی میں پہلے پادری آیا، بعد ازاں جلاد۔ پادری کے ساتھ کلادے نہایت ادب اور خلوص سے پیش آیا اور بہت عرصہ تک دینی علوم سے نااہل ہونے پر اظہارِ تاسف کرتا رہا۔ اپنے آپ کو دینی معلومات سے فائدہ نہ حاصل کرنے کی بنا پر لعنت ملامت کرتا رہا۔

جلاد کے ساتھ بھی وہ ایسے ہی خلوص سے پیش آیا۔ در حقیقت اس نے اپنی روح پادری کے حوالے کردی تھی اور اپنا جسم جلاد کے۔

جب اس کے بال تراشے جا رہے تھے تو کسی نے ذکر کیا کہ اس گرد و نواح میں ہیضہ پھیل رہا ہے اور امکان ہے کہ بہت تھوڑے عرصہ میں ٹرائے بھی اس موذی مرض کا شکار ہو جائے گا۔

’’مجھے اس سے کیا تعلق۔۔ تھوڑے عرصہ کے بعد ہیضہ کیا کوئی مرض بھی مجھ پر اثر نہ کرسکے گا۔‘‘ کلادے نے متبسمانہ لہجے میں کہا۔

خود کشی کے وقت کلادے سے قینچی ٹوٹ گئی تھی۔ بقایا حصہ اس کے پاس ابھی تک موجود تھا۔ اس نے وصیت کی وہ حصہ اس کے رفیق ایلبن کو دے دیا جائے۔ اس کا آدھا حصہ اس کی چھاتی میں زخموں کی صورت میں پنہاں تھا۔ یہ بھی خواہش کی کہ اس کا شام کا کھانا بھی اس کے دوست کو دے دیا جائے۔

اگر کچھ چیز اپنے پاس رکھی تو پانچ فرانک کا نوٹ، جوکہ اسے نرس نے دیا تھا، وہ اسے دائیں ہاتھ میں پکڑے ہوئے تھا، جب اسے رسی سے باندھا گیا۔

پونے آٹھ بجے یہ ماتمی جلوس زندان سے گلوبریدی کے چبوترہ کی طرف روانہ ہوا۔ کلادے نہایت استقلال کے ساتھ اس چبوترہ پر چڑھا۔ اس کی آنکھیں پادری کی صلیب پر جمی ہوئی تھیں۔ وہ صلیب اس کے پنہاں زخموں پر مرہم کا کام دے رہی تھی۔ اس ہیبت ناک مشین پر باندھے جانے سے پیشتر اس نے پادری کو پانچ فرانک کا نوٹ پکڑاتے ہوئے کہا ’’غریبوں کے لئے۔‘‘

مگر چونکہ آٹھ بجے کا گجر بج رہا تھا، اس لئے پادری اس شور میں کلادے کی آواز کو نہ سن سکا۔ کلادے نے گھنٹہ کا شور ختم ہوتے ہی پھر ایک دفعہ پادری سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ’’غریبوں کے لئے۔‘‘

ابھی یہ لفظ اس کی زبان پر ہی تھے کہ یہ شریف اور حساس سر جسم سے علیحدہ ہو چکا تھا۔

سزائے موت کے لئے یوم السّوق مقرر کیا گیا تھا۔ تمام روز گلوبریدی کی مشین لوگوں کے خیالات و حسّیات کو مشتعل کرتی رہی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہجوم کے ہاتھوں ایک ٹیکس وصول کرنے والے کا قتل ہوتے ہوتے بچ گیا۔ کیا ان کے پیش نظر یہی نظریہ عبرت ہے

محولہ بالا واقعات صرف اس واحد غرض سے صفحہ قرطاس پر لائے گئے کہ وہ تنسیخ سزائے موت ایسے مشکل اور نازک موضوع کی گتھی سلجھانے میں مدد دیں۔ کیونکہ ہمیں یقین واثق ہے کہ اس داستان کا ہر لفظ بذات خود ہمارے نظریہ کے مخالفین کا جواب ہے اور یہ کہ انیسویں صدی عیسوی کے اہم ترین مسئلہ کا حل اسی داستان میں موجود ہے۔

کلادے کی زندگی میں صرف دو امر قابل غور و فکر ہیں۔ اولاً اس کی تعلیم ثانیاً اس سزا کی نوعیت جو اس پر عائد کی گئی۔

مجلسی دائرہ کے لئے یہ امر باعث دلچسپی ہوگا کہ کلادے ایک اچھے فہم و فراست کا مالک تھا، مگر سوال یہ ہے کہ اس میں کسی چیز کی کمی تھی۔ اس مسئلہ عظیم پر انسانی معاشرے کی بلندی کا انحصار ہے۔ جو چیز فطرت نے انسان کو بخشی سوسائٹی کا فرض ہے کہ اسے پایہ تکمیل تک پہنچائے۔

کلادے کی طرف دیکھئے۔ ایک بہترین دماغ اور شریف زادہ محض گناہ آلود فضا میں پرورش پانے کے باعث چور بن گیا۔ سوسائٹی نے اسے ایسے زندان میں رکھا جہاں گناہ پہلے سے بھی زیادہ تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ چور سے قاتل بن گیا۔ وہ قابل گرفت ہے؟

یا ہم؟

یہ مسئلہ غور طلب ہے۔ ہم اس کے عواقب و عواطف سے غافل رہ کر اس پر غور نہیں کرسکتے۔ حقائق ہمارے سامنے موجود ہیں۔ اگر حکومت ان پر غور نہ کرے تو حکام کس لئے ہیں؟ ایوانہائے سلطنت ہر سال اراکین کی نشست گاہ بنتے ہیں۔ وہاں مداخل و مخارج پر بحث ہوتی ہے۔ ذاتی مفاد کے لئے طرح طرح کے حیلے تراشے جاتے ہیں۔

ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم وزراء و اراکین سلطنت کو ہر ایک موضوع سے باخبر کر دیں۔ خواہ ان کا انجام کچھ ہی کیوں نہ ہو۔

مقننین! تم اپنا وقت محض گفتار میں بسر کرتے ہو۔ تمہاری گفتار ایک دیہاتی مدرس کے لبوں پر بھی مسکراہٹ لے آتی ہے۔ تم کہتے ہو کہ موجودہ زمانے کے عیوب خود تمدن کے پیدا کردہ ہیں۔ گویا تم جو کیٹا فدرا۔ اوڈی پس۔ میڈیا اور روڈوگونا سے واقف تک نہیں۔

ایوان کے بڑے بڑے خطیب جس وقت سرگرم مباحثہ ہوتے ہیں تو فرانسیسی زبان ان کی قابلیت اور علمیت زبان پر نوحہ خوانی کرتی ہے۔ ہم اس کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ تاہم اس سے زیادہ اہم مضامین آغوش عدم میں پڑے رہتے ہیں۔ ان فضول مناظروں کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے؟ اراکین اس وقت کیا جواب دے سکتے ہیں، جب ان میں سے ایک مندرجہ ذیل سوال کرے۔

’’خاموش! ہر وہ شخص، جو اس سے قبل گفتگو کر چکا ہے، خاموش رہے! آپ کو اس پر زعم ہے کہ آپ مسئلہ کے ہر پہلو سے واقف ہیں ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ بالکل تاریکی میں ہیں۔‘‘

وہ مسئلہ یہ ہے! ایک سال ہوا ’’عدل و انصاف‘‘ کے نام پر بالبرس میں ایک شخص کے ٹکڑے اڑا دیئے گئے۔ جون میں ایک شخص کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ پیرس میں لاتعداد افراد قتل کئے گئے۔

یہ مسئلہ ہے۔ آؤ اس پر غور کرو۔

تم! تم وہ ہو۔ جو صرف قلی محافظ کی وردیوں پر غور کرتے ہو۔ صرف ایک نکمی بحث پر وقت ضائع کرتے ہو کہ سپاہیوں کی وردیوں کے بٹن سفید ہوں یا زرد۔

حضرات! صرف عوام الناس تکالیف برداشت کرتے ہیں۔ خواہ حکومت شخصی ہو یا جمہوری۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ غربا بدستور مصائب کا شکار رہتے ہیں۔ لوگ مفلسی کے ہاتھوں تنگ ہیں۔ ان کا خون رگوں میں سرد ہو چکا ہے۔ وہ زندہ درگور ہیں۔ یہی سیاہ بختی انہیں جرائم کی طرف کشاں کشاں لے جاتی ہے۔ بیٹے جیلوں کو آباد کرتے ہیں اور لڑکیاں عشرت کدوں کی زینت بڑھاتی ہیں۔

تمہارے ہاں لاتعداد مجرم اور بے شمار عصمت فروش موجود ہیں۔ مجلسی بدن کی رگوں میں بدی کا خون موجزن ہے۔ تم بیمار کے قریب ہو، اس کی عیادت کرو، اس کی صحت کے لئے کوئی نسخہ تیار کرو۔

تم سب غلطی پر ہو۔ مسئلہ پر نہایت غور و فکر سے سوچو۔ تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ تمہارے قوانین کا نصف حصہ ہے تمہارے روز مرہ کے کاروبار کا اور دوسرا نصف تمہاری جاہ طلبی کا۔

تم مجرموں کے جسموں پر داغ دیتے وقت ان کے مکتوبِ حیات پر جرائم کی مہر لگاتے ہو۔ تم اس سزا کے دو رفیق پیدا کرتے ہو۔ کبھی جدا نہ ہونے والے ساتھی۔۔۔۔۔۔ داغ اور جرم۔

جیل خانے اصلاح کی بہ نسبت افساد کا مرکز ہیں۔ جب تم نے آہنی سلاخ کو توڑ دیا تو پھر جلاد اور زندان کی کیا ضرورت ہے۔ اس زینہ کو جو بامِ جرم کی طرف لئے جاتا ہو تو اتار دو۔ اپنے قوانین پر نظرثانی کرو۔ قانونی کتب کو نئے سرے سے مرتب کرو۔ زندانوں کو ازسر نو تعمیر کرو۔ عدالتوں میں نئے ججوں کا تقرر عمل میں لاؤ۔ قوانین کو عصر حاضر کے مطابق بناؤ۔

آپ لوگوں کے پیش نظر کفایت شعاری ہے۔ مگر خدارا اس کی خاطر تمہیں لوگوں کے سروں کو اس بے دردی سے ان کے تنوں سے جدا نہیں کرنا چاہئے۔

اگر تم فی الحقیقت سختی پر تلے ہوئے ہو تو جلاد پر سختی کرو۔ اسی مشاہرہ پر جو تم اپنے 80 جلادوں کو دیتے ہو، تم چھ سو مدرس قائم کر سکتے ہو جو ان ہونے والے مجرموں کے اذہان کی اصلاح کریں۔

کیا تم نے کبھی اس امر پر بھی غور و پرداخت کی ہے کہ تمہارے ملک فرانس میں تعلیم یافتہ شخص کے کیا اعداد و شمار ہیں۔ یورپ کے چپہ چپہ پر علم کی شعاعیں پہنچ چکی ہیں۔ سوئٹزرلینڈ میں قریباً تمام افراد تعلیم یافتہ ہیں۔ بیلجیئم میں ہر شخص پڑھا ہوا ہے۔ تمام یونان تعلیم یافتہ افراد سے بھرا ہوا ہے۔ اگر علم سے بے بہرہ ہے تو تمہارا فرانس۔ کیا یہ امر تمہارے لئے باعث شرم نہیں۔

زندانوں میں جاؤ مجرموں کا بغور مطالعہ کرو۔ تمہیں اپنے رد کئے ہوئے شخصوں میں کئی ایسی شخصیتیں پنہاں نظر آئیں گی جو تھوڑی سی تعلیم حاصل کرنے پر تمہارے ملک کے درخشاں ستارے بن سکتیں، مگر ان کی موجودہ حالت حیوانوں سے بدتر ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قدرت بھی قابل الزام ہے مگر تعلیم کی کمی کا، ان اذہان کو آغوش جرم کی طرف لے جانے میں بیش از بیش حصہ ہے۔

اس لئے تمہیں چاہئے کہ ان اذہان کی تعلیم و تربیت کے لیے کوشش کرو۔ ان پودوں کو جو عدم نگہداشت کی نذر ہو رہے ہیں سینچو اور ان کو علم کے سایہ میں پرورش پا کر پھیلنے کا موقع دو۔

اقوام کی قابلیت کا اندازہ ان غیر معمولی افراد سے ہوتا ہے جنہیں وہ پیدا کرتی ہیں۔ جب روم اور یونان ایسے ممالک تعلیم یافتہ ہوگئے تو کیا تم اپنی مادر وطن کے فرزندوں کو علم سے مستفید نہیں کرسکتے؟

جب فرانس میں تعلیم عام ہو جائے تب عوام کو اخلاقی بلندی تک لے جاؤ۔ عدم علمیت گمراہ کن تعلیم سے بہتر ہے۔1830 کے پروانہ آزادی اور دیگر فرانسیسی کتب سے زیادہ اہمیت رکھنے والی ایک اور کتاب ہے:وہ بائبل ہے۔

تم جمہور کے لئے جو چاہو کرو۔ ان کی اکثریت کا دامن مفلسی اور تباہی سے وابستہ رہے گا۔ ان کی زندگی کشمکش پیہم۔ ان تھک محنت اور قوت برداشت سے مرکب ہے۔

ترازوئے عدل کی طرف دیکھو۔ تمام مصائب غرباکے لئے اور تمام مسرتیں امراء کے لئے دونوں پلڑے غیر مساوی ہیں۔ ترازوئے عدل کو دھوکا نہیں دینا چاہئے۔ اور نہ ہی حکومت کو اس دھوکا دہی میں مدد کرنا چاہئے، کیونکہ اس سے غربا، کے مصائب میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔

تم عدل و انصاف کو کام میں لاؤ تاکہ غریب کو معلوم ہو جائے کہ ان کے لیے نیلگوں آسمان کے نیچے کوئی جائے پناہ ہے۔ ایک ارضی جنت ہے جس کی لطیف فضاؤں سے وہ بھی متمتع ہو سکتا ہے۔ اس کا مرتبہ بلند کرو تاکہ اسے بھی معلوم ہو کہ امراء کی تعیش پسندی میں وہ بھی برابر کا شریک ہے۔ یہ مسیح کی تعلیم تھی جو والٹیر سے زیادہ علم رکھتے تھے۔

تب ان لوگوں کو جو یہاں کام کرتے ہیں آئندہ دنیا میں حصول اجر کی امید دلاؤ۔ وہ صبر اور شکر سے ایام زیست بسر کریں گے۔ تعلیم کو ہر مقام پر پہنچاؤ تاکہ لوگوں کی سیرت بہتر اور ارفع ہو سکے۔ عوام کے سروں میں سودائے خام کی بجائے تابناک جوہر موجود ہیں، انہیں نیکی طرف بلاؤ اور پھر دیکھو کہ ان کی خوابیدہ قوتیں کس طرح بیدار ہوتی ہیں۔

حالات کے ماتحت کلادے کو قاتل بننا پڑا۔۔ اگر اس کی تربیت بہتر طریقوں سے کی جاتی تو وہ اپنی ملت کا بہترین خادم ثابت ہوتا۔

ظلمت کدۂ ضمیر منور کرو، عوام کی حالت بہتر بناؤ، انہیں تعلیم دو، ان کے اخلاق کی حفاظت کرو۔۔۔۔۔۔ پھر تمہیں ایسے انسانی سر کاٹنے کے لیے تیغ ستم کی ضرورت نہ ہوگی۔

نوٹ: تحریر میں پیش کی گئی رائے مصنف کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close