کیا سندھ میں جی ڈی اے، پیپلز پارٹی کو شکست دے سکے گا؟

ویب ڈیسک

اس وقت 8 فروری کے انتخابات کے حوالے سے سرگرمیاں جاری ہیں اور سندھ سطح پر سیاسی حلقوں میں اس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ کیا صوبے میں گزشتہ طویل عرصے سے برسرِ اقتدار رہنے والی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف بننے والا اتحاد گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) الیکشن میں پیپلز پارٹی کو شکست دینے میں کامیاب ہو سکے گا؟

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ حالیہ کچھ عرصے کے دوران یہ اتحاد ماضی کی نسبت مضبوط ہوا ہے۔

سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی قریبی ساتھی اور پیپلز پارٹی کی رہنما اور ناہید خان اور صفدر عباسی سمیت پیر پگارا اور قوم پرست جماعتوں نے سال 2017 میں پی پی مخالف ایک اتحاد بنایا جسے جی ڈی اے کا نام دیا گیا۔

اس اتحاد میں سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی دوست اور سابق صوبائی وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا بھی شامل ہوئے اور کچھ ہی عرصے میں یہ اتحاد سندھ میں پی پی مخالف مضبوط گروپ تصور کیا جانے لگا

گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس میں سندھ پارٹی یونائیٹڈ، قومی عوامی تحریک، پاکستان مسلم لیگ فنکشنل، سندھ نیشنل فرنٹ، پاکستان پیپلز پارٹی ورکرز، پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹو، نیشنل پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتیں شامل ہیں

سال 2018 کے عام انتخابات اور 2019 کے ضمنی انتخاب میں جی ڈی اے کی بڑی کامیابی پیپلز پارٹی کو اس کے گڑھ لاڑکانہ کے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس 11 سے شکست دینا تھی۔ اس حلقے سے جی ڈی اے کے امیدوار معظم علی خان نے پیپلز پارٹی کے پولیٹیکل سیکریٹری جمیل سومرو کو شکست دی تھی۔ انہوں نے اکتیس ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے تھے۔

دوسری جانب سندھ کے شہری علاقوں میں نمائندگی رکھنے والی جماعت متحدہ قومی موومنٹ جی ڈی اے کا حصہ تو نہیں ہے، لیکن ایم کیو ایم نے 2024 کے عام انتخابات میں جی ڈی اے کے ساتھ سیٹ ایڈجسمنٹ کی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق سندھ کے سب کے بڑے شہر کراچی کے ساتھ ساتھ سندھ کے چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں بھی جی ڈی اے کی پوزیشن پہلے کے مقابلے میں بہتر ہو رہی ہے۔

سندھ کے علاقے بدین سے سابق اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اور سابق صوبائی وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے کاغذات منظور ہونے کے بعد دونوں رہنما اب انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ بدین اور اس کے نواحی علاقوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کے مقابلے میں ذوالفقار مرزا کا گروپ مضبوط پوزیشن میں ہے۔

بدین، سجاول، گولاڑچی اور تھرپارکر کے علاقوں میں جی ڈی اے کے امیدوار پرعزم ہیں کہ وہ اس بار ان علاقوں سے سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہوں گے۔ یہاں پاکستان تحریک انصاف، جو آزاد امیدواروں کے ذریعے الیکشن لڑ رہی ہے، کی صورت میں بھی پیپلز پارٹی کے لیے ایک خطرہ موجود ہے۔

کراچی اور حیدرآباد سمیت سندھ کے شہری علاقوں میں پی پی کو ایم کیو ایم کا سامنا ہے۔ بدین، جھڈو، ڈگری، کنری، عمر کوٹ، کھپرو، چھاچھرو، ننگر پارکر، چھور، مٹھی، سانگھڑ، جھول اور پیر جو گوٹھ سمیت دیگر علاقوں میں جی ڈی اے پیپلز پارٹی کے خلاف سیٹیں جیتنے کے لیے پرعزم ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ لاڑکانہ میں بھی جی ڈی اے پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے مضبوط حریف ثابت ہوگی۔ اس علاقے میں جمعیت علمائے اسلام ف بھی ایک قوت کے طور پر موجود ہے۔ واضح رہے کہ یہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی سابق وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کا آبائی علاقہ ہے۔ اس علاقے سے صوبائی اسمبلی میں پچھلے دو انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

سندھ اور پنجاب کے سرحدی علاقوں گھوٹکی، ڈہرکی، صادق آباد سمیت دیگر علاقوں میں بھی پیر پگارا کی فنکشنل لیگ کی صورت میں جی ڈی اے کے پاس اچھی نمائندگی موجود ہے۔ ان علاقوں میں جہاں پیر پگارا سمیت دیگر مذہبی شخصیات کے مرید موجود ہیں، وہیں سرداری نظام ہونے کی وجہ سے مختلف قبائل کے افراد بھی الیکشن کے نتائج پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

2024 کے انتخابات میں اس علاقے سے آزاد حیثیت میں حصہ لینے والے امیدوار اس بار پاکستان پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لینے جا رہے ہیں۔ اس لیے ان علاقوں کو پاکستان پیپلز پارٹی کے محفوط ترین علاقوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close