سیارہ زحل کے چاند پر سمندر کی دریافت کا دعویٰ

ویب ڈیسک

ماہرینِ فلکیات نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سیارے زحل کے چاند پر پانی دریافت کیا ہے۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق فرانسیسی ماہرینِ فلکیات کی ایک ٹیم نے گزشتہ ہفتے رپورٹ کیا کہ انہوں نے زحل کے چاند ’میماز‘ کے مدار میں تبدیلیاں نوٹ کیں ہیں اور ان کے تجزیے کے مطابق اس مردہ ستارے نما چاند کی منجمد سطح کے بیس سے تیس کلومیٹر نیچے ایک سمندر پایا جاتا ہے۔

سائنسدانوں نے یہ تجزیے ’ناسا‘ کے ’کیسینی اسپیس کرافٹ‘ کے مشاہدات کی بنیاد پر قائم کیے ہیں۔

’کیسینی اسپیس کرافٹ‘ نامی اس خلائی جہاز نے 2017 سے قبل ایک دہائی کے دوران زحل کے ایک سو چالیس سے زائد چاندوں کا مشاہدہ کیا اور پھر یہ جہاز زحل میں گر کر تباہ ہو گیا۔

زحل کے اس چاند کا قطر محض چار سو کلومیٹر ہے اور اس کی سطح پر بڑے بڑے پتھروں کے گرنے کے نشانات موجود ہیں۔ اس چاند پر زحل کے دیگر چاندوں کی طرح پانی کی زیرِ سطح موجودگی کی وجہ سے گرم فوارے نظر نہیں آتے۔

پیرس آبزرویٹری کی جانب سے لکھی گئی رپورٹ کی شریک مصنف ویلیری لائینے نے اے پی کو بذریعہ ای میل بتایا کہ انہیں اس چاند پر پانی کی بالکل امید نہیں تھی۔

ان کا خیال ہے کہ اس چاند پر زندگی پیدا ہو سکتی ہے لیکن اس کا اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ ایسا کب تک ہو سکتا ہے۔

اس بات کا اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ سمندر ’میماز‘ کے کل حجم کا نصف ہے لیکن میماز چوں کہ بہت چھوٹا سا چاند ہے اس لیے یہ سمندر زمین میں موجود پانی کے حجم کے 1.4 فی صد ہی برابر ہوگا۔

ویلیری لائینے کے مطابق یہ چاند پچاس لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ برس پہلے وجود میں آیا تھا اور اس میں موجود پانی نقطہ انجماد سے کچھ ہی گرم ہو سکتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اس سمندر کی تہہ میں موجود پانی اس سے کچھ ہی زیادہ گرم بھی ہو سکتا ہے۔

اس تحقیق کے دوسرے مصنف نک کوپر کا کہنا ہے کہ مایا پانی پر مشتمل یہ سمندر جسے وجود میں آئے بہت زیادہ وقت نہیں گزرا، زندگی کی ابتدا سے متعلق تحقیق کے لیے دلچسپ ہو سکتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close