کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (چوتھی قسط)

شاہد رضا

غیبی پیر سے ہمیں تُؤنگ کی جانب جانا تھا، جہاں ہمیں تُؤنگ شریف میں برفتوں کے تاریخی چوکنڈی قبرستان جام لوہار کی زیارت کرنی تھی اور تؤنگ میں ہی واقع ہندوؤں کی مقدس جگہ رتن ناتھ بھی دیکھنی تھی، جہاں سے ایک چشمہ بہتا ہے۔ وہاں سے ہمیں دریجی تحصیل ڈسٹرکٹ حب بلوچستان کی طرف جانا تھا، جہاں بھوتانی برادری کے آبائی قبرستان وزٹ کر کے ہمیں واپس مہر جبل کھار سینٹر سے ہوتے ہوئے گڈاپ کونکر پہنچنا تھا، جہاں ہمارے سفر کا اختتام ہونا تھا۔ دریجی سے ایک راستہ حب چوکی اور نورانی کی جانب جاتا ہے، جبکہ ایک راستہ کراچی کی طرف بھی نکلتا ہے۔ ہمیں کنڈ جھنگ سے ہوتے ہوئے گڈاپ کی طرف آنا تھا۔

Taung Jam Lohar Chowkundi Sangat Mag
چوکنڈی قبرستان جام لوہار

Taung Jamshoro Kirthar

جیسے ہی ہم نے غیبی پیر سے نکل کر آگے کا سفر شروع کیا، کھیرتھر کے پہاڑ کے کے دامن اور باران ندی کے ساتھ چلنے لگے، موٹر سائیکل چھوٹے رستوں چلے جا رہی تھی۔ اس راستے میں ہمیں بہت سے کھیت نظر آئے۔ یہاں گندم اور پیاز کی فصل تیار تھی۔ کئی راستے کھیتوں کی طرف جا رہے تھے، جس کی وجہ سے ہم کچھ دیر کے لیے الجھن میں پڑ گئے کہ کون سا راستہ درست ہے۔

راستے میں کچھ لوگ ملے، ہم نے ان سے راستہ معلوم کیا۔ انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے ہمیں سمت بتائی۔ آگے بڑھنے پر ایک گاؤں نظر آیا۔ وہاں سے بھی دو رستے نکلتے ہیں۔ گاؤں کے ساتھ ایک مسجد تھی، جہاں لوگ نماز پڑھ کر باہر نکل رہے تھے۔ ہم نے ان سے سلام دعا کی اور تُؤنگ جانے کا راستہ پوچھا۔ انہوں نے نہایت محبت سے ہمیں راستہ سمجھایا۔

کوہستان کے لوگ بہت مہمان نواز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب کھانے کا وقت ہے، دوپہر کے ڈیڑھ سے دو بج کا وقت ہوگا، آپ کھانا کھا کر جائیں۔ ہم نے شکریہ کے ساتھ معذرت کی کہ ہم کھانا کھا چکے ہیں اور غیبی پیر کے بازار سے چائے بھی پی کر آئے ہیں، اس لیے ہمیں جلدی ہے۔ اور یہ بھی بتایا کہ ہمیں تُؤنگ شریف، پھر دُریجی اور اس کے بعد گڈاپ ملیر کی طرف جانا ہے۔

جیسے جیسے ہم آگے بڑھتے گئے، کھیتوں میں ہریالی نمایاں ہوتی گئی۔ دائیں جانب کھیرتھر نیشنل پارک کا ایک بلند پہاڑ نظر آ رہا تھا، جسے کھیرتھر پہاڑ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ پورا علاقہ ”کرچات سینٹر“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کھیرتھر نیشنل پارک میں اس طرح کے کئی سینٹر قائم کیے گئے ہیں، جیسے موئیدان میں ”کھار سینٹر“ ہے، اسی طرح اس علاقے کو کرچات سینٹر کہا جاتا ہے۔

آگے ہمیں آثارِ قدیمہ کی ایک سائٹ نظر آئی، جہاں ایک قبرستان میں چوکنڈی طرز کی قبریں موجود تھیں۔ چار دیواری کے اندر تین سے چار قبریں تھیں اور باہر دس سے پندرہ قبریں موجود تھیں، جنہیں سندھی میں ”گھاڑی قبریں“ کہا جاتا ہے۔ ہم کچھ دیر وہاں رکے اور ان قبروں کا مشاہدہ کرنے اور کتبے پڑھنے کی کوشش کی۔

اسی جگہ کے آگے ’دیھہ کوہتراش‘ آتا ہے، جو سندھ کی قدیم تہذیب سے تعلق رکھتا ہے۔ بقول بدر ابڑو صاحب اس جگہ کو ایک انگریز ماہر مجمدار صاحب نے 1930-31ء کے دوران مارچ اور اپریل میں ایک تحقیقاتی مہم کے ذریعے دریافت کیا تھا۔ یہاں ایک حفاظتی دیوار بھی بنائی گئی ہے، یہ علاقہ شمال و جنوب اور پہاڑی سلسلہ ہونے کی وجہ سے نہایت دشوار علائقہ ہے۔ یہاں تراشیدہ پتھروں کے بڑے بڑے بلاکس موجود ہیں، جن کا ذکر بدر ابڑو صاحب نے اپنی کتاب ”کوہستان کے سفر“ میں تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ وہی قبریں ہوں، تاہم بدر صاحب نے جس مقام کا ذکر کیا ہے، وہاں قبروں کی تعداد زیادہ نہیں تھی، جبکہ یہ سائٹ نسبتاً چھوٹی محسوس ہوئی۔ ہو سکتا ہے اصل مقام اس کے آس پاس کہیں اور ہو، یا یہ وہی قبریں ہوں، جنہیں ہم نے دیکھا۔

چوکنڈی طرز کی یہ قبریں، جنہیں سندھی میں گھاڑی قبریں کہا جاتا ہے، ضلع ٹھٹہ سے لے کر ایران کے بندر عباس تک پھیلی ہوئی ہیں، اور کوہستان کے پورے علاقے میں بھی موجود ہیں۔ چونکہ ہم نہ ماہرِ آثارِ قدیمہ تھے، نہ ماہرِ بشریات اور نہ ہی تاریخ کے بڑے ماہر، اس لیے ہم ان قبروں کی مکمل تحقیق نہ کر سکے۔ البتہ ایک قبر پر ”بن نوتک“ لکھا ہوا نظر آیا۔Sindh Heritage Sangat Mag

اسی طرز کی قبریں اور اسی طرح کی باونڈریز، جن میں تین سے چار قبریں ہوتی ہیں، تھدو ندی سے اوپر کُرکُٹی ندی کے قریب بھی موجود ہیں، اور جمع موریو گوٹھ اور دُرا گوٹھ کے اطراف بھی اسی قسم کی قبریں پائی جاتی ہیں۔ اگرچہ اس طرز کی قبریں تقریباً ایک جیسی ہوتی ہیں، مگر چار سے پانچ قبروں والی باونڈری والی قبریں میں نے چار مختلف جگہوں پر دیکھی ہیں۔

ہم نے وہاں کچھ تصاویر بھی لیں، اور حفیظ نے ان قبروں کے حوالے سے ایک ویڈیو بھی بنائی۔ اس کے بعد ہم آگے روانہ ہوئے، کیونکہ ہمارا سفر ابھی طویل تھا۔

پہاڑ پر چڑھتے ہوئے ہمیں ایک ڈیم نظر آیا، جو تیز پانی کے بہاؤ کی وجہ سے ٹوٹ چکا تھا۔ آگے ایک سائن بورڈ ملا، جس پر ”کرچات سینٹر“ لکھا تھا، اور اس پر دو سمتوں کی نشاندہی کی گئی تھی ایک کھیرتھر پہاڑ کی طرف اور دوسری تُؤنگ شریف کی جانب۔

راستہ نہایت دشوار تھا۔ نور احمد ہمیں گائیڈ کر رہا تھا اور میں اس کی موٹر سائیکل کے پیچھے بیٹھا تھا۔ باقی ساتھی بھی انہی دشوار گذار راستوں سے گزر رہے تھے۔ نور احمد نے ایک پائپ لائن کی طرف اشارہ کیا اور بتایا کہ یہ دور سے آ رہی ہے اور جنگلی حیات کے لیے پانی فراہم کرتی ہے۔ پہاڑ کے اوپر ایک ٹینک بنا ہوا ہے، جہاں سے پانی نیچے لایا جاتا ہے۔

ہم پہاڑوں کے درمیان سے گزرتے رہے۔ کہیں کہیں کھیت نظر آتے تھے جہاں ہلکی ہریالی تھی۔ تقریباً ایک کلومیٹر سفر کے بعد ہمیں نیچے اترنا تھا، جہاں باران ندی بہہ رہی تھی۔ ابتدا میں مجھے سمجھ نہیں آیا کہ یہ ندی کہاں سے آئی، مگر بتایا گیا کہ یہ مختلف پہاڑوں کے پانی کو اپنے اندر سمیٹتی ہوئی آگے بڑھتی ہے۔ اسی ندی سے ایک دو انچ کی لوہے کی پائپ لائن کے ذریعے پانی اوپر کھینچا جاتا ہے اور مختلف ٹینکوں میں جمع کیا جاتا ہے، تاکہ جنگلی حیات کے لیے پانی کا انتظام کیا جا سکے۔

آگے ہمیں مزید کھیت اور ایک گاؤں نظر آیا۔ کچھ لوگ کھیتوں میں کام کر رہے تھے۔ اس گاؤں کے بعد ایک چھوٹا سا بازار آیا، جسے مقامی زبان میں ”اسٹاپ“ کہتے ہیں۔ وہاں کے لوگوں نے بتایا کہ یہ تُؤنگ کا بازار ہے۔ ہم نے پرانے قبرستان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ دو کلومیٹر آگے سیدھا راستہ ہے۔

کچھ فاصلے پر ہمیں برفت قبیلے کے سردار ملک اسد سکندر کا گیسٹ ہاؤس نظر آیا، جس کے دونوں طرف بڑے درخت تھے اور درمیان میں پکا راستہ اندر جا رہا تھا۔ نور احمد نے بتایا کہ یہ پرانا گیسٹ ہاؤس ہے، جبکہ قریب ہی ایک نئی عمارت بھی آگے کی طرف ہے تھی۔ ان گیسٹ ہاؤسز کو دیکھ کر ایک طرف عالی شان عمارتیں اور دوسری طرف عام لوگوں کے کچے گھر واضح تضاد دکھا رہے تھے۔ مقامی لوگ پہاڑوں میں مویشی چراتے ہوئے سادہ زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ سرداروں کی رہائشیں نہایت شاندار ہیں۔

زیادہ تر یہاں رونق صرف الیکشن کے دنوں میں ہوتی ہے، جب لوگوں کا ہجوم جمع ہوتا ہے۔ باقی دنوں میں یہ جگہیں خاموش رہتی ہیں، اور کبھی کبھار سرداروں کے مہمان یہاں قیام کرتے ہیں۔ یہ منظر ایک واضح فرق کو ظاہر کرتا ہے، ایک طرف وہ لوگ ہیں جن کے پاس مناسب رہائش تک نہیں، اور دوسری طرف ان کے سردار ہیں، جو بڑے شہروں جیسے کراچی کے پوش علاقوں (ڈیفنس، کلفٹن) یا بیرونِ ملک، مثلاً دبئی میں رہائش رکھتے ہیں۔
یہاں کے مقامی لوگ پہاڑوں میں بکریاں چراتے اور کھیتی باڑی ہوئے اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں، جہاں بنیادی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ تعلیم کی صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کرچات جیسے پہاڑی اور دشوار گزار علاقے میں اساتذہ کی تقرری ایک بڑا مسئلہ ہے۔

چار سال قبل جب پی ایس ٹی اور جی ایس ٹی کی بھرتیاں آئی بی سکھر کے توسط سے ہوئیں، تو عام طور پر 40 نمبروں پر پاس ہونے والے امیدواروں کے مقابلے میں اس علاقے کو ”اسکیٹڈ ایریا“ قرار دے کر 33 نمبروں پر بھی امیدواروں کو پاس کیا گیا۔ اس فیصلے کا مقصد یہ تھا کہ مقامی افراد کو روزگار دیا جائے اور وہ اپنے ہی علاقے میں تدریسی خدمات انجام دیں، کیونکہ باہر سے آنے والے، خاص طور پر IBA ٹیسٹ پاس اساتذہ، اس دشوار گزار علاقے میں تعیناتی قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ یہ ایک مثبت قدم ضرور تھا، لیکن اس پر عملی طور پر کتنا کام ہوا، یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ بعد میں کئی ایسے امیدواروں نے بھی کورٹ میں درخواستیں دائر کیں جن کے نمبر 40 سے کم تھے، کہ انہیں بھی اسی بنیاد پر کامیاب قرار دیا جائے تاکہ وہ بھی روزگار حاصل کر سکیں۔

اسی طرح کے مسائل ملیر کے یو سی موئیدان میں بھی دیکھنے کو ملتے ہیں، جہاں مقامی امیدواروں کی کامیابی کی شرح انتہائی کم رہی۔ کئی اسکول بند ہیں، اور 100 کلومیٹر کے اندر ایسا علاقہ ہے جہاں جانے کے لیے لوگ تیار نہیں ہوتے۔ نتیجتاً، دیگر علاقوں جیسے گڈاپ اور میمن گوٹھ سے اساتذہ کو یہاں بھیجا جاتا ہے، مگر یہ مستقل حل نہیں۔ کرچات اور اس جیسے دیگر پہاڑی علاقوں میں مقامی لوگوں کے لیے آمد و رفت نہایت مشکل ہے۔ اسی لیے اگر مقامی افراد کو ہی ترجیح دے کر بھرتی کیا جائے تو تعلیمی نظام بہتر ہو سکتا ہے۔ باہر سے آنے والے اساتذہ کے لیے یہاں مستقل طور پر خدمات انجام دینا آسان نہیں، اس لیے یہ حقیقت ہے کہ اکثریت ایسے علاقوں میں تعیناتی قبول نہیں کرتی۔ یہ تمام حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگرچہ حکومتی سطح پر کچھ اقدامات کیے گئے ہیں، مگر ان پر مؤثر عمل درآمد اب بھی ایک چیلنج ہے۔

جیسے ہی ہم بازار سے آگے بڑھے، پہاڑوں کے درمیان ایک وسیع و عریض قبرستان نظر آیا، جو جام لوہار سے منسوب ہے۔ یہ قبرستان ایک باقاعدہ چار دیواری کے اندر واقع تھا، جو اس کی تاریخی اہمیت اور تقدس کو ظاہر کرتا تھا۔

(جاری ہے)


Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button