ایک تصویر ایک کہانی (18)

تحریر: گل حسن کلمتی

آج جو تصویر آپ سے شیئر کر رھا ہوں، یہ بمبئی کے گورنر سر لیسلی ولسن (Sir Leslie Orme Wilson-(1876-1955) کی ہے. آج کی کہانی اس کے نام سے جڑے ایک اھم اور تاریخی ادارے کی ہے۔ جسے لوگ ”جناح کورٹس“ کے نام سے جانتے ہیں۔

Sir Leslie Orme Wilson

جناح کورٹس کا اصل نام ”کیسلی ولسن مسلم ھاسٹل“ ہے۔ تقسیم کے بعد اس کا نام تبدیل کر کے ”جناح کورٹس“رکھا گیا۔
یہ ھاسٹل کچپری روڈ پر ہے، اس روڈ کا نیا نام ضیاالدین روڈ ہے۔

1925 کی بات ہے جب سندھ کے لوگوں خاص طور پر مسلمانوں نے یہ خیال ظاھر کیا کہ سندھ کے باقی اضلاع سے کراچی پڑھنے کے لیے آنے والے طلبا کو رھائش کا مسئلہ پیش آتا ہے. اس مسئلے کے حل کے لیے کوششیں شروع کی گئی. اس وقت لیسلی ولسن بمبئی کے گورنر تھے، اس نے عمارت کے لیے زمین الاٹ کی تو فنڈ کا مسئلہ سامنے آیا. فنڈ جمع کرنے کے لیے سندھ بھر میں سے چندہ اکٹھا کیا گیا، خیر پور ریاست کے ٹالپروں نے چندہ دینے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

جون 1932ع میں سنگ بنیاد رکھا گیا اور جون 1933ع میں یہ عمارت مکمل ہوئی، اس کی تعمیر پر اس وقت 189,00 روپے لاگت آئی. اس کا افتتاح سر لیسلی ولسن نے کیا. چونکہ لیسلی ولسن نے اس ھاسٹل کے تعمیر میں مدد کی تھی، اسی لیے اس ھاسٹل کا نام ”لیسلی ولسن مسلم ھاسٹل” رکھا گیا.

کیسلی ولسن افتتاح کے وقت آسٹریلیا میں کوئینز لینڈ کا گورنر تھا۔ لیسلی ولسن 1923ع سے 1926ع تک بمبئی کا گورنر رھا۔ ھاسٹل کے افتتاح کے وقت بمبئی کا گورنرLord Brabourne,Michael Knatchbull تھا.

1945ع میں اس پرائیوٹ ادارے کے لیے حکومت کے اشتراک سے ایک مینجمینٹ کمیٹی تشکیل دی گئی ، مشہور ماھر تعلیم سید غلام مصطفیٰ شاہ صاحب کو اس ھاسٹل کا سپرنٹنڈنٹ مقرر کیا گیا. علامہ آئی آئی قاضی بھی اس کمیٹی کے سربراہ رہے ہیں. قاضی صاحب تقسیم سے پہلے ھر جمع نماز کا خطبہ دینے اور لیکچر دینے  آتے تھے. مولانا ابوالکلام آزاد بھی کبھی کبھی شریک ہوتے تھے. ابوالکلام آزاد اور محمد علی جناح تقسیم سے پہلے اس ھاسٹل میں  آئے تھے.

اگرچہ کلچر ڈپارٹمنٹ حکومت سندھ کی جانب سے اسے قومی ورثہ قرار دیا جا چکا ہے، لیکن تاریخی اہمیت کا حامل یہ ھاسٹل ایک عرصے سے رینجرز کے حوالے ہے.

گل حسن کلمتی کالمز:

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close