رند و لاشار جنگ کے سندھ پر اثرات

غلام رسول کلمتی

نوٹ: یہ مقالہ سندھ نیشنل میوزیم حیدرآباد میں 6 اپریل 2015ع کو سندھ کے نامور محقق اور ادیب ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کی چہارمی برسی کے موقع پر پڑھا گیا، جسے ہم اس کی اہمیت کے پیشِ نظر سنگت میگ میں مقالہ نگار کی اجازت کے ساتھ شائع کر رہے ہیں.

یہ اقدام انتہائی قابل ستائش ہے کہ سندھ کے عظیم سپوت ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کی یاد میں ہر سال ۶ اپریل کو ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا جاتا ہے ۔ قوم کو اپنی عظیم شخصیتوں کو اسی طرح یاد کرنا چاہیے ۔ عام طور پر ایسی تقاریب کو مردہ پرستی کا طعنہ بھی دیا جاتا ہے، لیکن میرے خیال میں ایسی تقاریب کا انعقاد نئی نسل کی تربیت کا ایک اہم جز ہوتا ہے ۔ ایسی ہی تقاریب علمی کاروان کو منزل کی طرف گامزن کرنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔

اس بات میں شک نہیں کہ ڈاکٹر بلوچ صاحب نے سندھ کے علمی و ادبی میدان میں، خاص طور پر تاریخ ، لوک ادب میں ناقابل فراموش خدمات سر انجام دیں ، کوئی بھی باشعور شخص کسی بھی طرح بلوچ صاحب کی خدمات سے انکار نہیں کرسکتا ۔ ڈاکٹر صاحب نے تاریخ و ادب کے مختلف میدانوں میں تحقیق کے سائنسی انداز کو متعارف کرایا اور انہیں عام لوگوں تک پہنچایا۔ البتہ جس چیز کو میں آپ لوگوں کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں، اس سلسلے میں ڈاکٹر صاحب ارادہ ضرور رکھتے تھے کہ چند اہم چیزیں لوگوں تک پہنچیں ،اس بات کا اظہار انہوں نے ایک بلوچی ماہنامہ میں اپنے انٹرویو میں بھی کیا تھا اور جب مجھے ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا تو اسی بات کا ذکر انہوں نے مجھ سے بھی کیا تھا۔ لیکن وہ چیز تحریری طور پر سامنے نہیں آ سکی ۔ وہ موضوع ہے: رند و لاشار کی طویل جنگ کے سندھ پر کیا اثرات مرتب ہوئے؟

ڈاکٹر بلوچ نے بلوچ تاریخ اور خاص طور پر رند – لاشار کے درمیان کشمش کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ ممکن ہے ڈاکٹر صاحب کو دیگر مصروفیات کی بنا پر اس ارادے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا وقت نہ ملا ہو۔
رند و لاشار کی تیس سالہ جنگ سندھ و بلوچستان کے خطے میں ایک تاریخی جنگ ہو گزری ہے ۔ اس جنگ کا زمانہ پندرہویں صدی سے لے کر سولہویں صدی عیسوی ہے ۔ یہ جنگ بلوچستان کے علاقے سیوی یا سیبی سے شروع ہوئی اور اس کا خاتمہ اس پہاڑی سلسلے میں ہوا، جسے چچ نامہ میں ”کردوں کاپہاڑ“ کہا گیا ہے، یعنی دریائے سندھ کے مغربی حصے کا پہاڑی سلسلہ ۔ اس خطے میں بلوچوں کے دو طاقتور قبائل کے درمیان ایک طویل جنگ لڑی گئی. روایات کے مطابق یہ جنگ بی بی گوہر نامی ایک مالدار عورت کے اونٹوں پر شروع ہوئی۔ بی بی گوہر ایک مالدار عورت تھی جس کے پاس اونٹ اور بکریاں ھزاروں کی تعداد میں تھیں۔

بی بی گوہر کا تعلق بلوچستان کے مغربی علاقہ راپچ سے تھا ۔ بلوچ تاریخ میں بیشتر جگہوں پر بی بی گوہر کے نام کے ساتھ مہیری کا لبز /لفظ شامل ہے ، اوربلوچ تاریخ میں اس کے ساتھ شامل لوگوں دوسرے لوگوں کو راپچی کہا گیا ہے ۔ جس سے یہ بات واضح ہے کہ بی بی گوہر خود مہیری تھی ۔ وہ میر رادَو کی بیٹی تھی. میر رادَو کی کوئی نرینہ اولاد نہ تھی، اس لیے اس نے تمام اختیارات اپنی بیٹی بی بی گوہر کے سپرد کئے تھے۔ بی بی گوہر اور اس کے قبیلے دوسرے افراد شروع سے لاشاریوں کے ساتھ تھے، بی بی گوہر مالدار ہونے کے ساتھ خوبصورت بھی تھی (بیشتر روایتوں میں وہ بیوہ تھی، اس کا ایک بیٹا بھی تھا) میر گوہرام کا ارادہ تھا کہ وہ اس سے شادی کرے ۔ جب میر گوہرام نے بی بی گوہر کے سامنے دو شرائط رکھیں کہ بی بی گوہر ان سے شادی کرے بصورت دیگر وہ ٹیکس اور مالیہ ادا کرے۔ لیکن بی بی گوہر نے اسے اپنا بھائی قرار دے کر شادی سے انکار کردیا اور وہ میر گوہرام سے ناراض ہوکر اپنے دیگر لوگوں کے ساتھ رند سردار میر چاکر کے علاقے میں چلی گئی۔ بی بی گوہر کے ساتھ اس کے راپچی ملازمین اور ان کے رشتہ دار بھی میر گوہرام کو چھوڑ کر چلے گئے ۔ بی بی گوہر جب میر چاکر کے پاس گئی، تب میر گوہرام کو یہ احساس ہوا کہ وہ بہت بڑی غلطی کا مرتکب ہوا ہے ۔ اسی دوران میر گوہرام کے بیٹے رامین نے اسے اپنی باپ کی بے عزتی سمجھ کر (ایک تقریب سے آتے ہوئے) بی بی گوہر کے اونٹوں کے بچوں کو تہہ تیغ کیا، جس کے بعد میر چاکر نے اس حملے کا بدلہ لینے کے لیے میر گوہرام پر حملہ کیا اس طرح ایک طویل جنگ کا آغاز ہوا ۔

رند و لاشاری قبائل کے درمیان اس جنگ کے سندھ پر کیا اثرات پڑے ، اسے بیان کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ راپچی کون ہیں، جو میر رادَو کی بیٹی بی بی گوہر کے ساتھ تھے؟

◾راپچی اورمہیری کون؟

ڈاکٹر بلوچ صاحب کی کتاب ”جتکی بولی“ جو کہ جت بلوچوں کی تاریخ اور ان کی زبان پر ہے ، اس کتاب میں آپ کو ایک لفظ ”راوچی “نظر آئے گا، جو بلوچوں کے جت قبیلے کی ایک بہت بڑی شاخ ہے ۔ ”راوچی“ در اصل ”راپچی“ سے تبدیل ہوکر ”راوچی“بنا ہے (یہ راوشی بھی کہلاتے ہیں) ۔ راپچ مغربی بلوچستان میں جگین سے آگے ایک علاقہ ہے ۔ راپچی
جتوں کو راپچ کی نسبت سے یہ نام دیا گیا ہے۔ یعنی راوچی جت بلوچوں کا آبائی علاقہ ”راپچ “ہے، جہاں سے یہ لوگ لاشاریوں کے سردار میر گوہرام کے والد نودبندگ کے ساتھ آکر مل گئے تھے۔ اس طویل سفر میں وہ مسلسل لاشاریوں کے ساتھ رہے ۔ یہاں تک میر گوہرام لاشاری کے اس قدم سے وہ ناراض ہوکر رندوں سے جاکر ملے ۔ اور بعد میں رندوں سے بھی علیحدہ ہوکر کوہ باران (کراچی کے شمالی میں پہاڑی سلسلہ) میں آکر آباد ہوئے ۔ بی بی گوہر خاندان کے لوگ خود کو مہیری کہلاتے ہیں اور سندھ کے جنوبی علاقے میں بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ وہ آج بھی اس بات پر قائم ہیں کہ مہیری بلوچ ہیں اور کلمتی قبیلے کی ایک اہم شاخ ہے۔

◾گوھرام کی امیدِ ناتمام:

راپچی جتوں کے میر گوہرام لاشاری سے علیحدگی اور میر چاکر رند کے ساتھ جاکر شامل ہونے سے لاشاری افرادی قوت کی کمی کا شکار ہوئے ۔ اس دوران میر گوہرام نے سندھ کے سمّہ قبیلے سے تعلقات استوار کئے ۔ سندھ کے اُس وقت کے حاکموں نے اپنی فوجی قوت کو مستحکم رکھنے اور ہمسایہ دشمنوں سے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے نہ صرف بڑی تعداد میں بلوچوں کو اپنے لشکر میں شامل کیا تھا، بلکہ فوج کے اعلیٰ عہدے بھی ان کے سپرد کئے گئے تھے۔ ان بلوچوں میں بڑی تعداد لاشاریوں کی بھی تھی، جو اعلیٰ فوجی عہدوں پر فائز تھے، جن میں عظیم کماندار مبارک خان جسے عرف عام میں دولھہ دریا خان کہا جاتا ہے ، جو اس وقت کے آرمی چیف کے عہدے پر تھا۔ اسی بنیاد پر لاشاری سردار میر گوہرام نے سمّہ حاکم سے اچھے تعلقات قائم کئے ، انہیں یہ خوش فہمی تھی کہ مشکل وقت میں سمّہ حکمران ان کا ساتھ دیں گے۔ میر گوہرام نے سمّہ حکومت سے امیدیں وابستہ کی تھیں. وہ اپنی ایک نظم میں کہتا ہے کہ:
شاہ منا باری یے بہ دنت روچے
( اللہ تعالی میرے حق میں وقت پھیر دے)
من سمّہ ءُ بٹیانی رہچار آں
(میں سمّہ اور بٹّیوں کا منتظر ہوں)
ننگرءِ پئوجاں سرا زیراں
(ننگر(ٹھٹہ) سے فوج لے کر آؤں گا)
من ترا جلّکی بہ تَرّیناں
(میں تجھے جلّک کی طرح گھماؤں گا)
آساں پہ چامپولی ماندار آں
(اور ایسی آگ لگاؤں گا)
اگراں گْرانیں لوگ مگیمانی
(تیرے امراء کے گھروں میں)
توسگءَ دِلّی ءِ تُرک دلیکیم بنت
(جسے دہلی کے ترک(مغل) بھی نہ بجھا سکیں گے)

دوسری طرف سردار میر چاکر رند نے افغانیوں کو ترجیح دینا شروع کی، ان افغانیوں کو بلوچ تاریخ میں ترک کہا گیا ہے کیونکہ افغانستان کے شمال مغربی حصے پر جو اقوام آباد ہیں، وہ دراصل ترک ہیں ۔بلوچی زبان کی قدیم نظموں میں انہیں اکثر و بیشتر جگہوں پر ترک کہا گیا ہے. بہت کم جگہ انہیں اوگانی کہا گیا ہے ۔ میر گوہرام کے جواب میں چاکر کہتاہے کہ
شہ ھریب گرانیں لشکرے کاراں
(میں ھِرات سے بھاری لشکر لاؤں گا)
چہ سرگ گْونڈیں چیدگے بنداں
(سروں کا ایک مینارہ بناؤں گا)
اچ پدا چُک چین ءُ مُگل روپ بنت
(یہ مُغل سفاک اور ظالم)
تئی گْوانزگی تپلانءَ نہ پرداچاں
(پنگوڑوں کے بچوں پر ترس نہ کھائیں گے)
مات پہ چُکّ ءُ چُکّ پرا ماتاں
(ماں بچوں کے لیے اور بچے ماؤں کے لیے)
چوکپوتاں کُوکُو کننت پاساں
(اس طرح ترسیں گے، جس طرح فاختائیں)

یہ تمام واقعات بلوچی زبان کے قدیم نظموں میں محفوظ ہیں۔
دونوں ناعاقبت اندیش اور بلوچ قوم کو تباہی سے دوچار کرنے والے سرداروں، میر چاکر رند اور میر گوہرام کے درمیان سرد جنگ بالآخر ”سِلاہی جنگ“ چھڑنے پر منتج ہوئی۔ ویسے تو کئی جنگیں ہوئیں، لیکن نلی کے مقام پر خوفناک جنگ ہوئی، جس میں میر چاکر کو کافی نقصان اٹھانا پڑا ۔ میر چاکر سیبی چھوڑ کر قندھار چلا گیا ۔ کچھ عرصہ وہاں رہنے کے بعد وہ افغان ترکوں کا ایک لشکر کثیر لے کر بلوچستان پر حملہ آور ہوا ۔ ساون کا موسم تھا اور نصف رات گزر چکی تھی کہ لاشاریوں نے محسوس کیا کہ بھاری آوازوں کی گھن گرج سنائی دے رہی ہے ۔ پہلے تو وہ یہ سمجھے کہ شاید بادلوں کی کڑک و چمک ہو، لیکن بہت جلد انہیں پتہ چلا کہ افغان ترک میر چاکر رند کی سرکردگی میں حملہ آور ہوئے ہیں. لیکن وقت گزرچکا تھا، افغان ترکوں کا لشکر سر پر پہنچ چکا تھا. اب لاشاریوں کے پاس دو راستے تھے کہ وہ یا تو راہ فرار اختیار کریں یا دشمن کے سامنے ڈٹ کر بلوچی روایات پر قربان ہوجائیں۔ لاشاری مقابلے پر ڈٹ گئے ۔ آخرکار لاشاریوں کو شکست ہوئی اور رند افغان ترکوں کی مدد سے فتح مند ہوئے ۔ اس جنگ میں لاشاریوں کا قتل عام ہوا اور بہت کم لوگ زندہ رہ گئے ۔ افغان ترک تمام مال و اسباب لوٹ کر اپنے ساتھ لے گئے ۔ یہاں تک کہ کوئی تنکا بھی انہوں نے رہنے نہ دیا۔

میر چاکر کے افغانستان جانے کے بعد میر گوہرام کو معلوم تھا کہ میر چاکر افغان لشکر کے ساتھ حملہ کرے گا، میر گوہرام کی والدہ بار بار اسے تاکید کرتی رہی کہ چاکر کی طرف سے بے خبر نہ رہنا ۔ اس دوران میر گوہرام نے سمّہ اور بھٹیوں سے جو امیدیں وابستہ کی تھیں، وہ پوری نہ ہوسکیں ۔ ننگر (ٹھٹہ) کی فوجیں آخر تک میر گوہرام کی مدد کو نہ آئیں اور میر گوہرام کو ناقابل بیان نقصانات اٹھانا پڑے۔ ممکن ہے دولھ دریا خان کی سمّہ حکومت سے ناراضگی اور عہدے سے دست برداری میں یہ پہلو بھی شامل ہو، اگرچہ بات تحقیق طلب ہے لیکن اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بہرحال اس جنگ میں نہ صرف میر گوہرام کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، بلکہ ارغونوں اور لاشاریوں کی جنگ پہاڑوں سے نکل کر سندھ کے میدانی علاقوں میں پھیل گئی تھی ۔ دونوں طاقتوں کے درمیان مختلف اوقات میں جھڑپیں ہوتی رہیں۔ میر گوہرام کا بیٹا رامین اور رامین کا بیٹا سہاک (اسحاق) بھی سندھ میں ارغونوں سے مقابلے میں شہید ہوئے ۔

◾سندھ پر اثرات:

افغانستان کے ترک قبائل عرصہ دراز سے سندھ پر نظریں جمائے ہوئے تھے ، وہ ہمیشہ تاک میں رہتے کہ کب سندھ پر دسترس حاصل کریں ، خاص طور پر پندرہویں اور سولہویں صدی عیسوی میں ۔ سندھ ان دنوں فوجی لحاظ سے کافی مستحکم تھا۔ جام نظام الدین کا بااعتماد سپہ سالار مبارک خان جسے عرف عام میں دولھ دریا خان کے نام سے جانا جاتا ہے ، اسے ان بلوچوں کی تائید و حمایت حاصل تھی جو کہ سندھ کے مغرب، جنوب اور شمالی سرحد پر آباد تھے۔
میر چاکر رند کی افغانی ترکوں کا لشکر لے کر لاشاریوں پر حملہ کرنے اور لاشاریوں کو شکست دینے کے بعد جب لاشاری سندھ کے میدانی علاقوں میں چلے آئے، تو افغانی ترکوں کو پیش قدمی کا سنہرا موقع بھی ملا ۔ یہی افغانی ترک ”ارغون“ اور ”ترخان“ کے نام سے سندھ میں داخل ہوئے ۔ لاشاری سندھ کے مختلف علاقوں میں خاص طور پر گجرات جو کہ موجودہ وقت میں ھندوستان کا حصہ ہے ، اور ننگر کے علاقے میں پھیل گئے ۔ لیکن ارغونوں اور ترخانوں نے یہاں بھی ان کا پیچھا نہ چھوڑا، بلکہ یہاں تک کہ انہوں نے مجموعی طور پر بلوچوں کا قتل عام شروع کیا ۔سندھ میں ارغون اور ترخانوں کا زمانہ ”بلوچ کُش دَور“ ثابت ہوا۔

میر گوہرام کو میر چاکر رند اور افغان ترکوں نے مل کر شکست دی اور ان کی طاقت ختم ہوئی ۔ میرگوہرام کے شکست کے سندھ پر کافی اثرات پڑے۔ میر گوہرام کے شکست کے بعد ارغونوں کو سندھ میں داخل ہونے کا سنہری موقع ملا اور دولھ دریا خان کی شہادت نے ان کی راہ مزید ہموار کردی ۔ سندھ پر قبضے کے لیے ارغونوں کی راہ ہموار کرنے میں جام نندہ کے جانشینوں نے اہم کردار ادا کیا. کیوں کہ انہوں نے ارغونوں کو اپنے دربار تک رسائی دی۔ اگر سمّہ سرکار اس وقت کے حالات کی نزاکت کو سمجھتی اور گوہرام کی بروقت مدد کرتی تو گوہرام کی طاقت برقرار رہتی ۔کم از کم ارغون اور ترخانوں کو سندھ میں اس طرح گھس کر آسانی سے حکومت ہاتھ میں لینے کا موقع ہر گز نہ ملتا اور نہ ہی سمّہ حکومت ارغونوں کے ہاتھوں ختم نہ ہوتی.

تاریخ بارے کالمز:

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close