کچھ لوگوں میں چینی/شوگر چھوڑنے پر منفی اثرات کی وجہ کیا ہے؟

جینز براؤن

ممکن ہے آپ کے لیے یہ بات حیران کن ہو کہ 2008 سے چینی/شوگر کے استعمال میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔ ایسا ہونے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جیسا کہ ذائقوں اور طرز زندگی میں تبدیلی اور گذشتہ دہائی میں کیٹوجینی یعنی کم نشاستے والی غذاؤں کا مقبول ہونا

چینی کے استعمال میں کمی کی سب سے اہم اور بڑی وجہ اس کے حد سے زیادہ استعمال کے نتیجے میں صحت کو لاحق خطرات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی  ہے

چینی کا کم استعمال صحت پر واضح طور پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے، جس سے کیلوریز کم لی جاتی ہیں، اس کی بدولت وزن میں کمی لانے اور دانتوں کی صحت بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے

لیکن بعض اوقات اس کے برعکس نتائج بھی سامنے آتے ہیں، کیونکہ یہ بات بھی مشاہدے میں آئی ہے کہ کچھ لوگ جب چینی کا استعمال کم کرنا شروع کرتے ہیں تو ان میں اس کے منفی ضمنی اثرات جنم لیتے ہیں، جیسا کہ سر درد، تھکاوٹ یا موڈ میں تبدیلی وغیرہ، جو عام طور پر عارضی ہوتے ہیں۔ ان ضمنی اثرات کی وجہ کو اب تک ٹھیک سے نہیں سمجھا جا سکا

لیکن ان علامات کا تعلق نشاستہ دار خوراک کے مقابلے میں دماغ کے ردعمل کے انداز اور ’محرک‘ کی بیالوجی سے ہونا ممکن ہے

کاربوہائیڈریٹس یا نشاستہ دار غذائیں کئی صورتوں میں آتی ہیں، جن میں چینی شامل ہے، جو کھانے پینے کی کئی اشیا میں قدرتی طور پر پائی جاتی ہے، جیسا کہ پھلوں اور دودھ میں پائی جانے والی مٹھاس

عام استعمال کی چینی، جسے سوکروز کے نام سے جانا جاتا ہے مختلف اجناس میں پائی جاتی ہے. مثلاً : گنا، چقندر، میپل کے درخت سے نکلنے والا شیرا، شہد

آپ تو جانتے ہی ہیں کہ کھانے پینے کی اشیاء کی بڑے پیمانے پر تیاری اب ایک معمول بن چکی ہے۔ ان اشیاء کو مزید مزیدار بنانے کے لیے ان میں سوکروز یا دوسری شکل میں دسیتاب چینی کا اضافہ کیا جاتا ہے

ذائقے سے آگے کی بات کریں تو اور زیادہ چینی والی خوراک کے دماغ پر بیالوجیکل اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ اثرات اتنے اہم ہیں کہ ان پر بحث کی گئی ہے کہ آیا ہم چینی کی’لت‘ میں بھی مبتلا ہو سکتے ہیں؟ تاہم اس حوالے سے ابھی تحقیق ہو رہی ہے

تاہم یہ جاننا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ چینی منہ میں موجود مٹھاس محسوس کرنے کی صلاحیت رکھنے والے خلیوں کو متحرک کرتی ہے، جس کا بالآخر نتیجہ دماغ میں ڈوپامین نامی کیمیاوی مادے کے اخراج کی شکل میں نکلتا ہے

واضح رہے کہ ڈوپامین ایک نیوروٹرانسمٹر ہے یعنی یہ دماغ میں اعصاب کے درمیان پیغامات کے تبادلے کا کام کرتا ہے۔ جب ہمارا سامنا تحریک دینے والی کسی شے سے ہوتا ہے، تو دماغ ڈوپامین خارج کر کے ردعمل ظاہر کرتا ہے، جسے اکثر ’تحریک دینے والا‘ کیمیکل کہا جاتا ہے. زیادہ تر اس کے اثرات دماغ کے اس حصے پر دیکھے گئے ہیں جس کا تعلق لطف اٹھانے اور تحریک دینے سے ہے

تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ تحریک کا سبب بننے والی کھانے کی اشیاء ہمارے رویے کو کنٹرول کرتی ہیں، یعنی ہمارا رجحان ان رویوں کو دہرانے کی طرف ہو جاتا ہے، جو ڈوپامین کے اخراج کا سبب بنے. یہی وجہ ہے کہ ڈوپامین ہمیں کھانے پر اکساتا ہے.. مثال کے طور پر ذائقے میں اچھی لیکن نقصان دہ خوراک…

اب تک جانوروں اور انسانوں دونوں پر کیے گئے تجربات سے ظاہر ہوا ہے، کہ چینی تحریک کے اس عمل پر بہت حد تک اثر انداز ہوتی ہے

انسانی جسم میں تحریک کا سبب بننے کے معاملے میں تیز مٹھاس کوکین سے بھی بڑھ کر ہے۔ مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ چینی دماغ میں تحریک کے سبب کی صلاحیت رکھتی ہے، چاہے اسے کھایا جائے یا ٹیکے کی شکل میں جسم میں داخل کیا جائے

ایسا چوہوں پر کی گئی تحقیق سے ظاہر ہوا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ چینی کے اثرات کا تعلق اس کے میٹھا ہونے کے ساتھ نہیں

چوہوں کے معاملے میں ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ چینی کا استعمال دراصل دماغ کی ان ساختوں کو تبدیل کر سکتا ہے جنہیں ڈوپامین متحرک کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی چینی جانوروں اور انسانوں دونوں میں جذباتی عمل اور رویے میں تبدیلی لاتی ہے

اب آتے ہیں چینی کا استعمال کم یا بند کرنے کے معاملے پر…. یہ تو واضح ہے کہ چینی ہم پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے، اس لیے جب ہم اس کا استعمال کم کر دیتے ہیں یا اسے اپنی خوراک سے مکمل طور پر نکال دیتے ہیں تو اس کے منفی اثرات نظر آنے پر حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے

’چینی کا استعمال ترک‘ کرنے کے بعد ابتدائی مرحلے میں دماغی اور جسمانی دنوں طرح کی علامات رپورٹ کی گئی ہیں، جن میں ڈپریشن، بے چینی، دماغ میں دھند کا چھانا، شدید نوعیت کی طلب، سر درد، تھکاوٹ اور چکر آنے جیسی علامات شامل ہیں

اس کا مطلب ہے کہ چینی کا استعمال ترک کرنے کا تجربہ دماغی اور جسمانی دونوں طرح سے ناخوشگوار ثابت ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ خوراک میں تبدیلی پر قائم نہیں رہ سکتے

ان علامات کی وجوہات پر ابھی تک تفصیلی تحقیق نہیں کی گئی لیکن ایسا ممکن ہے کہ ان علامات کا تعلق دماغ میں ان نظاموں کے ساتھ ہو جو محرک سے رابطے میں آتے ہیں

اگرچہ ’چینی کی لت‘ میں مبتلا ہونے کا نظریہ متنازع ہے، لیکن چوہوں میں پائے گئے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ عادت کا سبب بننے والے کسی بھی دوسرے مواد کی طرح چینی میں بھی یہ صلاحیت موجود ہے کہ اسے چھوڑنے پر اس کے استعمال کی شدید خواہش اور بے چینی پیدا ہو جائے

جانوروں پر کی گئی ایک اور تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ’چینی کی لت، اسے چھوڑنا اور دوبارہ استعمال کرنے لگنا.. ایسا ہی ہے، جیسے منیشات کے معاملے میں ہوتا ہے۔ لیکن اس سلسلے میں زیادہ تر جانوروں پر تحقیق کی گئی ہے اور اس وقت یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا انسانوں کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے؟

ارتقا کے عمل سے انسانی دماغ میں تحریک کا سبب بننے والی کسی شے کے لیے رابطے کے نظام تبدیل نہیں ہوئے اور ایسا ممکن ہے بہت سے دوسرے جانداروں کے دماغ میں بھی اس محرک کے لیے رابطے کے وہی نظام ہوں

دماغ کے کیمیاوی توازن میں تبدیلی تقریباً لازمی طور پر ان علامات کا سبب ہوتی ہے، جو ان لوگوں میں رپورٹ کی جاتی ہیں جو چینی کا بطور خوراک استعمال بند یا کم کر دیتے ہیں

محرک کے ساتھ تعلق ہونے سمیت ڈوپامین ہارمونز، متلی، الٹی اور بے چینی کو بھی کنٹرول کرتا ہے۔ جب چینی خوراک سے نکل جاتی ہے تو اس کے نتیجے میں ڈوپامین کی مقدار میں تیزی سے ہونے والی کمی کے دماغ میں اثرات سے ممکن ہے کہ دماغ کے مواصلاتی رابطے کے مختلف نظاموں کے معمول کے مطابق کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہو

اگرچہ چینی کا استعمال ترک کرنے کے انسانوں پر اثرات پر کی گئی تحقیق کا دائرہ محدود ہے، لیکن ایک تحقیق نے موٹے اور بھاری بھرکم بالغ افراد کی خوراک سے چینی نکالے جانے پر مرتب ہونے والے اثرات اور چینی کے استعمال کی شدید خواہش کے بارے میں شواہد فراہم کیے ہیں

جیسا کہ خوراک میں تبدیلی پر قائم رہنا ہی مسئلے کا حل ہے، اس لیے اگر آپ طویل عرصے کے لیے چینی کو خوراک سے کم کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے شروع کے چند مشکل ہفتوں میں ثابت قدمی ضروری ہے

تاہم یہ اعتراف کرنا بھی اہمیت کا حامل ہے کہ بذات خود چینی کا استعمال ’برا‘ نہیں لیکن اسے صحت مند خوراک کے حصے کے طور پر اعتدال کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے اور ساتھ ورزش بھی کرنی چاہیے

نوٹ اس مضمون کے لکھاری جیمز براؤن، ایسٹن یونیورسٹی میں بیالوجی اور بائیومیڈیکل سائنس کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ یہ مضمون ’دا کنورسیشن‘ سے ترجمہ کرکے، ادارے کے شکریے ساتھ  یہاں شایع کیا گیا.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close