مون سون کا موسم ابھی تھما نہیں, اگست میں ملک بھر میں شدید بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہو گا:محکمہ موسمیات

ویب ڈیسک

محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ اگست میں ملک بھر میں شدید بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہو گا. بلوچستان، سندھ، خیبرپختونخوا، جنوبی پنجاب، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے بیشتر علاقوں میں موسلادھار بارش کی پیش گوئی ہے.

محکمہ موسمیات کی جانب سےجاری انتباہ میں مزید کہا گیا ہے کہ موسلا دھار بارش سے کراچی، ٹھٹھہ، بدین، حیدرآباد، دادو، جامشورو، سکھر، لاڑکانہ، شہید بینظیر آباد اور میرپورخاص میں 11 سے 13 اگست تک سیلابی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے

قلعہ سیف اللہ، لورالائی، بارکھان، کوہلو، موسیٰ خیل، شیرانی، سبی، بولان، قلات، خضدار، لسبیلہ، آواران، تربت، پنجگور، پسنی، جیوانی، کوہاٹ، صوابی، نوشہرہ، مردان، پشاور، کرک، بنوں، ٹانک اور وزیرستان میں بھی سیلاب کا امکان ہے

پنجاب کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان ہے تاہم بھکر، لیہ، ساہیوال، بہاولنگر، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، ملتان اور رحیم یار خان میں بارش کا امکان ہے

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بارش سے کشمیر، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں لینڈ سلائیڈنگ ہوسکتی ہے

علاوہ ازیں محکمہ موسمیات نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کے اجلاس میں خبردار کیا کہ اس موسم میں پورے ملک میں معمول سے زیادہ بارشیں ہوں گی

پارلیمنٹ لاجز میں سینیٹر سیمی ایزدی کی زیر صدارت اجلاس میں کمیٹی کو چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے سیلاب اور اربن فلڈنگ کے خطرے پر بھی بریفنگ دی

وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن نے کہا کہ یہ صورتحال معمول بن جائے گی اور ملک کا مجموعی انفراسٹرکچر ایسی آفات کے لیے تیار نہیں ہے جس سے شدید انسانی بحران جنم لے گا

انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ موسمیات کی واضح وارننگ کے باوجود صوبائی حکومتوں کے پاس ریلیف اور ریسکیو کی صلاحیت کا فقدان ہے

تاہم وزارت موسمیاتی تبدیلی کے سیکریٹری آصف حیدر شاہ نے یہ دعویٰ کیا کہ محکمہ موسمیات جدید آلات کی کمی کی وجہ سے بعض علاقوں میں موسم کی حتمی انداز میں پیش گوئی نہیں کر سکتا۔

کمیٹی نے متفقہ طور پر اس بات سے اتفاق کیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان اور قانون سازی کی ضرورت ہے

چیئرمین این ڈی ایم اے نے کمیٹی کو بتایا کہ اتھارٹی نے 11 ہزار 639 امدادی سرگرمیاں شروع کی ہیں جبکہ سیلاب سے متاثرہ 23 ہزار 61 افراد کے لیے 78 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ جون سے اب تک بارشوں سے متعلقہ حادثات میں 575 اموات ہوئیں جن میں سے 176 بلوچستان میں، 127 سندھ اور 119 پنجاب میں ہوئیں جبکہ 939 افراد زخمی ہوئے

بلوچستان میں مزید بارشیں
گزشتہ روز شمالی، وسطی اور جنوبی بلوچستان کے علاقوں میں مون سون بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا۔

حکام نے بتایا کہ چمن، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، پشین، زیارت، ہرنائی، لورالائی، بارکھان، ژوب، سبی، نصیر آباد، نوشکی، ٹوبہ اچکزئی، مستونگ، قلات، خضدار، سوراب، بولان، سنجاوی، مختار اور لسبیلہ میں دن بھر وقفے وقفے سے بارش جاری رہی

کوئٹہ میں بھی سہ پہر 2 گھنٹے تک تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارش ہوئی جس کے نتیجے میں نشیبی علاقوں میں سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہوگئی، ان علاقوں میں سڑکیں زیر آب آ گئیں جبکہ بارش کا پانی گھروں میں داخل ہو گیا

ریسکیو حکام اور کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کی ٹیموں نے فوری طور پر ان علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کر دیں

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اگرچہ کچھ کچے مکانات کو نقصان پہنچا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے محکمہ موسمیات کی جانب سے طوفانی بارشوں کے ایک اور اسپیل کی پیش گوئی کے بعد سیلاب کی وارننگ جاری کر دی

ضلعی انتظامیہ کو لوگوں کو نالے اور ندیوں کے قریبی علاقوں سے دور منتقل کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close