بھارتی دواساز کمپنی پر گیمبیا میں درجنوں بچوں کی ہلاکت کا جرم ثابت

ویب ڈیسک

افریقی ملک گیمبیا میں پارلیمانی انکوائری کمیٹی نے کھانسی کے شربت سے ستر بچوں کی ہلاکت کے جرم میں بھارتی دوا ساز کمپنی پر مقدمہ چلانے کی سفارش کردی ہے

ادہر نیپال نے عالمی ادارہ صحت کے ضوابط پر عمل درآمد نہ کرنے کی بنا پر سولہ بھارتی کمپنیوں کی ادویات پر پابندی لگا دی ہے

غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق گیمبیا میں بھارتی سیرپ سے ستر بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔ پارلیمانی کمیٹی نے دہلی کی فارما کمپنی میڈن فارماسیوٹیکل کے خلاف خراب دوا بیچنے پر قانونی کارروائی کے لیے زور دیا ہے

کمیٹی نے کئی ہفتوں کی تحقیقات کے بعد رپورٹ میں بھارتی کمپنی کی تمام ادویات پر پابندی لگانے اور اس کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اس سیرپ سمیت بھارت میں بننے والی چار دواؤں سے متعلق الرٹ جاری کرتے ہوئے ان پر پابندی کا حکم دیا ہے۔ ادارے نے کہا کہ ان ادویات میں ایسے کیمیکلز ہیں، جو انسانی جان کے لیے زہر ہیں

واضح رہے کہ گیمبیا میں بھارتی دوا پینے سے بچوں کے گردے میں شدید زخم ہو گئے تھے، جس کے نتیجے میں ستر بچے ہلاک ہو گئے

دوسری جانب مذکورہ دوا ساز کمپنی میڈن فارما نے الزامات کی تردید کی ہے۔ جبکہ بھارت میں سرکاری لیبارٹریز سے اس کمپنی کی دواؤں کے ٹیسٹ کیے گئے، جن میں ان ادویات کے ٹھیک ہونے کی رپورٹ آئی ہے۔ بھارتی حکام نے بھی عالمی ادارہ صحت کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے

ادہر نیپال نے بھارت کی سولہ دوا ساز کمپنیوں کی ادویات درآمد کرنے پر روک لگا دی ہے۔ کٹھمنڈو حکومت کا کہنا ہے کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مقرر کردہ ضوابط پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ان کمپنیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے

نیپال کے معروف اخبار ‘کٹھمنڈو پوسٹ’ کی ایک رپورٹ کے مطابق حکومت نیپال کے محکمہ ادویات نے بھارت کی سولہ ان کمپنیوں کی فہرست جاری کی ہے، جو ادویات کی تیاری کے حوالے سے ڈبلیو ایچ او کے ضابطوں کو مبینہ طور پر نظر انداز کر رہی تھیں۔ نیپال نے فہرست میں شامل کمپنیوں کی تیار کردہ ادویات درآمد نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے

حکومتِ نیپال کے محکمہ ادویات کے ترجمان سنتوش کے سی کے کا اس حوالے سے کہنا تھا ”بھارت کی ان فارماسیوٹیکل کمپنیوں، جو ہمارے ملک میں اپنی مصنوعات برآمد کرتی ہیں، کے کارخانوں کا معائنہ کرنے کے بعد ہم نے ان کمپنیوں کی ایک فہرست شائع کر دی ہے، جو عالمی ادارہِ صحت کی جانب سے مقررہ کردہ مینوفیکچرنگ کے معیاری طریقہ کار پر عمل درآمد نہیں کر رہی تھیں“

نیپال نے جن بھارتی کمپینوں کی مصنوعات کے درآمد پر پابندی عائد کی ہے، ان میں یوگا گروپ بابا رام دیو کی کمپنی پتنجلی آیوروید بھی شامل ہے۔ پتنجلی آیوروید اپنی دوائیں دیویا فارمیسی کے نام سے نیپال میں ایکسپورٹ کرتی ہے

بھارت میں بھی پتنجلی آیوروید کی تیار کردہ بعض دواؤں کے متعلق وزیر اعظم نریندر مودی کے قریبی سمجھے جانے والے بابا رام دیو کے دعووں پر بھارت میں بھی تنازعات پیدا ہوتے رہے ہیں

واضح رہے کہ نیپال حکومت کے محکمہ ادویات نے ماہرین کی ایک ٹیم بھارت بھیجی تھی۔ جنہوں نے نیپال کو اپنی دوائیں ایکسپورٹ کرنے والی دواساز کمپنیوں کے کارخانوں کا معائنہ کیا۔ یہ معائنہ 31 مارچ اور 22 جولائی کے درمیان کیا گیا تھا

ڈبلیو ایچ او نے دواؤں کی تیاری کے لیے ایک معیاری ضابطہ مقرر کر رکھا ہے، جس کا مقصد اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ دواؤں کو جس مرض کے علاج کے لیے تیار کیا گیا ہے، وہ اس کے لیے مقررہ تمام معیارات اور پیمانوں پر پورا اتریں اور حکام کو ان کی جانچ کی اجازت ہے

یاد رہے کہ دو ماہ قبل عالمی صحت تنظیم (ڈبلیو ایچ او) نے بھارتی صوبے ہریانہ میں قائم میڈین فارماسیوٹیکلس کی تیار کردہ کھانسی کے چار سیرپ کے حوالے سے ایک عالمی الرٹ جاری کیا تھا، اور اب تحقیقات کے بعد بھارتی دواساز کمپنی پر گیمبیا میں درجنوں بچوں کی ہلاکت کا جرم ثابت ہو گیا ہے

یہ الرٹ گیمبیا میں متعدد افراد کے گردے ناکارہ ہوجانے اور تقریباً ستر بچوں کی اموات کے بعد جاری کی گئی تھی۔ ان میں سے بیشتر اموات کھانسی کی سیرپ پینے کے بعد گردے ناکام ہوجانے کی وجہ سے ہوئیں تھیں۔ یہ چاروں سیرپ ہریانہ کی میڈین فارماسیوٹیکلس نے تیار اور ایکسپورٹ کی تھیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close