پانچ دن سے زیادہ ملبے تلے دبے رہنے کے باوجود زندہ بچنے والی شیر خوار بچی دو ماہ بعد ماں سے بھی مل گئی

ویب ڈیسک

معمول سے ہٹ کر واقعات کا وقوع پذیر ہونا ہمیشہ حیرت زدہ کر دینے والا ہوتا ہے۔ کچھ واقعات ہمیں اللہ رب العزت کی قدرتِ کاملہ پر یقین دلانے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ ہم ایسا کچھ ہوتا دیکھتے ہیں، جس پر یقین کرنا مشکل ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ حقیقت ہی ہوتی ہے

ترکیہ اور شام میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد ایسے کئی واقعات منظر عام پر آئے۔ ایسا ہی ایک واقعہ ایک شیر خوار بچی کا بھی ہے جو ہولناک زلزلے کے بعد پانچ دن سے زیادہ تک ملبے تلے دبی رہنے کے باوجود زندہ بچ گئی، اور اب یہ بچی دو ماہ بعد اپنی ماں سے بھی مل چکی ہے

ساڑھے تین ماہ کی وطین بیگدس ہولناک زلزلے کے بعد 128 گھنٹے یعنی پانچ دن سے زائد وقت تک ملبے تلے دبے رہنے کے باوجود معجزانہ طور پر نہ صرف زندہ رہی بلکہ اسے خراش تک نہیں آئی تھی

پہلے یہ سمجھا جارہا تھا کہ اس شیرخوار بچی کا پورا گھرانہ زلزلے کی زد میں آ کر موت کا شکار ہو گیا ہے، تاہم بعدازاں وزارت برائے خاندان و سماجی بہبود سے جنوبی ترکیہ کے اسپتال میں زیرِ علاج یاسمین بیگدس نامی خاتون نے رابطہ کیا کہ جن لاوارث بچوں کی تصاویر اور معلومات جاری کی گئی ہیں، ان میں اس کی ننھی بیٹی بھی شامل ہے

یہ یاسمین بیگدس کے لیے غم کی تاریکیوں میں خوشی بھری امید کی ایک چھوٹی سی کرن تھی، جو ہولناک زلزلے میں اپنے شوہر اور دو بیٹوں کو کھو چکی تھی

واضح رہے وطین کے والد اور اس کے دو بھائی اس زلزلے میں جاں بحق ہو گئے تھے

یاسمین بیگدس کی درخواست کے بعد وزارت کے حکام نے دونوں کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا اور ٹیسٹ میچ ہونے کے بعد ننھی وطین کو ماں کے حوالے کر دیا گیا، مگر زلزلے میں بچھڑنے کے بعد وطین کے دوبارہ ماں کی مہربان آغوش میں آنے تک تقریباً دو ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے

پانچ روز تک ملبے میں دبے رہنے کے بعد وطین کئی دنوں تک طبی مرکز میں زیرِ علاج رہی، مگر ڈاکٹر یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت میں مبتلا تھے کہ اسے کچھ بھی نہیں ہوا تھا اور وہ بالکل ٹھیک تھی۔ والدین یا کسی عزیز رشتے دار کا کوئی اتا پتا نہ ہونے کی وجہ سے طبی عملے نے اس کا نام ’ غیزیم‘ رکھ دیا تھا، جو ترک زبان میں معمے کو کہتے ہیں

وطین کو اس کی ماں کے حوالے کرتے ہوئے وزیر برائے خاندان و سماجی خدمات دریا یانک نے کہا ”دنیا میں ایک ماں کو اس کی اولاد سے ملانے سے بڑھ کر کیا کام ہو سکتا ہے، خوشیوں کے ان یادگار لمحات کا حصہ بن کر ہم سب بہت خوش ہیں“

وزیر برائے خاندان و سماجی خدمات نے ماں بیٹی کے ملاپ کی وڈیو بھی ٹویٹ کی، جس میں یاسمین بیگدس کو اسپتال میں اپنی بیٹی کو پیار کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جسے دریا یانک نے انقرہ سے اس کے پاس پہنچایا تھا

اس موقع پر دریا یانک نے کہا کہ وطین ہماری بھی بیٹی ہے اور اسے وزارت کا بھرپور تعاون حاصل رہے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close