کراچی میں آن لائن فراڈ کی انوکھی واردات، ’خبردار! آپ بھی نشانے پر ہو سکتے ہیں۔‘

ویب ڈیسک

اگر آپ گذشتہ کچھ عرصے کی خبروں پر ہی نظر ڈالیں تو ان میں بہت سی خبروں کا تعلق مختلف قسم کے آنلائن فراڈ سے متعلق ہوگا، جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ آن لائن فراڈ اب ہماری روزمرہ زندگی کا ایک حصہ بن چکا ہے

سمارٹ فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے ہماری زندگی کو پہلے کے مقابلے میں آسان اور خوشگوار بنا دیا ہے لیکن اس سے فراڈ یعنی دھوکہ دہی اور جعلسازی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

چونکہ آن لائن فراڈ کا ہر کیس پولیس میں درج نہیں ہوتا، لہٰذا یہ کہنا مشکل ہے کہ دنیا میں کتنے لوگ روزانہ اس فراڈ کا شکار ہو جاتے ہیں، تاہم اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آن لائن فراڈ ایک حقیقت ہے جو پوری دنیا کو تلخ تجربات سے دوچار کر رہا ہے

آن لائن فراڈ، گیم شو میں انعام یا مجبوری بتا کر شہریوں سے پیسے لُوٹنا کوئی نئی بات نہیں، لیکن پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ان دنوں مردم شماری کے تصدیقی عمل کو جواز بنا کر شہریوں کو لُوٹا جا رہا ہے

ایسا ہی ایک واقعہ کراچی ضلع شرقی کے رہائشی محمد الیاس (فرضی نام) کے ساتھ حال ہی میں پیش آیا، جس کی ابتدا عیدالاضحیٰ سے دو روز قبل دوپہر کو، انہیں موصول ہونے والی ایک فون کال سے ہوئی

20 جون کی دوپہر ایک نامعلوم نمبر سے محمد الیاس کو کئی مرتبہ کال کی گئی، گھر والوں نے انہیں بتایا کہ کسی نامعلوم نمبر سے مسلسل فون آ رہا ہے

الیاس نے فون اٹھایا تو فون کرنے والے نے اپنا تعارف ایک قومی ادارے کے افسر کے طور پر کروایا۔ الیاس سے پوچھا گیا کہ مردم شماری کا عملہ ان کے گھر افراد کی گنتی اور ان کے اندراج کے لیے پہنچا ہے یا نہیں؟

انہوں نے گھر میں موجود افراد کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا مردم شماری والے گھر آئے تھے؟ اس پر گھر والوں نے بتایا کہ کوئی نہیں آیا، البتہ دروازے پر ’م۔ش‘ کا جو نمبر پہلے لکھا گیا تھا، وہی موجود ہے

الیاس نے فون کرنے والے کو بتایا کہ کئی ماہ قبل ہمارے دروازے پر ایک نمبر لکھا گیا تھا، لیکن ہمیں گنا نہیں گیا تھا۔ اتنی گفتگو کے بعد وہ فون رکھنے ہی والے تھے کہ سامنے والے شخص نے ان کی ایف بی آر میں موجود تفصیلات بتانا شروع کر دیں

الیاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ وہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی سے ریٹائر ہوئے ہیں اور اس کے بعد انہوں نے اپنی ایک کمپنی بھی بنائی ہے، جس کے اکاؤنٹس فلاں بینکوں میں موجود ہیں

فون کال کرنے والے کی گفتگو سن کر الیاس پریشان ہو گئے اور چند لمحوں کے لیے سوچ میں پڑ گئے کہ یہ سب معلومات مردم شماری کی تصدیق کرنے والوں کے پاس کیسے پہنچیں؟

فون کرنے والے نے ظہیر سے اکاؤنٹس کی مزید تفصیلات مانگیں، ان کے منع کرنے پر ان کو کہا گیا کہ کچھ دیر میں قسٹیٹ بینک کا نمائندہ آپ کو کال کرے گا

اس کے بعد کچھ دیر میں ایک اور کال آئی اور کال کرنے والے نے کہا کہ آپ کا اکاؤنٹ ہیک کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، کارڈ کا پاس ورڈ بتائیں۔۔

اسی دوران الیاس کا موبائل ہیک ہو گیا اور پھر کال ڈائیورٹ پر لگ گئی

اس کے بعد الیاس کے ایک بینک اکاؤنٹ سے بیس لاکھ روپے اور دوسرے بینک اکاؤنٹ سے چار لاکھ تریپن ہزار روپے نکال لیے گئے

محمد الیاس بتاتے ہیں ”میرے بینک اکاؤنٹ سے پیسے نکالنے کی حد دو لاکھ روپے تھی، جبکہ ہنگامی صورت میں دس لاکھ روپے تک نکالے جا سکتے تھے۔ جبکہ اس معاملے میں بینک کی حد بھی پار ہوئی اور مجھے معلوم بھی نہیں ہوسکا کہ پیسے کس نے نکالے اور کہاں گئے؟“

واقعے کے بعد عید کی تعطیلات شروع ہو گئیں اور یوں جب بینکنگ محتسب اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) تک درخواست پہنچی تو اس وقت تک ان کی رقم کہیں سے کہیں پہنچ چکی تھی

یہ پاکستان میں اس نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی آن لائن فراڈ کے کئی واقعات ریکارڈ ہو چکے ہیں۔ اس حوالے سے شہریوں کی جانب سے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ سے رجوع کرنے کے باوجود اب تک کسی کیس میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آن لائن فراڈ اور ہیکنگ کے ایسے طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں، جن کی روک تھام کے لیے کئی اقدامات کیے جانے کے باوجود یہ عمل رک نہیں سکا

سَستی اشیا کی خریداری کی اسکیموں سے لے کر گیم شو میں انعام نکلنے کا جھانسہ دے کر روز کسی نہ کسی شہری کو لُوٹ لیا جاتا ہے، اور متاثرہ شخص اپنی رقم سے محروم ہونے کے بعد شکایتیں ہی درج کرواتا رہ جاتا ہے

ایسے میں ضروری ہے کہ ڈجیٹل بینکنگ میں فراڈ سے بچنے کے لیے صارفین کو آگاہی دی جائے۔ اس ضمن میں ڈجیٹل بینکنگ کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ قواعد و ضوابط موجود ہیں۔ صارفین کو واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ موبائل فون پر اپنے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات یا پاس ورڈ سمیت نجی معلومات کسی کو بھی فراہم نہ کریں

کیا لُوٹی گئی رقم واپس مل سکتی ہے؟ اس سوال پر کراچی کے ایک نجی بینک کے مینیجر وقاص زبیری کہتے ہیں ”ڈجیٹل بینکنگ کے فراڈ کا شکار ہونے والا شخص جب فراڈ کے بعد اپنے بینک سے رابطہ کرتا ہے تو عملہ سب سے پہلے یہ معلوم کرتا ہے کہ غلطی کس کی ہے؟ کیا صارف نے بینک کے منع کرنے کے باوجود کسی کے ساتھ اپنی ذاتی معلومات شئیر کی ہیں یا کسی نامعلوم فرد کو فون یا ای میل پر اپنا پاس ورڈ فراہم کیا ہے؟“

وقاص زبیری کا کہنا ہے ”یہ تسلی کر لینے کے بعد کہ غلطی کس کی تھی، پروسیس شروع کیا جاتا ہے۔ اگر صارف کی غلطی ہوتی ہے تو اس پر کوئی کلیم نہیں کیا جا سکتا، تاہم اگر بینک کی کوتاہی ثابت ہو تو پھر نقصان بینک کو بھرنا پڑتا ہے۔ اگر بینک کوتاہی ثابت ہونے پر بھی صارف کو رقم ادا نہیں کرتا تو پھر صارف اسٹیٹ بینک کے کنزیومر پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ سے رجوع کر کے اپنی رقم حاصل کر سکتا ہے۔“

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close