اتنا سناٹا کیوں ہے بھئی۔۔ کلکتہ میں پرجوش استقبال سے احمد آباد میں مکمل خاموشی تک

ویب ڈیسک

آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ کے فائنل میں آسٹریلیا نے انڈیا کو 6 وکٹوں سے شکست دے کر چھٹی مرتبہ ورلڈ کپ اپنے نام کر لیا ہے۔ احمد آباد میں کھیلے گئے ورلڈ کپ فائنل میں آسٹریلیا نے انڈیا کی جانب سے دیے گئے 241 رنز کے ہدف کو بآسانی 43 ویں اوورز میں حاصل کر لیا۔
آسٹریلیا کی جانب سے فائنل میں ٹریوس ہیڈ نے ناقابلِ شکست 137 رنز بنائے اور اپنی ٹیم کو ورلڈ چیمپیئن بنوانے میں کلیدی کردار ادا کیا

انڈیا اس فائنل سے قبل اس ٹورنامنٹ میں ناقابلِ تسخیر تھا اور انڈین ٹیم کو اِس ورلڈ کپ کی سب سے مضبوط ٹیم تصور کیا جا رہا تھا تاہم آسٹریلیا نے روہت شرما کی ٹیم کی امید پر پانی پھیر دیا۔

 اتنا سناٹا کیوں ہے بھئی۔۔

آسٹریلیا کے کپتان پیٹ کمنز نے احمد آباد اسٹیڈیم میں انڈین ٹیم کے لیے یکطرفہ سپورٹ پر بات کرتے ہوئے فائنل سے پہلے کہا تھا کہ ’ایک لاکھ تیس ہزار افراد کو خاموش کرانے سے زیادہ اطمینان بخش کوئی دوسری چیز نہیں۔‘

بڑے میچ میں پیٹ کمنز نے سارو گنگولی والی غلطی نہیں کی۔ آسٹریلیا اور انڈیا کی ٹیمیں 20 سال پہلے 2003 کے عالمی کپ فائنل میں بھی ٹکرائیں تھیں

جوہانسبرگ میں سارو گنگولی نے ٹاس جیت کر بولنگ کا فیصلہ کیا جو آسٹریلیا نے 359 رنز بنا کر غلط ثابت کر دیا

سچن ٹنڈولکر نے اپنی کتاب Playing it My Way میں لکھا ہے ’ہمارا خیال تھا کہ پچ میں نمی کا فائدہ ابتدائی اوورز میں فاسٹ بولرز کو ہوگا، اس لیے ٹاس جیتنے کی صورت میں بیٹنگ کا فیصلہ غلط نہیں ہوگا مگر یہ فیصلہ تباہ کن ثابت ہوا، رکی پونٹنگ کی شاندار 140 رنز کی اننگز کی بدولت آسٹریلیا نے 359 رنز کا پہاڑ کھڑا کر دیا۔‘

20 سال بعد احمد آباد میں آسٹریلیا کے کپتان پیٹ کمنز نے ٹاس جیتا تو انہوں نے ڈرائی پچ پر بیٹنگ کے بجائے بولنگ کا فیصلہ کیا جو سو فیصد درست ثابت ہوا

ٹورنامنٹ کا فائنل کھلاڑیوں کے اعصاب کا امتحان ہوتا ہے، ٹریوس ہیڈ سال میں دوسری بار اعصاب کی جنگ میں سرخرو ہوئے

رواں سال اوول میں ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے فائنل میں آسٹریلیا اور انڈیا کا مقابلہ تھا۔ ٹریوس ہیڈ نے پہلی اننگز میں 163 رنز بنا کر جیت کے لیے اسٹیج سیٹ کیا۔ آسٹریلیا نے میچ 209رنز سے جیتا تو ٹریوس ہیڈ مین آف دی میچ قرار پائے

جون میں مین آف دی فائنل بننے والے ٹریوس ہیڈ نومبر میں ایک بار پھر میچ کے ہیرو بننے میں کامیاب رہے۔ 241 رنز کے ہدف کے تعاقب میں آسٹریلیا کی پہلی تین وکٹیں صرف 47 رنز پر گریں، انڈین ٹیم میچ پر حاوی ہو رہی تھی مگر ٹریوس ہیڈ دیوار بن گئے

وہ دباؤ میں آنے کے بجائے صورت حال کے حساب سے بیٹنگ کرتے رہے اور 137 رنز کی اننگز کھیل کر چھٹی مرتبہ ورلڈ کپ آسٹریلیا کے نام کردیا۔ آسٹریلیا ایک سال میں دو آئی سی سی ٹرافیاں جیتنے والی پہلی ٹیم بن گئی

  ماضی کے جھروکوں سے۔۔

یہ 1987 کی بات ہے، جب آسٹریلیا کے کپتان ایلن بارڈر اپنی ٹیم کے ہمراہ لاہور سے کولکتہ پہنچے تو حیران کن مناظر ان کے سامنے تھے، ایک لمحے کے لیے انہیں لگا کہ وہ کولکتہ نہیں، میلبورن میں ہیں

ایلن بارڈر ورلڈ کپ فائنل کے لیے ایڈن گارڈن میں اترے تو وہ ایم سی جی کا منظر پیش کر رہا تھا۔ دراصل، انڈین فینز کو زیادہ خوشی اس بات کی تھی کہ آسٹریلوی ٹیم انڈیا کے روایتی حریف پاکستان کو سیمی فائنل میں ہرا کر کولکتہ پہنچی تھی

فائنل میں آسٹریلیا کا مقابلہ انگلینڈ سے تھا، جس نے سیمی فائنل میں انڈیا کو شکست دی تھی۔ فائنل میں تماشائیوں کی مکمل سپورٹ کینگروز کے ساتھ تھی

سابق آسٹریلوی کپتان اسٹیو واہ نے کتاب Out of My Comfort Zone میں لکھا ہے ’جب ہم انڈیا کی سرزمین پر اترے تو لوگوں کی طرف سے بہت پیار ملا کیونکہ ہم نے انڈیا کے روایتی حریف کو اسی کے میدان میں زیر کیا تھا۔‘

ٹورنامنٹ سے پہلے ماہرین کا خیال تھا کہ ورلڈ کپ فائنل پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہوگا مگر دونوں میزبان ملک سیمی فائنل ہار گئے اور آسٹریلوی کپتان ایلن بارڈر نے ایڈن گارڈن کے جھومتے گاتے پرجوش کراؤڈ کے سامنے پہلی بار ورلڈ کپ ٹرافی اٹھائی

چوتھے عالمی کپ کی فتح نے آسٹریلوی ٹیم کو وہ طاقت دی کہ یہ اگلے سالوں میں ناقابل شکست قوت بن کر ابھری

اسی دوران ویسٹ انڈیز کے زوال نے آسٹریلیا کے عروج کا راستہ کھول دیا۔ آسٹریلیا نے 1999، 2003 اور 2007 کے ورلڈ کپ جیت کر ہیٹ ٹرک کی

1999 سے 2011 تک آسٹریلیا ورلڈکپ مقابلوں میں لگاتار 34 میچز تک ناقابل شکست رہنے والی واحد ٹیم ہے۔ یہ ایک ایسا ریکارڈ جو شاید کوئی دوسری ٹیم مدتوں نہ توڑ سکے۔ آسٹریلیا ریکارڈ 8 ورلڈ کپ فائنل کھیلنے کا منفرد اعزاز رکھتی ہے

 آسٹریلوی کرکٹ کی انفرادیت

انڈین ٹیم کے مزاج کو بدلنے میں سابق انڈین کپتان سارو گنگولی کا بہت بڑا کردار ہے مگر گنگولی خود آسٹریلوی کرکٹ ماڈل سے متاثر تھے

اپنی کتاب A Century is Not Enough میں گنگولی لکھتے ہیں: ’میں آسٹریلیا کے کرکٹ کھیلنے کے انداز سے متاثر تھا، اور اپنی ٹیم میں بھی یہی سپرٹ لانا چاہتا تھا، میرے ذہن میں یہ بات بالکل واضح تھی کہ میں جیت کے لیے کھیلوں گا اور اگر اس کوشش میں ہار بھی گیا تو کوئی پرواہ نہیں۔‘

دراصل بے پناہ اعتماد، کبھی ہار نہ ماننے کا جذبہ اور ہر صورت جیت کا تعاقب ہی آسٹریلیا کی وہ خصوصیت ہے جو اسے دوسری ٹیموں سے ممتاز کرتی ہے۔ اس جذبے کی ایک جھلک جنوبی افریقہ کے خلاف 1999 کے ورلڈ کپ سiمی فائنل کے آخری اوور میں دیکھی گئی۔ پاکستان کے خلاف 2021 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا سیمی فائنل اور میتھیو ویڈ کے شاہین آفریدی کو لگاتار تین چھکے بھی اسی خوبی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

دلچسپ تبصرے

احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں فائنل میں انڈین ٹیم کی فائنل میں ناقص کارکردگی پر پورے میچ کے دوران 1 لاکھ 30 ہزار تماشائیوں کے باجود سناٹا رہا۔ اس بارے میں بنٹی نامی صارف نے لکھا کہ ’ایسا لگ رہا ہے آسٹریلین ٹیم قبرستان میں جشن منا رہی ہے۔ اتنی خاموشی!‘

بہرحال ورلڈ کپ کے دوران انڈین شائقین کی جانب سے اسپورٹس مین اسپرٹ یعنی کھیل کے جذبے کی عدم موجودگی کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے

صحافی معین الدین حمید نے کہا کہ یہ فائنل اگر احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم کے بجائے ممبئی یا کوکلتہ میں ہوتا تو شاید وہاں کے شائقین آسٹریلین کھلاڑیوں کے اچھے کھیل، ان کی فیلڈنگ، بیٹنگ اور بولنگ کی تعریف و تحسین کرتے لیکن احمدآباد تو اس معاملے بالکل خشک ثابت ہوا۔‘

آسٹریلین اخبار دی ایج نے بھی اس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ شور مچانے والے 90 ہزار سے زیادہ ناظرین سے بھرے اسٹیڈیم میں وراٹ کوہلی کے وکٹ گرنے کی آواز کے بعد صرف آسٹریلیا کے 11 کھلاڑیوں کی پرجوش آواز سنائی دے رہی تھی۔‘

اخبار کے مطابق کوہلی کی وکٹ لے کر کمنز نے اپنی ٹیم کو فتح کے راستے پر ڈال دیا تھا اور پھر بقیہ کام ٹریوس ہیڈ اور مارنس لیبوشین کے درمیان 192 رنز کی شراکت نے پورا کر دیا

’خواہ کوہلی کی پچ سے رخصتی ہو، ہیڈ کی سنچری ہو یا فتح کا لمحہ، نریندر مودی اسٹیڈیم میں چھائی ہوئی خاموشی کمنز اور ان کی ٹیم کے کھلاڑیوں کے لیے سنہری لمحہ تھی۔‘

جونز نے وراٹ کوہلی کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ دیکھتے ہوئے بہت دکھ ہو رہا ہے۔‘

وِل میکفیرسن لکھتے ہیں ”انڈین فینز گھبرائیں نہیں، آپ وشاکاپٹنم میں جمعرات سے شروع ہونے والی پانچ ٹی20 میچوں کی سیریز جیت کر آسٹریلیا سے بدلہ لے سکتے ہیں“

’کرسٹیانو رونا ڈال دو‘ نامی ایک صارف نے لکھا ”سارا کریڈٹ پیٹ کمنز کو جاتا ہے جنہوں نے پِچ کی تصویریں لیں اور پھر وہیں سو گئے تاکہ انڈینز اُسے تبدیل نہ کر سکیں۔ لیجنڈ“

شاشانک بلناد نے تبصرہ کیا ”کسی بھی کھیل سے جذباتی لگاؤ صحت کے لیے مضر ہے۔ میرا اس کھیل سے لگاؤ آج ختم ہوگیا ہے“

راہُل دیسائی نے لکھا ”روہت، وراٹ، ڈراوڈ اور باقی لڑکوں کے لیے بہت برا لگ رہا ہے۔ آج مائنڈ سیٹ ٹھیک نہیں تھا۔ ایک اور فائنل ہارنے کا خوب واضح تھا۔ لیکن مجھے ابھی بھی سمجھ نہیں آ رہی کہ مجھے کیوں نہیں دکھ ہو رہا“

 ’یہاں آؤ عرفان پٹھان تمہیں ڈانس کرواؤں،‘

فائنل میں آسٹریلیا کے ہاتھوں انڈیا کو سات وکٹوں سے شکست پر دُنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی سوشل میڈیا اس میچ پر تبصروں سے بھرا پڑا ہے

اتوار کو میچ کے اختتام کے بعد پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد انڈیا کی شکست پر ایک ایسے انڈین کھلاڑی پر تنقید کرتی ہوئی نظر آئی جنہیں ریٹائر ہوئے برسوں گزر گئے ہیں

انڈیا کے سابق فاسٹ بولر عرفان پٹھان اکثر اپنی سوشل میڈیا پوسٹس کی وجہ سے خبروں کی زینت بنے رہتے ہیں اور پاکستان کی ٹیم کو ’پڑوسی‘ کے نام سے مخاطب کر کے اُن پر طنز کرتے ہوئے بھی پائے جاتے ہیں

یہی نہیں ورلڈ کپ میں پاکستان کی افغانستان کے خلاف شکست کے بعد عرفان پٹھان گراؤنڈ میں افغان کرکٹرز کے ساتھ رقص کرتے ہوئے بھی نظر آئے تھے

احمدآباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں جب انڈیا کی ٹیم فائنل میں ہاری تو پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے اپنی توپوں کا رُخ عرفان پٹھان کی طرف کر دیا

احتشام الحق نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’اگلی مرتبہ شکست پر کسی اور کا مذاق مت اُڑائیے گا۔ صرف آپ کی وجہ سے لوگوں کو پوری انڈین ٹیم کا مزاق بنانا پڑا۔‘

انہوں نے عرفان پٹھان کو انڈیا کی شکست سے سبق سیکھنے کا مشورہ دیتے ہوئے یہ بھی لکھا ’سستی شہرت کے لیے نفرت پھیلانا بند کریں۔‘

پی ایس ایل میمز نامی اکاؤنٹ نے آسٹریلین کھلاڑی ٹریوس ہیڈ کی تصویر شیئر کرکے ساتھ لکھ کہ ’یہاں آؤ عرفان پٹھان تمہیں ڈانس کرواؤں۔‘

کریم پاکستان کی جانب سے ’ایکس‘ پر عرفان پٹھان کی ایک پوسٹ پر تبصرہ کرتا ہوئے لکھا کہ ’کیسا جا رہا ہے پھر سنڈے عرفان پٹھان؟‘

رمشا طاہر نامی صارف نے ایک میم شیئر کی، جس میں عرفان پٹھان کو واٹس ایپ پر خیالی میسج کیے گئے تھے۔ اسکرین شاٹ میں موجود پیغامات میں لکھا تھا ’ہیلو عرفان، آپ وہاں موجود ہیں؟ کہاں ہیں آپ؟ انڈیا ہار رہا ہے۔‘

اسی واٹس ایپ میسج میں ایک خیالی پیغام عرفان پٹھان کے نمبر سے بھی دکھایا گیا، جس میں لکھا تھا ’ہیلو ہیلو۔۔ میں عرفان پٹھان کا دوست بات کر رہا ہوں، عرفان نے سرف کھالیا ہے۔‘

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close