بحریہ ٹاؤن کراچی پر گوٹھوں کے مکینوں کو بےدخل کرنے کے الزامات: ’ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ سندھ پولیس بحریہ ٹاؤن کے لیے کام کر رہی ہے‘

ریاض سہیل

گذشتہ چند روز سے پاکستانی سوشل میڈیا پر متعدد ایسی ویڈیوز اور تصاویر گردش کر رہی ہیں جن میں چند اہلکار بڑی گاڑیوں اور بلڈوزر کے ہمراہ کسی علاقے میں موجود ہیں اور ان کی موجودگی کے خلاف کئی لوگ سراپا احتجاج ہیں۔

ان ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھی جانے والی مشینری زمین ہموار اور راستہ صاف کرتے نظر آ رہی ہے۔ یہ ویڈیوز کراچی کے علاقے کی ہیں اور ان میں نظر آنے والی ہیوی مشینری اور اہلکار مبینہ طور پر نجی ہاؤسنگ سکیم بحریہ ٹاؤن کراچی کے ہیں۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر یہ دعوے کیے جا رہے ہیں کہ ہاؤسنگ سکیم کے اہلکار اپنی سوسائٹی کے پھیلاؤ اور راستہ بنانے کے لیے وہ زمین حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں چند پرانے گوٹھ آباد ہیں۔

دریں اثنا متاثرہ دیہات کے ایک رہائشی مراد گبول نے سندھ ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے کہ 27 سے لے کر 29 اپریل تک بحریہ ٹاؤن کے حکام، جن کے ہمراہ پولیس افسران بھی تھے، ہیوی مشنری کے ساتھ گاؤں میں داخل ہوئے۔ درخواست کے مطابق یہ لوگ ایک سڑک اور بحریہ ٹاؤن کے لیے نکاسی آب کی لائن تعمیر کرنے کے خواہشمند ہیں جو گآوں سے گذرے گی۔

ایڈووکیٹ کاظم حسین مہیسر کی وساطت سے دائر کی گئی اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ نور محمد گبول گوٹھ 1920 اور 1922 سے آباد ہے، جو اس وقت وقت 100 گھروں پر مشتمل ہے۔ انھوں نے کہا کہ گاؤں میں ایک مسجد، ایک قبرستان، ایک عیدگاہ اور تین پرائمری سکول ہیں۔ گاؤں کی آبادی سات سو افراد پر مشتمل ہے جنھیں ان کے مطابق حکومت سندھ نے مالکانہ حقوق کی سند بھی جاری کر رکھی ہے۔

درخواست میں ہوم سیکریٹری، ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی ملیر، ایس ایچ او گڈاپ اور بحریہ ٹاؤن کو فریق بنایا گیا ہے اور استدعا کی گئی ہے کہ گاؤں کو مسمار کرنے، جبری سڑک بنانے اور ڈرینج لائن گذارنے کو غیر قانونی عمل قرار دے کر روکا جائے اور گاؤں کے راستے کھولے جائیں جو بحریہ فاؤنڈیشن نے بلاک کر رکھے ہیں۔

ایڈووکیٹ کاظم حسین کا کہنا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کی ڈویزن بینچ نے تمام فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں۔

بلاول بھٹو کا رد عمل
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی جمعہ کو ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ انہوں نے بحریہ ٹاؤن میں ہونے والی کارروائیوں کا نوٹس لیا ہے اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو ہدایت کی ہے کہ یہ کارروائیاں رکوائی جائیں اور انہیں رپورٹ دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ جب وہ انتخابات میں مصروف تھے تو ان کے سوشل میڈیا اور واٹس ایپ پر یہ شکایات آرہی تھیں جس کا انہوں نے نوٹس لیا ہے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ جن جن لوگوں نے ناانصافی کی ہے ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہئیے اور مقامی لوگوں سے انصاف ہونا چاہیے، اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے رقم کی ادائیگی کا حکم دیا ہے وہ رقم یہاں کے لوگوں کے فلاح و بہبود پر خرچ ہونی چاہیئے۔

اس سے قبل بی بی سی نے سندھ حکومت کے ترجمان مرتضی وہاب اور وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ سے موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا۔

ناصر حسین کی جانب سے کوئی جواب موصول نہ ہوا البتہ مرتضی وہاب نے پوچھا کہ کس حوالے سے بات کرنی ہے اور جب انھیں سوالات بتائے گئے تو اس کے بعد انھوں نے جواب نہیں دیا۔

.°متاثرہ افراد کی تنظیم
بی بی سی نے بحریہ ٹاؤن سے متاثرہ افراد اور سول سوسائٹی کی جانب سے ’انڈیجینیئس رائٹس الائنس‘ کے نام سے بنائی گئی تنظیم سے رابطہ کیا۔ تنظیم کے سرکردہ رکن حفیظ بلوچ نے دعویٰ کیا کہ تین روز قبل ایک ریٹائرڈ کپیٹن کی سربراہی میں بحریہ ٹاؤن کے حکام بلڈوزر سمیت نور محمد گبول گاؤں پر حملہ آور ہو گئے اور اس کے علاوہ عبداللہ گبول گاؤں میں بھی داخل ہونے کی کوشش کی جس کے خلاف مقامی افراد نے سخت مزاحمت کی تھی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حفیظ بلوچ کا کہنا تھا کہ کراچی میں بحریہ ٹاؤن کے حکام کی جانب سے ان تینوں گاؤں میں داخل ہونے کی کوشش کی کی گئی اور نتیجے میں ہونے والے تصادم کے باعث نصف درجن کے قریب مقامی لوگ زخمی ہو گئے۔

°انتظامیہ اور بحریہ ٹاؤن کے مؤقف کے لیے رابطے کی کوشش
ان الزامات کے بارے میں بحریہ ٹاؤن سے رابطہ کیا گیا لیکن ابھی تک کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔

بی بی سی نے بحریہ ٹاؤن کا موقف جاننے کے لیے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بحریہ ٹاؤن کراچی اور اس کے مالک ملک ریاض سے رابطہ کیا اور اس کے علاوہ ان کی ویب سائٹ پر موجود ای میل ایڈریس پر بھی میل کی اور مؤقف جاننے کی کوشش کی۔ ویب سائیٹ پر موجود فیڈ بیک فارم پر بھی سوالات بھیجے گئے لیکن تاحال کہیں سے بھی کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

ملیر پولیس اور ضلعی انتظامیہ سے بھی رابطے کی کوشش کی گئی تاہم کوئی رابطہ نہیں ہوسکا۔

°واقعہ کیا ہوا تھا؟
مقامی افراد کے دعوے کے مطابق بحریہ ٹاؤن حکام کی جانب سے ہادی بخش گبول گاؤں پر بھی دھاوا بولا گیا  جس میں ’ریٹائرڈ کیپٹن‘ نے ان گاؤں کے رہائشیوں کو متنبہ کیا کہ وہ (یعنی بحریہ ٹاؤن) ہر صورت میں یہ زمین لے کر رہیں گے کیونکہ انھیں راستہ بنانا ہے، بصورت دیگر انھیں متبادل زمین فراہم کی جائے، جس کے بعد انھیں ایک متبادل راستہ فراہم کیا گیا۔

حفیظ بلوچ کا کہنا ہے کہ حکام نے تیسرے روز بھی گبول، کلمتی اور جوکھیا کمیونٹی کی زمینوں پر قابض ہونے کی کوشش کی اور لوگ مزاحمت کرتے رہے جن پر ہوائی فائرنگ اور شیلنگ کی گئی۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس پورے عمل میں پولیس نے بھی ان کا ہی ساتھ دیا اور اسی دوران نور محمد گبول کے بیٹے مراد گبول کو بھی حراست میں لے لیا گیا جنھوں نے تین سال قبل بحریہ ٹاؤن کے خلاف اپنی چار ایکڑ زمین کی ملکیت کے حوالے سے چلنے والے مقدمے میں بحریہ ٹاؤن کے خلاف کامیابی حاصل کی تھی۔

°فارم ہاؤس کے لیے زمین
کراچی کی تاریخ پر متعدد کتابوں کے مصنف اور انڈیجینس رائٹس الائنس کے سرگرم رکن گل حسن کلمتی کا کہنا ہے کہ بحریہ ٹاؤن نے اب کاٹھوڑ کی طرف بڑھنا شرو ع کر دیا ہے جہاں وہ فارم ہاؤس بنانا چاہتے ہیں۔

‘ایک طرف سے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی سٹی آگے بڑھ رہا ہے تو دوسری طرف بحریہ ٹاؤن بھی ہے جس کی وجہ سے مقامی آبادی ایک نرغے میں آگئی ہے۔’

گل حسن کلمتی کے مطابق یہ زمین سرکاری ہے اور سرکار نے لیز ختم کر کے زمین ملیر ڈیویلپمینٹ اتھارٹی کو دے دی جنھوں نے کچھ برس قبل یہ زمین بحریہ ٹاؤن کے حوالے کردی۔

گل حسن کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے بحریہ ہاؤسنگ کے کیس میں واضح کیا تھا کہ وہ 16800 ایکڑ سے آگے نہیں بڑھیں گے تاہم سندھ حکومت نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ زمین کونسی ہے۔

گل حسن کلمتی کا دعویٰ ہے کہ اس وقت کاٹھوڑ (کراچی) میں 45 ہزار ایکڑ پر بحریہ ٹاؤن کا پھیلاؤ اور ہاؤسنگ جاری ہے۔

‘جام شورو کے چار دیھ میں بھی بحریہ ٹاؤن نے زمین حاصل کرلی ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ حکومت عدالت سے الاٹ کردہ زمین کی ڈیمارکیشن کرے تاکہ پتہ چلے کہ وہ زمین کونسی ہے۔ اس وقت تو وہ عدالت کے حکم کا فائدہ لے کر ہر کسی کو کہہ رہے ہیں کہ عدالت کے حکم پر انھیں زمین دی گئی۔ عدالت نے تو صرف 16800 ایکڑ کو قانونی قرار دیا جبکہ، یہ 45 ہزار تک قبضے میں لے چکے ہیں۔’

°سوشل میڈیا پر رد عمل
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب بحریہ ٹاؤن کے پھیلاؤ سے متاثرہ گوٹھوں کے رہائشیوں نے ایسے مظاہرے کیے ہوں۔

تین دن سے جاری ان واقعات کی ویڈیوز جب سوشل میڈیا پر شائع ہوئیں تو صارفین نے اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ اور ان کے ساتھ ساتھ سندھ حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے جمعرات کو اپنی ٹویٹ میں سوال اٹھایا تھا کہ ہر کوئی ملک ریاض کے بارے میں خاموش کیوں ہے؟

‘میں نے قومی اسمبلی میں ان کے برطانوی سیٹلمنٹ کے بارے میں سوال کرنے کی کوشش کی ہے لیکن کبھی بولنے نہیں دیا گیا۔ اسی طرح سندھ میں بحریہ ٹاؤن کے گاؤں پر حملے جاری ہیں لیکن انھیں میڈیا اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔’

عوامی ورکرز پارٹی سے منسلک سماجی کارکن اور محقق عمار رشید نے بھی سخت الفاظ میں ان واقعات کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ سیاسی جماعتیں اور میڈیا کی جانب سے خاموشی اختیار کرنا انتہائی شرمناک ہے۔

‘ریاستی مشینری کی مدد سے مقامی رہائشیوں کو بحریہ ٹاؤن کے لیے ہٹایا جا رہا ہے اور احتجاج کرنے والوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے، اور دوسری جانب سندھ حکومت یہ کرنے کی اجازت دے کر بیٹھی ہوئی ہے اور ان کے حامی خاموشی سے دیکھ رہے ہیں۔’

تاریخ دان اور سماجی کارکن ڈاکٹر عمار علی جان نے بھی اس حوالے سے متعدد ٹویٹس کی تھیں اور سوال اٹھایا تھا کہ کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقہ 249 کی تو بھرپور کوریج ہو رہی ہے لیکن ہزاروں مقامی رہائشیوں کو ہٹائے جانے کی کوئی خبر صرف اس لیے نہیں چل رہی تاکہ ملک ریاض کو خوش کیا جا سکے۔

عمار علی جان نے مزید لکھا: ’یہ ہے بحریہ ٹاؤن کی جمہوریت، ان کی جانب سے، صرف اپنے لیے۔‘

سوشل میڈیا پر شائع ویڈیوز میں واضح نظر آتا ہے کہ پولیس کی بھی چند گاڑیاں موجود ہیں جو مبینہ طور پر بحریہ ٹاؤن کے حکام کی مدد کر رہی ہیں، جس پر سماجی کارکن اسامہ خلجی نے پی پی پی کے چئیرپرسن بلاول بھٹو اور سندھ حکومت کے ترجمان مرتضی وہاب کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا تھا کہ ‘ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ سندھ پولیس بحریہ ٹاؤن کے لیے کام کر رہی ہے اور زمین پر قبضہ کرنے کے لیے ان کی مدد کر رہی ہے۔’

سید علی آقا نامی ایک اور صارف نے بھی پی پی پی کو آڑے ہاتھ لیا اور تبصرے کرتے ہوئے لکھا کہ ان کی پارٹی نے بحریہ ٹاؤن کو لوگوں کے گھر بلا خوف و خطر تباہ کرنے کی چھوٹ دی ہوئی ہے اور دوسری جانب سندھ کی حکومت خود غریبوں کے گھر تباہ کر رہی ہے حالانکہ عدالت نے ایسا کرنے سے منع کیا ہے۔

ایک اور صارف ریاض اجن نے بھی ٹویٹ میں بلاول بھٹو اور سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ آپ کی اور بھی خامیاں ہیں لیکن بحریہ ٹاؤن کی جانب سے ہونے والا واقعہ پی پی پی کے لیے بہت بڑا دھبہ ہے۔

ایک اور صارف عامر نے واقعے کی تصویر ٹویٹ کرتے ہوئے سوال کیا کہ ‘یہ سندھ پولیس ہے یا بحریہ پولیس؟’

صارف طارق چانڈیو لکھتے ہیں کہ خدارا سیاسی وابستگی سے ہٹ کر سوچیں اس بارے میں۔ ‘بحریہ اشرافیہ کے لیے غنڈہ بنتا جا رہا ہے، وہ کسی کے قابو میں نہیں ہے۔ یہ لوگ اس مقام پر صدیوں سے رہتے چلے آ رہے ہیں۔ حتی کہ قدرت کا قانون بھی ان لوگوں کو اس زمین کا ملک تسلیم کرتا ہے۔’

°بحریہ ٹاؤن کے خلاف عدالتوں میں ماضی کے مقدمات
سپریم کورٹ نے سرکاری زمین سستی قیمت پر لینے پر بحریہ ٹاؤن کے خلاف جاری مقدمے میں 2019 میں فیصلہ سنایا تھا کہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کو 60 ارب روپے حکومت سندھ کو جرمانہ ادا کرنے ہوں گے اور بحریہ ٹاؤن نے عدالت کو یہ رقم قسطوں میں ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

تاہم بعد میں بحریہ ٹاؤن نے عدالت سے درخواست کی کہ کورونا وائرس کی وبا کے باعث انھیں ادائیگی میں مہلت دی جائے لیکن عدالت نے ان کی درخواست مسترد کردی اور کہا کہ حکومت کا ماننا ہے کہ معشیت میں بہتری آ رہی ہے اور بحریہ ہاؤسنگ میں پلاٹوں اور مکانات کی پہلے سے بکنگ ہوچکی ہے۔

اسی طرح سندھ ہائی کورٹ میں بحریہ ٹاؤن کے خلاف ایک مدعی فیض محد گبول کے حق میں فیصلہ دیا گیا تھا۔ تاہم گل حسن کلمتی کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد بحریہ ٹاؤن نے مبینہ طور پر اس جگہ تعمیرات شروع کر دیں جس کے بعد انھوں نے توہین عدالت کی درخواست دائر کی اور انصاف کے لیے چکر لگاتے لگاتے وہ انتقال کر گئے۔

گل حسن کلمتی کہتے ہیں: ‘عدالتی فیصلے پر عمل درآمد تو پولیس کرواتی ہے جو بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کے ساتھ ہے۔ اس وقت 50 کے قریب درخواستیں دائر ہیں جن میں سے 35 پر عدالت کی طرف سے سٹے آرڈر ہے لیکن بحریہ کا کام نہیں رکا ہے اور ان درخواستوں کی سماعت بھی نہیں ہو رہی ہے۔’

ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے وہ احتجاج کرتے چلے آ رہے ہیں تاہم ابھی تک وہ حکمران و اپوزیشن جماعتوں کی حمایت حاصل نہیں کرسکے ہیں اور نہ ہی ان کے احتجاج اور مبینہ طور پر بحریہ ٹاؤن حکام کی جانب سے کی گئی کارروائیوں کو الیکٹرانک میڈیا میں جگہ ملتی ہے۔
بشکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close