انڈین ریاست بِہار میں واقع ’انجینیئروں کے گاؤں‘ کی کہانی، جہاں مشینوں کی آواز موسیقی بن کر گونجتی ہے۔۔

ویب ڈیسک

جب ہم انڈین ریاست بِہار کے بارے میں بات کرتے ہیں، تو لاشعوری طور پر ہمارے ذہن میں اس کا تصور سب سے کم پڑھی لکھی ریاست کے طور پر ابھرتا ہے۔۔ لیکن اسی ریاست میں ایک ایسا گاؤں بھی ہے، جسے ’بِہار کا مانچسٹر‘ کہا جاتا ہے، اب یہ آئی آئی ٹیز یا انجنیئروں کا گاؤں بھی کہلاتا ہے

اس سے پہلے کہ ہم اس گاؤں کی کہانی بیان کریں۔۔ کچھ تذکرہ انڈیا کی مغربی ریاست راجستھان کے شہر ’کوٹا‘ کا کرتے ہیں، جو میڈیکل اور انجینیئرنگ کالجوں میں داخلے کے امتحانات کی تیاری کے حوالے سے ملک بھر میں ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ ہر سال ہزاروں کی تعداد میں طلبہ ملک کے طول و عرض سے کامیاب مستقبل کا خواب سجائے یہاں پہنچتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ یہ ملک کے ’کوچنگ کیپیٹل‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہ شہر اس کے لیے پوری طرح سے تیار نظر آتا ہے۔

انجینیئرنگ کے داخلے کے لیے ’جوائنٹ انجینیئرنگ اگزام‘ (جے ای ای) دو حصوں میں ہوتا ہے، جس میں کامیابی کے بعد ملک کے اعلٰی ترین انجینیئرنگ کالجز آئی آئی ٹی میں داخلہ ملتا ہے۔

یہ امتحان سول سروسز کے بعد انڈیا کے مشکل ترین امتحانات میں سے ایک مانا جاتا ہے، کیونکہ اس میں لاکھوں امیدوار ہوتے ہیں جبکہ سیٹیں محض چند ہزار ہیں

یہ تو رہا کوٹا کا مختصر تذکرہ، اب آتے ہیں اپنے اصل موضوع کی طرف۔۔

کوٹا سے ایک ہزار کلومیٹر دُور شمال مشرقی ریاست بہار کے ضلع گیا کے مضافات مانپور میں واقع ایک گاؤں ’پٹوا ٹولی‘ بھی ہے، جس کی آبادی محض آٹھ سو گھروں پر مشتمل ہے لیکن پھر بھی وہاں سے ہر سال کم سے کم ایک درجن طلبہ آئی آئی ٹی کے اس مشکل ترین امتحان میں کامیاب ہوتے ہیں۔ گذشتہ سال یہاں کے پینتالیس نوجوانوں نے اس مشکل ترین امتحان میں کامیابی حاصل کی۔

ایک گا‍‍‌ؤں سے اتنے زیادہ طلبہ کا ایسے اہم مسابقتی امتحان میں کامیاب ہونا کسی کرشمے سے کم نہیں، لیکن اس کے پسِ پشت گاؤں کے لوگوں اور وہاں برقرار نظم و ضبط کا بڑا کردار ہے۔

مسابقتی امتحانات کی تیاری اور ملک بھر میں پھیلے بہتر کوچنگ انتظامات کی موجودگی میں یہ اپنے آپ میں ایک حیرت انگیز کارنامہ ہے۔

پٹوا ٹولی روایتی طور پر بنکروں کا ایک گاؤں ہے، جہاں بیشتر لوگ بنکر (کپڑے بُننے) کا کام کرتے رہے ہیں۔ کوئی تیس سال قبل تک یہ بستی تعلیمی لحاظ سے پسماندہ مانی جاتی تھی۔

بنکروں کے اس گاؤں پٹوا ٹولی کا IITs کا گاؤں بننے کا سفر 1991 میں اس وقت شروع ہوا، جب ایک بنکر کا بیٹا جتیندر کمار اس علاقے میں پہلا شخص بن گیا، جس نے آئی آئی ٹی (انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی) کے لیے کوالیفائی کیا۔ ان کی کامیابی کا جشن پورے پٹوا برادری میں منایا گیا۔ بعد ازاں وہ دیگر IITs کے خواہشمندوں کے لیے ایک تحریک کے طور پر کام کرتے رہے

نئی دہلی کے آئی آئی ٹی سے گریجویشن مکمل کرنے والے بہار کے آدرش کمار نے ایک مقامی چینل سے بات کرتے ہوئے بتایا ”جتندر کمار جب بھی سیمسٹر کی چھٹیوں میں گاؤں جاتے تو وہ بچوں کو انجینیئرنگ اور اس کے فوائد کے بارے میں بتایا کرتے تھے“

”جب انہیں کیمپس پلیسمنٹ کے تحت امریکہ میں ملازمت ملی تو وہ گاؤں والوں کے لیے کامیابی کی ایک مثال بن گئے۔“

ہندوستان ٹائمز سے بات کرتے ہوئے ایک مقامی شخص آلوک کمار نے بتایا کہ اس وقت اُن کے گاؤں کے کم سے کم پچیس خاندان آئی آئی ٹی سے انجینیئرنگ مکمل کرنے کے بعد امریکہ میں آباد ہیں

ایک ایسا بھی وقت تھا، جب جتندر کے بعد سات برسوں تک کسی کو کامیابی نہیں ملی، لیکن 1998 وہ سال رہا جب کامیابی گاؤں والوں کا ایک طرح سے مقدر بن گئی کیونکہ اس سال تین بچوں کو کامیابی حاصل ہوئی تھی۔
اس کے اگلے سال یعنی 1999 میں بنکر سماج کے سات طالب علموں کی آئی آئی ٹی تک رسائی ہوئی، جس کے بعد سے بنکروں کا یہ گاؤں ’آئی آئی ٹی والوں کا گاؤں‘ کہلانے لگا۔

گذشتہ چھبیس برسوں میں پٹوا ٹولی نے تین سو سے زیادہ انجینیئرنگ گریجویٹس تیار کیے، جن میں سے ایک تہائی آئی آئی ٹی سے گریجویٹڈ ہیں

پٹوا ٹولی کے بارے میں ایک مزاحیہ جملہ کہا جاتا ہے کہ اندھیرے میں بھی اگر پٹوا ٹولی کی طرف کوئی پتھر پھینکا جائے تو وہ کسی نہ کسی انجینیئرنگ گریجویٹ کے گھر پر جا گرے گا۔

پٹوا ٹولی کی خاصیت یہ ہے کہ آئی آئی ٹی میں کامیابی حاصل کرنے والے زیادہ تر طالب علم کانوینٹ اسکولوں کی بجائے سرکاری اسکولوں میں پڑھے ہوتے ہیں۔

گاؤں کے گریجویٹس نے ’نو پریاس‘ (نئی کوشش یا سعیِ نو) نامی ایک تنظیم بنائی اور امتحانات کی تیاری کے لیے مواد اکٹھا کیا اور گاؤں کے لیے لیپ ٹاپس فراہم کیے، جو آنے والے طالب علموں کے لیے مددگار ثابت ہوئے

اس کے لیے انہوں نے ایک لائبریری قائم کی، جس کا نام ’ورکش‘ یعنی درخت رکھا۔ یہ لائبریری خاص طور پر ان مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کے لیے قائم کی گئی تھی۔

لائبریری کا نظام دیکھنے والے چندر کانت پٹیشوری معروف یوٹیوب چینل للن ٹاپ سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں ”جن بچوں کو معاشی تنگی ہے، ان کو مفت میں کلاسز فراہم کی جاتی ہیں اور کتابیں بھی دی جاتی ہیں“

انہوں نے مزید کہا ”سابق گریجویٹس جو اب ملک سے باہر یا ملک میں ملازمت کر رہے ہیں، وہ اس تنظیم کے لیے پیسے بھیجتے ہیں اور ان ہی لوگوں کی وجہ سے یہ سارا نظام چل رہا ہے۔“

چندر کانت پٹیشوری بتاتے ہیں ”ہم نے ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے بودھ گیا مٹھ کے احاطے میں ایک اور لائبریری قائم کی ہے، جہاں سابق طلبہ کی طرف سے عطیہ کردہ کتابیں اور کاغذی نوٹ جمع کیے گئے ہیں، جو آئی آئی ٹی کے خواہش مند طلبہ کے لیے بہت فائدہ مند ہیں۔“

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس تنظیم نے ضلع کی ہر پنچایت میں اس طرح کی مزید لائبریریاں کھولنے کا بھی عزم ظاہر کیا ہے

لائبریری میں صبح نو بجے سے رات آٹھ بجے تک بچے ان امتحانات کی تیاری کرتے ہیں۔ چونکہ پٹوا ٹولی بنکروں کا گاؤں ہے اور وہاں کپڑے بُننے والی مشینوں کی مسلسل آوازیں آتی رہتی ہیں، جس سے پڑھائی میں خلل پیدا ہونا فطری ہے

تاہم وہاں کے طلبہ کا کہنا ہے کہ ’ان مشینوں کی آوازیں اب ہمارے لیے کسی موسیقی کی طرح ہیں اور ہمیں ان کی عادت ہو گئی ہے۔‘

آئی آئی ٹی کی کوچنگز کے لیے کوٹا یا پھر صوبہ جھارکھنڈ کے بوکارو شہر کو کافی شہرت حاصل ہے، تاہم دونوں شہروں میں اس کی تیاری میں آنے والا خرچ بہت زیادہ ہے، جس کی وجہ سے مالی اعتبار سے کمزور افراد اپنے بچوں کو تیاری کے لیے ان جگہوں پر بھیجنے میں ناکام رہتے ہیں

پٹوا ٹولی کے نوجوانوں نے گذشتہ سال اس وقت ایک نئی تاریخ رقم کی، جب جے ای ای کے امتحانات میں پینتالیس بچوں نے کامیابی حاصل کی، جو کہ ایک سال میں کسی بھی گاؤں سے اس امتحان کو پاس کرنے والی سب سے بڑی تعداد ہے۔

گلشن کمار کی آل انڈیا جنرل رینک 120 رہی ہے اور او بی سی (کیٹیگری) رینک 20 رہی۔ وہ اسی گاؤں سے آتے ہیں اور 2023 کے ٹاپرز میں شامل ہیں۔

نو پریاس تنظیم کے اوم پرکاش کہتے ہیں ”تیاری اجتماعی طور پر کرائی جاتی ہے اور اس کے لیے ٹیوٹرز کی مدد لی جاتی ہے۔۔ تاہم اصل مدد سینیئر طلبہ سے ملتی ہے۔ انجینیئر بننے کے خواہش مند طلبہ سے صاف کہہ دیا جاتا ہے کڑی محنت اور مستقل مزاجی کے بغیر کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے۔“

ریاست بہار، یو پی ایس سی، (یونین پبلک سروس کمیشن) میں کامیابی کے لیے پہلے سے مشہور ہے۔ پھر پٹوا ٹولی جیسے گاؤں نے تین دہائی سے آئی آئی ٹی تک رسائی کا جیسے ذمہ لے لیا ہوا ہے

تاہم اب وہاں ایک نیا جنون نظر آتا ہے کیونکہ وہاں کے نوجوان اب ریاستی اور مرکزی سول سروسز کے امتحانات میں بھی کامیابی حاصل کرنے لگے ہیں۔

جے ای ای کے مشکل امتحانات کے نتیجے کے دن اب لوگوں کی نظر پٹوا ٹولی پر رہتی ہے، لیکن بنکروں کے اس گاؤں کی کامیابی کا راز ان کی مشینوں کی مسلسل آواز کی طرح محنت اور سابق گریجویٹس کی شفقت میں پوشیدہ ہے۔

دی گارجین کی ایک رپورٹ کے مطابق پٹوا ٹولی کے بچوں کے لیے تعلیمی طاقت ہی غربت زدہ زندگی کو ختم کرنے اور آنے والی نسل کے لیے بہتر زندگی کی تشکیل کا واحد راستہ ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ معروف صوفی شاعر کبیر کے دوہے کو اس گاؤں کے دھنیوں نے حقیقت کا جامہ پہنا دیا ہے:
دھن رے دھنے اپنی دھن، پرائی دھنی کے پاپ نا چن
تیری روئی میں چار بنولے، سب سے پہلے ان کو چن۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close