اسرائیل کے حق میں پوسٹ لگانے کے 10 دن بعد ایم ایم اے فائٹر روئس گریسی نے اسلام قبول کر لیا

ویب ڈیسک

برازیل کے سابق پیشہ ور ایم ایم اے فائٹر، یو ایف سی ہال آف فیمر، اور گریسی جیو جِتسو پریکٹیشنر، روئس گریسی نے اسلام قبول کر لیا ہے۔

ویب سائٹ ’مڈل ایسٹ مانیٹر‘ کے مطابق روئس گریسی نے مسلمان یوٹیوبر ایڈی ریڈزووِچ اور عالمِ دین شیخ عثمان ابن فاروق سے ملاقات کے بعد اسلام قبول کیا۔

واضح رہے کہ یوٹیوبر ایڈی ریڈزووِچ بھی برازیلین جیو جٹسو میں بلیک بیلٹ رہ چکے ہیں۔

جمعے کو ریڈزووِچ کے دین شو کی ریلیز ہونے والی قسط میں یو ایف سی کے تین مرتبہ کے چیمپیئن روئس گریسی نے اسلام، غزہ میں جنگ اور مکہ مکرمہ جانے کی بارے میں بات کی۔

حیران کن طور پر روئس گریسی نے اسلام قبول کرنے سے 10 دن قبل فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام پر اسرائیل کے حق میں پوسٹ لگائی تھی، جو کے ابھی تک ڈیلیٹ نہیں کی گئی۔

اس پوسٹ کے بعد یو ایف سی چیمپیئن پر فلسطین کے حامی صارفین کی جانب سے شدید تنقید کی گئی تھی۔

گریسی نے 19 فروری کو ایک انسٹاگرام پوسٹ میں لکھا تھا، ”جب میں نے پہلی بار سنا کہ اسرائیل میں کیا ہو رہا ہے، تو میں نے وہاں اپنے دوستوں سے نجی طور پر رابطہ کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ لیکن اب، میں واضح کرنا چاہتا ہوں: میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوں، اور میں دہشت گرد گروپوں یا کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے خلاف اسرائیل کے ساتھ کھڑی ہوں“

”میں جانتا ہوں کہ آپ ناقابلِ تصور تکلیف سے گزر رہے ہیں، اور میں اسرائیل کو درپیش لڑائی کو سمجھتا ہوں۔ لیکن میں یہودی اور اسرائیلی عوام کی لچک اور طاقت پر بھی یقین رکھتا ہوں۔ اندھیرے کے باوجود، مجھے یقین ہے کہ سچائی اور انصاف کی فتح ہوگی“

اس پوسٹ کے بعد ایڈی ریڈزووِچ کے کزن اور برازیلین جیو جٹسو کے بلیک بیلٹ ادریز ریڈزووِچ نے روئس گریسی کے ساتھ دین سینٹر امریکہ میں ملاقات رکھی۔

ادریز ریڈزووِچ نے کہا ”اس سے پہلے کے سب لوگ آئیں اور روئس گریسی کی گزشتہ ہفتے کی اسرائیل کے حق میں پوسٹ پر اُن سے نفرت کریں، میں بتاتا چلوں کہ انہوں نے شو میں شرکت کی، جہاں انہیں تنازع کا دوسرا رخ یعنی فلسطین کے بارے میں بتایا گیا۔ اُنہوں نے آخر میں اسلام قبول کر لیا۔“

جمعہ 1 مارچ کو نشر ہونے والے ایڈی کے دی دین شو کے تازہ ترین ایپی سوڈ میں ، گریسی اور شیخ عثمان نے غزہ کی صورت حال کی پیچیدگیوں پر تبادلہ خیال کیا، ایک ایسا نقطہ نظر فراہم کیا جو ان کے امن اور ہمدردی کے اصولوں سے ہم آہنگ ہو۔

انٹرویو کے دوران، گریسی نے اپنے نئے عقیدے اسلام کے تبدیلی کے اثرات پر زور دیا، اس کی سمت اور مقصد کے گہرے احساس کو بیان کیا۔

انہوں نے مسلم کمیونٹی کے اندر اپنے تعلق کے احساس اور جو روحانی رہنمائی حاصل کی ہے اس پر اظہار تشکر کیا۔

انہوں نے غزہ کی پٹی میں تشدد کی بھی مذمت کی اور مکہ مکرمہ جانے کا اعلان کیا۔

شیخ عثمان نے گریسی سے پوچھا، ”آپ بحیثیت رائس گریسی، آپ کو یقین ہے کہ ایک خدا کے سوا کسی کی عبادت نہیں کی جانی چاہئے۔ آپ کو یقین ہے کہ خدا نے رسول بھیجے، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ، محمد۔ آپ کو یقین ہے کہ وہ رسول تھے؟‘‘

تمام سوالوں کے جواب میں، انہوں نے ہاں میں جواب دیا اور پھر کلمہ شہادت پڑھا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل گزشتہ سال معروف امریکی مکسڈ مارشل آرٹس (ایم ایم اے) فائٹر امبر لیبروک نے بھی اسلام قبول کر لیا تھا۔ امبر لیبروک پروفیشنل فائٹرز لیگ میں فیدر ویٹ ڈویژن میں مقابلہ کرتی ہیں اور اپنے کیریئر میں بہت سی فتوحات حاصل کر چکی ہیں۔

اس موقع پر اُن کا کہنا تھا کہ پچھلے کچھ مہینے زندگی میں بہت سی تبدیلیاں لائے، میری زندگی میں بہت سے نیشب و فراز آئے، میں نے بہت زیادہ محنت کی مگر پھر بھی کمی رہی۔ اُنہوں نے لکھا کہ بہت سے ایسے لوگ جن سے میں بہت پیار کرتی تھی قطع تعلق ہو گئی اور میری زندگی بالکل اُلجھ گئی تھی۔

امبر لیبروک نے لکھا کہ پھر پلک جھپکتے ہی سب کچھ سمجھ میں آنے لگا اور ہر چیز مجھے اللّٰہ کے قریب کرنے لگی میں دین کی تلاش کرنے پر مجبور ہو گئی۔

ان کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات کی توقع نہیں تھی کہ یہ اتار چڑھاؤ زندگی میں برکتوں کے لیے جگہ بنانے کے لیے آ رہے ہیں۔

اُنہوں نے لکھا کہ زندگی کے اس مقام پر پہنچنے کے بعد لگتا ہے کہ سب کچھ بالکل ویسا ہے جیسا ہونا چاہیے تھا بلکہ میری حیثیت سے زیادہ ہے۔امبر لیبروک نے لکھا کہ یہ میری مرضی کے مطابق نہیں بلکہ یہ اللّٰہ کی مرضی کے مطابق ہوا ہے اور مجھے اس پر پورا بھروسہ ہے، چاہے زندگی اچھی یا بری جو بھی ہو۔

جبکہ 2020 میں آسٹریا کے مشہور مکس مارشل آرٹس (ایم ایم اے) فائٹر ول ہیلم اوٹ نے بھی کورونا وائرس کے بحران کے دوران اسلام قبول کر لیا تھا۔ دی امیزنگ کے نام سے مشہور عظیم آسٹرین فائٹر 1982 میں پیدا ہوئے۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس نے مجھے اتنا وقت دیا کہ میں اپنے ایمان کو ڈھونڈ سکوں، میرا ایمان اب اتنا مضبوط ہے کہ میں ایک اللہ جو جان کر اور کلمہ شہادت پڑھ کر فخریہ طور پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ اب میں مسلمان ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے خود پر سیاسی چیزوں کو حاوی ہونے دیا لیکن جب میں مشکل وقت سے گزر رہا تھا تو اسلام کی ایمان کی دولت نے مجھے قوت و مضبوطی فراہم کی۔

اوٹ نے بتایا کہ وہ کئی سالوں سے اسلام پر تحقیق کر رہے تھے اور اس معاملے میں مداحوں کی جانب سے مکمل سپورٹ کرنے پر ان سے اظہار تشکر کیا۔

اس موقع پر انہوں نے ترکی سے تعلق رکھنے والے ساتھی ایم ایم اے فائٹر براق کزلرمک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے انہیں قرآن مجید اور جائے نماز کا تحفہ دیا تھا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close