پشتونوں کو متحد کرنے والی پی ٹی ایم خود ہی تقسیم کا شکار۔۔ وجہ کیا ہے؟

ویب ڈیسک

حال ہی میں جب بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ماہ رنگ بلوچ کی قیادت میں جبری طور پر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے تحریک چلائی تو ایک اہم سوال جو سامنے آیا، وہ یہ تھا کہ کچھ عرصہ قبل اسی طرح کی تحریک سے اپنی پہچان بنانے والی پشتون تحفظ موومنٹ کہاں گئی؟

پی ٹی ایم سے تعلق رکھنے والے اہم نام اس وقت الیکشن میں آزاد امیدوار کے طور پر حصہ لے رہے ہیں، جس کی وجہ کے بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پشتونوں کو بظاہر متحد کرنے والی تحریک اس وقت شدید تقسیم کا شکار ہو چکی ہے۔ اس حوالے سے پی ٹی ایم کے سابق اور موجودہ کارکنان بتاتے ہیں کہ انہیں تقسیم کا خوف اس تحریک کے آغاز سے ہی تھا۔

واضح رہے کہ منظور پشتین اس وقت حراست میں ہیں اور ان کے بارے میں مزید معلومات ان کی تحریک کے کسی شخص کے پاس نہیں ہیں۔

صحافی لحاظ علی کا کہنا ہے ”اس وقت ملک کے سرحدی علاقوں میں بے چینی ہے اور پی ٹی ایم کے طرز پر بنی کئی احتجاجی تحریکیں سامنے آ رہی ہیں۔ اس وقت پی ٹی ایم خود شدید تقسیم کا شکار ہے۔“

صحافی لحاظ علی کہتے ہیں کہ پی ٹی ایم کی شکل میں پشتونوں کو منظور پشتین، محسن داوڑ اور علی وزیر تین بڑے نام ملے۔ تاہم اسی دوران تحریک میں دو واضح دھڑے بن گئے جو پارلیمانی اور غیر پارلیمانی سیاست کرنے کی حمایت اور مخالفت پر بنے۔

ان کے مطابق ، ایک دھڑے نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمان نے انہیں سات دہائیوں میں کیا دیا ہے جو وہ اس کا حصہ بنیں۔ جبکہ دوسرا دھڑا پارلیمان میں مزاحمتی سیاست کرنے پر زور دیتے ہوئے تحریک سے علیحدہ ہو گیا۔

اس کی شروعات تب ہوئی جب 2018 کے عام انتخابات میں پی ٹی ایم کے دو سرگرم ارکان محسن داوڑ اور علی وزیر کو الیکشن میں حصہ لینے کے نتیجہ میں تحریک کی کور کمیٹی سے الگ کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ فروری 2019 میں برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران منظور پشتین نے کہا تھا کہ ’جو پارلیمانی سیاست کرنا چاہتا ہے وہ بیشک کرے لیکن پھر خود کو ہماری تحریک کا حصہ نہ سمجھے۔‘

انھوں نے کہا تھا ’ہمارے کارکنان بٹ نہ جائیں اس لیے ہم نے پارلیمانی سیاست سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

اس کے نتیجے میں منظور پشتین اور محسن داوڑ کے درمیان اختلافات سامنے آ گئے۔ تاہم جماعت کے سابق اراکین کے مطابق ریلیوں میں جب محسن کی کمی کو محسوس کیا جانے لگا تو وہ اور علی وزیر اظہارِ یکجہتی کے لیے ان میں شامل ہوتے رہے

ماضی میں پی ٹی ایم سے تعلق رکھنے والے ایک رکن نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ”تحریک ماند پڑنے کی ایک بڑی وجہ پشتین اور داوڑ کے بیچ کے نظریاتی اختلافات کے ساتھ ساتھ پشتین کی ’میں‘ بھی بنی۔ سب سے بڑی غلطی منظور نے اسلام آباد کے بنی گالا میں آفس بنا کر کی۔ اس کے نتیجے میں وہ پشتون علاقوں اور پشتونوں سے دور ہو گیا۔“

اسی حوالے سے پشاور میں مقیم ایک اور سابق رکن نے کہا ”یہاں (یعنی پشاور میں) آفس بنانا سمجھ آتا ہے۔ ہم نے اس بات کی تجویز بھی دی کہ آپ پشاور، بنوں یا ڈی آئی خان میں آ جائیں لیکن ایک نظریاتی یا قوم پرست تحریک کے سربراہ کا اسلام آباد میں بیٹھنا سمجھ سے باہر ہے۔“

پی ٹی ایم کے سابق رکن کے مطابق ”مشران نے انہیں سمجھایا کہ آپ کو لوگ آپ کی سادگی اور عوامی بیانیے کی وجہ سے پسند کرتے ہیں لیکن پھر تحریک میں ایسے لوگوں کو شامل کیا گیا جو فوج کے حامی تھے اور تحریک کی بنیاد فوج کے جبر کے خلاف ہے۔“

انھوں نے مزید کہا کہ ایک اور وجہ پارٹی کے سربراہ کو سیلیکٹ کرنے پر بنی۔ کئی سینئیر لوگوں نے جن میں سیّد عالم صیب بھی شامل تھے، پشتین کو مشورہ دیا کہ آپ خود سربراہ نہیں رہ سکتے۔ اس لیے ہر ماہ بعد پی ٹی ایم کی مشاورت سے سربراہ منتخب کریں۔ منظور نے ایسا نہیں کیا۔ نتیجتاً پی ٹی ایم کے سابق اراکین ایک ایک کر کے تحریک سے ناصرف علیحدہ ہوئے بلکہ اپنے اپنے طور پر خود کو سیاسی طور پر مصروف کرتے گئے۔

پی ٹی ایم کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر مشتاق ان دعوؤں کے بارے میں کہتے ہیں ”تحریک بنتی ہی مختلف نظریات کی بنیاد پر ہے۔ ضروری نہیں کہ جو تجویز تحریک سے جڑے باقی لوگ دیں، وہ صحیح ہو۔“

سابق سینیٹر افراسیاب خٹک کا کہنا ہے ”2018 ایک ایسا دور تھا، جب پشتون تحریک اپنے زور پر تھی اور میرے خیال میں اس تحریک کی ساخت اسی وقت ترتیب دے دینی چاہیے تھی جو کہ نہیں ہو سکا۔ یعنی سماجی تحریک آگے جا کر ایک سیاسی تحریک میں تبدیل ہو جانی چاہیے تھی۔“

پی ٹی ایم کے پشاور میں موجود کوآرڈینیٹر ڈاکٹر مشتاق کا کہنا ہے ”ہماری تحریک سیاسی نہیں ہے اور نہ ہی سیاسی بننے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جہاں تک پشتین کی بات ہے تو وہ جانتا ہے وہ کیا کر رہا ہے۔ ہماری تحریک کا کوئی بندہ آنے والے انتخابات میں حصہ نہیں لے رہا ہے اور جو حصہ لے رہا ہے، وہ ہماری تحریک سے نہیں ہے۔“

پی ٹی ایم کے سابق ارکان بتاتے ہیں جب عوامی نیشنل پارٹی کے ایمل ولی خان نے باقاعدہ اور مبینہ طور پر ’پی ٹی ایم کے خلاف جلسے کیے تب جا کر منظور بنی گالہ سے نکل کر ایمل ولی خان کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔‘

اس سارے منظر نامے پر سابق ایم این اے اور پی ٹی ایم کے سابق رکن محسن داوڑ کا کہنا ہے ”نظریاتی اختلافات اپنی جگہ لیکن ہم سب کا مقصد ایک ہی ہے۔ اور وہ ہے اپنے خطے کو پُر امن دیکھنا اور ڈی ملٹرائزیشن کی بات کرنا۔ اب وہ میں پی ٹی ایم کے ذریعے کروں یا پھر اپنے پلیٹ فارم کے ذریعے، وہ میں کرتا رہوں گا۔“

واضح رہے کہ ستمبر 2021 میں محسن داوڑ نے پشاور میں ’نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ‘ کے نام سے اپنی علیحدہ سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیا تھا۔ ان کے مطابق ان کی ’جماعت کا مقصد ملک میں سیکولر، وفاقی اور جمہوری نظام کا فروغ ہوگا۔‘

اس جماعت میں کئی نظریاتی سیاستدانوں کو شامل کیا گیا۔ پارٹی کے بارے میں محسن نے کہا ”میرا مقصد اس وقت یہی ہے کہ میں کسی بھی طرح سیاست کا حصہ رہوں، کیونکہ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے، جس کے ذریعے میں کراچی سے کابل تک کے پشتونوں کے لیے آواز بلند کر سکوں گا۔“

واضح رہے کہ لاپتہ افراد کے لیے پی ٹی ایم کے سابق سرگرم کارکن عالم زیب محسود بھی اس سال الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ جبکہ علی وزیر نے ڈی آئی خان اور جنوبی وزیرستان میں اس حوالے سے باقاعدہ مہم چلائی

واضح رہے کہ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے نقیب اللہ محسود اور ان کے تین ساتھیوں کو 13 جنوری 2018 کی صبح کراچی میں پولیس اہلکاروں نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس وقت کے ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کا تعلق شدّت پسند تنظیم داعش اور لشکرِ جھنگوی سے تھا۔

نقیب اللہ کے والد اور اہل خانہ نے اس پولیس مقابلے کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ نقیب اللہ کا کسی شدت پسند تنظیم سے تعلق نہیں تھا اور اس معاملے کی تحقیقات کرنے والی جوائنٹ انویسٹگیشن ٹیم (جے آئی ٹی) نے بھی پولیس کے اس دعوے کو مسترد کیا تھا۔

یہ نقیب اللہ کے قتل کا واقعہ ہی تھا، ھس کے نتیجے میں پشتون تحفظ موومنٹ ابھری، جس کے بارے میں کہا گیا کہ اس نے پشتونوں کو یک آواز کر دیا تھا۔ سنہ 2018 میں جب منظور پشتین نے کراچی کے سپر ہائی وے پر نقیب اللہ محسود کے قتل کے خلاف احتجاجی ریلی کا اعلان کیا تھا تو اس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی تھی۔ ’نر پشتین‘ کا نعرہ بھی انہی دنوں بلند کیا گیا تھا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close