Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Education-City-A-new-capitalist-game-of-land-grabbing-in-the-name-of-education
اہم ترینتازہ ترینخبریںماحولیات

ایجوکیشن سٹی: تعلیم کے نام پر زمین ہتھیانے کا نیا سرمایہ دارانہ کھیل

By Akhtar Rasool
نومبر 2, 2025 4 Min Read
0

کراچی کے ضلع ملیر میں ”ایجوکیشن سٹی“ کے نام پر ایک نیا کمرشل تعلیمی پروجیکٹ زیرِ تکمیل ہے۔ بظاہر یہ منصوبہ تعلیم کے فروغ کے لیے ایک مثبت اقدام دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ سرمایہ دارانہ نظام کے تحت زمین کے حصول کا ایک اور باب بنتا جا رہا ہے۔

یہ علاقہ صدیوں سے مقامی بلوچ، گبول، جوکھیو اور دیگر برادریوں کے کھیتوں چراگاہوں اور رہائشی علاقوں پر مشتمل ہے۔ یہ لوگ اپنی روایتی اور کسٹمری قانونی حیثیت کے تحت یہاں نسلوں سے آباد ہیں، لیکن اب حکومت اور سرمایہ دار طبقے کے اشتراک سے ان کی زمینوں کو ’’غیر قانونی قبضہ‘‘ قرار دے کر چھیننے کا عمل جاری ہے۔

جن دیہات میں صدیوں سے مقامی برادریاں آباد تھیں وہاں اب ”تعلیمی زون“ اور ”کارپوریٹ پارٹنرشپ“ کے بورڈ لگے ہیں۔ اکتوبر 2025 میں لینڈ یوٹیلائزیشن ڈیپارٹمنٹ کی جو سمری وزیراعلیٰ سندھ کو بھیجی گئی اس قبضے کی باقاعدہ منظوری ہے۔ یہ سب کچھ عوامی رائے کے بغیر خاموشی اور فریب کے پردے میں کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:


  • کراچی میں ماحولیاتی توازن بمقابلہ تعمیرات: فوٹوگرافر سلمان بلوچ سے مکالمہ


پہلے مرحلے میں تقریباً نو ہزار ایکڑ زمین اس پروجیکٹ کے لیے دی جا چکی تھی، لیکن اب سرمایہ کار اور ڈیولپرز کی حریصانہ نظریں زمین کے حصول پر گڑی ہوئی ہیں۔

سندھ لینڈ یوٹیلائزیشن ڈپارٹمنٹ نے ملیر میں کراچی ایجوکیشن سٹی کے لیے مزید 2,817 ایکڑ زمین مختص کرنے کی پیش رفت کی ہے۔ اس توسیع میں وسیع زرعی رقبہ شامل ہے جس سے کراچی کی سب سے بڑی سبز پٹی کے ختم ہونے اور شہری خوراکی رسد کے متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ یہ اقدام اُس منصوبے کی توسیع ہے جو پہلے ہی 9,000–8,921 ایکڑ پر محیط بتایا جاتا رہا ہے اور جس کے سبب درجنوں دیہات متاثر ہو چکے ہیں۔

مقامی لوگ اس عمل کو ایک نئے نوآبادیاتی حملے سے تعبیر کر رہے ہیں، جہاں تعلیم کا لبادہ اوڑھ کر دراصل زمین پر قبضے کیے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:


  • ملیر کے اجتماعی حقوق کے لیے ایک منظم تحریک کی ضرورت

  • ملیر ایجوکیشن سٹی یا کارپوریٹ کالونی


مقامی آبادی کے مطابق، ”یہ وہی ہو رہا ہے جو یورپی طاقتوں نے امریکی مقامی لوگوں کے ساتھ کیا تھا۔ آج پھر ترقی اور تعلیم کے نام پر ہمیں بے دخل کیا جا رہا ہے۔“

واضح رہے کہ منصوبے کے پہلے مراحل میں 30 سے زائد دیہات کے متاثر ہونے اور 779 ایکڑ زرعی زمین کے منصوبے میں شامل ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

ایجوکیشن سٹی کا خیال 2001 میں کابینہ کی سطح پر سامنے آیا، 2004 میں انتظامی طور پر دوبارہ فعال ہوا، اور 2006 میں درجنوں اداروں کو ابتدائی الاٹمنٹ کی خبریں آئیں۔ سرکاری دستاویزات اور سرکاری سرمایہ کاری پورٹل کے مطابق یہ منصوبہ دیہہ چوہڑ (گڈاپ/ملیر) میں، نیشنل ہائی وے اور سپر ہائی وے کے درمیان لنک روڈ کے ساتھ واقع ہے

ملیر، جو کراچی کا سب سے بڑا زرعی ضلع ہے، شہر کو سبزیاں، پھل اور دودھ فراہم کرتا ہے، لیکن اب اس کے سبز کھیت کمرشل پروجیکٹس کے نیچے دبنے لگے ہیں۔ زمینوں کی خرید و فروخت کے لیے متعدد طاقتور گروہ سرگرم ہیں، جن میں ریئل اسٹیٹ سرمایہ دار، نجی تعلیمی ادارے اور بعض حکومتی عناصر بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔

ایجوکیشن سٹی کے منصوبے کے تحت کئی نجی جامعات، اسکول، اور ریسرچ سینٹرز تعمیر کیے جا رہے ہیں، مگر یہ ادارے عوامی مفاد سے زیادہ کاروباری ماڈل پر چلائے جا رہے ہیں۔ فیسوں اور زمینوں کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد تعلیم نہیں بلکہ زمینوں کا تجارتی استحصال ہے۔

ملیر کے دیہی علاقوں سے اس طرح کے ادارے تعمیر کرتے وقت تو مقامی لوگوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے سیٹیں اور روزگار فراہم کرنے کے وعدے کیے جاتے ہیں، لیکن یہ وعدے کبھی شرمندہِ تعبیر نہیں ہوئے۔

دوسری جانب ماحولیاتی ماہرین نے بھی خبردار کیا ہے کہ یہ پروجیکٹ ملیر کے ندی نالوں، زرعی زمینوں اور زیرِ زمین پانی کے نظام کو متاثر کرے گا۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو آنے والے برسوں میں کراچی اپنی زرعی بنیاد اور گرین بیلٹ سے مکمل طور پر محروم ہو جائے گا۔

انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ حکومت کو مقامی آبادی کی ملکیتی، ثقافتی، اور ماحولیاتی شناخت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کی زمینوں کا قانونی تحفظ فراہم کرنا چاہیے۔ اگر ترقی مقامی لوگوں کی قیمت پر ہوگی، تو یہ ترقی نہیں بلکہ استحصال کہلائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:

  • دیھ چوھڑ ملیر میں ایجوکیشن سٹی سے مقامی زراعت اور ماحولیاتی تباہی۔ 1

  • دیھ چوھڑ ملیر میں ایجوکیشن سٹی سے مقامی زراعت اور ماحولیاتی تباہی۔ 2

  • دیھ چوھڑ ملیر میں ایجوکیشن سٹی سے مقامی زراعت اور ماحولیاتی تباہی۔ 3

  • دیھ چوھڑ ملیر میں ایجوکیشن سٹی سے مقامی زراعت اور ماحولیاتی تباہی۔ 4

  • دیھ چوہڑ ملیر میں ایجوکیشن سٹی سے مقامی زراعت اور ماحولیاتی تباہی۔ 5 (آخری)

Tags:

Agricultural economyAgricultural land lossbaloch communitycapitalist developmentcapitalist exploitationCapitalist modernizationcapitalist urbanismClimate vulnerabilityCommercial education projectsCommercial zoningCommercialization of learningCommunity Empowermentcommunity rightscorporate greedCorporate partnershipsCultural ErosionCultural identity threatCustomary land ownershipDevelopment injusticeDevelopment without consentDevelopmental corruptionDisplacement crisisEcological imbalanceeconomic inequalityEducation as businessEducation City expansionEducation City Karachieducation inequalityEducation under capitalismenvironmental activismenvironmental degradationenvironmental impactEnvironmental JusticeEnvironmental policy gapExploitation in educationFake development modelFake progress narrativeFarmers displacementfood securityFood supply riskforced evictionGabol tribeGovernment collusiongovernment corruptionGovernment-private nexusgrassroots resistanceGreen belt destructionGreen cover lossHuman Rights ViolationIndigenous displacementindigenous rightsInstitutional expansionInstitutional land grantsJokhio tribeKarachi agriculture crisisKarachi expansionKarachi green zoneKarachi infrastructure expansionKarachi real estate boomland acquisitionLand allocation controversyland conflictland exploitationLand GrabbingLand MafiaLand occupationLand ownership disputeLand redistributionLand RightsLand speculationland utilization departmentLegal manipulationLocal communities displacementLocal governance failureLocal resistanceLocal voices ignoredmalir districtMarginalized communitiesNeocolonialismNeoliberal education policiesPolitical elite controlPrivate universitiesPrivatization of educationPublic deceptionPublic interest ignoredPublic land privatizationReal estate investorsreal estate mafiaRising tuition feesrural displacementRural KarachiRural livelihood lossSindh GovernmentSindh land reformssocial justiceSocioeconomic inequalitySustainable development neglectSustainable Karachiurban expansionUrban land politicsUrban Planning FailureUrbanization pressureWater table depletion
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
The Underground World: Are Billionaires Preparing for Life 'After Humanity
Previous

زیرِ زمین دنیا: کیا ارب پتی ’انسانیت کے بعد‘ کی زندگی کی تیاری کر رہے ہیں؟

Asia-becomes-the-new-playground-of-the-rich-reflecting-growing-inequality.
Next

بڑھتی ہوئی عدم مساوات کی تصویر بنا ایشیا امیروں کا نیا کھیل کا میدان بن گیا

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme