کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (پانچویں قسط)

شاہد رضا

تؤنگ کے بازار پہنچتے ہی دور دور تک پہاڑوں کے درمیان پھیلی ہوئی ہریالی نے دل موہ لیا۔ کہیں گندم کی فصلیں اور ان کی کٹائی ہو رہی تھی تو کہیں تھریشر چل رہا تھا، اور کہیں پیاز کی فصل تیار کھڑی تھی۔ کچھ مزدور مرد اور عورتیں کھیتوں کے کام میں مشغول تھے، کہیں پیاز کی بوریاں بھری جا رہی تھی تاکہ انہیں سبزی منڈی میں فروخت کیا جا سکے۔

کوہستان کی اپنی ایک منفرد خوبصورتی ہے۔ بلند پہاڑ، ان کے درمیان ہریالی اور جگہ جگہ بہتی چھوٹی چھوٹی ندیاں۔ جہاں بھی نظر ڈالیں، کوئی نہ کوئی ندی بہتی دکھائی دیتی ہے۔ یہ منظر دیکھ کر مجھے اپنے بچپن کا ملیر یاد آ گیا، گڈاپ سے کاٹھور، موئیدان سے جنئی اور کاٹھور سے درسانہ، جہاں آج سے تیس سال پہلے ہر طرف ہریالی تھی اور مختلف سبزیاں اور پھل اگائے جاتے تھے۔

Kirthar Mountain Sangat Mag
کھیر تھر کے دامن میں لہلہاتی گندم کی فصل

کھیرتھر رینج کے پہاڑوں سے کئی نالے ندیاں نکل کر ملیر دریا، لیاری ندی ملیر گڈاپ سے لے کر ساحل تک دریا کی طرح بہہ کر سمندر میں جا گرتے تھے، جیسے کہ ملیر ندی اور لیاری ندی۔ ان ندیوں میں بارہ مہینے صاف پانی بہتا تھا۔ یہی پانی انسانوں، مویشیوں، چرند پرند اور جنگلی حیات کے لیے زندگی کا ذریعہ تھا۔ ان ندیوں کے کنارے جامشورو سے لے کر کراچی کے سمندر تک وسیع زمینیں سیراب ہوتی تھیں، جہاں زراعت فروغ پاتی تھی۔ اسی وجہ سے انگریزوں نے اس علاقے کو ”کراچی کا گرین بیلٹ“ قرار دیا تھا۔
افسوس کہ آج وہی زمینیں نام نہاد ترقی کے نام پر کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ہو چکی ہیں، اور باقیوں پہ قبضہ اور انہیں بھی کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل کرنے کی تیاریاں مکمل ہیں۔ وہ انگریز، جو باہر سے آئے تھے، انہیں اس گرین بیلٹ کی اہمیت کا احساس تھا، مگر آج ہمارے اپنے لوگ اس ورثے کو تباہ کر رہے ہیں۔

گڈاپ کے نام کے حوالے سے ایک روایت مشہور ہے کہ ”گڈ“ پہاڑی بکرے کو کہتے ہیں اور ”آپ“ بلوچی میں پانی کو کہتے ہیں۔ وہ مقام جہاں پہاڑی بکرے آ کر پانی پیتے تھے، اسی نسبت سے اس جگہ کا نام گڈاپ پڑا۔ اس حوالے مشہور مؤرخ گل حسن کلمتی نے اپنی کتاب ”کراچی سندھ جی مارئی“ میں تفصیل سے لکھا ہوا ہے، کہ کراچی اور اس سے منسلک علائقوں کے نام ان کی وجہ روایت درج ہیں، کراچی کی تاریخ کے حوالے سے سر گل حسن کلمتی کی کتاب ایک سند کا درجہ رکھتی ہے۔ وقت ملے تو ضرور پڑھیئے۔

اس علاقے میں قدرتی کھجوروں کے درختوں کی بڑی تعداد ہوا کرتی تھی، خاص طور پر ندیوں کے کنارے قدرتی طور پر اگنے والی کھجوریں، جنہیں بلوچی میں ”مچکد“ کہا جاتا ہے۔ لنگھیجی اور وَسَندڑو کے علاقوں میں ایسے ”مچکد“ عام تھے۔ ہم جب گڈاپ کونکر سے کاٹھور کی طرف جاتے تھے تو لنگھیجی ندی کے ساتھ یہ مناظر عام دیکھنے کو ملتے تھے۔ مگر آج ان کی جگہ بحریہ ٹاؤن جیسے منصوبوں نے لے لی ہے، جہاں مقامی ناموں کی جگہ اجنبی نام رکھے جا رہے ہیں۔

یہ ہماری کوتاہی ہے کہ ہم اپنے علاقوں کے اصل نام محفوظ نہ رکھ سکے۔ آج صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ بحریہ ٹاؤن کراچی کو ملیر اور گڈاپ سے الگ شناخت دی جا رہی ہے، جیسے یہ کوئی الگ دنیا ہو۔ اس حوالے سے ایک الگ سے مضمون لکھا جا سکتا ہے، جس میں ان تمام ناموں کا ذکر ان کی تاریخی اہمیت بیان کیا گیا ہو، یہ تحقیقی کام ہے۔

تؤنگ شریف پہنچ کر اندازہ ہوا کہ یہ علاقہ آج بھی زرعی لحاظ سے زندہ ہے، جبکہ ملیر اور گڈاپ میں ترقی کے نام پر زمینوں پر قبضہ کر کے کنکریٹ کا جنگل کھڑا کر دیا گیا ہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ تھدو ندی اور کونکر ندی کے اطراف رہنے والے لوگوں کو صاف پانی تک میسر نہیں، یہاں سیکڑوں کی تعداد میں کنویں ہوا کرتے تھے ‌جن میں تیس چالیس فٹ پہ صاف شفاف اور میٹھا پانی ہوتا تھا، جس سے گڈاپ کی زراعت اور لوگوں کے پانی کی ضروریات پوری ہوتی تھی، مگر آج وہی کنویں خشک یا پانچ سو فٹ نیچے پانی یا تو نایاب یا کھارا یا زہر آلودہ ملتا ہے۔ لوگ فلٹر یا بازار سے پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔ کئی مقامات کے پانی کے نمونے لیبارٹری بھیجے گئے تو وہ پینے کے قابل نہیں نکلے۔
اس کی بڑی وجہ ندیوں سے ریت اور بجری کا بے دریغ نکالنا ہے، ریتی بجری ندیوں میں قدرتی فلٹر کی مشینیں تھی، ان کی وجہ سے پانی فلٹر ہو زیر زمین پھیل جاتا تھا ـ مگر آج ریتی بجری نہ ہونے کی وجہ سے یا تو پانی نہیں اگر ہے تو پینے یا استعمال کے قابل نہیں۔ یہ جو مقامی ریتی بجری مافیا اہلکار ہیں روزگار کا بہانہ بناتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ریت بننے کا عمل ہزاروں سال لیتا ہے۔ ان ندیوں کو کھوکھلا کر کے انہیں زندہ لاش بنا دیا گیا ہے۔ وہی پانی جسے ہمارے آبا و اجداد پیتے تھے، آج زہر بن چکا ہے۔

یہ ذمہ داری صرف حکومت کی نہیں بلکہ مقامی لوگوں کی بھی ہے۔ اگر پانی ہی دستیاب نہ رہا تو زندگی کیسے چلے گی؟ آج ملیر کا زرعی نظام تقریباً ختم ہو چکا ہے اور صرف دس فیصد زمینیں باقی رہ گئی ہیں، جنہیں بھی ترقی کے نام پر ختم کیا جا رہا ہے۔

یہ طویل ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کھیرتھر نیشنل پارک کے اطراف اور کوہستان کے دیگر علاقوں میں بھی یہی صورتحال ہے۔ کہیں ریتی اور بجری کی چوری، کہیں پتھر نکالے جا رہے ہیں، اور کہیں درختوں کی کٹائی جاری ہے۔ اگر یہی حالات رہے تو ملیر کی طرح جامشورو اور کوہستان کا پورا علاقہ بھی تباہ ہو جائے گا۔

ملیر کے لوگ کسی حد تک متبادل روزگار رکھتے ہیں، مگر کوہستان کے لوگ جو زراعت اور مویشی پالنے پر انحصار کرتے ہیں، ان کا کیا بنے گا؟ یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔۔۔!!

یہاں کے سرداروں اور وڈیروں کو بھی اپنی عوام کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ خبریں ہیں کہ نادرن بائی پاس جامشورو اور گورکھ ہل تک موٹرے وے سڑک بنائی جا رہی ہے، جس کے ساتھ مزید زمینیں ترقی کے نام پر قبضہ کی جائیں گی ۔ اگر ایسا ہوا تو پہاڑ کٹیں گے، زراعت ختم ہوگی اور مقامی لوگ اپنے زمینوں گھروں سے بے گھر ہو جائیں گے۔

Kirthar National Park
کھیر تھر جبل کا دلکش منظر

اس سفر کے دوران یہ تمام سوال میرے ذہن میں گردش کر رہے تھے، خاص طور پر ماحولیات کے حوالے سے۔ کراچی پہلے ہی کنکریٹ کا جنگل بن چکا ہے، اور اب کھیرتھر نیشنل پارک بھی خطرے میں ہےجو صاف ہوا اور ایکو سسٹم کا آخری سہارا ہے۔

انہی خیالات میں گم ہم جام لوہار کے قبرستان کی جانب بڑھ رہے تھے، اور ذہن میں ایک ہی سوال گونج رہا تھا: کیا ہم اپنی زمین، اپنی ندیوں اور اپنی پہچان کو بچا پائیں گے؟

(جاری ہے۔)


Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also
Close
Back to top button