بھارت: اوڑیسہ میں دو گھنٹوں میں ’61 ہزار‘ مرتبہ آسمانی بجلی گرنے کے واقعات!

ویب ڈیسک

بھارت کی مشرقی ریاست اوڈیشہ میں آسمانی قہر لوگوں پر ٹوٹ پڑا ہے۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، اوڑیسہ میں ہر طرف ابر آلود موسم موجود ہے۔ اس کے ساتھ ہی محکمہ موسمیات کی جانب سے اگلے تین دنوں تک موسلادھار بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ہفتہ کو ریاست اڑیسہ میں کئی مقامات پر شدید بارش ہوئی ہے۔ حیران کن طور پر دو گھنٹے میں 61 ہزار بار بجلی گر چکی ہے۔ اس میں 12 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی 14 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔ اگلے تین روز تک موسلادھار بارش کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات نے اعلان کیا ہے کہ بارش کا امکان ہونے پر قریبی محفوظ مقام پر جانا چاہیے

اوڑیسہ کی اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ہفتے کو دارالحکومت بھونیشور کے آس پاس کے علاقوں میں دوپہر کے بعد گرج چمک کے ساتھ ہونے والی بارش کے دوران مسلسل بجلی چمکتی رہی

اتھارٹی کے مطابق شام پانچ بجے تک بادلوں میں کم از کم 36،597 بار بجلی کا چمکنا ریکارڈ کیا گیا، جب کہ بادل سے زمین پر 25،753 مرتبہ بجلی گری

دو یا دو سے زیادہ بادلوں کے الگ الگ ٹکڑوں کے درمیان پیدا ہونے والی بجلی کو ’بادل سے بادل بجلی‘ کہا جاتا ہے، جب کہ بادل سے زمین تک بجلی کے فوراً پہنچنے کو بادل سے زمین پر بجلی کہتے ہیں

اتھارٹی نے مزید بتایا ہے کہ آسمانی بجلی گرنے سے آٹھ مویشی بھی موت کے منہ میں چلے گئے

اوڑیسہ کی حکومت نے متاثرہ خاندانوں میں سے ہر ایک کے لیے چار لاکھ بھارتی روپے معاوضے کا اعلان کیا ہے

بھارت کے محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے جمعرات تک اوڑیسہ میں شدید موسمی حالات کی وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا کہ گرج چمک کے ساتھ بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے

آسمانی بجلی گرنے کی وجہ خلیج بنگال کے اوپر موجود سمندری طوفان کا سبب بننے والا بگولہ ہے۔ اگلے چوبیس گھنٹے میں خلیج کے ہوا کے انتہائی کم دباؤ والے علاقے میں تبدیل ہونے کا امکان ہے جس کی وجہ سے ریاست میں موسلا دھار بارش ہوگی

آئی ایم ڈی نے اپنی خبروں میں کہا کہ ہفتے کے آخر میں بارش میں شدت آئے گی

اوڑیسہ میں اتوار کو آسمانی بجلی گرنے کے 5300 سے زیادہ واقعات ریکارڈ کیے گئے

اگرچہ مون سون کے موسم کے دوران بھارت کے مشرقی حصے میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات بہت عام ہیں لیکن ایک ہی دن میں اتنا زیادہ بجلی گرنا غیرمعمولی ہے

تحقیق میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ رواں صدی کے آخر تک سمندر کی سطح بلند ہونے کی وجہ سے آسمانی بجلی گرنے کے ہلاکت خیز واقعات میں 50 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس سال فروری میں جریدے نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں 43 فیصد اضافہ ہوا ہے

سال 2015 میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی شائع کردہ ایک تحقیق کے مطابق درجہ حرارت میں ہر ایک ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہونے پر آسمانی بجلی گرنے کی شرح میں 12 فیصد اضافہ ہو جاتا ہے

بھارتی حکومت نے بجلی کڑکنے سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے ایک ’دامنی‘ کے نام سے موبائل ایپلی کیشن متعارف کروائی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close